تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینسماجیمزاح

خدا سب کو شادی سے ہم کنار کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

by دانش ڈیسک 15/03/2018
written by دانش ڈیسک 15/03/2018
96

شادی شدہ اور کنواروں کے درمیان ایک شادی کا فرق ہوتا ہے جب بھی ملتے ہیں دونوں ایک دوسرے کو آہ بھری نگاہو ں سے دیکھتے ہیں شادی شدہ شخص کے زبان پر بس ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ خدا تمھیں لذت آشنا کرے۔ کنوارے شادی شدہ کو قابل رشک سمجھتے ہیں اور شادی شدہ کنواروں کو رشک کے قابل سمجھتے ہیں کیونکہ یہ وہ واحد لڈو ہے جو کھانے والا کھا کر پچھتاتا ہے اور نہ کھانے والا نہ کھا کر پچھتاتا ہے۔ جو کھاتا ہے وہ عمر بھر اس کی کڑواہٹ کو باہر نکالنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی معطر چھاؤں جو روح کا سائبان ہوتے ہیں بندہ اس چھاؤں سے محروم ہو جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ شادی کرنے والا اپنے پیروں پر خود ہی قبول ہے قبول ہے قبول ہے کرتے ہوئے کلہاڑی مار لیتا ہے بلکہ اپنی تکہ بوٹی کر لیتا ہے جس سے اچھا خاصا بے فکرا، ہنس مکھ انسان بے چارگی کی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ بہاریں جن کے قدموں پر مسکاتی ہیں محفلوں میں جن کا راج ہوتا ہے وہ اس شادی سے تاراج ہو جاتا ہے جب تمام حسینائیں طواف کرتی ہیں مگر پھر ایک کا طواف کرنا بھی بھاری پڑجاتا ہے۔ اگر کبھی کسی حسینہ کی طرف نظر گئی تو جواب آئے گا اسے مسکرا کر کیوں دیکھا؟ فلاں کے بچے کو پیار کیوں کیا؟ دیوار کی طرف منھ کر کے کیوں نہیں بیٹھے؟ غرضیکہ آزادی کی ایک ایک سانس کو ترس جانا مقدر بن جائے گا۔ شادی کے پہلے دن زلفوں کا جال ریشمی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے بعد سے بتدریج یہ نائلون کا مضبوط جال بن کر الجھتا جاتا ہے جو سانس محال کر دیتا ہے۔

شادی چار دن کی ایسی چاندنی ہے کہ اس کے بعد اماوس کے گھور اندھیرے ہی نصیب بن جاتے ہیں۔ ابھی جو شیرینی بکھیرتی آواز ہے، جو حیا آمیز جھکی نظر ہے، جو تسلیم و رضا کی ادائیں ہیں؛ سب مہیب جال ہے یہ ادائیں، یہ سب دکھاوا ہے۔ شادی کے بعد ہی یہ جھکی ہوئی نگاہ اٹھتی ہے اور ایسی شعلہ بار ہوتی ہے کہ اس کی چنگاریاں خرمن دل کو خاکستر کر دیتی ہیں۔ یہ شیریں سخنی، کم آمیزی، شوخی و شرارت، ناز و عشوے کب بدمزاجی، کرختگی، ہٹ دھرمی، سفاکی میں بدل جاتے ہیں۔ پتا بھی نہیں لگتا اور آزاد پنچھی کے پر کترے جاتے ہیں۔ جب بیوی زندگی میں آتی ہے تو سمجھو آپ کی مرضی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ آپ کا پہناوا، انداز، چال ڈھال، ہیئر اسٹائل، داڑھی مونچھ سب بدل جاتے ہیں۔ دوست احباب، رشتے دار، تعلقات سب کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ نہ مرضی سے کھایا جاسکتا ہے نہ جایا جا سکتا ہے نہ سویا جا سکتا ہے نہ جاگا جا سکتا ہے، نہ کسی سے بات کی جاسکتی ہے۔ شادی کے بعد سارے معمولات تتر بتر ہو جاتے ہیں۔ برش کرنے پر کڑی نگاہ، والٹ اور موبائل کی بلاناغہ تلاشی، لباس پر نادیدہ بال تلاشنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شادی کے بعد اپنے والدین بہن بھائیوں سے اجنبی ہونا لازمی ہے۔ جبکہ بیوی کے خاندان والوں سے رابطے بڑھانے مقصود ہوتے ہیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہی سب کی شکایتیں لازمی جز ہیں ان شکایتوں کے ردعمل میں خاموش بھی نہیں رہنا بلکہ اپنی محدود آمدن کے باوجود کرائے کا گھر لے کر والدین کو چھوڑنا بھی ضروری ہے۔ گلے شکوے بھی سننے ہیں اور مہنگے تحفے بھی دینے ہیں۔ اسی طرح اگر دیکھا جائے تو لڑکیوں کے لئے بھی شادی کسی آفت سے کم نہیں ہوتی، وہ گھر میں دیر سے اٹھنا، کوئی کام نہ کرنا، بھائی بھابھیوں سے لڑنا، ماں باپ کی لاڈ کی وجہ سے سب کا خاموش رہ جانا، سہلیوں کے گھروں میں جاکر خرمستیا ں کرنا، عید کی راتوں میں، شادیوں میں ناچ گانا، سب کچھ شادی ہونے کے بعد ایک خواب بن جاتا ہے۔ جو آزادیاں شادی سے پہلے نصیب ہوتی ہیں وہ ماں باپ کی راج دلاری ہونا، مگر شادی ہونے کے بعد کوئی چونچلا نہیں چلتا۔

