تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جمہوریت کا تقدس پائمال کرنے والوں پر لعنت ۔ محمود فیاضؔ

by محمود فیاض 19/01/2018
written by محمود فیاض 19/01/2018
113

شیخ رشید کے پیچھے عمران خان کو "ایسی پارلیمنٹ” پر لعنت بھیجنے کی ضرورت ہرگز نہیں تھی۔ اس لیے نہیں کہ اس نے اس سے کسی پارلیمانی تقدس کو مجروح کیا، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک فالتو کی بحث ہے جس کا موقع انکو مل گیا جو کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں، عمران خان کی زبان پکڑنے کے لیے۔

البتہ آئیے دیکھتے ہیں کہ پارلیمان کا تقدس کیا ہوتا ہے اور اسکو مجروح کون کرتا ہے؟

اگر آپ کے محلے میں ایک بلڈنگ بنائی جائے اور اس کا نام مسجد رکھ دیا جائے۔ مگر اس کے اندر شراب اور جوئے کا اڈا بنا دیا جائے۔ تو آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس اینٹ گارے کی بنی عمارت کو مسجد کا تقدس اور احترام دیں گے؟

اگر آپ کے علاقے میں ایک عمارت بنائی جائے، جس کے سامنے ایک ترازو لٹکایا جائے۔ اور بڑے بڑے حروف میں عدالت عالیہ لکھا جائے۔ اسکے بعد ایک کے بعد ایک مقدمہ اس عمارت میں لگایا جائے جس میں مظلوم کو مرنے دیا جائے اور ظالم اور طاقتور کو چھوٹ دے دی جائے۔ آپ میں سے کتنے اس عمارت کو عدالت کہیں گے اور اس کے تقدس کو سلام کریں گے؟

چلیں یہ خیالی مثالیں ہو سکتی ہیں۔ حقیقی دنیا کی مثال لے لیں۔ ایک اسکول کی عمارت کو اکثر آپ کے گاؤں میں بنا دی جاتی ہے۔ اسکے احاطے میں گاؤں کے چوہدری اپنی بھینسیں باندھتا ہے۔ شام ہوتے ہی بھنگی، چرسی اس کے ٹوٹے کمروں میں سوٹے لگاتے ہیں۔ اسکول کے ماتھے پر مٹتا مٹتا رب زدنی علما بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ اسکول کی عمارت تو کسی وجہ سے بنا دی گئی مگر استعمال بچوں کے لیے تعلیم کی بجائے طاقتوروں اور بدکرداروں کے مقاصد کے لیے ہو رہی ہے۔ آپ میں سے کتنے با ہوش اس عمارت کو اسکول سمجھ کر عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے؟

سادہ سی بات ہے، تقدس عمارت کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتا، اس عمارت سے جڑے مقصد کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب وہ مقدس عمل، یا مقدس مقصد پورا ہوتا ہے تو اس عمارت اور اس میں بیٹھنے والے خود بخود اس عزت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔

جمہوریت میں پارلیمنٹ ایک مقدس ادارہ اس لیے کہلاتی ہے کہ اس میں پوری قوم کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی قوم، معاشرے، ملک، ریاست کے لیے سب سے مقدس کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ مقدس کام اپنی عوام کی زندگیوں کو بہتر کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ہوتی ہے۔

اب آئیے ہماری پارلیمنٹ کی عمارت اور اس میں بیٹھے لوگوں کی طرف۔ ہمارے پارلیمان کا عالم یہ ہے کہ بقول شاعر
؎ مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے ، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ہماری جمہوریت میں پارلیمان کی بلڈنگ تو ویسے ہی ہے۔ اس میں کرسیاں بھی ہیں۔ بیٹھنے کا رنگ ڈھنگ بھی ویسا ہی ہے۔ مگر اس میں عوام کے نمائندے کم کم ہی آتے ہیں۔ اس میں کروڑوں روپے لگا کر اربوں کی دیہاڑی لگانے والے زیادہ ہیں۔ اپنی مراعات میں سو دو سو فیصد اضافہ کرنے والے بھی موجود ہیں۔ اپنی اس کرسی سے فائدہ اٹھا کر اپنے رشتے داروں کو ملک اور بیرون ملک مراعات یافتہ ملازمتیں دلوانے والے بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو عوام کے دکھ درد سے آگاہ اور اسکا مداوا کرنے والے۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ اس پارلیمنٹ کے سابقہ سربراہ نواز شریف نے عوامی دکھوں سے لاعلمی ان الفاظ میں ظاہر کی کہ "مجھے علم نہیں تھا کہ عدالتی انصاف اس قدر مہنگا ہے” ۔

