تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالممذہبی

ایران : اسلامی انقلاب جاری ہے؟ احمد الیاس

by دانش ڈیسک 28/04/2018
written by دانش ڈیسک 28/04/2018
136

ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور تاریخی لحاظ سے ایران کے تمدن و فکر کے ہماری سوچ اور طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔ ایشیاء کی اقوام بالخصوص مُسلم مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی مرکزی فکری، سیاسی اور تمدنی حیثئیت بھی مسلمہ ہے۔

انقلابِ ایران خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عالمِ اسلام میں رونما ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی اہمیت اسلامی تہزیب کے لیے ویسے ہی جیسی فرانسیسی انقلاب کی مغرب کے لیے۔ مگر فرانسیسی انقلاب کا پھل پکنے میں ڈیڑھ سو سال لگے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی سیاسی نظام نے جو شکل اختیار کی اس کی بنیاد فرانس کے انقلاب میں رکھی گئی تھی مگر انقلاب کے بعد کی دہائیوں میں انقلابیوں کے تمام آئیڈیلز (حریتّ، اخوت، مساوات) بظاہر کھٹائی میں پڑے رہے۔

انقلابِ فرانس کے بعد ایک دہائی سے بھی کم عرصہ میں نپولین کی آمریت مسلط ہوگئی اور اس کی شکست کے بعد بھی فرانس سمیت متعدد یورپی ملکوں میں آمریت اور جمہوریت کی کشمکش دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک چلتی رہی۔ مگر اگر انقلابِ فرانس نہ ہوتا تو شاید آج لبرل جمہوریت بھی نہ ہوتی۔

درحقیقیت حقیقی انقلاب راتوں رات سب کچھ مکمل طور پر تبدیل نہیں کردیتے۔ یہ تو بس جمود کو توڑ دیتے ہیں اور ارتقاء کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیتے ہیں۔ کوئی مخصوص اور تنگ نظریاتی گروہ حقیقی انقلابات کسی سازش سے نہیں لاسکتے بلکہ حقیقی انقلاب عوام کی امنگوں اور معاشرے کی گہرائی سے نکلتے ہیں اور متعدد رنگوں کے پرچم رکھتے ہیں۔ پرانے کے شعور سے ہی پائیدار نیا آہستہ آہستہ جنم لیتا ہے۔ اس دوران وقتی طور پر لگتا ہے کہ ایک انقلابی دھڑا دوسروں پر غالب آگیا مگر آخری نتیجہ جب نکلتا ہے تو سب رنگ ہی اس میں گھل مل جاتے ہیں۔ ایران کا انقلاب ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے۔ اور اسے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے۔

ایرانی انقلاب کا حتمی پھل ایک جدید اسلامی سیاسی ڈھانچے کی شکل میں نکلے گا۔ یہ یقیناً مغربی جمہویت سے بہت مختلف ہوگا مگر جس طرح مغرب نے اپنا جدید سیاسی ڈھانچہ انقلاب فرانس کے بعد مرتب کیا اسی طرح مسلمان بھی اپنے دین اور تمدن کے شایان شان مگر عصری تقاضوں سے ہم اہنگ سیاسی ڈھانچہ ترتیب دینے کے عمل میں ہیں، نہ صرف ایران میں بلکہ کئی مسلم ممالک میں۔

ایران میں انقلابی دریا اس وقت چار سیاسی دھاروں کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

پہلا دھارا معروف عالمِ دین آیت اللہ مصباح یزدی کی زیرِسرپرستی بنیاد پسند حلقہ ہے جو جمہوریت کا قائل نہیں. ان کے نزدیک منتخب عہدیداران کی حیثئیت فقط انصرامی ہونی چاہیے اور حقیقی سیاسی طاقت علماء کے پاس ہونی چاہیے۔ سابق صدر احمدی نژاد اس طبقے سے تھے. یہ سب سے ریڈیکل دھڑا ہے جو دھڑے کی حیثئیت سے زیادہ پرانا نہیں۔ محمد خاتمی کی اصلاحات کے ردِ عمل میں ابھرا۔

اپنے مخصوص انداز اور امریکہ سے سخت بیزاری کے باعث عالمی منظرنانے پر توجہ کا مرکز بنے رہنے والے سابق صدر محمود احمدی نژاد ملک کے اندر بھی بہت کٹر انقلابی خیالات کے مالک مانے جاتے تھے

