تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

جادوگر : محمد حمید شاہد ——– سلمان باسط

by دانش ڈیسک 14/11/2017
written by دانش ڈیسک 14/11/2017
160

اگر آپ کو کشادہ پیشانی پر عمودی طور سے گرتے سیاسی سے سفیدی کی طرف مائل بالوں کی لٹوں والا ایک شخص ایک دلآویز مسکراہٹ لبوں پر سجائے، صاف شیشوں کی عینک لگائے، بظاہر ذہین نظر آنے کی کوشش میں مصروف، دراز قد، صاف رنگت، خبردار قسم کی ناک اور گٹھے ہوے جسم سمیت نظر پڑے تو پہچان جایئے کہ یہ محمد حمید شاہد ہے جو افسانے لکھتا ہے ’’نثمیں‘‘ کہتا ہے، سیرت نگار ہے، ادبی خبریں دیتا ہے، کالم لکھتا ہے، ’’استعاروں‘‘ میں باتیں کرتا ہے اور اس طرح کے بے شمار ’’سلسلے‘‘ قائم رکھتا ہے۔

اگر یہ شخص آپ سے مصافحہ کرے تو محبت اس کے ہاتھوں سے گرم جوش لمس سے آپ کی ہتھیلیوں کے راستے آپ کی رگ و پے میں سرایت کر جائے گی۔ اور اگر آپ کو اس خوبصورت آدمی سے معانقہ کرنے کا اتفاق ہو تو آپ کو اپنے اندر جذبوں کی تپش اترتی محسوس ہو گی۔ گردن پر دیئے ہوئے اس کے بوسے کی حرارت ایک مقناطیسیت بھر دے گی۔ آنکھوں میں محبت، تشکر اور جذباتیت کے باہمی اشتراک سے عجیب سی چمک آجائے گی اس کے بعد کبھی آئینے میں اپنا سراپا دیکھئے گا۔ آپ کو اپنا آپ اس سے قبل کبھی اتنا خوبصورت، اتنا اجلا اور اتنا سچا نہیں لگا ہو گا کیونکہ یہ سب اس جادوگر کا کرشمہ ہے جسے ’’حمید شاہد‘‘ کہتے ہیں۔

حمید شاہد سے میری دوستی بظاہر پرانی نہیں مگر محبتوں کو قریب آنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ ایسی خوبصورت چیزوں کو دل کے شیلف پر سجانے میں کتنا وقت چاہیے۔ سو ٹھوڑے ہی عرصے میں حمید شاہد میرے اتنا قریب آچکا ہے کہ میں اس کے اندر سرسراتی ہوئی چاپ بھی سن سکتا ہوں۔ اس کی باتوں کی خوشبو کو محسوس کر سکتا ہوں۔ اس کی آنکھوں سے پوٹنے والی پھوار میں خود کو بھگو سکتا ہوں۔

حمید شاہد زرعی بینک میں افسر ہے۔ اگرچہ اسے دیکھ کر زراعت، بینک اور افسری کا شائبہ تک نہیں گزرتا اور کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ حمید شاہد جھوٹ بول رہا ہے وہ کسی زرعی بینک میں افسر نہیں وہ تو ویسٹ کوٹ کی اوپر والی جیب میں پین سجانے والا ایک معصوم سا آدمی ہے جسے زراعت اور بینکنگ جیسے اکتا دینے والے شعبوں سے کوئی تعلق نہیں اور افسری تو معاذ اللہ۔ لیکن روٹی کمانے کیلئے اسے یہ سب کچھ بھی کرنا پڑتا ہے یہ الگ بات ہے کہ کسان بھائیوں کو زرعی قرضوں کی بجائے افسانوی قرضے ملتے ہیں۔ بینک کاری کی بجائے فن کاری زیادہ پنپ رہی ہے اسے اپنے افسر سے زیادہ افسر خوباں کی فکر رہتی ہے۔ لیکن ایسا ہونا ہی چاہیے ورنہ حمید شاہد اور زرعی بینک کے عام سے افسر میں کیا فرق رہے۔

