تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

سینیٹ الیکشن ایک نئے بیانیے کی بنیاد: ثمینہ رشید

by دانش ڈیسک 14/03/2018
written by دانش ڈیسک 14/03/2018
69
جس سینیٹ کے الیکشن کی دھوم کئی ماہ سے جاری تھی آخرکار وہ ایک ہنگامہ خیزی کے بعد اختتام کو پہنچے۔ پاکستان کی تاریخ میں سینیٹ کے کسی الیکشن کو شاید ہی اتنی توجہ نصیب ہوئی ہو یا زیر بحث لایا گیا ہو جتنا کہ اس مرتبہ یہ اہمیت حاصل ہوئی۔
خان صاحب نے اپنی سیاست کی اب تک کی بہترین چال سے سینیٹ کے الیکشن کا رخ ہی موڑ دیا تھا۔ بلوچستان سے سینیٹ چئیرمین کے لئے حمایت کا اعلان کرکے انہوں نے زرداری کو بھی اپنے نمائندے سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا۔ اور انہیں عمران خان کی بلوچستان سے سینیٹ چئیرمین لانے کی پالیسی کی حمایت کرنا پڑگئی۔ نتیجتا اپوزیشن کے مشترکہ حمایت یافتہ صادق سنجرانی ستاون ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

بظاہر یہ اتنا آسان معلوم نہ ہوتا تھا اور ووٹ کی گنتی ہونے تک یہ فیصلہ ایک سرپرائز تھا۔  عمران خان کے لئے اس فیصلے کے بہت سے مثبت ثمرات ہیں۔ انہوں نے اس عمل سے بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں نہ صرف ایک اچھا امیج بنالیا ہے بلکہ ایک طرح سے آنے والے الیکشن کے کمپئین کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔ بلوچستان کی سیاست اور زمینی حقائق مختلف ہیں اور اس کا ادراک کرتے ہوئے تحریک انصاف ان کے لئے انتخابات میں ایک نیا  اور روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کر تیسرا آپشن ثابت ہو سکتی ہے ۔ گو کچھ کہنا شاید  قبل از وقت ہو لیکن لوگوں کی جانب سے اس تیسرے آپشن کو خوش آمدید کہا جاسکتا ہے۔

اس الیکشنز کے نتیجے کے دو واضح اثرات ہیں
اس کا ایک اثر تو یہ ہے کہ جس نئے بیانئیے کا آغاز میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کی ناکام ریلی سے کیا تھا اور جس کے بارے میں تقریبا اسی فیصد تک میڈیا، صحافیوں اور دانشوروں کا ماننا تھا کہ نیا بیانیہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور میاں صاحب اداروں سے براہ راست تصادم کی پالیسی کے زریعے ایک مومینٹم بناچکے ہیں اور مسلم لیگ نون کو مستقبل میں اس کا بہت فائدہ پہنچے گا وغیرہ وغیرہ۔

سینیٹ کے اس الیکشن کے نتائج نے اس غبارے کی ہوا نکال دی ہے اورِ وہ  زمین بوس ہوچکا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومینٹم کا شور زیادہ تر پروپیگنڈے پر مبنی تھا اور اس کی کوئی منطقی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پردہ آج نہیں تو کل بہرحال چاک ہونا تھا لیکن سینیٹ کے الیکشن کے نتائج نے یہ کام بہت جلد اور آسانی سے کردیا ہے۔ تین ماہ سےایک پروپیگنڈہ تو یہ تھا کہ سینیٹ کے الیکشن ہونگے ہی نہیں۔ حتی کے سنئیر وفاقی وزرا اور کابینہ کے ارکان تک نے یہ بیان دیا کہ سینیٹ کے الیکشن ہوتے نظر نہیں آتے اور یہ کہ ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

سینیٹ کے انتخابات ہوئے اور وقت پر ہوئے لیکن حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ بخوبی سامنے آئی ۔ شاید حکومت پر اپنا انجام نوشتۂ دیوار کی طرح واضح تھا اسلئے انہوں نے سینیٹ کے الیکشن سے پہلے ہی رضا ربانی کا نام لے کر خود کو بیک فٹ پر کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن: جمہوری مروڑ اور علاج: شہزاد صدیقی

