تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

میں دیکھتا رہا…سید ثاقب شاہ

by Daanish Editor 08/01/2018
written by Daanish Editor 08/01/2018
121

میں شب و روز جب گھر سے نکلتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں.  سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام ہے. میں ٹریفک جام دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہوں. اتنے میں ایمبولینس کے ہارن بجنے کی آواز میرے کانوں تک پہنچتی ہے.

ایمبولینس ٹریفک سے نکلنے کی سر توڑ کوشش کرتی ہے، مگر وہ ٹریفک کے چنگل سے خود کو آزاد کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے. اور یوں ایمبولینس میں موجود مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیتا ہے. افسوس کرتے ہوئے اس نظام کو کوستے ہوئے میں آگے چل دیتا ہوں. تھوڑا اور آگے چلتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مین ہول کا ڈھکن کھلا پڑا ہے اور ایک معصوم بچی اس میں گر کر جان بحق ہوچکی ہے. لوگ ارد گرد جمع ہوتے ہیں. دل افسردہ ہوجاتا ہے. بس میں چڑھتا ہوں. تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بس میں گنجائش چالیس افراد کی تھی اور بس میں سوار ایک سو چالیس افراد ہیں. بس سڑک پر چلتی ہے تو  لگتا ہے جیسے زلزلہ آگیا یے. پھر یاد آتا ہے کہ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. اتنے میں بس سڑک پر ہچکولے کھاتی ہے اور میرا سر بس میں لگے لوہے کے پائپ سے ٹکرا کر زخمی ہوجاتا یے. اتنے میں کنڈیکٹر کرایے کے بیس روپے طلب کرتا ہے. جبکہ کرایہ پندرہ ہوتا ہے. میں کہتا ہوں کرایہ تو پندرہ ہےن جواب میں کنڈیکٹر نتھنے پھلائے، آنکھیں پھاڑ اور پیشانی پر بل ڈال کر کہتا ہے، بیس دینا ہے یا بس سے اترنا ہے. میں بیس کا نوٹ پکڑا دیتا ہوں. خیال آتا ہے کہ اس دیس میں ہر طرف ہی لوٹ مار ہے.

بس سے اترتا ہوں تو دکھائی دیتا ہے کہ ایک خاتون بس پر لٹک کر سفر کررہی ہے. اتنے میں ایک نوجوان لڑکی بھیک مانگتے فریاد کرتے میرے پاس آتی ہے. "اے بھائی! اے بھائی!” دس روپے دے دو رب دس لاکھ کا مالک بنائے گا. میں پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں تو جیب سے ہاتھ نکل کر باہر آجاتا یے. میں حیرانی سے جیب کو ٹٹولتا ہوں پھر یقین آجاتا یے کہ جیب کٹ چکی ہے. نگاہیں آسمان کی جانب اٹھ کر جھک جاتی ہیں. آگے چل پڑتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ سامنے جسم فروشی ہوتی دکھتی ہے. میں آہ بھر کے کہتا ہوں کہ اس ظالم دنیا میں پیٹ پالنا کتنا دشوار کام ہے.

قدم آگے بڑھاتا ہوں تو ایک بچہ میرے پاؤں پکڑ کر مجھ سے بھیک مانگنے لگتا ہے. میں بڑی مشکل سے اسے سمجھا بجھا کر دور کرتا ہوں، دل کڑھ جاتا ہے کہ کس نے اس معصوم کو گداگری پر لگادیا. اب میں گھر کی جانب چلنے لگتا ہوں سڑکوں کے آس پاس فٹ ہاتھوں پر کوئی نشے میں دھت اوندھا پڑا ہے. کوئی غربت کی وجہ سے سویا ہوا ہے. کوئی کٹورا لیے کھڑے بھیک مانگ رہا ہے. سڑکوں پر بھکاریوں کی بہتات دیکھ کر لگتا ہے کہ اس ملک کا ہر دوسرا آدمی بھکاری ہے. ان میں سے اصل مستحق کون ہے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے.

یہ سوچتے ہوئے میں آگے بڑھ جاتا ہوں. ایک دیوار کے قریب سے گزرتے ہوئے، دیوار پر حکیموں، عامل بابا، بنگالی بابا کے اشتہارات اور سیاسی نعرے درج  دیکھ کر میرے چلتے قدم رک جاتے ہیں. پھر میں اپنے دائیں بائیں موجود دیواروں پر اپنی نظریں ڈالتا ہوں تو ہر دیوار پر، چٹ منگنی پٹ بیاہ، ساس بہو کی مٹھی میں، محبوب آپ کے قدموں میں بواسیر، قبض اور نجانے کن کن بیماریوں اور پریشانیوں کا حل، ان دیواروں پر لکھا ہوا پاتا ہوں. یہ سب پڑھ دیکھ کر لگا کے اس ملک کے ہر عام آدمی کا مسئلہ شاید یہی ہے، جو ان دیواروں پر درج ہے. نعرہ روٹی کپڑے اور مکان کا لکھا تھا  اور سامنے لوگ سڑک پر روٹی کپڑے اور مکان سے محروم دکھائی دے رہے تھے. میں ایک بار پھر چہرے پر افسردگی کو سجائے آگے بڑھ جاتا ہوں.

