تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ہمارے پاس صرف پختہ عزم کی کمی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

by دانش ڈیسک 28/02/2018
written by دانش ڈیسک 28/02/2018
70

اللہ باری و تعالی نے ہمیں معدنی وسائل سے کتنا مالامال کیا ہے۔ اس کا ہم سوچ اور تصور بھی نہیں کرسکتے ہمارے لئے پاکستان میں میدان’ پہاڑ’ صحرا’ سمندر اور چاروں موسم قدرت کی عطا ہیں۔ اس کی جغرافیائی اہمیت مسلمہ ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان، پانچویں بڑی سونے کی کان اور کوئلے کے پانچویں بڑے ذخائر، تانبے کی ساتویں بڑی کان، عالمی سطح پر دوسرا بڑا ڈیم (تربیلا ڈیم)، تین نیوکلیائی ریکٹرز، ہمار ے پاس دنیا کا بہترین نہری نظام ہے۔ صرف صوبہ پنجاب میں پانچ دریا ہیں ہماری افواج کی جرات و شجاعت پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ ہم ساتویں ایٹمی طاقت ہیں ہم چاول کی پیداوار میں ساتویں اور گندم کی پیداوار میں آٹھویں نمبر پر ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ان تمام وسائل کے باوجود ابھی تک آئی ایم ایف سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ 60 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ ملک بدترین انرجی کے بحران سے دوچار ہے۔ ڈرون حملے ہماری قومی حمیت کا مذاق اڑارہے ہیں ہماری زراعت تباہ ہورہی ہے ہماری صنعت بند پڑی ہے کیوں؟

ہم من حیث القوم تن آسانی کا شکار ہیں ہماری پالیسیاں ایڈہاک ازم پر چل رہی ہے ۔ہم خود انحصاری کی بجائے دوسروں کے سہارے ڈھونڈنے کے عادی ہوچکے ہیں

ان سب وجوہات کو تلاش کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ہم من حیث القوم تن آسانی کا شکار ہیں ہماری پالیسیاں ایڈہاک ازم پر چل رہی ہے ۔ہم خود انحصاری کی بجائے دوسروں کے سہارے ڈھونڈنے کے عادی ہوچکے ہیں معدنی وسائل کا پتہ چلانے کے لئے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہم اگر اپنی کوتاہیوں کا اگر مختصر جائز ہ لیں تو ہمیں معلو م ہوجائے گا ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے ریگستان میں کوئلے کے بڑے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ صحرائے تھر دنیا کا نواں بڑا صحرا ہے اس میں 9 ہزار 600 مربع کلو میٹر ہیں 175 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں جن سے آئندہ پانچ سو برسوں تک سالانہ پچاس ہزار میگاواٹ بجلی یا دس کروڑ بیرل ڈیزل یا لاکھوں ٹن کھاد بنائی جاسکتی ہے۔ بیس برس قبل انکشاف ہوا تھا کہ یہ دنیا کی دوسری یا تیسری بڑی کوئلے کی کان ہوسکتی ہے اس کی نشاندہی تو ہوگئی لیکن اس سے ہم نے کتنا استفادہ کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ دس برسوں میں پاکستان کی بجلی کی مانگ تیس ہزار میگاواٹ تک ہوسکتی ہے اور 30 ہزار میگاواٹ صرف تھرکول سے دس برسوں میں حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ہمارے پاس تین نیوکلیئر ری ایکٹر ہیں لیکن ہم بجلی کے بحران سے دوچار ہیں اندھیرے میں ڈوبے پڑے ہیں قوم چوراہوں میں سوئی پڑی ہے۔ صاحب اقتدار رینٹل پاور کمپنیوں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں ہمارے اداروں کو کرپشن نے دیمک زدہ کررکھا ہے ہم اس بات پر نازاں ہیں کہ ہمارے پاس دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم تربیلا کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرکے ہم اپنی زمینیں بنجر کرنے اور بجلی کے بحران کو گمبھیر کرنے پر تلے ہوئے ہیں دنیا ترقی کے مواقع تلاش کرتی ہے خوراک میں خود کفالت کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور وسائل پیدا کرنے پر جتی ہوئی ہے اور ہم اپنے قدرتی وسائل کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھا کر ترقی کے مواقع ضائع کر رہے ہیں۔

