تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

گرمٹیہ – مائکرو فکشن ——- سلمیٰ جیلانی

by دانش ڈیسک 29/05/2018
written by دانش ڈیسک 29/05/2018
84

کانٹوں بھری باڑ کی چبھن کو دل میں لئے عبدل نے تاسف سے سوچا "کیا اسی دن کے لئے اس کے بزرگ اپنی بسی بسائی دنیا چھوڑ کر اس انجان بستی میں چلے آئے تھے،یہاں کے اجاڑ جنگلوں کو اپنے خون پسینے کی محنت سے سینچا ،……آج جب ریتیلی مٹی سونا اگلنے لگی تو ………..ہم گرمٹیہ کی اولاد کہلائے ….
کندھے پر چھوٹا سا کپڑوں کا تھیلا اور پوٹلی میں دو تین دن کا کھانا لئے وہ اس خار دار تار کی باڑھ کے سامنے کھڑا تھا، جسے پار کرنے کے بعد اس زمین کے لئے اجنبی قرار دیا جانے والا تھا-

وہ تو اسی بستی میں پیدا ہوا- اسی مٹی سے بنا تھا پھر کیوں وہ کھیت اس کے نہیں، بلکہ ان کے تھے جنہوں نے کوئی محنت نہ کی – مگر یہاں کے مقامی ہونے کی وجہ سے انہیں قانون اور معاشرے کی ہر حمایت حاصل تھی- اس کے باپ دادا جنہوں نے اس دیس سے محبت کی حالانکہ وہ تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتے تھے- مگر ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا-
اس کی دادی زرینہ بتاتی تھی، جب وہ سات سال کی تھی- ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے گلی میں تماشا کرنے والوں کو دیکھتی تھی-
ان میں سے ایک جو بڑا چالاک دکھائی دیتا تھا، پیار سے اپنے پاس بلا کر بولا "چلو ایک بڑی کشتی میں اس سے بھی اچھا تماشا لگا ہے”،
نئے تماشوں کے شوق میں وہ اس کے پیچھے چل پڑی اور بندرگاہ تک جا پہنچی،
سامنے ایک بڑی سی کشتی میں رسیوں کی سیڑھیاں لگی تھیں، وہ سب اس پر چڑھتے گئے-
کشتی میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو اپنی کہانیاں سنا رہے تھے-
کوئی اس کی طرح تماشا دیکھنے آیا تھا -کوئی اجنبی زمینوں پر کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا جہاں اسے بہت سی پگهار ملنے والی تھی-
باتوں میں پتا نہ چلا کہ کشتی آہستہ آہستہ کھلے سمندر میں بڑھنے لگی تھی – اس نے دیکھا کنارہ کہیں دور رہ گیا تھا-
اب اسے اندازہ ہوا کہ ان سب کے ساتھ کوئی بڑا دھوکہ ہو گیا ہے –
وہ رونے اور چلانے لگی …. مگر ساتھ کھڑے ہوئے ہنٹر والے تماشا دکھانے کے بجائے ان سب پر بے دریغ ہنٹر برسانے لگے-
ان میں سے ایک جوشیلا لڑکا تو کھلے سمندر میں کود گیا —
سہمے ہوئے لوگوں نے دیکھا وہ تھوڑی دور پانی کی منہ زور لہروں سے لڑتا رہا پھر گہرے پانیوں میں مدغم ہو گیا-
جہاز میں موجود روزینہ اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا
وہ اب ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتے تھے- وہ ماضی جہاں کبھی ان کا سب کچھ تھا-
مگر وقت کی بے رحم گرد میں دفن ہو چکا تھا-
وہ نئی بستیاں بسانے میں کامیاب تو ہو گئے، مگر اپنی شناخت پیچھے ہی چھوڑ آئے-
اب وہ صرف گرمٹیہ پناہ گزیں تھے، جو روز بیلوں کی جگہ ھل میں جوتے جاتے، سخت پتھریلی زمین کو نرم مٹی میں تبدیل کرتے، اس میں کبھی گنا اگاتے تو کبھی دوسرے اناج، مگر …… جان توڑ محنت کے باوجود اس زمین کے مالک کبھی نہ بن سکے –
مقامی ھتیارے آتے اور سارا اناج چھین کر لے جاتے-
عبدل نے باپ کو ہمیشہ بیماری سے لڑتے دیکھا … دادی زرینہ کو جو گھر الاٹ ہوا تھا وہ بھی اس کے علاج کی نذر ہو گیا –
اور یوں گزرتے وقت کے ساتھ ان کے قدم زمین میں جمنے کی بجائے اکھڑتے ہی گئے-
آج تو حد ہی ہو گئی-
عبدل کے ہاتھ میں چند روپے پکڑا کر اسے زمین سے بے دخل کر دیا گیا-
گھر سے اس کا سامان نکال کر سڑک پر پھینک دیا اور قیمتی چیزیں اپنے قبضے میں لے لی گئی تھیں-
وہ اپنے خوابوں کے بکھرے ہوئے ملبہ پر بے بسی سے اکڑوں بیٹھا کچھ دیر زمین کو خالی نظروں سے تکتا رہا-
پھر اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا جو کچی مٹی میں جذب ہو گیا یہ اس کی طرف سے اپنے پرکھوں کی محنت کو خراج عقیدت تھا -اس نے جھک کر اپنے قدموں تلے سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور ہوا میں اچھال دی،اور تھکے ہوئے قدموں سے پہاڑی کے دوسری طرف جانے والی پگڈنڈی پر چل پڑا تاکہ اپنے پیارے گاؤں پر دوبارہ اس کی نظر نہ پڑے –
تاروں کی باڑھ کے پیچھے، گنے کے کھیت کی طرف سے آنے والی ہوا میں اس کی سسکیاں بھی شامل ہو گئی تھیں-
————————-

