تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالممعیشتمعیشت

گوگل، فیس بک، اور ایمیزون کا ڈیجیٹل معیشت پر غلبہ: لگام دینے کا اہتمام ____کیوں اور کیسے؟

by ہمایوں مجاہد تارڑ 22/03/2018
written by ہمایوں مجاہد تارڑ 22/03/2018
103

18 جنوری کو ‘دی اکانومسٹ’ کے صفحہ اوّل پر لگے ایک مضمون نے چونکا دیا۔ وہ لوگ جو انگریزی زبان میں اچھی دسترس رکھتے ہیں، مضمون کا اصل متن ضرور پڑھیں۔ خوب مزے کی انفارمیشن لیے ہے یہ آرٹیکل۔ عنوان ہے: ?How to tame the tech titans یعنی "دنیائے صنعت کے بڑے گروؤں کو کیسے سدھارا جائے”۔ یہ بڑے گُرو یا دیو کون ہیں؟ وہی جن کی چھاؤں تلے آپ صبح و شام سانس لینے پر مجبور ہیں: فیس بک، گوگل، اور Amazon۔

بزنس سے وابستہ خواتین و حضرات کے لیے دلچسپی سے بھرپور مواد ہے اِس مضمون میں۔ ڈیجیٹل عہد میں برپا مسابقت کی دوڑ میں فیس بک، گوگل اور ایمے زون کے عروج پذیر غلبے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہےــــ صاحبِ مضمون کا کہنا ہے کہ دنیائے صنعت و حرفت یا دنیائے ڈیجیٹل معیشت کے ہوشمند لوگ پریشان ہیں کہ یہ تینوں بڑے پلیٹ فارمز مستقبل کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ کا بیشتر بزنس یہ تین کمپنیاں اپنے قبضہ میں لے چکی ہیں۔ اور اِن کے بھڑکیلی ہوس پر مبنی "کرتوت” بتا رہے ہیں کہ اگر اِنہیں کسی طور لگام نہ دی گئی، اِن کی طاقت کو کم کرنے کا اہتمام نہ ہوا تو کنزیومر اور انڈسٹری یعنی صارفین اور صنعت، دونوں کے لیے بڑے نقصان کی بات ہو گی۔

ڈیجیٹل معیشت کے ہوشمند لوگ پریشان ہیں کہ مارکیٹ کا بیشتر بزنس یہ تین کمپنیاں اپنے قبضہ میں لے چکی ہیں۔ اور اِن کے بھڑکیلی ہوس پر مبنی "کرتوت” بتا رہے ہیں کہ اِنہیں کسی طور لگام نہ دی گئی تو کنزیومر اور انڈسٹری یعنی صارفین اور صنعت، دونوں کے لیے بڑے نقصان کی بات ہو گی۔

صاحبِ مضمون کے مطابق اب یہ تینوں کمپنیاں مارکیٹ اور بزنس پر اپنا تسلّط برقرار رکھنے کو fair competition کی جمہوری قدروں کو نظر انداز کر چکی ہیں۔ بتدریج یہ اس مقام پر جا کھڑی ہوئی ہیں جہاں یہ کسی مسابقت پر یقین ہی نہیں رکھتیں۔ اِن پر گویا ایک نشے کی سی کیفیت طاری ہے۔ اور یوں یہ جمہوریت کُش بنتی جا رہیں، یا بن چکی ہیں۔ پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج یہ ہے کہ ان کمپنیوں کی قوتِ اختراع وجدّت کو زک پہنچائے بنا کیسے انہیں لگام دی جائے۔

