تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

کُتّا نہ کاٹے تو بھی خبر —– محمد عثمان جامعی

by دانش ڈیسک 23/05/2018
written by دانش ڈیسک 23/05/2018
67

خبر کی بڑی گِھسی پِٹی تعریف ہے کہ ”خبر یہ نہیں کہ کُتے نے آدمی کو کاٹ لیا، بل کہ خبر یہ ہے کہ آدمی نے کُتے کو کاٹ لیا۔“ جب تک یہ تعریف چلتی رہی اس وقت تک کُتے فائدے میں رہے، وہ بے فکری سے لوگوں کو کاٹتے رہے اور جو رہی سو بے خبری رہی۔ اگر آدمی کے کُتے کو کاٹنے جیسے واقعات ہی کو خبر کا درجہ حاصل ہو جاتا تو روزنامے نہیں سالنامے شایع ہوا کرتے۔ صحافت اس مشکل سے تو بچ گئی لیکن خبر کی تعریف کا دائرہ اس طرح پھیل چکا ہے کہ اسے دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ آدمی کے کُتے کے جسم میں دانت گاڑدینے جیسے شاذ و نادر ہونے والے واقعات ہی خبر کی تعریف پر پورے اُترتے تو ناظر اور قاری تو بہت سی فضول گوئی سے بچ جاتے لیکن ہمارے چینلز کا کیا ہوتا؟ اساتذہ¿ صحافت نے میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلوں کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے خبر کی تعریف کو وسعت دیتے ہوئے اسے آوارہ کُتے کی طرح کُھلا چھوڑ دیا ہے۔ کچھ نئی تعریفیں یہ ہیں:

کتے کا آدمی کو کاٹ لینا تو خبر ہے ہی، اگر وقت کی تنگی یا کسی اور مصروفیت کے باعث کتا کاٹ نہ پائے تو بھی خبر ہے۔
اگر کوئی کُتا اپنی پوری زندگی نہ کاٹے تب تو نہ صرف خبر ہے بلکہ اس کا انٹرویو اور اس پر خصوصی پروگرام بھی بنتا ہے۔

اگر کُتا آدمی پر بھونک دے تب بھی خبر ہے۔
کُتا کُتے پر بھونک دے، پھر بھی خبر ہے۔
کُتا آدمی کو دیکھ کر نہ بھونکے، یہ بھی خبر ہے۔
کُتا کُتے کو دیکھ کر نہ بھونکے تو خبر ہے، جو اسے خبر نہ مانے اس کی ایسی کی تیسی۔

لیجیے بھئی، اچھی نسل کے کُتے کا انتخاب اور پاگل کُتے کی پہچان سے کہیں زیادہ آسان اب کسی بھی واقعے کو خبر سمجھ لینا ہے۔

جدید علمائے صحافت کی ان تعریفوں کی رو سے کسی کی شادی اور عدت تو کیا خواتین کی ”مُدت“، کسی صاحب کی حُسن کا نظارہ کرکے آنکھوں میں آنے والی حدت، کسی کی مردانگی میں شدت اور میاں بیوی کے تعلقات میں کوئی ”جدت“ بھی خبر کے مقام پر فائز ہوسکتی ہے۔

جمعیت غلمائے اقتدار کے سربراہ مولانا فضل ہی فضل نے ایوان میں کرتا سرکا کر پیٹ کھجایا۔ ان کے اس عمل سے قومی اسمبلی کی خاتون ارکان سراسیمہ، ایک رکن بی بی سیما تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچیں

خبر کا معروضی اور حقائق پر مبنی ہونا بھی اب ماضی کا قصہ قرار پایا، جس پر آج کی میڈیا بازی اور خبرسازی راضی نہیں۔ اب آپ خبر کو اصناف ادب میں شامل سمجھیں۔ کوئی دہکتا پھڑکتا مچلتا خیال، جذبات کا اُبال، احساسات کا بھونچال، کچھ نیا کہنے کا جنجال، ریٹنگ کم ہونے کا وبالخبر میں ڈھل سکتا ہے۔ خواب، تصور، وہم، گمان خبر بلکہ مصدقہ خبر کا روپ دھار لیتا ہے، وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ ”خبر غلط ثابت ہو تو پھانسی لگا دینا۔“ یہ الگ بات ہے کہ قانون کا پھندا اور خطرے میں دھندا نظر آئے تو خبر دینے والا ”ہم سے بھول ہوگئی ہم کا معافی دے دو“ کی تصویر بن جاتا ہے۔ لیکن معافی، خجالت اور ندامت کی یہ تصویر بند کمرے میں لگی ہوتی ہے، بڑا اور اکڑا صحافی کبھی اپنی غلط خبر پر معافی مانگتا ہے نہ شرمندہ ہوتا ہے، سو ناظرین اور قارئین کے سامنے تاویلات کا ڈھیر اور تشریحات کا انبار ہوتا ہے، جن میں اصل بات ”ڈبردھوس“ کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

