تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینفنونکلچرکلچر، آرٹ

قلعہ دراوڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مدثر سلیم میاں

by Editor2 21/03/2018
written by Editor2 21/03/2018
173

پاکستان کے نوادرات، فنون لطیفہ اور بیش قیمت ثقافتی ورثے میں چولستان کی تہذیب و تمدن، آثار قدیمہ اور کھنڈرات ایک اہم مقام کےحامل ہیں۔ زمانہ قدیم میں چولستان کی آب وہوا اب سے بالکل مختلف تھی۔ چولستان میں کبھی دریائے ہاکڑہ ٹھاٹھیں مارا کرتا تھا۔ جو اب خشک کھدی ہوئی پگڈنڈی کی شکل میں موجود ہے۔ اس کے دونوں اطراف کچی پکی اینٹوں کے تقریباً40 قلعوں کے کھنڈرات ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ دریائے ہاکڑہ ہندوستان کے دریائے گھاگھرا کی ایک شاخ ہے اس وجہ سے ویدک آریائوں کے نزدیک یہ دریا سرسوتی ندی کی طرح مقدس ہے غالباً ایک ہزار قبل ازمسیح میں دریائے ہاکڑہ کا پانی گنگا اور جمنا میں شامل ہو کر اپنے پیچھے خشک زمین چھوڑ گیا۔ البتہ دریائے گھاگھرا جنوب مغرب کی طرف بہتا رہا اور بیکانیر، جلسمیر کی ریاستوں کے ساتھ ساتھ صحرائے تھرکے مغربی حصوں سے بہتا ہوا سمندر میں جا گرا۔ اس قدیم دریا کے کناروں کے ساتھ ساتھ آج سے پچاس سال پہلے تک چار ہزار سے زیادہ قدیم عمارتوں کے باقی ماندہ حصے موجود تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چار ہزار قبل ازمسیح سے اسلامی دور کے آغاز تک یہاں تہذیب و تمدن کے ارتقاء کی کیسی کیسی کہانی محفوظ ہے۔

دریائے ہاکڑہ کے خشک راستے کے ساتھ ساتھ قلعوں کی قطار اس کہانی کا آخری حصہ معلوم ہوتی ہے غالباً مسلمانوں نے اپنے دور حکومت میں ارد گرد خون خوار ہمسایوں سے حفاظت کے خیال سے دفاعی لائن قائم کی۔ صوبہ پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے میں بہاولپور کا انتظامی ڈویژن ہے یہ بہاولپور، بہاول نگر اور رحیم یارخان تین اضلاع پر مشتمل ہے۔ جس کا کل رقبہ 25617 مربع کلو میٹر ہے۔ کم و بیش نصف رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جسے ’’چولستان‘‘ کہتے ہیں لیکن یہ علاقہ چولستان سے زیادہ ’’روہی‘‘ کے نام سے مشہور ہے اس علاقے کو مٹھن شریف کے روحانی صوفی شاعر خواجہ غلام فرید نے اپنے کلام کے ذریعے لافانی بنا دیا ہے۔

چولستان میں پائے جانے والی عمارتوں میں دراوڑ کا قلعہ سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کہ جیسے ریت کے سمندر میں ایک تباہ کن بحری جہاز لنگر انداز ہے۔

اس علاقے میں خانہ بدوش قبیلے رہتے ہیں جن کی تمام تر دولت ان کی بکریاں، اونٹ اور بھیڑیں ہوتی ہیں یہاں پانی نایاب ہے اور بارش کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ اس بارش کے پانی کو چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں جمع کر لیا جاتا ہے۔ جنہیں ٹوبہ کہا جاتا ہے۔ یہاں کی آب و ہوا میں رہنا نہایت مشکل ہے لیکن یہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ مشکل مسکن ہونے کے باوجود یہاں کے لوگ اپنے ماحول سے بہت پیار کرتے ہیں اس صحرا کی تہذیب بڑی پرانی ہے اور اس کی اپنی ایک رومان بھری ثقافت ہے جس میں بہادروں کے رزمیہ گیت بڑی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

قلعہ دراوڑ
چولستان میں پائی جانے والی تاریخ اور طرز تعمیر کے آثار پاکستان کی نایاب آرٹ اور ثقافت میں سنہرے باب کی حیثیت رکھتے ہیں زمانہ قدیم کے چولستان کی آب و ہوا آج کے چولستان کی آب و ہوا سے بڑی مختلف ہے۔

چولستان میں پائے جانے والی عمارتوں میں دراوڑ کا قلعہ سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کہ جیسے ریت کے سمندر میں ایک تباہ کن بحری جہاز لنگر انداز ہے 18 ویں صدی بعدازمسیح کے اوائل میں فوجی طرز تعمیر کا بنایا گیا یہ قلعہ اب بھی بڑی اچھی حالت میں محفوظ ہے یہ اب بھی بہاولپور کے نوابوں کے قبضے میں ہے جنہوں نے اپنے آپ کو اس علاقے میں قائم رکھا ہوا ہے۔ قلعہ دراوڑ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادیں اسلام سے قبل بنائے جانے والے قلعے کی بنیادوں پر رکھی گئی ہیں۔

بعض روایات کے مطابق اسے بھاٹی یا بھاٹیہ نے تعمیر کیا تھا جس کا نام ڈیرہ سڈھ تھا اسے دیور اول بھی کہا جاتا ہے اس قلعے کا نام درحقیقت اس کے نام پر دیور اول رکھا گیا تھا لیکن بعدازاں اسے دراوڑ کہا جانے لگا۔

قلعہ دراوڑ کی اولین تاریخ کیا ہے اس کے متعلق ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں البتہ ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ کیسے بہاولپور کے نواب محمد خان اول نے 1733ء بعد از مسیح میں دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔ چھ سال بعد نادر شاہ نے نواب کے خطاب سے نوازا اور سندھ کا وسیع و عریض علاقہ انہیں عطاء کیا جس میں موجودہ شکار پور، لاڑکانہ، سیوستان اور چہاہ ٹھیار کے علاقے شامل تھے۔

دراوڑ کا علاقہ ان تمام علاقوں کے علاوہ عطاء کیا گیا تھا۔ دوسرے نواب محمد بہاول خان کے دور میں راول رائے سنگھ نے 1747ء بعداز مسیح میں اس پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ کم و بیش تیسرے نواب مبارک خان کے دور میں اسے رضا کارانہ طور پر اس شرط پر واپس کر دیا گیا کہ اس قلعہ کی آمدنی کا نصف انہیں ادا کیا جائے گا۔

بہاولپور کا علاقہ اور قلعہ دراوڑ تیمور شاہ نے 1788ء میں اپنے قبضے میں لے لیا اور اسے تھوڑے عرصے کے لیے شاہ محمد خان کی نگرانی میں دیدیا لیکن جلد ہی چوتھے نواب محمد بہاول خان دوئم نے ان دونوں علاقوں کو اپنے قبضے میں لےلیا۔ 18 ویں صدی کے آخری راج میں دراوڑ کا علاقہ بہاولپور سٹیٹ کے سابق حاکموں کے کنٹرول میں تھا۔

Facebook Comments Box
Cultural heritagepakistan cultureآثار قدیمہپاکستان کے نوادراتپاکستانی ثقافتتہذیب و تمدنثقافتی ورثےچولستانچولستان کی تہذیب و تمدنقلعہقلعہ دراوڑ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
نیم کا پیڑ اور کچّا آنگن : سید مظفر الحق
next post
آبِ حیات — آبیناز جان علی کا افسانہ

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.