تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

خونی لبرلز اور عمران خان کا بیان – محمود فیاض

by محمود فیاض 01/12/2017
written by محمود فیاض 01/12/2017
96

خونی لبرلز کون ہیں؟

عمران خان صاحب نے حسب معمول پاکستان کے معاشرتی و سیاسی ماحول میں ایک اور طبقے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو انکے خیال میں غلط کر رہا ہے۔ اور اس سے ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ اس مرتبہ خانصاب کا نشانہ لبرلز بنے ہیں کیونکہ بقول خانصاب لبرلز چاہتے ہیں کہ خون خرابہ ہو، اس لیے انہوں نے لبرلز کو خونی لبرلز کا خطاب دے دیا ہے۔ اس کے جواب میں اب وہ لبرلز جو اپنے آپ کو خونی نہیں سمجھتے عمران خان کو مسکت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور دے بھی رہے ہیں۔ اس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ انکو میری کسی وکالت کی ضرورت ہے۔

البتہ میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ لیفٹ رائٹ کی "ازلی” بحث کے پاکستانی پس منظر میں کچھ باتیں گوش گذار کر دوں جس کی وجہ سے عمران خان کو یہ بات کرنے کی نوبت آئی۔ اصلی لبرلز چاہیں تو ان گذارشات کی مدد سے اپنی "منجی تھلے” جھانک کر وہ خونی لبرلز تلاش کر لیں جن کی طرف عمران خان نے اشارہ کیا ہے۔

آپ مانیں یا نہ مانیں پاکستانیوں کی اکثریت آج بھی شدت پسند نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ضیا دور سے شروع ہونے والا جہاد، مذہبی تنظیموں کی موقع شناسی، اور طالبان کی اچھے اور برے طالبان میں تقسیم جیسی بحثوں کی وجہ سے آج ملک میں مذہب کے نام پر بہت سے شدت پسند رویے موجود ہیں اور ان رویوں کو استعمال کرنے والے گروہ کسی نہ کسی طرح اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ چاہے وہ سیاست میں وزاتوں کی بندر بانٹ میں حصہ ہو، یا علاقائی اثرورسوخ میں پٹواری، تھانیدار کے بعد امام مسجد یا مدرسہ ہولڈر کی پہنچ ہو، اہل مذہب میں موجود موقع شناس وقتاً وفوقتاً اس کا فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر گذرتے دن، ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثر، اور غلط مذہبی تاویلوں کے جال کے پرانے ہونے کے باوصف مذہب کے نام پر لوگوں کا استعمال مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شکاری مگر نئے جال بھی تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ حال ہی میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مذہبی گروہ بندی اور فرقہ پرستی کو بیچنے والے مایوس ہو کر پیچھے ہٹتے ہٹتے یکدم ایک نئے جوش سے میدان میں آچکے ہیں۔ اور ان کو کچھ ایسے جذباتی نعرے ملے ہیں کہ جن کی بنا پر وہ اگلے الیکشن میں جانے کے لیے بھی پر عزم نظر آنے لگے ہیں۔

بات دوسری طرف نکل گئی، کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ پاکستانی اپنی اصلیت میں شدت پسند مذہبی نہیں ہیں۔ اس لیے جیسے ہی کسی جماعت یا گروہ کی شدت پسندی ظاہر ہوتی ہے وہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ طالبان کو ہماری مذہبی اصلاحی سوچ کی فکری کمک حاصل تھی اور افغان جہاد کا پس منظر ان کو کافی حد تک سہارا دیتا رہا۔ مگر انکی سوچوں کی شدت پسندی دن بدن واضح ہوتی گئی۔ اور ایک وقت آیا کہ بظاہر طالبان کی حمائت موجود ہوتے ہوئے بھی جب فوج نے ان کے خلاف آپریشن کیا تو کوئی توانا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ میں مدرسوں کے طالبعلموں کی بات نہین کر رہا جو آج بھی ڈنڈے اٹھائے اپنے امیر کی سربراہی میں کسی بھی سڑک پر نکلنے کو تیار ہیں۔ میں تو عام پاکستانی کی بات کر رہا ہوں، جو کبھی عدلیہ کی آزادی کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ نکل آتا ہے اور کبھی اپنا وزن ختم نبوت جیسے حساس معاملے میں مذہبی لوگوں کے پلڑے میں ڈال دیتا ہے۔

