تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینفکشن

ریل کی سیٹی : کنول فاطمہ احسان

by Daanish Editor 01/01/2018
written by Daanish Editor 01/01/2018
113

وہ ایک ایسی ہی روشن صبح تھی۔ پو پھٹ رہی تھی اور سورج کی ٹھنڈی کرنیں ہلکی ہلکی تمازت بخش رہی تھیں۔ آج کا دن اس کے لئے حوصلے کا پیغام لایا تھا۔ جہاں اسے اپنے ایک دیرینہ خواب کے پورا ہونے کی امید تھی، وہیں دل میں کہیں کوئی انجانا سا خوف بھی چھپا بیٹھا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ وہ اس دن کی آمد کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ اپنی زندگی ہوا کے رخ پر گزارتی چلی آئی تھی۔ زندگی کا پہیہ جدھر گھومتا، وہ بھی اسی رخ پر یو ٹرن لے لیتی۔ شاید یہ کم ہمتی تھی یا یہ کہ وہ کچھ الگ اور منفرد کر دکھانے کا کوئی خاص جذبہ نہیں رکھتی تھی۔ مگر پھر ایک دن، اس نے خود سے، اپنے اس خوف سے لڑنے اور اس سے چھٹکارا پانے کا عہد کیا۔

پھر جس روز اسے انٹرویو کی کال آئی تو وہ کتنا خوش تھی۔ اس کے دوستوں اور پیاروں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور کتنے ہی مہربان چہروں نے اس کی رہنمائی کی کہ اسے ایک کامیاب انٹرویو کے لئے خود کو کس طرح تیار کرنا ہے۔ بالآخر انٹرویو کا دن آن پہنچا۔ اس نے دل میں امید کا دیا جلائے ہوئے انٹرویو کے مقام پر پہنچنے کے لیے رخت سفر باندھا۔

اچانک کسی کونے سے ایک تیز سیٹی جیسی آواز اٹھی اور اس میں سب دوسری آوازیں دب کر رہ گئیں۔ وہ خوف جسے اس نے دل میں کہیں سلا دیا تھا، اچانک بیدار ہو گیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے اس کا مذاق اڑانے لگا۔

وقت کی اہمیت کا احساس تو اسے ہمیشہ سے تھا مگر اس لمحے، وقت کم مقابلہ سخت والی بات تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس پوسٹ کا اس کے نام منسوب ہونا ضروری نہیں۔ مگر پھر بھی وہ شان اور فخر سے کہہ تو سکتی تھی کہ اس نے اپنی پوری کوشش کی۔ اس انٹرویو میں بھی وہ آخرکار ان چند امیدواروں میں سے تھی جو تین مراحل سے گزر کر باقیوں کو مات دیتے، حتمی مرحلے تک پہنچے میں کامیاب ہوئے تھے۔

رات بھر اس ایک انجانے خوف نے، جو کسی امر بیل کی طرح اس کے وجود سے لپٹا ہوا تھا، اسے پریشان رکھا اور صبح کی پہلی کرنوں نے اسے کروٹیں بدلتے دیکھا۔  وہ بظاہر مسکراتے، مگر اندر ہی اندر اپنے خوف کو جھٹلاتے ہوئے، امید و یاس کی کیفیت میں عین وقت پر مقررہ آفس میں پہنچی۔

وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ تمام امیدواروں میں حتمی انتخاب بس دو لوگوں کے درمیان ہی رہ گیا ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ اپنی منزل سے اب بس ایک قدم کی دوری پر تھی۔ اس نے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔ جب اس کا نام پکارا گیا تو وہ پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ قدم اٹھاتی ہوئی انٹرویو پینل کے سامنے جا بیٹھی۔

انٹرویو کا آغاز نارمل انداز میں ہوا اور وہ خود کو پر اعتماد محسوس کرنے لگی۔ مگر جب اس سے تیسرا سوال پوچھا گیا۔۔۔۔ تو پھر جیسے سب کچھ اتھل پتھل ہو گیا۔ اچانک کسی کونے سے ایک تیز سیٹی جیسی آواز اٹھی اور اس میں سب دوسری آوازیں دب کر رہ گئیں۔ شاید پاس ہی کہیں کوئی ریلوے اسٹیشن تھا اور آج اتفاق سے ریل گاڑی عین وقت پر اپنی چھک چھک اور پوری دھمک سے آ پہنچی تھی۔ اسٹیشن گائیڈ نے پوری قوت سے سیٹی بجائی، اور پھر وہ سیٹی لمبی ہی ہوتی چلی گئی۔ وہ خوف جسے اس نے دل میں کہیں سلا دیا تھا، اچانک بیدار ہو گیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے اس کا مذاق اڑانے لگا۔

