تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینکتابوں پر تبصرے

’’اینکر‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیمور کا تبصرہ

by Editor2 22/03/2018
written by Editor2 22/03/2018
112

’’اینکر‘‘ ناول میں نوجوان صحافی وقاص عزیز نے سچائی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے صحافیوں کے جھوٹ کو بےنقاب کیا ہے۔ صحافیوں کی کرتوتوں، ذاتی مفادات اور عورتوں کے جنسی استحصال کے مناظر کو بڑی عمدگی سے ابھارا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وقاص عزیز نے صحافیوں کے ا س رویہ کو بھی سامنے رکھا کہ کیسے حق بولنے والے اور مثبت بغاوت کرنے والے کو سبق سکھایا جاتا ہے۔ سفارشی اور تندرست صحافی کس طرح قابل اور اہل صحافیوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حکومتی افراد ،عوام کے پیسے سے کس طرح صحافیوں کو خریدتے ہیں اور اپنی حمایت میں خبریں نشر کرواتے ہیں۔

اس طرح دیکھیں تو وقاص عزیز نے صحافت کے موجودہ منظرنامہ پرخاصا طنزکیا ہے۔ صفحہ نمبر 39، مس رحمیہ میرے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت مختلف ہو گا آپ کا، میں دشمنوں کو بھی دوست بنانے کا قائل ہوں اور یہی میری کامیابی کاراز ہے اور خوبصورت خواتین کی دوستی میرے لہو کی سرخی میں مزید اضافہ کر دیتی ہے، آپ کے بارے میں جو سنا تھا ایسا ہی پایا لیکن میرے ساتھ کام میری شرائط پر میرے مزاج کے مطابق لفظ مزاج پر زور دیتے ہوئے آفندی کے چہرے کا رنگ مزید گہرا ہو گیا تھا۔ رحمیہ کو ایسا لگا جیسے اسے کسی نے پہلی بار گاڑی میں بیٹھنے کی نہیں پوری گاڑی کی ہی آفر کی جا رہی ہے۔ آفندی نے یہیں بس نہیں کیا مس رحمیہ کتنی تنخواہ لے رہی ہیں آپ؟ میری تنخواہ سے اس ساری گفتگو کا کیا تعلق ہوا؟ تعلق ہے بہت گہرا ذرا آپ بتاہیے آپ کنٹریکٹ پر ہیں یا مستقل ہیں۔ سر میں کنٹریکٹ پر ہوں اور ساٹھ ہزار لے رہی ہوں الحمدلله، رحمہ نے جواب دیا۔ اتنی خوبصورت لڑکی اور اتنی تھوڑی تنخواہ۔ میری طرف سے اپ کو ایک آفر ہے آپ کی نوکری بھی مستقل ہو جائے گی اور تنخواہ بھی 500000 ماہانہ اور صرف میرا پروگرام کرنا ہو گا یہ آفر سن کر رحمیہ نے پوچھا سر اس عنایت کا مقصد جان سکتی ہوں؟ ہاں۔ بالکل آپ میری دوست ہیں اور میں دوستوں کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا۔ اور اگر میں یہ آفر نہ قبول کروں؟ تو پھر آپ اپنے مستقبل کی فکر کیجیے گا آفندی نے معنی خیز لہجے میں کہا۔

وقاص عزیز نے جس طرح صحافت کو جس طرح اپنے مطالعہ کا حصہ بنایا ہے اس سے نہ صرف پاکستانی میڈیا کا چہرہ سامنے آیا ہے بلکہ کم وبیش پوری دنیا کے صحافی برادریوں کا رویہ ایسا ہی ہے۔

نوجوان ادیب نے اس ناول میں سیاست اور صحافت جیسے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے اپنی فکری شعور سے آگہی دی ہے۔ ناول میں جذبات واحساسات مسرتوں اور خواہشوں ناکامیوں اور نامرادیوں، خوابوں اور خوف کو بڑے جاندار طریقے سے بیان کیا ہے میڈیا میں انسانیت کی تذلیل کو بیان کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ ناول اینکر کی طرح اہم رول ادا کرتے ہوئے بہت سی چھپی ہوئی حقیقتوں کو سامنے لائے گا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وقاص عزیز نے جس طرح صحافت کو جس طرح اپنے مطالعہ کا حصہ بنایا ہے اس سے نہ صرف پاکستانی میڈیا کا چہرہ سامنے آیا ہے بلکہ کم وبیش پوری دنیا کے صحافی برادریوں کا رویہ ایسا ہی ہے۔ کردار نگاری ناول میں کرداروں کی پیش کش دلچسپ ہے ہر کردار اپنی ذہنی سطح کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے ناول کا مرکزی کردار طاہرہ ہے جس کا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ جہاں آج بھی اقدار کو اہمیت دی جاتی ہے۔

ناول کا بیشتر حصہ طاہرہ نفیس، اشعر اور آفندی کے درمیان ہونے والی مکالماتی بحث پر مبنی ہے۔ اس ناول میں بہت ساری خوبیوں کے ساتھ کچھ خامیاں بھی ہیں۔ اس کا پلاٹ نہایت کمزور ہے ناول کے آغاز سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا روز نامچہ لکھ رہا ہے۔ صفہ ممبر 5: میرا تعلق اس نسل سے ہے جس نے لہو کی گود میں جنم لیا ہے۔ ہم آنکھ کھولنے کے بعد آمریت کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کو پاکستان کی شہ رگ کو مسلسل کا ٹتے دیکھا ہے۔ اس تماشے میں سیاستدان کیا اور عام شہری کیا سب ہی شریک تھے۔ ابھی یہ تماشہ تھما نہ تھا کہ مشرف کے آمرانہ دور میں دہشت گردی کے عفریت نے اس دھرتی کو جکڑ لیا۔ ان گنت جانوں کا نذرانہ اس ملک کو بناتے وقت دیا تھا اور لاکھوں جانیں اب اس کی بقا کی نذر ہو چکی ہیں۔

ناول کے تمام کردار جاندار ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ کچھ کردار ایسے ہیں جو اول تا آخر موجود ہیں۔ اور کچھ موقع بہ موقع آتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کا اسلوب نہایت سادہ ہے۔

144 صفحات پر مشتمل یہ تحریر ناول کے مقابلے میں مختصر کہانی یا ناولٹ ہے۔ اردو ادب میں اس ناول کا مرتبہ اور مقام طے کرنا میرے لیے مشکل ہے تاہم ناول اپنے موضوع اور بیانیے پراپنی گرفت کےاعتبار سے قائرین کو متاثر ضرور کرے گا۔

Facebook Comments Box
Anchorاینکرصحافتصحافتی دنیاناول اینکر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
گوگل، فیس بک، اور ایمیزون کا ڈیجیٹل معیشت پر غلبہ: لگام دینے کا اہتمام ____کیوں اور کیسے؟
next post
ای میل محمد علی جناح بنام محمد جبران‎

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.