اب آئیے ہمارے بائیں جانب والے بھائیوں کی طرف، جن کو ہم لبرلز، دیسی لبرلز کہتے ہیں۔ یا کم از کم وہ ہمیں یہ جتاتے ہیں کہ دنیا میں موجود لبرلزم کے اصلی نمائندے وہی ہیں۔ پاکستان میں جو لوگ انسانی آزادی، برابری، مذہبی آزادی، اور جنسی آزادی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں وہ یہی لوگ ہیں۔ میرے جیسے عام پاکستانی انکی سوچ کی بھی بہت پذیرائی کرتے ہیں اور گاہے انکے اٹھائے گئے سوالات پر غور کرتے اپنے رویوں میں تبدیلی بھی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ بات کہیں اور نہ نکل جائے، مگر بتانا پڑے گا کہ ملک میں موجود فن و ثقافت، تخلیقی فکر، اور جدید مغربی اطوار کی آبیاری زیادہ تر انہی لبرلز کے حلقوں سے ہوتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ادب، موسیقی، ڈرامہ، اور دیگر فنون کے سرخیل بھی آپ کو انہی لبرلز میں سے ہی ملیں گے۔ ہمارے ادیبوں اور شاعروں کی اکثریت بھی لبرلز کے ساتھ فوٹو کھنچواتی فخر محسوس کرتی ہے۔ یہ پاکستانی معاشرے کا وہ جزو لا ینفک ہیں کہ جن کے بغیر ہماری سماجی زندگی بے رنگ ہو جاتی۔

تو کیا وجہ ہے کہ آج ان میں سے کچھ کو خونی لبرلز کہا جا رہا ہے؟ میں نے جہاں تک اس مسئلے پر غور کیا ہے مجھے اس میں بھی طالبانی رویوں کی ایک جھلک ہی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے طالبان مذہبی فکر کو شدت پسندی سے گھسیٹتے ہوئے عدم برداشت، طاقت کے استعمال، اور بالاخر دہشت گردی تک لے گئے تھے کہ جہاں ہم پاکستانیوں نے انکو ہمارے ہی سروں سے فٹ بال کھیلتے دیکھا، بالکل اسی طرح ان لبرلز حلقوں میں کچھ "شدت پسندوں” نے لبرلزم کو طالبان کے اسلام کی طرح نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

جس طرح طالبان ہر اس علاقے میں اپنی شریعیت نافذ کردیتے تھے جہاں تک انکی بندوق کی گولی پہنچتی تھی، بالکل اسی طرح ان شدت پسند لبرلز (دیسی لبرلز کہہ لیں) نے جہاں ان کا بس چلا بغیر عوام کی پسند نا پسند کا خیال کیے اپنے ایسے خیالات کا پرچار شروع کر دیا جو ہماری علاقائی تہذیب، تاریخ اور برصغیر کے قدیم باشندوں کی موجودہ نسل کے مزاج سے لگا نہیں کھاتا تھا۔ نہ صرف خیالات کا پرچار، بلکہ سماج میں جہاں کچھ موقع ملا ایسے رویوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جس کو دیکھ کر عام پاکستانی ان لبرلز کے اصل ایجنڈے کے فرق کو محسوس کرنے لگا۔

قدرتی طور پر لبرلز کو مذہبی شدت پسندی کے مخالف ہونا تھا، بلکہ بعض حالات میں وہ مذہب ہی کے مخالف ہیں۔ تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اگر ملک میں مذہبی شدت پسندی کے خلاف آپریشن میں عام پاکستانی کے ساتھ لبرلز کی آواز ملتی دکھائی دیتی ہے۔ فوجی آپریشن ہو، مدرسوں کی رجسٹریشن ہو، مسجدوں کا ریکارڈ ہو، یا دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی اور کارروائی ہو، اس میں لبرلز اور پاکستانی ایک صفحے پر دکھائی دیتے ہیں اور عام مذہبی حلقوں کی نسبت زیادہ جوش سے ایسے اقدامات کی حمائت کرتے نظر آتے ہیں۔

