تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسفرنامہعلم و ادب

نکلے اپنی تلاش میں – 2 : سحرش عثمان

by دانش ڈیسک 06/12/2017
written by دانش ڈیسک 06/12/2017
72

گاڑی ایک جگہ رکی تھوڑا سا کچا رستہ طے کیا تو سامنے تا حد نگاہ بھیگا بھیگا سبزہ تھا۔ نظر کی آخری حد سے اوپر نگاہ کی تو سبزے کی حد پر چوٹیاں دیکھائی دے رہی تھیں۔ ہم نے دھیرے سے اندر بیٹھے ڈھیٹ کا ہاتھ پکڑا شکریہ ادا کرنے کا۔

وہ بھی ہماری ہی طرح بات بتا کر بے نیاز ہوجانے کی ادا کا مظاہرہ کر کے چپ ہورہا۔
نومبر کی ڈھلتی شام سبزہ پہاڑ اور سرد ہوا۔ ایسے منظر کے لئے کسی جگہ پر دیر سے پہنچنا گھاٹے کا سودا تو ہرگز نہیں تھا۔ ہم چپ چاپ ہوجانے والی دیر کو بھلائے منظر دیکھنے لگے۔
گہری سانس لے کر حویلیاں کی ہوا اندر اتاری آنکھوں میں یہ منظر محفوظ کرنے کو پلکیں ذرا کی ذرا موندیں تو کوئی اندر سے بولا۔

خوبصورتی رب کی تخلیق ہے یا رب کی تخلیق خوبصورت ہے۔
ہم: تخلیق خوبصورتی ہے۔ اور اگر رب کی تخلیق ہو تو مکمل ہے خوبصورت ہے محو کر دینے والی ہے۔
سوال:رب کی تخلیق انسان بھی تو ہے۔
ہم: ہمممم
سوال: تو یہ مکمل کیوں نہیں۔
ہم نے دھیرے سے وہ آیت دہرائی۔
"اور جب آدم نے تمام نام بتا دیے تو رب نے کہا اوربے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”
اندر سکون اترنے لگا۔
جیسے اس کے جاننے میں ہی تو راز پنہا ہے ہماری آپکی امپرفیکشن کا۔
خود سے مکالمہ جانے کب تک جاری رہتا۔ کہ ساتھیوں نے سفر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے جمہوری روئیے کا مظاہرہ کیا اور چپ چاپ گاڑی میں آ بیٹھے۔ توبہ ہے۔۔۔۔ اس میں اتنا شکی ہونے والی کونسی بات ہے۔ ارے بھئی ہو جایا کرتے ہیں ہم کبھی کبھار پانچ دس منٹ کو خاموش۔
گاڑی میں بیٹھ کر بیگ میں سے بسکٹ کا پیکٹ نکال کر کھولا اور کھانے ہی لگے تھے کہ پیکٹ اچک لیا گیا۔
درزیدہ نظروں سے اچکنے والے کو دیکھا تو وہ ایک اور مس عثمان تھیں۔ غصے کے گھونٹ تو خیر ہم کیا پیتے۔ سائڈ پہ رکھی کوک کھول کے پینے لگے۔

لڑنے کا ہمارا ہرگز کوئی ارادہ نہ تھا۔ سڑکے کے دونوں طرف درخت تھے سڑک پہ رش تھا۔ نومبر کی گلابی شام رات میں بدل رہی تھی۔ ہوا میں خنکی تھی اور کشمیری چائے کی خوشبو چیزوں کو معنی بخش رہی ہے تھی۔
گوگل میپ والی آنٹی کے مطابق ایک گھنٹے میں ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچنے والے تھے۔
گاڑی سرک رہی تھی
ارد گرد زندگی رواں تھی۔
ہم سوچ رہے تھے یہ سارے راستے اولڈ سلک روڈ کے نئے رستے ہیں۔ ان پر کموڈٹیز جایا کریں گی اور خوشحالی آیا کرے گی۔

خوشخالی ایسا خواب ہے جو ہر زمانے ہر تہذیب کا مشترکہ خواب رہا ہے۔
سلک روڈ والی تہذیب نے بھی تو اسی خواب کے پیش نظر سینٹرل ایشیاء کو چنگیزی نسلوں سے جوڑا ہوگا نا۔ چنگیزیوں سے چینی صدر کا وہ انٹرویو یاد آگیا جو اس نے سی این والی آنٹی کو دیتے ہوئے چینی زبان میں گٹ پٹ کی تھی۔ اور ہم نے سب ٹائٹلز پڑھ کے جانا تھا چنی آنکھوں والا یہ شخص کتنا ڈٹرمائنڈ اور کمیٹڈ ہے جو اپنی قوم کے مفادات کے تحفظ کے لئے اتنے اہم فورم پہ غیر سفارتی زبان تک بول رہا ہے۔
قومی مفادات بھی کیسی خوب اصطلاح ہے اور ہم سی غریب قوموں کا اس کے نام پہ کیسا کیسا استحصال کیا جاتاہے۔ اففف ایک تو یہ پولیٹیکل سائنس مجال ہے جو کہیں پیچھا چھوڑ دے ہمارا۔

خیر ان سارے خیالات کا ارتکاز گوگل میپ والی آنٹی نے توڑا یہ بتا کر کہ ہم دس منٹ کی دوری پر ہیں۔
دس منٹ بعد ایبٹ آباد آرمی میس (بلوچ میس) پہنچ چکے تھے۔

