تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

اقبال، فیض کی نظر میں : اعجازالحق اعجاز

by دانش ڈیسک 14/03/2018
written by دانش ڈیسک 14/03/2018
106

دانش بورڈ کے سینیر ممبر اور ماہر اقبالیات جناب اعجازالحق اعجاز نے علامہ اقبال کے بارے میں انکے ہم عصر اور بعد میں آنے والے معروف ادبا اور شعرا کی آرا پہ مبنی یہ سلسلہ مضامین شروع کیا ہے۔ زیر نظر تحریر اس سلسلہ کا دوسرا مضمون ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔


اقبال کا مقام جانچنا ہو تو یہ نہ دیکھیے کہ چھوٹے چھوٹے شاعر اور چھوٹے چھوٹے نقاد اور چھوٹے چھوٹے محقق ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں بلکہ یہ دیکھیے کہ ان کے عہد کے اور ان کے بعد میں آنے والے ادوار کے بڑے شاعر، بڑے نقاد اور بڑے محقق ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، ان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، کس ذہن سے پرکھتے ہیں، کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ اقبال کے بعد جو شعرا پیدا ہوئے ان میں سب سے بڑے شاعر تو میری نظر میں فیض ہی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ فیض اقبال کو کس نظر سے دیکھتے اور کس ذہن سے پرکھتے ہیں۔

پچھلے سال پنجاب یونی ورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ڈاکٹر وحیدالرحمٰن خان کی طرف سے برپا کی گئی ایک محفل میں معروف ادبی شخصیت اور فیض صاحب کے دوست اشرف شریف صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ فیض صاحب کا ذکر چھڑنا لازمی تھا۔ کہنے لگے فیض صاحب ایک بے حد متواضع شخصیت اور وسیع ظرف کے مالک تھے۔ سوچ سے بھی زیادہ بلند ہستی۔ ایک مرتبہ ڈیرہ غازی خاں تشریف لائے۔ نیشنل آرٹس کونسل ڈیرہ غازی خاںنے ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا اور اشرف شریف صاحب اس وقت کونسل کے ڈائریکٹر تھے۔ کانفرنس کے بعد فیض صاحب ان کے گھر تشریف لائے۔ ڈرائنگ روم میں صوفے پر فیض صاحب تشریف فرما تھے اور شریف صاحب عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے قدموں میں بیٹھے تھے۔ فیض صاحب نے انھیں اپنے برابر بیٹھنے کا کہا مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ باتوں باتوں میں شاعر مشرق کا ذکر چھڑ گیا۔ فیض صاحب کہنے لگے کہ اگرآج اقبال موجود ہوتے تو میں بھی اسی طرح ان کے قدموں میں بیٹھا ہوتا جس طرح تم بیٹھے ہو۔ یہ ایک بڑے شاعر کا ایک دوسرے بڑے شاعر کو خراج عقیدت تھا۔

ہم تو بس Mediocre ہیں شاعر تو بس اقبال تھے۔ فیض

جو چند نگاہیں اقبال تک پہنچ سکیں ان میں فیض کی نگاہ بھی تھی۔ فیض کو اقبال سے بچپن ہی سے عقیدت تھی۔ اس عقیدت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ان کے پہلے ہی مجموعہ کلام میں ایک نظم ’’اقبال‘‘ کے نام سے موجود ہے جس میں انھوں نے اقبال کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا
اب دور جا چکا ہے وہ شاہ گدا نما
اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں
چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص
دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے
اور اس کی لے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں

فیض صاحب کی یہی نظم اقبال کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک اور نظم بھی اسی عنوان سے ہے جو ان کے کسی مجموعہ کلام میں شامل نہیں۔ اس نظم کے یہ لائنیں قابل غور ہیں:

نبود و بود کے سب راز تو نے پھر سے بتلائے
ہر اک فطرت کو تو نے اس کے امکانات جتلائے
ہر اک قطرے کو وسعت دے کے دریا کر دیا تو نے
ہر اک ذرے کو ہمدوش ثریا کر دیا تو نے

فیض صاحب سے جب اقبال سے متعلق رائے دینے کا کہا جا تا تو وہ اکثر کہا کرتے کہ ’’ہم تو بس Mediocre ہیں شاعر تو بس اقبال تھے۔‘‘ یہاں ایک واقعے کا ذکر بھی ضروری ہے جسے ڈاکٹر لڈمیلا وسیلیوا نے بھی اپنی کتاب ’’فیض: پرورشِ لوح و قلم‘‘ میں بیان کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک اجلاس میں احمد ندیم قاسمی نے ایسی تقریر کر دی جس میں اقبال کے خلاف بھی کچھ باتیں تھیں۔ فیض صاحب نے اس کا سخت برا مانا اور انجمن کے آیندہ اجلاسوں میں شرکت سے معذرت کر لی۔