یہیں کہیں سے اس ذہنی و فکری خرابی کا آغاز ہوتا ہے کہ جہاں کچھ لبرل حلقے یہ سمجھنے لگے کہ پاکستان سے مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کا مطلب ان کے بیانیے کی مکمل حمائت ہے۔ اور یہ کہ اب مستقبل قریب میں پاکستانی معاشرے کے خدوخال کس طرح کے ہونا چاہیں، اسکو طے کرنے کا حق صرف انکا ہے۔ یہیں سے وہ اپنے آپ کو ایک نظریاتی رہنما کی بجائے ایک سیاسی قوت سمجھنے لگے۔ اور پھر ظاہر ہے کہ جیسا سیاست میں ہوتا ہے، آپ کی پارٹی کی ہر بات سچ ہوتی ہے اور مخالف کی ہر بات لغو۔

پاکستانی لبرل جب پارٹی بن کر سوچنے لگے تو لامحالہ انکو اپنے مخالفین کے کچلے جانے کی خوشی ہونا تھی۔ اس لیے ہر ایسا موقع جہاں پاکستانی ریاست مذہبی شدت پسندوں کے سامنے دیوار بنی، لبرل پارٹی کی خواہش یہ تھی کہ ان شدت پسندوں کو پوری طاقت استعمال کر کے کچل دیا جائے، ؎ گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔

ایسے میں ہی پاکستانی قوم نے وہ دن دیکھے جب ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر جہاں لبرلز کو آواز اٹھانا چاہیے تھی ،وہ صرف اس لیے خاموش بیٹھے رہے کہ مرنے والے، قید ہونے والے، یا لاپتہ ہوجانے والے انکے مخالفین کے کیمپ سے تھے۔ پاکستانی لبرل نظریاتی طور پر تو انسانی آزادی کی بات کرتا تھا مگر حقیقی طور پر وہ اپنی "پارٹی” کی آزادی کی بات کرتا نظر آیا۔

چار دہائیوں سے دہشت گردی کے شکار ملک میں یہ فیصلہ کرنا کہ کونسے عناصر دہشت گرد ہیں اور کونسے محض وقتی جبر، پروپیگنڈے، یا اپنی مذہبی تعبیروں کے زیر اثر ان دہشت گردوں سے متاثر ہیں، بہت ہی مشکل تھا۔ مگر پاکستانی فوج، اور عام پاکستانی اس مشکل کو سمجھتا ہے اور ایسے ہر موقعے پر جب انسانی جان بندوق کی گولی کے سامنے آ جائے تو بہت ہی احتیاط سے فیصلہ کرنے کے حق میں ہوتا ہے۔ کراچی میں رینجرز کا آپریشن ہو، بلوچستان میں باغی گروپوں کے خلاف آپریشن ہو، وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن ہو، یا لال مسجد میں مولانا عبدلعزیز کے خلاف کارروائی ہو، عام پاکستانی ہمیشہ عام پاکستانی کی زندگی بچانے کے حق میں فیصلہ دیتا آیا ہے۔

مگر یہ بھی ہمارے سامنے کی بات ہے کہ برما، شام، فلسطین، اور مغربی ممالک میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں مرنے والوں کے لیے سوگوار ہونے والے ہمارے لبرلز نے کبھی پاکستان میں ہونے والے آپریشنز میں ایک پاکستانی کی طرح بات نہیں کی۔ انکے لہجوں میں "مسٹر کرسٹان” کی وہ نخوت ہمیشہ رہی جو مقامی بغاوتوں کو کچلنے والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے صاحب بہادروں کا خاصہ تھی۔ "مار ڈالو ان باغی انڈینز کو، یہ ہمارا کوئین کے خلاف بگاوت کرتا ہے”۔

شائد ۔ ۔ ۔ ۔ شائد یہی وہ رویے ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عمران خان کو کہنا پڑا کہ ہمارے لبرلز کو بس خون چاہیے۔

Facebook Comments Box
featuredLiberalsپاکستانی لبرلزخونی لبرلخونی لبرلزعمران خانلبرللبرل طالبان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
بارہ ربیع الاول کی رات اور مدینہ میں شب بیداری: ڈاکٹر رئیس صمدانی
next post
رحمت اللعالمین ﷺ : ڈاکٹر اصغر علی بلوچ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.