امریکی دنیا میں رواں ساعت میں جاری آن لائن شاپنگ کے 40 فیصدی بزنس کو دیو پیکر Amazon نے دبوچ رکھا ہے ــــ اِدھر فیس بک پر ماہانہ کے اعتبار سے دو بلین صارفین چمٹے ہوئے ہیں- صارفین کی ایسی محیرالعقول تعداد نے فیس بک کو میڈیا انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ بنا ڈالا ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ Alexa رینکنگ میں گوگل اور یوٹیوب کے بعد فیس بک کا نام غیر متزلزل انداز میں تیسرے نمبر پر جما کھڑا ہے۔ اِسی طرح، گوگل سرچ انجن کا دیو بھی غضبناک ہو چکا۔بعض ممالک میں دنیائے ویب پر ہونے والی 90 فی صد سرچ بذریعہ امام گوگل ہی ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے، تجارتی ادارے، خبر رساں ادارے، یا کوئی دوسرے، سب اپنا کام گوگل سرچ انجن کی مدد سے انجام دینے پر مجبور ہیں۔ یُوں، امریکہ جیسے ملک میں آن لائن اشتہارات سے اٹھتی آمدن کا دو تہائی فیس بک اور گوگل ڈکار جاتے ہیں۔

جبکہ عام پبلشرز کو ٹیکس اور چھاپے گئے مواد پر جوابدہی کے بارگراں کا سامنا رہتا ہے، فیس بک اور گوگل کو اس ضمن میں قانونی استثنا حاصل ہے۔ یعنی بس یہ لکھ دینا کافی ہے کہ فیس بک یا گوگل انتظامیہ اپنے صارفین کی طرف سے پوسٹ کیے مواد سے برات کا اعلان کرتی ہے۔ اسی طرح، Amazon پر برپا خریدو فروخت پر برسوں امریکیوں نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ یہیں پہ بس نہیں، بلکہ یہ عظیم الجثہ کمپنیاں مارکیٹ میں جاری مسابقت سے قطعی بے پروا ہو گئی ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں کہ ڈیجیٹل معیشت کے لیے مضبوط و توانا پلیٹ فارمز یا انفراسٹرکچر کی فراہمی کے بل بوتے پر بتدریج یہ از خود مارکیٹ کا روپ اختیار کر چکی ہیں۔

بڑی دلچسپ بات ہے۔ بظاہر تو ان کی بیشتر سروس مفت نظر آتی ہے، تاہم حقیقتاً ایسا نہیں۔ صارفین اِس سروس کی قیمت اپنا قیمتی ڈیٹا یا مواد اِن کے حوالے کردینے کی صورت ادا کر رہے ہیں۔ مثلاً کوئی صاحب اپنا مضمون یا کوئی ویڈیو کلپ وغیرہ جب فیس بک یا گوگل پلَس پر اپلوڈ کرتے ہیں تو اس پر آئے سینکڑوں اور ہزاروں لائیکس اور کامنٹس کا تصور کریں۔ اس پوسٹ کے وائرل ہوجانے کی صورت اس کی شیئرنگ کا تصور کریں۔ گھنٹوں صارفین اسے مرکزِ نگاہ بنائے رکھتے، اور اس پر تبصرے چھاپتے رہتے ہیں۔

امریکی دنیا میں رواں ساعت میں جاری آن لائن شاپنگ کے 40 فیصدی بزنس کو دیو پیکر Amazon نے دبوچ رکھا ہے ــــ اِدھر فیس بک پر ماہانہ کے اعتبار سے دو بلین صارفین چمٹے ہوئے ہیں- صارفین کی ایسی محیرالعقول تعداد نے فیس بک کو میڈیا انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ بنا ڈالا ہے۔

خیر، یہ تو ایک معمولی مثال تھی جو ایک عام سے صارف کو سمجھانے کی غرض سے بیان کی گئی۔ ورنہ ویب ورلڈ میں فیس بک اور گوگل کے سینے پر برستے مواد کا ہُن بے پناہ ورائٹی اور حیرت کا پہلو رکھتا ہے۔ دنیائے تعلیم و تدریس، دنیائے خریدوفروخت، شو بِز، میڈیا، عسکری معلومات، دنیائے صنعت حرفت، ٹورازم، ویڈیو گیمز۔۔۔ رواہوارِ تصوّر کو ذرا سی ایڑ لگائیں۔ کوئی حد اخیر نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیائے ڈیجیٹل معیشت میں قدم رکھنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ مصنّف لکھتا ہے کہ فیس بک نہ صرف پرسنل ڈیٹا کے اعتبار سے دنیا کا عظیم ترین خزانہ لیے ہے، بلکہ دنیا کا بھاری بھرکم سوشل گراف بھی ــــــ یعنی ایک تو ممبران کی فہرست، دوسرے یہ کہ وہ سب ایک دوسرے سے کس طور ہم رابطہ ہیں۔