 

تیرہ مارچ کر جنرل ورکرز کنونشن میں شہباز شریف کے بلامقابلہ منتخب ہونے کی تقریب میں میاں نواز شریف کا شکست خوردہ لہجہ اس بات کا غماز تھا کہ ان کا بیانیہ منہ کے بل گر چکا ہے ان کی مایوسی اور رنجیدہ لہجہ چھپائے نہیں چھپ رہا تھا ۔ پانامہ کیس کے حوالے سے کیئے گئے غلط فیصلے اور ٹی آر اوز پر ہٹ دھرمی کا نتیجہ اسقدر خطرناک ہوسکتا ہے یہ شاید نواز شریف نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ لیکن وقت کسی کا نہیں ہوتا ۔تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کی بھول بھلیوں پر واپسی کا سفر مشکل اور تکلیف دہ ہی ہوا کرتا ہے ۔

ایوان بالا کے انتخابات کے نتائج کا دوسرا اہم اثر یا پہلو تحریک انصاف کو ملک کی سیاست میں مرکزی حیثیت کا حاصل ہونا ہے۔ اس وقت صرف تیرہ ووٹ رکھنے والی تحریک انصاف اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے نہ صرف خود کو فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی پوزیشن میں لے آئی ہے بلکہ ایک ایک ایسی جماعت بن کر ابھری ہے جو آئندہ الیکشن میں وفاق کی علامت ہوگی ۔ جس کے نمائندے بلاشبہ چاروں صوبوں میں ہونگے ۔ دو ہزار تیرہ میں پنجاب سے پہلی مرتبہ نون لیگ کو چیلنج کرنے والی اور بغیر مضبوط حکمت عملی اور روایتی داؤ پیچ کے تیس کے قریب نشستیں جیتنے والی واحد جماعت تحریک انصاف تھی۔

پانچ سال کے تجربے کے بعد اس الیکشن کے نتائج اور آنے والے دنوں میں شریف فیملی کے حوالے سے کورٹ کیسزکے فیصلوں سے تحریک انصاف کو پاکستان کی سیاست میں عموما اور پنجاب کی سیاست میں خصوصا  تقویت حاصل ہوگی۔ ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ کی امید رکھنے کی خواہش مند نون لیگ کو اس مرتبہ ہمدردی کی بنیاد پر یہ ٹارگٹ حاصل کرنا بالکل آسان نہیں ہوگا۔

سینیٹ کے الیکشن کے نتائج سے پنجاب کے الیکٹیبلز کو ایک طرح کا ریڈ الرٹ مل گیا ہے۔  آنے والے چند ہفتوں میں پنجاب سے الیکٹیبلز کا نون لیگ سے علیحدہ ہونا بعید از قیاس نہیں۔

لیکن اس سے زیادہ روشن پہلو اس مومینٹم کا آغاز ہے جو عمران خان کی نئی حکمت عملی سے وجود میں آیا ہے اور اپنی جگہ بنارہا ہے۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں ممبر سازی کی کمپئین پر شاندار ریسپانس اس بات کا مظہر ہے کہ جس مومینٹم کی بنیاد ملک کے اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر رکھی گئی تھی  اسکو ایک خاص وقت کے بعد اسی طرح زمین بوس ہوجانا تھا ۔ جس طرح نواز شریف کے بیانیہ زمین بوس ہوچکا ہے۔ اور اصل بیانیہ وہی ہوگا جس کی بنیاد ملک اداروں کی مضبوطی ،ملک کی سالمیت ، قانون کی حکمرانی ، انصاف کی فراہمی اور چیک اینڈ بیلنس پر یقین رکھنے سے ہو۔اس بیانئیے کا مومینٹم خود عوام تشکیل دیں گے اور اسکو عملی شکل میں نافذ کرنے کے لئے تحریک انصاف اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

Facebook Comments Box
Senate Electionسیاستسینٹ الیکشن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سینٹ الیکشن اور ہماری سیاست کا گھناونا چہرہ : ثناء غوری
next post
اقبال، فیض کی نظر میں : اعجازالحق اعجاز

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.