تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ تریندیگر

نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی حالت زار : محمد شمس الحق نوازش

by Daanish Editor 01/01/2018
written by Daanish Editor 01/01/2018
86

تعلیم سے مراد وہ تمام طریقہ ہائے تعلیم ہے جن کے زریعے اقدار، عقائد، عادات، ہر طرح کا علم ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ان طریقوں میں داستان گوئی، بحث و مباحثہ، تعلیم وتربیت، روایتی و غیر روایتی طریقہء تعلیم شامل ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کا اثاثہ ہے۔ جو قوم تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہترین بناتی ہے، وہ ہی کامیاب رہتی ہے۔ تعلیم ہی کسی قوم کے ٹیکنالوجی، دفاع، صنعت وحرفت اور غرض یہ کہ ہر میدان میں کامیابی کی ضامن ہے۔ بلاشک وشبہ اقوام و افراد کی ترقی کا انحصار علم و تعلیم پر ہے، مزید علم وتعلیم کا انحصار درسگاہوں میں پڑھانےوالے اساتذہء کرام پر ہوتا ہے۔ تعلیمی مقام کی فضاء بہت عناصر سے مل کر وجود میں آتی ہے۔ تاہم سب سے اہم عنصر استاد ہی ہے۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں۔

شاید بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ وطن میں ایسا طبقہ بھی ہے، جو اپنی ہاتھوں میں علم کی شمع لئے ہوئے لاکھوں پاکستانیوں کو منزل مقصود کی طرف رواں دواں رکھتا ہے۔ مگر خود ایسی تاریکی میں کھڑا ہے جہاں وہ کسی کو نظر نہیں آتا ہے۔ خاص کر حکومت کی نظر کرم تو ان پر پڑتی ہی نہیں ہے۔ وہ طبقہ نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہء کرام ہیں۔

اگر وہ پڑھانے کا مقدس فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں تو ان کے حقوق کا تعین بھی ضرور کیا جانا چاہئے۔

انکی حالت دیہاڑی دار مزدوروں سے کسی طور پر بھی مختلف نہیں، مثلا بیماری کی صورت میں یا ایمرجنسی کی صورت میں اگر ان کو چھٹی کرنی پڑ جائے تو تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ بیماری چند دنوں تک رہے تو انہیں ملازمت سےبرخاست کیا جاتا ہے۔ اگر امتحان یا کسی ضروری کام کےلئے ہفتہ یا اس سے زیادہ دن چھٹی کی ضرورت پڑ جائے تو انہیں ایک لیٹر ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے، بےچارہ استاد کو خوشی گمانی ہوتی ہے کہ یہ شاید ایوارڈ کی خوش خبری ہے، لیکن دراصل اس میں لکھا ہوتا ہے کہ ادارے کو اپکی خدمات کی مزید ضرورت نہیں رہی ہے، گویا وہ قوم کے معمار نہیں کسی عمارت کے معمار ہیں۔

ان باتوں کے علاوہ جو بات سب سے زیادہ قابل افسوس ہے وہ یہ ہے کہ انکو جو تنخواہ ملتی ہے وہ روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور سے بھی کم ہے۔ مگر حکومت کو  اس طبقے کا زرا بھر بھی خیال نہیں۔ ایک طرف حکومت ان پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار دلوانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، جبکہ دوسری طرف ان کی سرمایہ داروں کے استحصال سے بچانے کےلئے کوئی ضابطہ، قانون یا رولز ریگولیشن بنانے سے بھی قاصر ہے۔ آخر کیوں حکومت نے ان پڑھے لکھے نوجوانوں سے انکھیں پھیر رکھی ہیں؟

 حالانکہ یہ وہ طبقہ ہے جس کی کارکردگی  سرکاری اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ سے کئی گنا بہتر ہے۔ ہر سال بورڈ کے امتحانات میں نجی تعلیمی اداروں کا نتیجہ سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ جو ان اساتذہ کی محنت، مشقت اور بہتر صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ بے شک وطن عزیز میں ایسے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں،جو اپنے اساتذہ کرام کو معقول تنخواہیں اور سہولیات دیتے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حالت زار کی بہتری کےلئے ضروری ہے کہ ان کی محنت کے مطابق ان کی تنخواہوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان اساتذہ کے حقوق کا تحفظ کرے۔نجی تعلیمی اداروں کےلئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی قانون و قاعدہ وضع کرے۔ کوئی موثر کنٹرول اتھارٹی قائم کی جائے۔ سرکاری اساتذہ کےلئے مقررکردہ پے اسکیلز کی طرز پر ان کے لئے بھی اسکیلز بنائے جائیں۔ اگر وہ پڑھانے کا مقدس فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں تو ان کے حقوق کا تعین بھی ضرور کیا جانا چاہئے۔ لاکھوں طلباء کو پڑھانے والے اساتذہ اگر مایوسی، ذہنی دباو اور مالی کسمپرسی کا شکار رہیں گے تو قوم ترقی و خوشحالی کی منزل پر کبھی نہیں پہنچ سکے گی۔

Facebook Comments Box
اساتذہ کی حالتاساتذہ کی کارگردگیبے روزگاریپے اسکیلزذہنی دباومالی کسمپرسینجی تعلیمی ادارے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
ریل کی سیٹی : کنول فاطمہ احسان
next post
اُداس پاکستان : 2017ء میں انتقال کرنے والی علمی و ادبی شخصیات (حصہ اول) — رئیس صمدانی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.