اسی غم میں آگے بڑھتے  چلا جاتا ہوں تو قریب میں سڑک بند کرکے کچھ لوگ توڑ پھوڑ کر رہے ہوتے ہیں. پاس کھڑے شخص سے پوچھتا ہوں یہ کیا اور کیوں ہورہا ہے. جواب میں وہ شخص کہتا ہے کہ مہنگائی کے خلاف احتجاج ہورہا ہے. میں لمبی سانس لیکر کہتا ہوں افسوس صد افسوس مہنگائی کے خلاف احتجاج میں، ہم مزید توڑ پھوڑ کر رہے ہیں ساتھ ہی اپنے ہی جیسے غریب عوام کی قیمتی املاک تباہ کر رہے ہیں. ہم عجیب و غریب لوگ ہیں. کیوں ہم ہر واقعے پر سڑک پر اتر آتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟  میں نے خود کلامی کی اور جواب کچھ نہ ملا میں آگے چل پڑا.
پھر سوچتا رہا کہ آخر غریب کو نہ سڑکوں پر انصاف ملتا ہے. اور نہ عدالتوں میں وہ تو بے بس و لاچار اس ظالم نظام کے شکنجے میں نیم پاگل ہوچکا ہے. سڑک بند کرنے سے کسی امیر کا کچھ  نہیں بگڑنا. ہاں ہمارا بہت نقصان ہوجانا ہے، جسکے ہم خود ذمہ دار ہیں.

آگے چلتا ہوں تو پولیس یعنی ہمارے محافظ مجھے روک کر کہتے ہیں تلاشی دو میں انکے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے تلاشی دیتا ہوں. جیب میں ہاتھ ڈالنے پر جب جیب کٹی ہوئی اسے ملتی ہے،تو سوال کرتا ہے،  جیب کہا گئی؟  جواب دیتے ہوئے میں کہتا ہوں.  جیب کوئی کاٹ کر لے گیا. اچھا لاؤ پچاس سو روپے تو پکڑادو. میں کہتا ہوں جیب کٹ چکی ہے نظر تو آرہی ہے. پھر بھی مجھ سے آپ پیسوں کا مطالبہ کر رہے ہیں. آپ بھی صاحب اولاد لگتے ہیں. آپ کے بیٹے کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرے تو آپ کو کیسا لگے گا. چل چل نکل یہاں سے دماغ کی دہی مت بناؤ. آگے جا لیکچر کسی اور کو دینا. پولیس والے کی زبان سے نکلنے والے یہ الفاظ میرے دل پر خنجر کے وار ثابت ہورہے تھے. اسکا رویہ اس سے زیادہ مجھے تکلیف دہ لگا. شاید یہاں کے انسانوں میں میں سے انسانیت ہجرت کرگئی ہے اور صرف انسان موجود ہیں. جیسے مکانوں میں سے لوگ ہجرت کر جاتے ہیں اور مکان ویران رہ جاتے ہیں.

گھر آتا ہوں، شام جانے کو اور رات آنے کو تیار ہوتی ہے. بھوک سے نڈھال ہورہا ہوتا ہوں، کھانا گرم کرنا چاہتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ گیس بھی موجود نہیں. اپنے کمرے کا رخ کرتا ہوں،اور تھکن سے چور چور بیڈ پر لیٹ جاتا ہوں. اتنے میں موبائل کی بیٹری اپنے اختتام کے آخری کنارے پر موجود ہوتی ہے. میں چارج کرنے کے لیے موبائل چارج پر جوں ہی لگاتا ہوں. پلک جھپکتے ہی لائٹ چلی جاتی ہے. لائٹ جاتے ہی میرا قلم بھی اپنے اس کنارے پر پہنچ جاتا ہے. جہاں سے آگے چلنے کے لیے اسے اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے اپنی کاوشوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے.

Facebook Comments Box
احتجاجانصاف کی امیدجسم فروشیعامل بابافقیرگدا گریمحافظ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
ایمبولینس کو راستہ، دو زندگی کو راستہ دو : شاہانہ جاوید
next post
جو خزاں نادیدہ ہو بلبل، وہ بلبل ہی نہیں : قاضی عبدالرحمن

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.