تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

سعادت حسن منٹو : عزیز ابن الحسن

by Editor2 18/01/2018
written by Editor2 18/01/2018
125

آج منٹو کی برسی کے دن، صاحب طرز اور شگفتہ اسلوب کے تیکھے شبدوں کے لکھاری، عزیز ابن الحسن کی خاص تحریر۔


ہوئی مدت کہ ’’منٹو‘‘ مر گیا پر یاد آتا ہےــــ

منٹو کے بہت سے کمالات میں سے ایک کمال یہ بھی ہے کہ اسکی بعض پڑھی ہوئی تحریریں دوبارہ پڑھ کے خیال آتا ہے کہ
’’ارررررے یہ بات تو ہم نے پہلی مرتبہ پڑھی ہے‘‘
اور بعض پہلی دفعہ کی پڑھی تحریر پر یہ تأثر ابھرتا ہے کہ ’’یہ باتیں تو میں نے پہلے بھی کہیں پڑھ رکھی ہیں‘‘
منٹو جانی بوجھی شے کو انجانا اور انجانی چیز کو جانی بوجھی بنا دینے کا فن جانتا ہے۔ یوں تو یہ شے ہر بڑے فنکار کا اختصاص ہوتی ہے مگر منٹو کے پاس تو گویا اس خزانے کی شاہ کلید ہے۔

روسی ہیئت پسندوں کے ہاں ایک شے آتی ہے جسے Defamiliarization کہتے ہیں جس کے مطابق آرٹ روز مرہ کی جانی بوجھی بیتی برتی معمول کی زندگی کو ’’اجنبیاکر‘‘ تجربے کی تازگی کے ذریعے نئے سر ے سے بازیافت کرتا ہے۔

انہی مفاہیم کیلیے جدید فارسی میں ’’آشنائی زدائی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

حسن عسکری کی معیت میں ترقی پسند ادب سے مختلف نظریۂ ادب کا ادبی رسالہ ’’اردو ادب‘‘ جاری کیا تو ترقی پسند تحریک،عسکری کے ساتھ ساتھ منٹو کے بھی خلاف ہوگئ تھی، مگر حالات کی ستم ظریفی نے جب آج کے لبرلوں اور سابقہ ترقی پسندوں کے موقف کو غلط ثابت کر دی۔ا

ہمارے گرد و پیش کی زندگی میں ایسی کوئی بھی شے نہیں تھی جو منٹو نے ایجاد کی ہو مگر انہی دیکھی بھالی چیزوں کو جب منٹو نے ہمیں دکھایا تو ہم ہکابکا رہ گئے۔

منٹو کا اگلا بڑا کمال یہ تھا کہ وہ زندگی کو فیشن زدگی کی نظر اور اوپر سے لادے گئے نظریئے کی عینک سے بہت کم دیکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس نے قیام پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر دل سے قبول کر لیا اور اُس دور کے مسئلۂ کشمیر پر حکومت پاکستان کے موقف کو درست سمجھتے ہوئے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر سکہ بند ترقی پسندانہ موقف سے الگ موقف اختیار کرلیا اور محمد حسن عسکری کی معیت میں ترقی پسند ادب سے مختلف نظریۂ ادب کا حامل ایک نیا ادبی رسالہ ’’اردو ادب‘‘ جاری کیا تو ترقی پسند تحریک، من حیث الجماعت، عسکری کے ساتھ ساتھ منٹو کے بھی خلاف ہوگئ تھی، مگر حالات کی ستم ظریفی نے جب آج کے لبرلوں اور سابقہ ترقی پسندوں کے موقف کو غلط ثابت کر دیا تو پھر بعد میں ممتاز حسین جیسے بڑے جغادیوں کو اُس دور کے منٹو کے "سیاہ حاشیے” میں بھی ترقی پسندی کی لکیریں نظر آنا شروع ہو گئ تھیں۔

خیر یہ ایک لمبی بحث ہے۔ سردست اردو کے اس قابلِ فخر افسانہ نگار کی تریسٹھویں برسی پر ہماری طرف سے یہ ایک چھوٹا سا خراج تحسین ہے اور بس۔

منٹو سے بعض بے اعتدالیاں بھی سرزد ہوئی ہونگی مگر بحیثیتِ مجموعی وہ ہمارا آئینہ بھی ہے اور ہمارا چراغ بھی۔

جب منٹو نے ہمیں آپنا آپ دِکھایا تو فوری طور پر ہمارا ردِعمل ہسٹیریائی ہو گیا تھا مگر آج ہمیں منٹو بہت اپنا اپنا لگتا ہے کیونکہ اس نے ہمیں اپنے ضمیر کے روبرو کر دیا ہے۔ منٹو سے بعض بے اعتدالیاں بھی سرزد ہوئی ہونگی مگر بحیثیتِ مجموعی وہ ہمارا آئینہ بھی ہے اور ہمارا چراغ بھی۔ وہ بیک وقت ہمیں ہمارا باطن بھی جَھنکواتا ہے اور دنیائے ادب میں ہمیں ہمارا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ محمد حسن عسکری نے جب پاکستانی ادب کی بات کی تھی تو انکے مزعومہ پاکستانی ادب کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ پاکستانی ادب کو سچا ادب ہونا ہو گا۔ جو محض پروپیگنڈا نہ ہو اور دوسری طرف حق کی گواہی دینے والا بھی ہو چاہے یہ گواہی اپنے ہی خلاف کیوں نہ دینی پڑے۔ منٹو ایک ایسا ہی سچا ادیب تھا جس نے ’’کھول دو‘‘ کی صورت میں اپنے خلاف گواہی بھی دی اور چچا سام اور نہرو کو ایک کھرے پاکستانی کے طور پر جوتے بھی مارے۔

منٹو کا تصورِ فن اور اسک کا نظریۂ حیات دونوں اپنے زمانے میں اتنے منفرد تھے کہ آج تک نہ کوئی ترقی پسند اسکی ہمسری کر سکا اور نہ کوئی تعمیر پسند ادیب اسکی گرد کو پہنچ سکا۔

منٹو کی خدمت میں صائب کا یہ شعر بطور تبریک پیش ہے

عشرت ما معنی نازک بدست آ وردن است
عید ما نازک خیالاں را ہلال این است و بس

غور کیجیے گا تو اس میں منٹو کے سے دھان پان شخص کے فنی جوہر کی پوری روح موجود پائیے گا۔


منٹو پر جناب ممتاز رفیق کا خوبصورت خاکہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں:
http://daanish-pk.stackstaging.com/5504

Facebook Comments Box
featuredMantoافسانےجنسی افساےجنسیتسعادت حسن منٹومنٹو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
محکمہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ۔ میاں ارشد فاروق
next post
سیکس ایجوکیشن: حفاظتی تعلیم یا کچھ اور؟ آخری حصہ — لالہ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.