نوٹ : گرمٹیہ لوگوں کا پس منظر
فی جی ایک جزیرہ ہے جو نیوزی لینڈ سے تین گھنٹے کےہوائی راستے پر واقع ہے -اب سے ایک سو تینتیس سال پہلے برطانوی حکومت کے راج میں ہندوستان کے مختلف گاؤں دیہاتوں سے لوگوں کو ملازمت اور دوسری سہولیات کا جھانسا دے کر، عورتوں کو اغوا کرکے اور اسی طرح مختلف دھوکے دے کر کلکتہ کی سمندری بندرگاہ پر لایا گیا اور پھر بحری جہاز کے ذریعے فی جی کے ویران جزیرے پر انڈینچرڈ لیبر کی حثیت سے چھوڑ دیا گیا- ایک لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں میں سے آدھے سے زیادہ راستے میں ہی مر کھپ گئے کل تیس یا چالیس ہزار بچے جنہوں نے بہت سختیاں جھیل کر گنے کے کھیت اگائے وہاں سے شکر ساری دنیا کو برآمد ہونے لگی مگر ان میں سے اکثر کا حال برا ہی رہا بعد میں ان کی اولاد ہنر سیکھ گئی اور کافی خوش حال ہو گئے لیکن جو گنے کے کھیتوں پر کام کرتے رہے ان کی حالت نہ سدھر سکی آج سے کوئی پندرہ سولہ سال پہلے ایک انقلاب میں مقامی لوگوں نے انہیں ایک بار پھر ملک بدر کر دیا-
گرمٹیہ لوگوں پر ہونے والے مظالم کی داستان تاریخ کے صفحات میں بھی خال خال ہی ملتی ہے – پچھلے سال جب میں فی جی کے لوگوں کے گروپ کے ساتھ حج پر گئی تو میری روم میٹس نے اپنے آباء پر ہونے والے ناروا سلوک کی کہانیاں بھی سنائیں جس پر میں نے ان سے کتاب لکھنے کا وعدہ کیا لیکن ابھی تک یہ مختصر کہانی ہی لکھ سکی امید ہے جلد کچھ تفصیل سے لکھ پاونگی-

Facebook Comments Box
فکشنمائیکرو فکشن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تیرا چور، میرا چور —- شہزاد حسین
next post
سنتے کانوں کا قحط —— فوار رضا

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.