تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینصنف/ جینڈر

مرد و خواتین کے لباس اور فیشن کی ’مکاریاں‘ : عینی خان

by دانش ڈیسک 09/12/2017
written by دانش ڈیسک 09/12/2017
171

مجھ سمیت میرا پورا ننھیال اور ددھیال امریکہ میں مقیم ہیں۔ آۓ دن کوئی تقریب اور خاندانی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔ بچے سکول کالج میں جینز شرٹ وغیرہ ہی پہنتے ہیں۔ مگر خاندانی تقریبات میں ٹین ایجرز تو کیا چھوٹے بچوں کو بھی زیادہ تر شلوار قمیض پہناۓ جاتے ہیں۔ لباس جتنا روایتی اور ہماری ثقافت کے قریب ہوتا ہے یہاں اُتنا ہی فیشن ایبل سمجھا اور سراہا جاتا ہے۔

چونکہ میرا سسرال پاکستان میں ہے اسلیے پچھلے چار پانچ سالوں سے شوہر کے ساتھ تقریباً ہر سال ہی پاکستان جانا ہوتا ہے۔ امریکہ میں وجہ کچھ بھی ہو کام سے زیادہ چھٹی ملنا ممکن نہیں ہوتا اسلیے ہماری پاکستان میں قیام کی مدت بہت قلیل ہوتی ہے۔

اس مدت میں جہاں ہم پاکستانی (لاہوری????) کھابوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں کوشش ہوتی ہے کہ پاکستانی کپڑوں کی خریداری بھی کی جاۓ۔ پاکستان میں لؤڈ شیڈنگ اتنی زیادہ ہے کہ درزیوں سے کام لینا بھی ایک دردِ سر ہے اور پھر وقت کی قلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں ریڈی میڈ کپڑوں کو ترجیع دیتی ہوں تاکہ درزیوں کے چکر لگانے سے بچ جاؤں۔
اب دقت یہ ہے ہے کہ جو بھی کپڑے خریدو ساتھ بازو نہیں ہوتے۔ کئی بار میرے ساتھ ایسا ہوا کے شام کو کوئی پارٹی ہے یا اچانک کہیں جانے کا پروگرام بن گیا۔ میں موسم اور موقع کے حساب سے ایمرجنسی میں ریڈی میڈ سوٹ خرید رہی ہوں جو کے مجھے سائز میں بھی پورا ہے مگر میں پہن نہیں سکتی کیونکہ بازو ساتھ نہیں لگے ہوۓ۔ عجیب بے بسی کا احساس ہوتا تھا۔

میرے خیال میں ریڈی میڈ کپڑوں کو ریڈی ٹو ویر ہونا چاہیے۔
پہلے پہل تو مجھے بہت حیرت بھی ہوئی کے وہاں امریکہ میں کبھی اپنے خاندان میں یا خاندان سے باہر کسی پاکستانی خاتون کو بغیر بازو کے شلوار قمیض پہنے نہیں دیکھا تو پاکستان میں یہ رواج اتنا فروغ کیسے پا گیا۔ لیکن پھر جب میں نے غور کیا تو مجھے پاکستان میں بھی بہت کم خواتین سلیو لس پہنے نظر آئیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تعداد اُن خواتین کی ہے جو سلیو لس پہننا پسند نہیں کرتیں مگر بوتیک والے بازو لگانے سے گریز کرتے ہیں، اس لئے مجبورا بھی پہن لیتی ہیں۔

یہ صرف بوتیکس کا حال نہیں بلکہ ہر بازار میں چاہے وہ فورٹریس، لبرٹی ہو یا انار کلی اور اچھرہ، ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانوں میں یہی حال ہے۔ خواہ وہ کسی بھی طبقے کے لیے ہوں۔ اگر بازو لگوانے ہیں تو اضافی پیسے دینے ہونگے، تو گویا بازو ایک اضافی چیز ہو گئے۔ وہ کپڑوں کا حصہ نہیں؟

