تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینعلمیکالممذہبی

حنفیت اور فکر اعتزال : محمد رفیق شنواری

by دانش ڈیسک 13/05/2018
written by دانش ڈیسک 13/05/2018
116

امام ابو بکر جصاص کے بارے میں بیشتر یہ سنتے آرہے ہیں کہ وہ معتزلہ میں سے تھے۔ لیکن اب ایک قدم مزید آگے بڑھ کر بعض اہل علم کا یہ بھی کہنا ہے کہ "حنفی فقہا کی ایک بڑی تعداد معتزلہ ہے۔” میں اصول فقہ سے متعلق قریب قریب اسی موضوع پر کام کر رہا ہوں۔ جس کیلئے پچھلے کئی ماہ سے امام ابو بکر جصاص، امام دبوسی اور سرخسی و بزدوی جیسی قد آور شخصیات کے کام کو ہضم کرنے کے جتن کر رہا ہوں۔ اس لئے اس”اصولی پہلو” سے متعلق کچھ معروضات پیش کر سکتا ہوں۔

مجھے یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں کہ "معتزلہ کی ایک بڑی” تعداد فقہ حنفی کا اتباع کرتی رہی ہے مگر اس بات سے اتفاق مشکل ہے کہ فقہائے احناف کی ایک بڑی تعداد معتزلہ رہی ہے۔ اس کی وجوہات جاننے سے پہلے ان دو جملوں میں فرق کی وضاحت ضروری ہے کہ احناف فقہ کی تعریف "معرفة النفس ما لها و ما عليها” سے کر کے فکر و عمل کا ایک ایسا متکامل نظام وضع کرتے ہیں جس کے اندر رہتے ہوئے کسی دوسرے مکتب کے پاس جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، گو کہ کافی مسائل میں معتزلہ سے اتفاق پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب معتزلہ کلامی مسائل میں بھر پور ذخیرہ رکھنے کے باوجود فقہی مسائل کا اتنا مستحکم اور جامع نظام نہیں رکھتے اس لئے ان کی ایک بڑی تعداد کے لئے فقہ حنفی ہی کی اتباع کرنا مجبوری بن گئ۔

"معتزلہ کی ایک بڑی” تعداد فقہ حنفی کا اتباع کرتی رہی ہے مگر اس بات سے اتفاق مشکل ہے کہ فقہائے احناف کی ایک بڑی تعداد معتزلہ رہی ہے۔

حنفی اصول فقہ کے تاریخ نگاروں کا اس پر اتفاق ہے کہ دیگر تمام مذاہب کے اصول پہلے وضع ہوئے اور بعد ازاں ان پر فقہی تعمیر کھڑی کی گئی۔ جب کہ "تدوین کی حد تک” حنفی مذہب کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ پہلے حنفی فقہ (Positive law) مرتب ہوئی اور اس کے بعد اسی فقہ سے اصول دریافت کر لئے گئے۔ اگر تدوین سے متعلق یہ بات سامنے رہے تو سوال ذہن میں آتا ہے کہ حنفی فقہ، جو کہ ظاہر الروایہ کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے، میں کتنے اور کون سے مسائل ایسے ہیں جو معتزلہ سے لئے گئے ہیں۔ (یہ سوال اس سوال کے علاوہ ہے کہ کیا معتزلہ اپنا فقہی مکتب بھی رکھتے ہیں؟)

اگر ظاہر الروایہ میں ایسے جزئیے کی نشاندہی مشکل ہو جس سے اعتزال کی بو آئے تو پھر امام ابو بکر جصاص کے توسط سے حنفی مکتب کو فکر اعتزال سے متاثر گرداننا کس حد تک درست ہے؟ حالانکہ امام جصاص حنفی اصول فقہ کی ایک معتبر کتاب ” الفصول فی الاصول” کے علاوہ حنفی فقہ کی ایک اور معتمد کتاب "مختصر طحاوی” کے شارح اور احکام القرآن جیسے حنفی مذہب کی نمائندہ تفسیرکے مصنف بھی ہیں۔ کیا ان کتابوں کا حنفی مذہب پر کوئی اثر نہیں؟ اگر ہے تو کیا حنفی مذہب کو فکر اعتزال سے محفوظ گرداننا درست ہے، اور کیوں کر؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لئے محض حنفی اصول فقہ کی تاریخ نہیں بلکہ حنفی اصول فقہ کے چاروں ستونوں (جصاص، دبوسی، سرخسی اور بزدوی) کے کاموں کا تقابلی جائزہ ضروری ہےاور بعدازاں ظاہر الروایہ، جہاں سے پوری حنفی اصول الفقہ کو اخذ کیا گیا ہے، پر بھی نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