alyssacam44 aishah sofey onlyfans leaks

لوگ کہتے ہیں کہ شادی کرنے والا اپنے پیروں پر خود ہی قبول ہے قبول ہے قبول ہے کرتے ہوئے کلہاڑی مار لیتا ہے بلکہ اپنی تکہ بوٹی کر لیتا ہے جس سے اچھا خاصا بے فکرا، ہنس مکھ انسان بے چارگی کی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے

لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لئے بھی شادی کا بس ایک نام ہی سہانا ہے اور سچ کہا ہے کسی نے کہ بس حقیقت میں شادی چار دن کی چاندنی ہے، چار دن توجہ ملے گی، نئی نئی بیوی کے ناز نخرے ہوں گے سسرال والے سر انکھوں پر بٹھائیں گے مگر یہ عمر انتہائی مختصر ہوتی ہے۔ ہنی مون کا سفر اختتام پذیر ہوتے ہی زندگی کا یہ سہانا سفر تلخ راستوں پر گامزن ہوجاتا ہے۔ جس طرح لڑکوں کی نہ دن اپنا ہوتا ہے نہ رات اپنی ہوتی ہے اسی طرح لڑکیوں کے لئے بھی شادی کے بعد تو نہ دن اپنا نہ رات، نہ اپنی خوشی نہ اپنی ہنسی، نہ مرضی کے پہناوے نہ مرضی کے کھانے، نہ موج مستی نہ ہلا گلا۔ ماں باپ کی لاڈلی جس کے ایک اشارے پر بستر پر سب لوازمات موجود ہوتے اور ایک یہ دن گھر بھر کی باندی۔ کسی کو چائے دینی ہے کسی کو پانی، درجن بھر روٹیاں بھی پکانی ہیں اور چار چار کلو آٹا بھی گوندھنا ہے۔ آئے دن سسرالیوں کی دعوتیں اور سارے مسالے ہاتھ سے ہی پیسنا، برتنوں کے انبار دھونا اور ڈھیروں ڈھیر کپڑے دھونا۔ اور ان سب خدمتوں پر بھی ساس نندیں نالاں اور شوہر بے زار۔ سارا دن کام میں لگی رہنا نہ بننے سنورنے کا وقت ملنا نہ خود پر توجہ دینے کا وقت۔ شوہر کو شادی سے پہلے والی سجی سنوری ریشمی سلکی بیوی چاہیے ہوتی ہے تو ساس کو اسی روپ سے نفرت ہوتی ہے۔ ساس صاحبہ کو بس جمکتا ہوا گھر چاہیئے ہوتا ہے، اور اس کی جوانی کے قصے سننے ہوتے ہیں جو اگر بہو نہ سنے تو پھر بیٹے صاحب کے کان بھرے جاتے ہیں اور پھر رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے، جب میکے جانے کی بات آتی ہے تو جان پر بن آتی ہے۔ دوسری جانب میاں صاحب گھر سے باہر اور خاص کر شادیوں میں یعنی پرائی شادیوں میں دوسروں کی بیویوں کو چوری چوری تکنے اور نوجوان لڑکیوں کو چھپ چھپ کر دیکھنے میں مصروف پائے جاتے ہیں بلکہ اسے اپنا فرض عین سمجھتے ہیں

