تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

لڑکی ہونا کتنا بڑا جرم بن گیا ہے۔ : شاہانہ جاوید

by دانش ڈیسک 10/01/2018
written by دانش ڈیسک 10/01/2018
101

لڑکی ہونا اتنا بڑا جرم بن گیا ہے۔ پاکستان میں آج ہر ایک اپنی بیٹیوں کو حصار میں لیے سوچ رہا ہے کہ ہم اتنے غیر محفوظ ہیں. آج یہ کل ہماری باری ہے کتنی بچیوں کو تاراج کیا جائے گا کتنی کم سن بیٹیوں کی عزت تار تار کرکے اجل کے حوالے کر دیا جائے گا. اس ظلم کی کوئی انتہا ہے کوئی حد ہے؟ انسانیت کھڑی رو رہی ہے، وحشت رقص کر رہی ہے اور ارباب اختیار اگلے الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ زبانی کلامی ہر ایک بیان دے گا لیکن بیان بازی سے معصوم بچی واپس آجائے گی؟ اس جیسی کئی بچیاں جو صرف قصور شہر میں پچھلے دنوں زیادتی کا نشانہ بنیں مجرم پکڑے بھی گئے لیکن سزا کسی کو ملتے نہیں دیکھی اج اس ظلم پر ایک باپ بے ساختہ کہہ اٹھا

آؤ بیٹیاں جلا دیں!
کہ شاید پھر انصاف ہوجائے!
میں اپنی مریم جلاتا ہوں
تم اپنی ماریہ جلاڈالو!
بدن کو خاک کر ڈالو!
ناموس بچانی ہے یا انصاف چاہتے ہو؟

کہاں ہے حکومت کہاں ہے انصاف، کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہیں؟ . زینب کے ساتھ لرزہ خیز واقعے نے سیاستدانوں میں ہلچل مچادی ہے صبح سے بیان بازی ہورہی ہے کاش یہ اپنے کام سے اتنے مخلص ہوجائیں جتنے اپنی بیان بازی میں دکھائی دیتے ہیں. ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ ایسے درندہ صفت گھناونے جانور نما وحشی انسانوں کو سر عام چوک میں پھانسی دی جائے، کوئی ضرورت نہیں حراست میں لیکر مقدمہ چلانے کی کیونکہ گواہی کے چکر میں ایسے مجرم آزاد ہوجاتے ہیں، آپ واقعاتی شہادت پہ دو تین کو پھانسی دے کر تو دیکھیں کس طرح یہ واقعات ختم ہوتے ہیں.
ان کے گھر میں بہن بیٹی نہیں ماں تو ہوگی، بے حیا لوگ لوگ ہیں، احتیجاج کرنے والی مشتعل عوام پر تو یہ گولی چلا سکتے ہیں لیکن ایسا ننگ انسانیت کام کرنے والوں کو سر عام سزا نہیں دے سکتے. ان کاونٹر میں اپنی مرضی کے مجرموں کو مار سکتے ایسے ننگ انسانیت کو گولیوں سے نہیں بھون سکتے۔

بے حساب واقعات اس ملک کے گلی کوچوں میں بکھرے پڑے ہیں، کوئی بتائے کتنوں کو انصاف ملا، مجرم پکڑے بھی جاتے ہیں تو جھوٹی گواہیاں انھیں آزاد کروا دیتی ہیں یا پھر جرگہ یاکسی اور طرح سے ازادی مل جاتی ہے یا پھر فرار ہو کر علاقہ غیر چلے جاتے ہیں. آج تک کسی کو سزا ملتے نہیں دیکھا اور بھولے سے کسی کو سزا بھی ہوئی تو ہلکی پھلکی. گاؤں میں برہنہ کرکے گھمانے پر کسی کو سزا ملی، کھیتوں میں معصوم بچی پر کتے چھوڑنے والے کو کچھ کہا، کسی لڑکی سے محبت کی شادی کے جرم میں جرگے کے حکم پر اس کی بہن کی سر عام چار پانچ لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا کسی کو سزا ہوئی نہیں قطعی نہیں. یہ مملکت خداداد پاکستان ہے جہاں انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انصاف کا ترازو تھما دیا گیا ہے۔

عام مشاہدہ ہے کسی کو کینسر ہو جاتا ہے تو جس عضو میں کینسر ہو آپریشن کرکے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے تاکہ کینسر پورے جسم میں نہ پھیلے، کیا ایسے گھناونے اور بد ترین جرم کرنے والوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کے آگے نہیں ڈالنا چاہیے تاکہ معاشرے سے یہ جرم ختم ہوجائے اور آئندہ کسی کی ہمت نہ ہو کسی معصوم کلی کو تاراج کرنے کی، ارباب اختیار کو انکھیں کھولنی ہونگی تاکہ معصوم بچیوں کی عزت اس طرح برباد نہ ہو۔

پچھلے ایک سال میں زیادتی کے بے شمار واقعات ہوئے ہیں اس میں سے سو سے زائد ایسے ہیں جنھیں زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا، اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ گیارہ بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں حد ہے ایسی مملکت پر خدا کی مار جہاں معصوم بچے محفوظ نہیں. دیہی علاقوں میں تقریباً 76 فیصد اور شہری علاقوں میں 24 فیصد بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں اس وقت سارا ملک ایک آواز ہوکر معصوم زینب کے لیے انصاف مانگ رہا ہے تاکہ پھر کسی کی عزت تاراج نہ ہو، زندگی کی ڈور نہ ٹوٹے. ملک کے ارباب اختیار ہوش کے ناخن لیں اور ان واقعات کا نوٹس لیکر مجرم کو عبرت کا نشان بنادیں چاہے اس کے لیے خلاف قانون جانا پڑے یا نیا قانون بنانا پڑے آخر اپنے مطلب کے لیے بھی تو ہزاروں جگہ قانون توڑتے ہیں ڈریں اس وقت سے جب عوام کا احتجاج زور پکڑ کر بحر بے کراں بن گیا تو اس کے آگے کوئی ٹھہر نہ سکے گا۔ ہمیں فیصلہ چاہیے اور وہ بھی مجرم کی عبرت ناک موت، زینب ہم تمھاری قربانی رائیگاں نہ جانے دیں گے۔

Facebook Comments Box
زیادتیزینبزینب قتل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
والدین بچوں کی حفاظت خود کریں : فواد رضا
next post
ننھی پری کے نام خط : حبیبہ طلعت

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.