اس وقت ہمارے پاس بانیان حنفی مذہب میں سے کسی کی بھی اصول فقہ پر کوئی تصنیف نہیں۔ امام عیسی بن ابان واحد وہ اتھارٹی ہے جنہوں نے براہ راست امام شیبانی سے کسب فیض کیا اور اصولی مسائل میں سب سے زیادہ ان ہی کی تصریحات پائی جاتی ہیں۔ امام جصاص ان کی آراء نقل کرتے رہتے ہیں۔ اورساتھ ساتھ ظاہر الروایہ سے بھی اصول کا استخراج کرتے ہوئے حنفی اصول فقہ کی ترتیب و تدوین کی مہم آگے کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس دوران وہ چند مسائل میں فکر اعتزال سے بھرپور متاثر اور انہی آراء کو حنفی مذہب قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر ان کے بعد امام دبوسی ان کے کام کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ امام جصاص کے کام سے استفادے کے ساتھ ساتھ نقد و تبصرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ دبوسی کے بعد سرخسی و بزدوی وہ شخصیات ہیں جو امام جصاص کے کام سے استفادہ بھی کرتے ہیں مگر ان کا زیادہ تر اعتماد ظاہر الروایہ پرہی رہتا ہے۔ جس کی بدولت وہ آسانی سے امام جصاص کے کام میں ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں جہاں وہ فکر اعتزال سے متاثر ہیں۔ اور ظاہر الروایہ کے فروعی مسائل کی روشنی میں ان پر بھرپور نقد کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ کیسے امام جصاص کی فکر اعتزال سے متاثر آراء حنفی مذہب نہیں۔

اس پورے Polemical Discourse کو مشائخ عراق و سمرقند کے اختلافات کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ کہ امام دبوسی جصاص کے علمی تفوق کا بھر پور احترام کے باوجود بھی ان مخصوص مسائل میں ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ دلچسپی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب دبوسی ان کے احترام میں نقد سے گریز کرتے ہوئے مگر عام احناف کا ساتھ بھی نہ چھوڑتے ہوئے جصاص کی بعض آراء کی تنقیح کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران دبوسی اپنی علمی شان اور تبحر و تفوق کو بروئے کار لاتے ہوئے کچھ جدید اصطلاحات کا اختراع کر لیتے ہیں، اور یوں اعتزال کا اثر "کم ہو کر” اس اختلاف کو بظاہر harmonize کرنے کی ایک راہ نکل آتی ہے۔ مگر ایک قاری شیخین (سرخسی و بزدوی) کو تب داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا جب وہ دونوں امام دبوسی کی اس علمی شان کا بھر پور احترام کرتے ہوئے ان کی تجویز کردہ اصطلاحات سے استفادہ بھی کرتے ہیں مگر کمال دقت سے ان مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ ان مسائل میں ذرا سا لچک بھی ظاہر الروایہ کے کن مسائل سے ٹکراؤ اور حنفی مذہب میں in-consistency کا موجب بن سکتا ہے۔ یہاں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح شیخین اور ان کی اتباع میں بعد کے تمام احناف اصولیین حنفی اصولی فکر پر اعتزال کے اثر، گو کہ امام دبوسی کی کاوش سے کم ہوچکا ہو، پر بالکل بھی کمپرومائز نہیں کرتے۔

انہی دو شخصیات کی کوششوں سے حنفی اصول فقہ کی تعمیر مکمل ہوجاتی ہے جس میں، ہمارے اب تک کے مطالعے کی روشنی میں، ذرا سا بھی اعتزال کا اثر نہیں۔ ان کے بعد جس کسی نے بھی حنفی اصول پر لکھا انہی دونوں کے اتباع میں لکھا، اور کوئی ایسی رائے آج احناف کا اصولی موقف نہیں جس کو شیخین نے رد کیا ہو۔ لہذا احناف کی "ایک بڑی تعداد” کو معتزلہ قرارد ینا، کم از کم اصول فقہ کے اعتبار سے درست نہیں۔ (ہاں یہ الگ بات ہے کہ معتزلہ کی ایک بڑی تعداد اپنا فقہی مکتب نہ رکھنے کی بدولت احناف کی فقہ کا اتباع کرے)۔ جہاں تک امام ابو بکر جصاص کے کام کا تعلق ہے اس کو حنفی فقہ و اصول دونوں میں نہ صرف قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ اساسی نوعیت کا سمجھ کر بھر پور استفادہ بھی کیا جاتا ہے۔ بالخصوص جب کہ شیخین نے ظاہر الروایہ کی چھلنی سے گزارکر فکر اعتزال سے تطہیر بھی کی ہے۔

Facebook Comments Box
اسلاماسلامی فقہہاسلامی فکراعتزالامام ابو حنیفہحنفی اصولحنفیتفقہمعتزلہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جمہوریت کی دعویدار ہماری سیاسی جماعیتں : ثناء غوری
next post
حالیہ سیاسی کشمکش، عدالتی فعالیت اور نواز شریف : چند فکری نکتے

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.