ہمارا صوبہ خیبرپختونخوا اور شمالی علاقہ جات معدنیات سے مالامال ہیں جہاں ہیرے اور قیمتی پتھر اور دیگر معدنی وسائل دریافت کرنے پر کوئی قابل ذکر توجہ ہی نہیں دی گئی حالانکہ ان سے استفادہ کرنے کی صورت میں نہ صرف صوبہ بلکہ پورے ملک کی پسماندگی دور کی جاسکتی تھی۔ آبشاریں’ ندی نالے اور دریا ان علاقوں کا جھومر ہیں لیکن اس قدرتی نعمت کے ذخیرہ کرنے کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے جب یہ ندی نالے بپھرتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک تباہی لاتے ہیں اور ہمیں پکار پکار کر کہتے ہیں کہ آئندہ کی منصوبہ بندی کرلو اضافی پانی کو ضائع ہونے سے بچالو’ کیونکہ ضرورت کے وقت یہی تمہارے لئے’ تمہاری فصلوں اور مویشیوں کے لئے آب حیات ہوگا تمہارے باغات’ تمہاری کھیتیاں تمہارے لئے خوشحالی کا پیغام لائیں گی اگر تھوڑی اور منصوبہ بندی کرلیں تو مستقبل میں تمہیں بجلی کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گاہمارے صوبہ پنجاب تو پانچ دریاؤں کی دھرتی ہے دنیا کا بہترین نہری نظام ہے۔ پنجاب کی سرزمین جو کبھی پورے ملک کی اناج کی ضروریات پوری کرتا تھا آج اس کی زمین پانی کے لئے ترس رہی ہے کیونکہ آج ہمیں اپنی غذائی ضروریات کے لئے بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑرہے ہیں کیوں اس پر بھی کبھی ہم نے سوچا غیروں کی سازشیں تو تھیں اپنوں کی ریشہ دوانیاں بھی اس میں شامل ہیں تین دریاؤں کا پانی تو ہم نے ایک معاہدے کے تحت بھارت کے حوالے کردیا اور باقی دریاؤں پر اس نے غیر قانونی ڈیم بنا کر ان کا بہت سا پانی روک لیا لیکن ہم ابھی تک کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر اتفاق رائے تو پیدا نہ کرسکے۔ البتہ اختلافات کی خلیج گہری کرلی

ہمارا ازلی دشمن ہماری زراعت کو تباہ کرنے کے لئے لانگ ٹرم منصوبے پر عمل پیرا ہے اور ہماری عقل پر پردے پڑے ہیں ہماری منصوبہ بندی کا یہ حال ہے کہ صحراؤں کو قابل کاشت بنانے کے بجائے پنجاب کے زرخیز علاقوں کو بھی بنجر بنا رہے ہیں’ سندھ۱ میں بڑے پیمانے پر اب بھی زمینیں غیر آباد ہیں

ہم ساتویں ایٹمی طاقت ہیں۔ ہمارا دفاع مضبوط ہے۔ ہماری فوج جرات و شجاعت میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ہمارے دشمنوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ہم جنگ سے پاکستان پر غلبہ نہیں پاسکتے اس لئے اب پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ہماری افواج بالخصوص آئی ایس آئی کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے ان سب سے بڑھ کر ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے یہ ایک بڑا خوفناک ہتھیار ہے جس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ سوویت یونین ہر قسم کا جدید اسلحہ رکھنے کے باوجود اس لئے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا کہ اس کی معیشت کا بیڑہ ڈوب گیا تھاہمارے پاس بندرگاہیں ہیں ہم چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کے لئے تجارت کا گیٹ وے ہیں لیکن ہم ناقص پالیسیوں کے باعث اپنی تجارت کا بھی خاطر خواہ حجم نہیں بڑھا سک ناقدین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ ملک ہم سے ہی زرعی اجناس سستے داموں خریدنے کے بعد مہنگے داموں ہمارے ہاتھ ہی فروخت کردیتا ہے یہ صورت حال من حیث القوم ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں ان خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنا ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے وسائل کو بروئے کار لائیں۔ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کےلئے تن من دھن لگا دیں اپنی تن آسانیاں ختم کردیں ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے صرف پختہ عزم کی کمی ہے

Facebook Comments Box
featuredتربیلا ڈیمشمالی علاقہ جاتقوممعدنی وسائلمعدنیات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
گرے لسٹ: پاکستان کا نام شامل نہیں ۔۔۔۔۔۔ رئیس احمد صمدانی
next post
اقبالؔ اور غالب کے پوشیدہ دیوان : ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.