حمید شاہد کے مشاغل بہت متنوع ہیں اسے بیک وقت مذہب اور خواتین سے لگائو ہے ان دونوں کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتا ہے۔ دونوں کے لیے بے حد جذباتی ہے وہ ایک ہی وقت میں ’’پیکر جمیل‘‘ جیسی سیرت کی کتاب اور ’’جنم جہنم‘‘ جیسے اشتہا انگیز رومانوی مجموعے تخلیق کر سکتا ہے۔ دونوں کے متعلقین کی خاطر مدارت جی لگا کر کرتا ہے۔
نماز، خوشبو اور عورت سے متعلق حدیث اسے بہت پسند ہے اور کثرت سے بیان کرتا نظر آتا ہے اس کے آخری جز کو زیادہ شد و مد کے ساتھ سناتا ہے اور مقدور بھر تشریح کرتا ہے اور اس حد تک کرتا ہے کہ نماز اور خوشبو کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ اگرچہ مذہب اور خواتین، دونوں سے اس کو وابستگی اور انسیت بہت زیادہ ہے لیکن کہیں کہیں ترازو کا ایک پلڑا زیادہ جھک جاتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اس کم بخت ایمان شکن معاشرے میں کون سا پلڑا زیادہ جھکتا ہے لہٰذا اس میں حمید شاہ کا زیادہ قصور نہیں۔

میرے اس دوست کو صرف ادب تخلیق کرنا ہی پسند نہیں بلکہ اسے شائع کرنا اور اس کی ترویج کرنا بھی پسند ہے۔ اس سلسلے میں اس نے ایک پندرہ روزہ ادبی اخبار ’’سلسلہ‘‘ کے نام سے جاری کیے رکھا اور حیرت انگیز طور پر کامیابی سے چلایا جس میں ادبی خبریں اور رپورٹیں شائع ہوتی رہیں۔ اس میں بہت کام کی خبریں بھی شائع ہوتی تھیں مثلاً غفور شاہ قاسم خیریت سے میانوالی پہنچ گئے۔ حمید قیصر ان دنوں افسانہ لکھنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ اصغر عابد اپنی پینٹ رفو کروانے درزی کے پاس پہنچے تو اس نے انہیں پہچان لیا۔ فاخرہ بتول عہد جدید کی سب سے بڑی شاعرہ ہیں۔ ارشد چہال نے مضمون لکھ لیا ہے۔ حامد سراج نے مضمون لکھوا لیا وغیرہ وغیرہ۔ آپ یقین کریں میرے لیے یہ تمام خبریں نئی ہوتیں اور میں کیا میرے جیسے کئی بے خبر اور کم علم ان سے فیض یاب ہوتے۔ لیکن میں جب یہ تمام خبریں اپنے دماغ میں ٹھونس کر اور معتبر و باخبر آدمی کا تاثر چہرے پر قائم کیے دوسروں کو چونکا دینے کی خاطر سناتا تو ہرگز حیران نہیں ہوتے بلکہ میری طرف حیرت اور شک سے دیکھتے یہ معمہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔

حمید شاہد کے ادبی ادارے کا نام ’’استعارہ‘‘ ہے شاعر حضرات تو مجبوراً استعاروں سے کام لیتے ہیں لیکن ایک ادیب اگر استعارے سے کام لے بلکہ کام نکالے تو انسان ٹھٹک جاتا ہے۔ ویسے ایمان لگتی بات یہ ہے کہ اس کے اس ادارے نے بہت خوبصورت کتابیں شائع کی ہیں۔ اس ادارے کی شائع کردہ کتابوں کے اولین صفحات پر اکثر ’’انصرام،یاسمین حمید‘‘ لکھا ہوتا ہے جس سے بہت سے اردو شاعری کے قارئین کو ایک معروف شاعرہ کا شائبہ ہوتا ہے میں آج ان تمام خوش فہم حضرات کی غلط فہمی دور کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ دراصل ایک خوبصورت اتفاق ہے کہ ہماری بھابھی اس شاعرہ سے نام کی مطابقت و مماثلت رکھتی ہیں۔ اور یہ دراصل ہمارے بھائی کی سعادت مندی ہے کہ وہ اپنی عاجزانہ پروڈکشن کو بیگم کے نام سے منظر عام پر لاتا ہے۔ اس کی اس بیگم نواز کوشش کو بعض لوگ اپنی مرضی کی عینک سے دیکھتے ہیں اور اس کو خلوص سے زیادہ زن مریدی جیسے لایعنی نام دیتے ہیں۔ لیکن حمید شاہد کے دل بالکل نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اصغر عابد بھی تو ہے جو ابھی تک نماز بھی خاتون اول (معاف کیجئے گا) قبلہ اول کی طرف رخ کر کے پڑھتا ہے۔