دبلی پتلی سی حسین وجمیل بیوی شادی کے بعد ایک موٹی تازی عورت کا روپ دھار لیتی ہے کیونکہ شادی کے بعد لگاتار چار بچوں کی پیدائش ساری دلکشی چھین لیتی ہے۔ شوہر نامدار کو اس بات کا کبھی بھی کوئی احساس نہیں ہوتا کہ کیسی گڑیا سی لڑکی بیاہ کر لائے تھے چھوئی موئی سی اور اب اسکا کیا حال کر دیا ہے ہر وقت شادی کے سے پہلے سہیلیوں سے ملنا، لائبریری جانا، کتابیں پڑھنا، سنیما جانا، کزن کے ساتھ گھنٹوں گپیں لگانا، موسیقی کے کنسرٹ سب خواب ہوجاتے ہیں۔ رہ جاتے ہیں تو صرف دن رات کے جھمیلے رہ جاتے ہیں سسرال والوں کے چونچلے اٹھانے میں عمر بیت جاتی ہے۔ اور اپنی قدرو منزلت بڑھانے کے لئے نت نئے حربے سوچتے شب و روز گزرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ دنیا کا دستور ہے کہ مرد اور عورت شادی کرلیتے ہیں خواہ انہیں اوپر ساری باتوں کا پتہ ہی کیوں نہ ہو، ان کی آزادی سلب ہی کیوں نہ ہو، انہیں دوستوں اور سہیلیوں سے بے تحاشہ محبت ہی کیوں نہ ہو، اپنا گھر اپنے لوگ پیارے ہی کیوں نہ ہوں، انہیں ساس کی جھڑکیاں سننے کو ہی کیوں نہ ملیں، انہیں ساس اور سالوں کے نخرے ہی کیوں نہ اٹھانا پڑیں، لڑکے آوارہ گردی سے توبہ تائب کیوں نہ ہوجائیں، لڑکیاں گھر میں آرام کی زندگی چھوڑ کر سسرال میں صبح سویرے لنگر کیوں نہ شروع کرے، انہیں شادی کا ذائقہ چکھنے میں کوئی دقت نہیں اٹھانا پڑتی، وہ کسی نہ کسی موڑ پر شادی کے لئے آمادہ ضررو ہوتے ہیں اور اس لڈو کو ضرور بہ ضرور چکھتے ہیں جس کی کڑواہٹ تاعمر منہ سے نہیں جاتی۔

میں تو کہتا ہوں کہ ہر شخص کو شادی کرنی چاہیے کیونکہ ہم جو ڈوبے ہیں تو خدا سب کو اس سمندر میں غوطہ زن کرے اور ایسا غوطہ زن کرے کہ ان کی واپسی ہی نہ ہو، اگر اب بھی اپ کو شادی کرنی کی پڑی ہے تو بہ شوق و بہ رضا ورغبت شادی کرلینی چاہیئے تاکہ آپ کو بھی معلوم ہوجائے ’چہ سیر نا سو پخیگی‘

Facebook Comments Box
شادیشادی کی لڈوشادی کے فائدےشادی کے نقصاناتمیاں بیوی کے مسائل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سٹیفن ہاکنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا اپنا ایمان بچائیے ! ایم جبران عباسی
next post
سٹیفن ہاکنگ کا شعور اور "ایوری تھنگ ایلس” —– نعمان علی خان

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.