تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

دہشتگردی کے پیچھے وردی کا نعرہ کیوں؟ —- عابد آفریدی

by دانش ڈیسک 11/04/2018
written by دانش ڈیسک 11/04/2018
100

سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم سے پوچھا۔
یہ پختون قبائل بغیر داڑھی مونچھ والے کو پسند نہیں کرتے حیران ہوں کہ آپ نے ان کو کیسے قائل کرلیا؟
قائد اعظم نے جواب دیا یہ اچھی بات کو پسند کرتے ہیں۔ میں نے ان سے صرف اتنا کہا "کہ میں اپنے لئے کچھ نہیں کر رہا”۔
ساری بات یہی ہے۔

یہ جو مظاہرین احتجاج پرپا کئے ہیں ان کو آپ کے الزامات و غدار جیسے القابات کی ضرورت نہیں۔ ان کو اگر ضرورت ہے تو آپ کی اچھی بات کی ضرورت ہے۔ آپ کے ان ہاتھوں کی ضرورت ہے جنھیں بڑھا کر آپ نے ان کو گلے لگانا ہے۔

زمانہ بہت بدل گیا ہے۔ پردے کم ہوگئے ہیں دوریاں مٹ گئی ہیں۔ اب کوئی چیز کوئی بات کوئی فیصلہ چھپائے چھپتا نہیں”

مشرف اس ملک کا مجرم ہے۔ یہ ہم نہیں اس ملک کی عدالتوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ آج اس کے ساتھی ہر دوسرے دن اپنی شائع ہونے والی کتابوں میں مشرف کی سیاہ کاریاں بے نقاب کرتے ہیں۔

چوہدری شجاعت تو اپنی کتاب "سچ تو یہ ہے” میں گواہی دے رہے ہیں کہ سب ٹھیک چلتا تھا بس ہر محاز پر مشرف کی ہٹ دھرمی آڑے اجاتی تھی جس کی وجہ سے معاملات بگڑ جاتے تھے۔

بہت ساری باتوں کا اعتراف خود پرویز مشرف اپنی کتاب میں کرچکے ہیں کہ کس طرح چار کی جگہ چھ مطالبات تسلیم کئے گئے۔ کس طرح فاٹا میں ڈرون حملوں کا سودا گانٹھا، یہ سب معلوم باتیں ہیں ان کی تفصیل میں جانا وقت کا ضیاع ہوگا۔

آج ہر ہر پاکستانی تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ آرمی قیادت کا رویہ گزشتہ تمام قیادتوں کی نسبت قدرے مختلف اور مثبت ہے۔
اگر اس نئی قیادت کو کہیں منفی سوالات کا سامنا ہے تو صرف اور صرف گزشتہ آرمی کیبنٹ کی وجہ سے ہے۔
ہونا یہ چاہئے تھا کہ نئی فوجی قیادت مشرف کو گرفت میں لاتی آئین شکنی، وطن فروشی کی پاداش میں سزا دیتی، سب نے انہیں بیمار قرار دیکر ملک سے باہر بھیج دیا۔ انہوں نے بھی مزید آگ بھڑکانے کو اگلے ہی دن رقص کی وڈیو بھیج دی۔
مشرف کو سزا دینے میں شائد کوئی بہت بڑی رکاوٹ مانع تھی، جس سے پاکستان کو خطرہ تھا۔۔ اس بات کو یوں ہی قبول کیا گیا اور لوگ خاموش ہوئے۔

پختونوں کی فطرت بڑی رنگین ہوتی ہے۔ دو میٹھے بول کہہ دیں زمانے بھر کی تلخیاں بھلا کر سر پر بیٹھا دیں گے۔

پچھلے دنوں نقیب اللہ محسود قتل ہوا اس کے قتل کا الزام کسی اور پہ نہیں، بدنام زمانہ پولیس انسپکٹر راو انوار پر ہے! بجائے اس کے کہ قانون خود حرکت میں آتا، قاتل کو گرفتار کیا جاتا، قانون کو یاد دلانے کے لئے لوگوں کو اسلام میں دھرنا دینا پڑا۔ تب کہیں کافی اونچ نیچ چھپن چھپائی کے بعد موصوف اس شاہانہ انداز میں عدالت وارد ہوئے جس انداز میں اس پہلے مشرف عدالت آئے تھا۔
پھر جج کا نرم لہجہ، اداروں کی نرم خوئی سب نے دیکھ لی۔
سب نظر آیا، سمجھ آیا۔ اگر کرنے پر آجائے تو اپنے ہی ملک کے باشندوں کو ڈرون طیاروں کے رحم کرم پر چھوڑ جاسکتا ہے، ایک ریمنڈ ڈیوس کی وکالت پر تمام ادارے میدان میں کود سکتے ہیں۔
اور جب نہیں کرنا ہو تو مشرف تو دور ایک بدنام حوالدار تک کو سزا نہیں دی جاسکتی۔

اس صورتحال کے بعد لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوا تو ردعمل کا شکار ہو کر "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” جیسے نعرے سنائی دینے لگے۔

"جب انسان کو چاروں جانب اندھیرا دکھنے لگے تو اسے تمیز کے دائرے نظر نہیں آتیں”۔

آج پاکستان بدل رہا ہے دنیا کی بہت بڑی انوسٹمنٹ پاکستان آرہی ہے۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ ایسے میں پشاور شہر کے بیچ و بیچ منفی نعروں کی گونج ہماری ساکھ کے لئے انتہائی مضر ہے۔
ان نعروں کو دبانے کے لئے جارحانہ نہیں مصالحانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مطالبات ماننے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ ملک دشمن نہیں، کوئی الگ ملک نہیں مانگ رہے، اپنے رشتے دار مانگ رہے ہیں۔ ان کو عدالت میں پیش کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ مائنز ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ راو انوار کا وی آئی پی پروٹوکول ختم کرنے کی بات کررہے ہیں۔

جارحیت مسئلہ کا حل نا پہلے تھا نہ آج ہے۔۔ فقط ایک اچھی بات کی ضرورت ہے۔۔ ایک جادوئی معانقہ، ایک حرف تسلی کہ دل جیت لے۔

پختونوں کی فطرت بڑی رنگین ہوتی ہے۔ دو میٹھے بول کہہ دیں زمانے بھر کی تلخیاں بھلا کر سر پر بیٹھا دیں گے۔

Facebook Comments Box
Pashteenپٹھانپختونقبائلمنظور پشتین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خلافت عثمانیہ کا زوال اور سعودیہ: مقتدا منصور کے جواب میں — علی عبداللہ
next post
عمرچھپانے کا سرطان —— ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.