پارلیمان کا تقدس جمہوریت سے وابستہ اصولوں کی پاسداری سے بھی مشروط ہے۔ اگر جمہوریت کی روح کے مطابق عوام کے نمائندے عوام کے حقیقی ووٹوں سے منتخب ہو کر آئیں تو پارلیمان کے تقدس کو سلام مگر جمہوریت کے نام پر پولیس پٹوار سے عوام کے ووٹ کو ہر دھاندلی سے اپنے بیلٹ بکس تک پہنچا کر، اور پھر بھی کسر رہ جائے تو بعد کے معاملات میں اپنے پسندیدہ آر اوز کے ذریعے عوام کے نمائندہ بن جانے کے ڈرامے پر ہزار بار لعنت۔

اگر جمہوریت کے اصولوں کے مطابق عوامی نمائندے عوام کے دکھ درد دور کرنے کے لیے قانون سازی کریں، جس سے دکھی عوام کی اجیرن زندگیاں کچھ آسان ہوں تو ایسی پارلیمان کو سات سلام، اس کے تقدس کو سلام، ۔ ۔ ۔ مگر جمہوریت کے نام پر ایک عمارت میں اکٹھے ہو کر غریب عوام کے پیسوں کو کک بیکس، کمیشن، اور صوابدیدی فنڈز کے نام پر آپس میں بانٹنے پر لاکھ بار لعنت۔

اگر جمہوریت کے اصولوں کے مطابق عوامی نمائندے جمہوری اصولوں کی پاسداری کریں، خود پارلیمان کی عزت کریں، پارلیمان میں باقاعدہ حاضری دیں، اور ایک دوسروں کے اختلاف کو جمہوری طریقوں سے ڈیل کریں، تو ایسے جمہوری پارلیمان کی عزت ہماری سر آنکھوں پر، ۔ ۔ ۔ مگر جمہوریت کے نام پر پورے ملک سے طاقتوروں کے گٹھ جوڑ، اور پارلیمان سے حاصل شدہ طاقت کو اپنی دولت و تعلقات بڑھانے پر اور پارلیمان میں صرف اس وقت حاضری دینے پر جب اپنا کوئی کام اٹک گیا ہو، یا اپنی کرسی خطرے میں ہو، ایسی تمام غیر جمہوری حرکتیں کرنے والوں پر لعنت در لعنت۔

عمران خان نے شیخ رشید کے پیچھے پیچھے جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی ہے وہ سمجھنے والوں کے لیے ویسی ہی ایک عمارت ہے، جس میں مراعات یافتہ اور طاقتوروں نے جمہوری اصولوں کی ایسی کی تیسی پھیر دی ہے۔

عمران کے بیان پر مجھے مغربی ممالک کا ایل لطیفہ نما واقعہ یاد آگیا۔ جس میں کسی اپوزیشن رہنما نے یہ بیان دے دیا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے آدھے ممبران احمق ہیں۔ اس پر بہت لے دے ہوئی اور سب نے اس بیان پر اس لیڈر کی خوب کلاس لی۔ اس پر اس نے اپنا پہلا بیان واپس لیتے ہوئے یہ کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے آدھے ممبران احمق نہیں ہیں۔

میں عمران خان کو بھی اپنا بیان واپس لینے کی صلاح دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ اس کو کہنا چاہیے کہ ایک ایسی پارلیمنٹ جس میں غریب عوام کی بھلائی کے لیے قانون سازی ہوتی ہے اور جمہوری اصولوں کو پائمال نہیں کیا جاتا پر ہزار بار سلام۔ مجھے یقین ہے لعنت پھر بھی وہیں رہے گی، اور بولنے والوں کا منہ بھی بند ہو جائے گا۔

Facebook Comments Box
پارلیمنٹپاکستانی سیاستسیاستشیخ رشیدعمران خانلعنت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
پاکستان اور جاپان کے ادبی رشتے : خرم سہیل
next post
جنسی تعلیم کے دو تناظر اور بہتی دانشوری : عزیز ابن الحسن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.