"سر، کیا آپ اپنا سوال دہرا سکتے ہیں؟” اس نے تھوک نگلتے ہوئے درخواست کی۔ دہرائے جانے والے سوال اور اس کے درمیان ایک بار پھر ریل کی گاڑی حائل ہو گئی۔ اس نے بیچارگی سے نظریں اٹھائیں تو اس کی ہر سیٹ پر ایک ہی مسافر براجمان تھا، جو اس کی طرف بے رحمی سے گھور کر دیکھ رہا تھا۔ اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ریل گاڑی نے پینل کے تمام سوالات کو روند ڈالا اور وہ ان لفظوں کے ٹکڑے ہی جوڑتی رہ گئی۔

پھر کچھ دیر بعد ریل گاڑی وہاں سے رخصت ہو گئی اور جیسے ایک مکمل سکوت نے اس منظر نامے کو مسخر کر لیا۔ ایسا سکوت جس میں اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی صاف محسوس ہونے لگی۔ پھر اس نے دیکھا کہ اسے وہاں سے جانے کا کہا جا رہا ہے۔ وہ بے بسی کے عالم میں یوں اپنی کرسی پر بیٹھی رہی جیسے اسے کسی نے ہتھکڑی سے باندھ دیا اور چابی کہیں دور پھینک دی ہو۔

"میں نے کہا ہے کہ آپ اب جا سکتی ہیں۔”
وہ بوکھلا گئی اور لرزتے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ بیس منٹ بعد وہ پینل روم سے ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح باہر نکلی۔ وہ جس خوف کو باہر کہیں دفنا کر آئی تھی، وہ پہلے سا توانا اس کے اندر ہی کہیں موجود تھا، اور اس کی ترقی کے راستے میں بند باندھ کر اپنا انتقام لے چکا تھا۔

وہ تیسری امیدوار جو پہنچ ہی نہیں پائی تھی، دراصل وہ ترقی کا زینہ عبور کر چکی ہے۔ وہ اب تک یہی سوچتی ہے کہ کیا  اس کے مسترد کئے جانے کی وجہ اس کا tinnitus, bipolar disorder تھا یا سوسائٹی کا بائی پولر ڈس آرڈر؟

عجیب طرفہ تماشا تھا۔ وہ اس نتیجے سے باخبر تھی کہ وہ پوسٹ اب دوسری امیدوار کو ہی ملے گی، جبکہ دوسری امیدوار اس کے تجربے اور تعلیم سے مرعوب ہوتے ہوئے یہ گمان رکھتی تھی کہ وہ پوسٹ اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ وہ کسی سے نظریں ملائے  بغیر، عجلت میں گھر کے لئے روانہ ہو گئی۔

اس نے نتیجے کا انتطار ترک کر دیا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ قسمت کی دیوی اس پر مہربان نہیں ہو سکتی۔ پھر ایک دن جب اس کو اپنے مسترد کیے جانے کا لیٹر ملا تو کچھ دیر بعد دوسری امیدوار کی کال بھی آ گئی۔اس نے دوسری امیدوار کو بے ساختہ مبارکباد دے دی تو جواب میں وہ حیرانی سے گویا ہوئی:

"آپ مجھے کیوں مبارک دے رہی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ انتخاب کس کا ہوا ہے؟” اس نے حیرت سے دریافت کیا کہ جب وہ مسترد ہو گئی ہے تو ظاہر ہے کہ پھر دوسری امیدوار ہی منتخب ہوئی ہو گی۔

اور پھر اسے یہ اطلاع ملی کہ وہ تیسری امیدوار جو پہنچ ہی نہیں پائی تھی، دراصل وہ ترقی کا زینہ عبور کر چکی ہے۔ وہ اب تک یہی سوچتی ہے کہ کیا  اس کے مسترد کئے جانے کی وجہ اس کا tinnitus, bipolar disorder تھا یا سوسائٹی کا بائی پولر ڈس آرڈر؟

سنا ہے سال بدلا ہے، اور لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں۔ مگر وہ خاموش ہے۔ اسے یاد ہے کہ وہ بھی ایسی ہی ایک صبح تھی جب اس کے کانوں میں گونجنے والی ریل گاڑی کی سیٹی نے اسے اس کی منزل سے محروم کر دیا تھا۔

Facebook Comments Box
featuredانٹرویوایلیتبیروزگاریریل کی سیٹیسفارش کا کلچرسماجی نا اںصافینا امیدینوجوانوں کے مسایلنوکری کی تلاش
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
موٹیویشنل اسپیکراور این جی او کلچر : نبیلہ کامرانی 
next post
نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی حالت زار : محمد شمس الحق نوازش

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.