Amazon کی طرف آتے ہیں۔
یہاں اشیا کی قیمت بارے معلومات کا بیش قیمت خزانہ پڑا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی سکت تا حال دنیا جہان کے کسی دوسرے ادارے کے ہاں نہیں۔ اِن کی قوتِ غلبہ کا نان سٹاپ بڑھے چلے جا نا یوں ممکن ہے کہ انہیں Alexa جیسی ویب سائٹ سے صبح و شام یہ تفصیل بھی بہم پہنچائی جا رہی ہے کہ صارفین کا انٹرنیٹ بارے تازہ ترین تجربہ کیسا ہے؟ نئے ٹرینڈز کیا ہیں؟ اگرچہ جمہوریہ چین کی کمپنیاں مسابقت کی دوڑ میں خاصی سرگرم نظر آتی ہیں، وسائل اور ٹیکنالوجی سے بھی لدی پھدی ہیں، تاہم وہ مغربی صارفین تک بلا روک ٹوک رسائی کی قدرت نہیں رکھتیں۔

اگر یہ ٹرینڈ اسی طرح برقرار رہتا ہے تو انڈسٹری اپنی توانائی کھو دے گی۔ نئے بزنسز کو جگہ بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ ہر نیا آئیڈیا خرید لیا جائے گا۔ اور یہ بڑے titans بس وہی فلم چلائیں گے جسے یہ خود اپنے مفاد میں بہتر پائیں گے۔

مصنف لکھتا ہے، اگر یہ ٹرینڈ اسی طرح برقرار رہتا ہے تو انڈسٹری اپنی توانائی کھو دے گی جو صارفین کے لیے ایک پریشان کُن بات ہو گی۔ نئے بزنسز کو جگہ بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ ہر نیا آئیڈیا خرید لیا جائے گا۔ اور یہ بڑے titans بس وہی فلم چلائیں گے جسے یہ خود اپنے مفاد میں بہتر پائیں گے۔ یوں، ندرتِ خیال راہ نہ پا سکے گی۔ بڑا منافع تو خیر جائے گا ہی اِن گُرو کمپنیوں کی پاکٹ میں۔

اس خوف کے ابتدائی سائے واضح اشارات میں ڈھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ یوروپین کمشن نے گوگل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ Android اور اس کے آپریشن سسٹم کو اپنے قابو میں رکھ کر چلا رہا ہے، جبکہ اس نے اپنے App کو برتری عطا کر رکھی ہے۔ فیس بک انتظامیہ بھی آئے روز نئی Firms خریدتی رہتی ہے جن کی مقبول ہوتی پراڈکٹس کسی روز صارفین کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہیں۔ پہلے انسٹاگرام خریدا، پھر وٹس ایپ، اور اب حال ہی میں ٹی بی ایچ ــــــــ ایک ایسا ایپ جس سے نوجوان لوگ بے نام طور پر ایکدوسرے کو ستائش بھرے پیغامات پہنچانے کی تفریح کا لطف اٹھاتے ہیں۔

اسی طرح Amazon بھی مد مقابل آ جانے کی سکت رکھنے کے حامل رقیبوں کو کھوج نکالنے اور انہیں پیچھے دھکیل کر مارکیٹ سے فارغ کر دینے کا بے پناہ اختیار لیے ہے۔ اِن بڑے titans کی آپس میں بھی نیٹ ورکنگ ہے اور یہ ایکدوسرے کو بھرپور معاونت دیئے ہوئے ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے آیا اس مسئلے کا کوئی حل بھی ہے؟ اگر ہے تو کیا ہے؟
یہ ہم اس مضمون کی دوسری قسط میں پیش کریں گے۔

Facebook Comments Box
AlexaandroidDigital EconomicseBusinesseCommercefeaturedامیزونای کامرسڈیجیٹل معیشتفیس بکگوگلمعیشتٖیجیٹل معیشت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

previous post
الطاف حسین اور ہمارا پیلا اسکول — سید مظفر الحق
next post
’’اینکر‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیمور کا تبصرہ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.