حمید شاہد ذات کا اعوان ہے۔ مجھے آج تک اعوانوں کی سمجھ نہیں آئی۔ ہر دوسری ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے چہرے مہرے، رنگ و روپ اور خصائل و عادت میں کچھ نہ کچھ مماثلت ضرور ہوتی ہے۔ جو نسل در نسل منتقل ہوتی جاتی ہے لیکن اعوان آپ کو ہمیشہ تضاد عکس کا شکار نظر آئیں گے۔ مثلاً حمید شاہد بھی اعوان ہے اور ریمان بھی اعوان ہے۔ اظہار الحق بھی اعوان ہے اور محمد خان ڈاکو بھی۔ مولانا محمد اکرم بھی اعوان ہیں اور اپنا رئوف امیر بھی۔ شاید اسی لیے حمید شاہد اپنے نام کے ساتھ ذات نہیں لکھتا۔ اچھا کرتا ہے جو لکھتے ہیں وہ کون سی توپ چلا لیتے ہیں۔

حمید شاہد نے اتنی تھوڑی سی مدت میں پانچ چھ کتابیں تصنیف کر لی ہیں اگر اس کی رفتار یہی رہی تو اردو نثر کا فرحت عباس شاہ بن جائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے اس دوست فرحت عباس نے ادب پڑھنے والوں کے لیے نہیں بلکہ خریدنے والوں اور خطوں میں شعر لکھ کر بھیجنے والوں کیلئے لکھا ہے جبکہ ہمارے اس دوست حمید شاہد نے ادب صرف پڑھنے والوں اور حظ اٹھانے والوں کیلئے لکھا ہے۔ الفاظ کی ایسی نشست و بخواست، فقروں کی ایسی چستی اور افسانوی لب و لہجہ کی ایسی مٹھاس کسے گھائل نہ کرے۔ ایسا ہی ادب دل کو بھا جانے والا ہوتا ہے۔ جو پتہ بھی نہ چلنے دے اور Sweet Peasکو چھو کر آنے والی ہوا کی طرح دماغ کو معطر کر دے۔

محمد حمید شاہد کے نام کے تین حصوں پر آپ کو حیرانی ہوئی ہو گی لیکن یہ اہتمام کسی ہنگامی ضرورت کے لیے کیا گیا ہے جیسے ایک محفل میں اتفاقاً حمید شاہد کی ملاقات ایک دلکش خاتون سے ہو گئی۔ کچھ گفت و شنید کا سلسلہ چلا تو ہمارے دوست نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے نام پوچھ لیا۔ خاتون نے ایک ادا سے کہا ’’عینی‘‘ حمید شاہد نے موقع غنیمت جانتے ہوئے جھٹ سے کہا ’’پھر تو ہم عینی شاہد ہوئے نا!‘‘۔

حمید شاہد کا جو مختصر سا عکس میں نے آپ کو دکھایا ہے یہ بڑا سچا اور خالص ہے لیکن کہیں کہیں کچھ کہنے اور کچھ چھپانے کی کوشش میں ڈالڈا بھی ڈالنا پڑا۔ آپ جانتے ہیں کہ ادب میں اس کی گنجائش ہوتی ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو باتیں میں نے آپ کو بتائی ہیں میں ان میں سے اکثر کا ’’عینی شاہد‘‘ ہوں۔

Facebook Comments Box
featuredادباردو ادبحمید شاہدخاکہسلمان باسطشخصی خاکہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ قسط 2
next post
فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت: خالد بلغاری ـ قسط 2

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.