میرے سامنے کی بات ہے کے سیلون میں ایک خاتون اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھی کے بازو لگوانے درزی کے پاس جانا پڑے گا کوئی اور جوڑا خرید لو جس پر بیٹی کی ضد تھی کہ اتنی دکانیں دیکھ چکے ہیں جو سوٹ بھی مجھے پسند آتے ہیں وہ بازو کے بغیر ہیں لہذا بازو رہنے دیے جائیں، بس مجھے سوٹ یہی چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے خیال میں اس میں قصور اُس بچی کا نہیں تھا، اسے اس خواہ مخواہ کی کوفت نے اس عمل پر مجبور کیا تھا۔

نئی نسل کو نفسیاتی طور پر باور کروایا جا رہا ہے کے بازو اور دوپٹہ اضافی چیز ہے، اس کے ساتھ ہی بازو اور دوپٹے کے بغیر کپڑے پہننے کی طرف راغب اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ دوپٹہ الگ سے خریدو اور بازو بعد میں لگواؤ تو یہ کس طرح کے شلوار قمیض اور کہاں کی ثقافت کو پروموٹ کیا جا رہا ہے؟
اور پھر ایک اور چیز کہ کُرتے ملتے ہیں تو پاجامے کے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ٹائٹس کے نام پر لیگنگ کا ایسا باریک کپڑا ملتا ہے جو ہمارے بچپن میں بچوں کو بھی نہیں پہنایا جاتا تھا۔

نئی نسل کو نفسیاتی طور پر باور کروایا جا رہا ہے کے بازو اور دوپٹہ اضافی چیز ہے

شلوار قمیض سیتے ہوئے اگر بازو ساتھ نہ لگائے جائیں تو کئی بار بعد میں وہ واقعی ایک اضافی چیز لگنے لگتے ہیں۔ خاص کر جب اضافی پیسے بھی دو اور بازو بھونڈے طریقے اور بے دلی سے لگائے جائیں۔ جبکہ سلے ہوۓ کپڑوں سے بازو اُتارنے میں ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، بچوں کے سردیوں کے کپڑے حتی کہ ویلوٹ کے فراک سب بازو کے بغیر۔
میں سلیو لس کے خلاف نہیں۔ یہ ہر انسان کی ذاتی چوائس کی بات ہوتی ہے اور فیشن انڈسٹری والوں کا کام بھی نت نئے فیشن متعارف کروانا اور اُن کی طرف مختلف طرح سے راغب کرنا ہے۔ مگر کسی بھی چیز کو اپنانے پر مجبور کرنا ٹھیک نہیں۔ جب اکثریت بازو کے بغیر کپڑے نہیں پہنتی تو پھر اپنی مخصوص سوچ کی وجہ سے بازو نہ لگا کر لوگوں کو دقت دینا غلط ہے۔ اس کے برعکس اگر بازو لگا دیے جائیں تو دس میں سے جو دو خواتین بازو اُتروانا چاہیں تو وہ درزی سے رجوع کر سکتی ہیں۔ ۔

انڈین اور پاکستانی شلوار قمیض کے انداز میں کچھ بنیادی فرق پائے جاتے ہیں جن میں سب سے نمایاں یہی بات ہے کہ انڈین شلوار قمیض میں بازو اور دوپٹہ غائب ہوتے ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے کہ پاکستانی بھی اپنے کپڑوں کی انفرادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ریڈی میڈ کپڑوں کے ساتھ دوپٹہ نہیں ہوتا اس لیے الگ سے خریدنا پڑتا ہے جو کہ کئی بار مکمل طور پر کپڑوں سے میچ بھی نہیں ہوتا، اس لیے بچیاں کوفت محسوس کرتی ہیں، اور آخر کار غیر محسوس طریقے سے بازووں اور دوپٹے کے بغیر لباس پہننےکی طرف مائل ہوتی جا رہی ہیں۔

تہذیب کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس معاملے میں اکثریت کی سہولت کو مدِ نظر رکھا جائے کیونکہ یہاں اکثریت کا رویہ اپنے مذہب اور قومیت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے، اور عزیز تر بھی یہی لگتا ہے۔

ایسے ہی کچھ سالوں پہلے ریڈی میڈ لان کی ایک خاص قسم متعارف کرائی گئی، جس کا کپڑا بہت باریک تھا۔ شروع شروع میں اس کے ساتھ شمیض بھی ہوتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ وہ غائب کر دی گئی۔ اب کپڑا تو بچ گیا مگر کپڑے پہنے کا مقصد فوت ہو گیا۔