سیکورٹی کلیئرنس کے بعد کمرے کے سامنے گاڑی رکی۔ گاڑی سے باہر نکلے تو سردی نے ہمارے قدم چومے گو کہ چوما تو اس نے ناک تھا۔ پر یہ۔ محاورہ نہیں بنتا نا کہ سردی نے ناک چوما۔ لہذا آپ اسے پاؤں ہی پڑھ لیجئے۔
کمرے میں جا کہ بیڈ پر ڈھیر ہونے کا ارادہ کیا۔ لیکن نشئی کو یہ سہولت میسر نہیں ہوتی۔
چائے کے دو دو کپ پینے کے بعد منہ دھونے کا ارادہ کیا حالانکہ ہمیں پتا تھا کوئی فرق نہیں پڑنے والا پھر بھی کوشش کرنے میں حرج ہی کیا تھا۔ ؟
دو تین سویٹرز پہن کے شال اوڑھ کے بلوچ میس کے روف ٹاپ پر پہنچے۔ سامنے سارا ایبٹ آباد پہاڑوں پر ننھے ستاروں کی صورت چمک رہا تھا۔ سیاہ چادر پر بکھری روشنیاں منظر میں گم ہونے کا اتنا بے ساختہ جی شائد ہی کبھی چاہا ہو۔ کرسی سے ٹیک لگا کر آسمان کو دیکھا تو۔۔

منیر نیازی یاد آئے کہ۔
اکھ پر کے ویکھ نہ سکیا
حالت نیلے امبر دی۔
شفاف آسمان پر جھلملاتے بہت سے ستارے۔
اسوقت اگر کوئی مجھ سے پوچھتا نا کہ کیا دیکھا تو میں کہتی ستارہ۔۔۔
زندگی کا ستارہ
محبت کا ستارہ۔
کسی ساتھ کا ستارہ۔
کسی ساتھ کی خوشبو کا ستارہ۔
اندر اترتے سکون کا ستارہ۔
اتنے بہت سے ستارے تھے کہ اگر دنیا کے کے سارے انسانوں کے سارے احساسات کا ایک ایک ستارہ بھی لکھ دیا جاتا تو ستارے بچ جاتے۔
اور میں ان بچ جانے والے ستاروں کو میجک سٹک سے چھوٹا بہت چھوٹا کر کے ایک میچ باکس میں رکھ لیتی۔ تمہاری آنکھ میں سجانے کو۔ ہاں نا!!! ان ستاروں کو دیکھتے پہلا خیال بھی تو تمہارا آیا تھا نا۔ کہ ان ستاروں کو تمہارے ساتھ دیکھوں۔ میں یہ سارے ستارے تمہارے ساتھ کھوجنا چاہتی ہوں۔
تمہیں پتا ہے ان سب ستاروں میں سب سے روشن ستارا کونسا تھا؟

امید کا ستارہ۔۔
وصل کی امید کا۔
محبت کی امید کا۔
خوابوں کی بار آواری کی امید۔
تمہارے اور ہمارے ساتھ کی یقینوں والی امید۔
میری بستی کے لوگوں کی خوشی کی امید۔

جانے کتنے پل ستاروں کو گنتے ہم مجنوں بنے بیٹھے تھے۔ کہ خبر ملی دس بجے کے بعد فوجی کھانا نہیں دیتے۔ لہذا ٹور کے پنڈت نے نیچے ڈنر حال میں پہنچ کر کھانے پر ٹوٹ پڑنے کے شبھ مہورت کا اعلان کر دیا۔
اور ہمارے تو شہر کی کنڈلی میں ہی کھانا لکھا ہوتا ہے کھانا اور بہت سارا کھانا۔ ہم بھی جتنا کھا سکتے تھے اس، سے زیادہ کھایا۔ پھر مزید کھانے کی جگہ بنانے کے لئے فریش لائم پیا۔ کچھ دیر اور ہال میں بیٹھے دو عدد نیم برگر فوجی آنٹیوں کے "او مائے گاش” ٹائپ قصے سنے۔ جو وہ با آواز بلند ایک دوسرے پر جتا رہی تھیں۔ ہم اپنی قوم کی نفسیات کا تجزیہ کرنے کا خیال جی سے نکال کر نیچے چلے آئے۔

ایک سو پچیس سیڑھیاں نیچے اتر کر نیچے لان میں پہنچے۔
جہاں ہمارے قافلے نے سیلفی وڈیوز سیلفییز اور فوٹو سیش کیا۔

ہم لان کی آخری حد پر کھڑے سامنے پھیلی وادی کو گھورتے رہے۔ جتنا گھور سکتے تھے گھورا۔ تھک گئے تو چلنے لگے۔ چلتے چلتے لان کے دوسرے کونے میں جا پہنچے جہاں سخت سردی میں ایک فوجی اوور کوٹ پہنے پہرہ دے رہا تھا۔ ہم نے بہت چاہا اس کو "پچھتر فیصد” بجٹ کھا جانے کا طعنہ دیتے جائیں۔ پر نہ دے سکے۔ خاموشی سے وہاں سے چلے آئے۔

واپسی پر ایک سو پچیس سیڑھیاں چڑھ کے اوپر آئے اور پھر چھتیس سیڑھیوں کے فاصلے پر کمرہ دیکھ کر ہم نے سوچا ڈائٹنگ گرین ٹی واک سب چھوڑ چھاڑ اس کمرے میں ایک مہینہ گزار لیں تو دل کی۔ مراد پا لیں۔
کمرے میں آ کر کمبل میں گھس کر چائے پی اور کھڑکی سے باہر پڑتی دھند دیکھنے لگے۔

جاری ہے۔

Facebook Comments Box
سفرسفر ذاتسفر نامہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بانجھ پارلیمان : محمد خان قلندر
next post
سوز عشق : گل وچوں ہور اے —- لالہ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.