اقبال نے پیام مشرق کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ اقبال کے صد سالہ یومِ پیدائش پر بھارت میں ہونے والی تقریب میں فیض کا صدارتی خطبہ اقبالیاتی ادب میں ایک خاصے کی چیز ہے۔

اقبال اور فیض میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں ہی انسان کی عظمت کے زبردست نغمہ گر ہیں۔ اقبال نے اس سلسلے میں خودی کا درس دیا جب کہ فیض بھی اسی جذبے کے تحت ایک ایسی تحریک سے وابستہ ہوئے جو پسی ہوئی انسانیت کی معاشی حالت کو سدھار نے کے لیے وجود میں آئی تھی۔ فیض کی ساری شاعری کا مرکزی نکتہ انسان ہی ہے۔ وہ فکری اور عملی دونوں حوالوں سے انسان دوست تھے۔ فیض نے اقبال میں بھی اسی انسان دوستی کی جلوہ گری کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہا ہے:

’’اقبال محض لفظی طور پر ہی نہیں معنوی طور پر بھی اقبال دوست ہیں۔ ان کے لیے حقیقت کی کوئی صورت اتنی توانا، اتنی دلکشا اور اتنی حسین نہیں جتنی کہ روح ِ انسانی۔ شدید داخلی چھان بین اور مختلف جہتوں میں غور و فکر کے بعد انھیں بالآخر وہ موضوع مل گیا جو اپنی وسعت کے سبب ان کی پوری شعری بصیرت پر چھا گیا اور وہ دہرا موضوع تھا انسان کی عظمت اور اس کی تنہائی۔۔۔ انسان کے خلاف صف آرا مشکلات، ظلم، استحصال، اس کی باطنی خامیاں اور خارج میں ایک دشمن سنگ دل فطرت اور ان سب کا احاطہ کرتی ہوئی اس کی تنہائی۔ اقبال انسان کی شان وشوکت، اس کے دکھ درد، اس کی امیدوں اور پریشانیوں کے نغمہ خواں تھے۔ اقبال نے یہ کام خلوص و یقین اور اظہار کی ایسی وسعت و لطافت کی سطح پر کیا جو ان کے عہد میں کوئی نظیر نہیں رکھتاــ۔‘‘

اقبال کی فکر اور شاعری میں ایک واضح ارتقا نظر آتا ہے اور یہ کبھی بھی جمود کا شکار نہیں ہوتی۔ فیض نے اقبال کی اسی خصوصیت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

ــ’’ان کی جذبہ کی شدت سے بھر پور تھرتھراتی ہوئی شاعری اور اس شاعری کی قائل کرنے والی تاثیر ان کے بیشتر اثر و رسوخ کا باعث ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہئیت و مواد، خیال و اسلوب واضح خطوط پر حرکت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور سلسلہء تخلیق کے طویل عرصے میں ان کا ارتقا دلچسپ مطالعے کا موضوع ہے۔ شعری بصیرت کے دائرے میں تدریجی پھیلائو کے تناسب سے ان کے شعری موضوعات میں کمی ہوتی گئی۔ اسراف، پھیلائو سے استحکام کی طرف چلتے ہوئے آخر کار ان کی فکر آخری برسوں کے تصور وحدت تک پہنچ گئی۔‘‘

فیض، اقبال کے اس لیے بھی قدر دان تھے کیوں کہ ان کی شاعری بلند آدرش کی حامل ہے اور ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کے زمرے میں آتی ہے۔ فیض یہ سمجھتے تھے کہ اقبال اردو کے پہلے بڑے شاعر تھے جنھوں نے اپنی شاعری کو زندگی کے ارفع مقاصد کا اتنا بڑا آئینہ بنا دیا۔ اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں:

’’آفاقی طریقے سے سوچنے کا ڈھب اور اس کو سوچنے کی ترغیب ہمارے ہاں اقبال نے پیدا کی اور آخری چیز جو میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے تخلیق کی وہ شعر و ادب کے لیے ایک نئے مقام کا تعین تھا۔ یہ مقام اس سے پہلے ہمارے ہاں نہ شعر کو حاصل تھا نہ نثری ادب کو۔ ہمارے ہاں اس سے پہلے شعر یا تو تفریحی چیز سمجھی جاتی تھی یا ایک غنائیہ چیز یا زیادہ سے زیادہ محض ایک اصلاحی چیز سمجھی جاتی تھی یہ بھی حالی کے بعد۔ شعر میں فکر اور شعر میں حکمت اور شعر میں وہ عظمتیں جن کو ہم شاعروں سے نہیں فلاسفروں سے متعلق کرتے ہیں وہ محض اقبال کی وجہ سے ہمارے یہاں پیدا ہوئی ہیں۔‘‘