خبروں کی نئی تعریفوں کی روشنی میں اب خبریں دینے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد بعض چینل تو محلے کا تھڑا بن گئے ہیں، اور تھڑوں پر ”ابے وِس لمڈیا کا وِس لمڈے سے چکر چل ریا ہے“ جیسی بریکنگ نیوز ہی چلتی ہیں۔ وہ دن زیادہ دور نہیں جب خبر کی نئی تعریفوں کے مطابق آپ کو اس طرح کی خبریں اور بریکنگ نیوز سُننے، دیکھنے اور جھیلنے کو ملیں گی:

”صاف شفاف پارٹی کے سربراہ سدانوجوان خان کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف، سدا نوجوان خان کی ختنہ نہیں ہوئی۔ ہمارے رپورٹر گھر کھوجی کے مطابق عین ختنہ کے وقت وہ روتے ہوئے بھاگ گئے تھے۔ گھر کھوجی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس خبر کے تحریری اور تصویری ثبوت موجود ہیں۔“

اس خبر کے بعد علمائے کرام سے رائے لی جائے گی کہ آیا غیرمختون شخص کسی اہم عہدے پر فائز ہوسکتا ہے؟ سیاست دانوں سے ان کا خیال پوچھا جائے گا۔ اس کے بعد یہ اہم ترین ایشو ٹاک شوز میں زیربحث آئے گا۔

”برسی برتھ ڈے پارٹی کے چیئرمین تیزی طرّاری بالوں میں خضاب لگاتے ہیں، یہ دیکھیے خضاب کے ڈبوں کی تصاویر، ایکسکلوسیو رپورٹ۔ اس تہلکہ خیز خبر پر جب ہم نے تیزی طراری اور ان کی پارٹی کے راہ نماوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان میں سے کسی نے کال ریسیو نہیں کی۔“

”ملزم لیگ کے قائد نیا آغازشریف لڑکپن میں مجھے تاڑا کرتے تھے، ایک بار ’اوئےچھی چھی“ کرکے بلایا بھی تھا۔ مجھے گول گَپے کھانے کی پیشکش کی تھی۔
نیا آغازشریف کی ماضی کی پڑوسن شکیلہ ہلچل کا انکشاف۔ شکیلہ ہلچل سے تفصیلی گفتگو آج شب ہمارے پروگرام ’بَک بَک بانگڑو کے ساتھ“ میں ملاحظہ کیجیے۔“

”جمعیت غلمائے اقتدار کے سربراہ مولانا فضل ہی فضل نے ایوان میں کرتا سرکا کر پیٹ کھجایا۔ ان کے اس عمل سے قومی اسمبلی کی خاتون ارکان سراسیمہ، ایک رکن بی بی سیما تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ “

”محلہ وار قومی موومنٹ کے بھینس کالونی گروپ کے سربراہ رشید الدین اور محلہ وار قومی موومنٹ کے ایک اور دھڑے گیڈر کالونی گروپ کے چیئرمین حمید الدین کی لنگر کی بریانی لوٹتے ہوئے اچانک ملاقات، بریانی کی تھیلیوں کا آپس میں تبادلہ، ایک دوسرے کو دیکھ کر دھاڑیں مار کر روپڑے، پھر پیٹ پکڑ کر ہنستے ہنستے دوہرے ہوگئے۔ بھینس کالونی گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے سربراہ روئے نہیں ان کے صرف آنسو نکلے تھے، وہ بھی اس لیے کے بریانی میں مرچیں تیز تھیں۔ گیدڑ کالونی گروپ کے راہ نما اشفاق مینٹل نے اسے اچانک بھوک لگنے کے باعث ہونے والی اتفاقیہ ملاقات قرار دے دیا۔ ہم تجزیہ کار جناب گالی گفتار سے پوچھتے ہیں کہ کیا محلہ وار قومی موومنٹ بھینس کالونی گروپ اور گیدڑ کالونی گروپ کا انضمام ہونے جارہا ہے اور آئندہ وہ مل کر لنگر لوٹیں گے؟“

یہ خبریں تو بس اس دیگ کے کچھ چاول ہیں جو میڈیا پر پکنے والی ہے، کچھ پتا نہیں کہ ایسی خبریں اور ایسی نجی تفصیلات بھی خبرناموں کا حصہ بن جائیں کہ خبرنامے سے پہلے اعلان نشر ہو ”صرف بالغان کے لیےبچوں کو سُلا دیں اور لائٹیں بجھا دیں، کیوں کہ خبریں دیکھتے ہوئے آپ دوسرے سے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔“

Facebook Comments Box
featuredخبرکتا کاٹے تو خبرمزاحمزاحیہ خبریں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حُسنِ سَرکار ﷺ کی باتیں —– لالہ صحرائی
next post
میک مرفی اور منا بھائی — ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.