دوسرا طبقہ رہبِر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی زیر سرپرستی قدامت پسند حلقہ ہے جو محدود جمہوریت کا قائل تو ہے مگر روحانیون یعنی فقہاء کی جمہوری اداروں پر بالادستی چاہتا ہے. سابق صدر رفسنجانی مرحوم اور سپیکر علی لاریجانی وغیرہ اس طبقے کے رہے. یہ دھڑا ایران کی اسٹیبلشمنٹ ہے اور بعض اندرونی اختلافات کے باوجود سب سے طاقتور ہے۔ پاسدارانِ انقلاب اور مجلسِ نگہبان جیسے اہم اداروں پر اس طبقے کا کنٹرول ہے۔

اگرچہ زندگی کے آخری دونوں میں سابق صدر رفسنجانی مرحوم کے ایرانی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے سبب انہیں نااہلی کا سامنا کرنا پڑا، مگر دو دہائیوں تک وہ خامنہ ای کے اتحادی سمجھے جاتے تھے۔ تصویر میں رفسنجانی رہبر اعلیٰ کی عیادت کررہے ہیں

تیسرا دھارا سابق صدر محمد خاتمی کی زیر سرپرستی اعتدال پسند حلقہ ہے جو جمہوری اداروں اور مذہبی اداروں کی طاقت میں توازن کا خواہاں ہے۔ نیز انقلابی فکر یعنی ولایتِ فقیہ کی حد میں رہتے ہوئے معقول اصلاحات چاہتا ہے. موجودہ صدر حسن روحانی اسی دھڑے سے ہیں. یہ عوامی سطح پر سب سے مقبول تحریک ہے، خصوصاً نوجوانوں میں۔

حسن روحانی ایک مقبول صدر ہیں جو بھاری مارجن سے دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔ اختلافات کے باوجود اپنی اعتدال پسند طبعیت کے سبب آپ نے خامنہ ای سے مناسب تعلقات قائم رکھے ہیں

چوتھا طبقہ سابق وزیر اعظم میر حسین موسوی کی زیرِ سرپرستی اصلاح پسند حلقہ ہے جو ولایتِ فقیہ سے کسی نہ کسی حد تک منحرف ہوچکا ہے اور ایک قدرے لبرل قسم کی اسلامی جمہوریت کا خواہاں ہے. مگر اس دھڑے کو سیکولر سمجھنا کج فہمی ہوگی۔ یہ دھڑا بہ طور دھڑا تب ابھرا جب اعتدال پسندوں کے بعض حلقوں کو محمد خاتمی کی اصلاحات ناکافی لگیں مگر اس حلقے کی متعدد شخصیات انقلاب کی پہلی صفوں میں تھیں اور ذرا مختلف طرز کی اسلام پسند ہی ہیں۔

2009 کے انتخاب میں احمدی نژاد پر دھاندلی کے الزامات کے بعد سبز تحریک چلی جو 1979 کے بعد سب سے بڑی تحریک تھی۔ شکست پانے والے امیدوار میر حسین موسوی اس کی مرکزی شخصیت تھے جو خمینی دور میں کئی سال وزیراعظم رہے۔ 2013 کے انتخاب میں اصلاح پسندوں کی سبز تحریک نے اعتدال پسند امیدوار حسن روحانی کی حمایت کی

ان چار دھڑوں کے علاوہ مختلف زیرِ زمین سیکولر گروہ مثلا سوشلسٹ اور نیشنلسٹ وغیرہ بھی ہیں مگر وہ تہران و تبریز وغیرہ تک محدود ہیں اور ان کی عوامی حمایت اور ریاست کی جانب سے حاصل آزادی، دونوں معدوم ہیں۔ ایران کا سیکولرسٹ طبقہ انقلاب کے دوران مارا گیا یا جلاوطن ہوگیا تھا۔

مذکورہ بالا چار طبقات کے درمیان کشمکش جاری ہے مگر اس دوران اسلامی بیانیے کے اندر ہی ایک زبردست فکری بحث دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے حالات اور اکثریتی مسلک دونوں ایران سے مختلف ہیں، مگر اس بحث کا پاکستان کے اسلام پسند طبقات کو مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

درحقیقیت حقیقی انقلاب راتوں رات سب کچھ مکمل  تبدیل نہیں کردیتے۔ یہ تو بس جمود توڑ دیتے ہیں اور ارتقاء کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیتے ہیں۔

 

Facebook Comments Box
featuredاحمدی نژاداسلامی انقلاباسلامی جمہوریتآیت اللہ علی خامنہ ایآیت اللہ مصباح یزدیایرانایرانی انقلابمحمد خاتمیمیر حسین موسوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا
next post
جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار — محمودفیاض

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.