فیشن انڈسٹری والے اپنے فیشن شوز میں پہلے ہی ڈھانچہ نما ماڈلز دکھا کر ایک غیر فطری و غیر حقیقی body image پیش کر کے نئی نسل کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہے ہیں۔ جن بچیوں نے سخت پڑھائی کا بوجھ بھی برداشت کرنا ہے، گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹانا ہے اور پھر شادی کے بعد بچے پیدا کرنے، اُن کی صحیح دیکھ بھال اور مناسب پرورش بھی کرنی ہے۔ اور خاص کر جو خواتین جاب کرتی ہیں اور پھر گھر بھی سمبھالتی ہیں، اُن کے لیے تو دوہری ذمے داری ہے۔

ہماری بچیاں اور خواتین ڈھانچہ نما وجود کے ساتھ تمام ذمے داریاں اور فرائض کیسے نبھا پائیں گی؟ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا دعوی کرنے والی عورت ڈائٹنگ کے نام پر غذائیت کی کمی اور کمزوری کے ساتھ معاشرے میں کیسے اپنا مقام بنا پاۓ گی؟ وہ بھی اُن ماڈلز کو دیکھ کر کہ جن کا اوڑھنا بچھونا اور زریعہ معاش ہی ماڈلنگ ہے خود کو لاغر و کمزور کر لینا انتہائی بےوقوفی ہے۔
اوپر سے بازو دوپٹہ اور شمیض کے بغیر کپڑے پہنے کو فروغ دیا جا رہاہے۔ اس سے شلوار قمیض جو کہ ایک روایتی و قومی لباس ہے اُس کی اصل شکل کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ یہ فضول رواج جو زبردستی ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے، اور باقاعدہ اس کے لئے ماحول ترتیب دیا جا رہا ہے، یہ آہستہ اہستہ ہم لوگوں کو غیر شعوری طور پر عادی کر لے گا، اگر آج ہی اس کا مکمل بائیکاٹ نا ہوا تو یہ ہی زبردستی ہمارا کلچر قرار دے دیا جائے گا۔

مردانہ فیشن کی بات کریں تو وہاں تو سمجھ نہیں آتی کے اُس پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔

اس کے ساتھ اگر مردانہ فیشن کی بات کریں تو وہاں تو سمجھ نہیں آتی کے اُس پر ہنسا جائے یا رویا جائے؟ گھاگرے، شرارے، دوپٹے، شلوار قمیض میں کڑھائی سے بھرے اور بھاری بھرکم کام کے باعث اُبھرے ہوۓ سینے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس میل ماڈلز ایک احسان کر دیتے ہیں کہ ساتھ داڑھی رکھ لیتے ہیں، گویا یہ احساس دلا رہے ہوں کہ خواتین جو کر سکتی ہیں ہم بھی کر سکتے ہیں مگر داڑھی تو صرف ہم ہی رکھ سکتے ہیں۔ مردانہ کپڑوں کی ورائٹی کا اس قدر فقدان ہو گیا ہے کہ روایتی کپڑوں میں عورت مرد کی تمیز ہی ختم کر دی گئی ہے۔

کہتے ہیں کہ عورتوں نے کسی شادی کی تقریب میں شرکت کرنی ہو تو اپنے کپڑوں کی کسی کو کانوں کانوں بھنک نہیں پڑنے دیتیں۔ اب لگتا ہے آنے والے وقت میں خواتین نقل ہونے کے ڈر سے رشتے داروں کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی اپنے کپڑوں کے ڈیزائنز چھپائیں گی۔

غیر حقیقی اور غیر فطری body image create کرنا نیز زبردستی اور بے بسی کو فیشن کا نام دینا ٹھیک نہیں۔ اس کی روک تھام کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں اس سلسلے میں آپ اپنی قیمتی راۓ ضرور دیجیے۔

Facebook Comments Box
FashionfeaturedLadies DressLadies FasionMen DressMen Fashionخواتین کے کپڑےفیشنلیڈیز فیشن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نیو ورلڈ آرڈر : محمد خان قلندر
next post
متوسط طبقہ کے بچوں کی زندگی کا المیہ: مدثر احمد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.