اپنے ایک مضمون ’’ہماری قومی زندگی اور ذہن پر اقبال کے اثرات‘‘ میں فیض صاحب لکھتے ہیں:

’’یہ صحیح ہے کہ سرسید کی تحریک اس ملک میں موجود تھی اور اس زمانے میں بھی اسی قسم کا تلاطم لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا تھا۔ لیکن اقبال کے افکار کی بہ نسبت اس تحریک کا دائرہ محدود تھا۔ اس کا تعلق محض ہندوستان کے مسلمانوں سے تھا۔ لیکن اقبال کے افکار کا تعلق ، تعلیم کے علاوہ، ہندوستان کے کے مسلمانوں ، دنیا بھر کے مسلمانوں ، عام انسانوں بلکہ جملہ موجودات اور غیر موجودات دونوں سے تھا۔ کلام اقبال کا دوسرا اثر یہ مرتب ہوا کہ اقبال نے ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے میں چاہے وہ سیاست ہو، خواہ وہ اخلاقیات ہو، خواہ وہ مذہب ہو یا کوئی اور شعبہ ہو، اس میں تفکر اور تدبر کا ایک ایسا عنصر شامل کیا جو کہ پہلے موجود نہیں تھا۔ پہلے بہت سی باتیں جو کہ محض وہم و گمان کے بل پہ لوگ سلوگنز کے طور پر استعمال کرتے تھے، اقبال نے ان کے سوچنے کا، غور کرنے کا، مشاہدہ کرنے کا، مطالعہ کرنے کا، تجزیہ کرنے کا، استنباط کرنے کا اور اس سارے ذہنی عمل سے گزرنے کا ڈھب سکھایا۔ صرف خواص کو نہیں عوام کو بھی ان باتوں سے آشنا کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے بعد کے ہر سیاسی مفکر ، معلم اور خطیب کے یہاں اقبال کے کلام کے توسط سے ایک قسم کا تفکر اور سوچنے کا عنصر خودبخود ذہن میں شامل ہو جاتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ اقبال نے لوگوں کے ذہن کو ان اثرات سے ایک حد تک آزاد کرنے کی کوشش کی جو غلامی کے سبب پیدا ہو گئے تھے۔‘‘

فیض اقبال کے شعری محاسن سے بہت متاثر تھے۔ وہ اقبال کی غنائیت اور نغمگی کو ان الفاظ میں سراہتے ہیں:

’’وہ لفظوں کی صوتی لہروں سے شعر میں ایسی نغمگی پیدا کر دیتے ہیں کہ کان ان کی نغمگی کو باربار سننے کے لیے بے تاب ہو جاتے ہیں اور زبان انھیں بے ساختہ دہراتی ہے۔ ‘‘

فیض کے اسلوب پر اقبال کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں اور اس اقرار خود فیض صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے:

’’اقبال کے اسلوب سے میں نے بہت کچھ لینے کی کوشش کی ہے۔ میں نے یہ اقبال سے سیکھا ہے کہ فن ریاضت چاہتا ہے۔ ریاضت کے بغیر شعر میں نغمگی، موسیقی اور تاثیر پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال کی زندگی کے مطالعے ہی سے میں نے جانا کہ شاعری ہمہ وقتی انہماک، توجہ اور ریاضت کا تقاضا کرتی ہے۔ ‘‘

اور آخر میں فیض کے یہ الفاظ تو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں :

’’اقبال کی مثال ہمارے ہاں ایک ندی یا ایک نہر کی سی نہیں جو کہ ایک ہی سمت میں جا رہی ہو بلکہ ان کی مثال تو ایک سمندر کی سی ہے جو کہ چاروں طرف محیط ہے، چناں چہ ہم ان کو ایک مکتب فکر نہیں کہ سکتے بلکہ ایک جامعہ سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس میں طرح طرح کے دبستان موجود ہیں اور طرح طرح کے دبستانوں نے ان سے فیض اٹھایا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ مقام یہ اتنا بڑا impact یا اتنا بڑا اثر، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا ان سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا اور میں سمجھتا ہوں جب تک ان سے بڑا شاعر کوئی پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک غالباًکسی اور کو بھی یہ مقام حاصل نہیں ہوگا۔

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Facebook Comments Box
faizfeaturediqbalاقبالعلامہ اقبالفیض احمد فیض
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سینیٹ الیکشن ایک نئے بیانیے کی بنیاد: ثمینہ رشید
next post
ادھورا کلمہ: اسٹیفن ہاکنگ کی یاد میں —– فاروق بھٹی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.