تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

یونگ فراؤ (سفری خاکہ) سلمان باسط

by دانش ڈیسک 04/11/2017
written by دانش ڈیسک 04/11/2017
99

حسن اور زیبائی کی تشریح ممکن نہیں۔ اس کا ہر رنگ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا اورہر ادا دل موہ لینے والی ہوتی ہے۔ دنیا کے حسین ترین ملک سوئٹزرلینڈ کا ایک حسین ترین خطہ انٹرلاکن ہے۔ بارہ نومبر کی صبح ہم بذریعہ ٹرین سینٹ گالن سے انٹر لاکن کے لیے روانہ ہوئے۔ حسنِ فطرت کے اس شہکار کو دیکھنے کے لیے ہمیں طویل سفر کرنا پڑا۔ سنیٹ گالن سے زیورخ ایک گھنٹے کا سفر۔ راستے میں ول اور ونٹر تھور کے خوبصورت شہروں میں ٹرین کا مختصر سا سٹاپ تھا۔ سوئٹزرلینڈ کی قدرتی خوبصورتی خزاں اوڑھ چکی تھی۔ بھورے سرخ زرد اور پیلے رنگ کسی پینٹنگ میں ماہر مصور کے عمدگی سے لگائے گئے سٹروکس کی طرح آنکھوں میں اتر رہے تھے۔ زیورخ ایک بہت بڑا اور خوبصورت شہر ہے لیکن اس وقت ہماری منزلَ مقصود چونکہ اور تھی اس لئے شہر کی خوبصورتی سے نظریں چراتے ہوئے ہم برن جانے والے ٹرین کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔

ہمیں سفر جاری رکھنے کے لیے دوسری ٹرین پکڑنا پڑی۔ یہ ٹرین بھی بے وفا ثابت ہوئی اور ایک گھنٹے کے سفر تک ساتھ نبھانے کے بعد سوئٹزلینڈ کے دارلحکومت برن میں ہم سے پلو چھڑا کر کسی اور سمت مڑ گئی۔ وہاں سے ایک ٹرین ہمیں انٹر لاکن تک لے جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔ انٹر لاکن سوئٹزرلنیڈ کے صوبے سولو تھون کا ایک انتہائی دلکش مقام ہے۔ تھون لیک اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ چلتی یہ جھیل قدرت کی صناعی کا ایک ایسا نمونہ ہے جس کی مثال ممکن نہیں۔ رنگ بدلتی جھیل اور سفیدی اوڑھے پہاڑ ہمارے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ راستے میں چھوٹے چھوٹے قصبات آتے رہے جن کے مختلف رنگوں کی چھتوں والے مکانات اپنی دلفریب چھب دکھا کر گزرتے وقت کے ساتھ ہوا ہو جاتے اور ہم آگے بڑھ جاتے۔ وقت ایسا ہی ظالم ہے۔ کسی جگہ جی بھر کے ٹھہرنے نہیں دیتا۔ کسی منظر کی دلکشی کو زیادہ دیر تک آنکھوں میں اتارنے کی اجازت نہیں۔ پڑاؤ ممکن ہی نہیں۔ "چلنا چلنا مدام چلنا”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی زندگی ہے۔ ہم بھی وقت کی ڈور کے ساتھ بندھے آگے بڑھتے رہے۔

معروف افسانہ نگار، شاعرہ اور "برف کی عورت” کی مصنفہ شاہین کاظمی نہ صرف میری میزبان تھیں بلکہ اس سفر میں میری گائیڈ کے فرائض بھی انجام دے رہی تھیں۔ ہر سٹیشن پر ایک ٹرین سے اتر کر دوسری ٹرین میں بھاگ کر سوار ہونا ان کے لیے معمولی بات تھی مگر مجھ ایسے تن آسان اور بھاری بھر کم شخص کے لیے ان کی اس بھاگم بھاگ سرگرمی کا ساتھ دینا ممکن نہ تھا۔ شاہین ہر سٹیشن پرتقریبا” بھاگ کر دوسری ٹرین کا تعاقب کرنے میں منہمک ہو جاتیں۔ میں کوشش کے باوجود بوجوہ ان کی اس بھاگ دوڑ میں شریک نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ کچھ آگے جا کر ٹھہر جاتیں اور مجھے ٹرین چھوٹ جانے کے خوف کا احساس دلاتیں مگر مجھے ٹرین چھوڑ دینا منظور تھا لیکن اس مشقت میں خود کو ڈالنا قبول نہ تھا۔ برف کی عورت پگھلنے لگتی اور چہرے پر ناگواری اور جھنجلاہٹ کے تآثرات آویزاں کیے وہیں رک جاتی۔ میں زمانوں بعد وہاں پہنچتا تو وہ پچھلے تجربات بھول کر پھر سے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو جاتی۔ میں کسی ہیجان کے بغیر اپنی اسی خراماں خراماں چال سے چلتا رہتا۔ یوں کچھوے اور خرگوش کی یہ دوڑ جاری رہتی اور بالآخر کچھوا اور خرگوش دونوں ایک ہی وقت میں ایک ہی گاڑی پکڑنے میں کامیاب رہتے۔ کچھوا فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ خرگوش کی طرف دیکھتا تو خرگوش اپنی تمام تر مستعدی کے باوجود ہار جانے پر خفت کے باعث جھینپ کر نظریں چرا لیتا۔

برن سے انٹر لاکن گرینڈل والڈ اسٹیشن ایک گھنٹہ کی مسافت پر تھا۔ وہاں اتر کر ہم پوسٹ بس کے ذریعے لاؤتر بروونن پہنچے جو یونگ فراؤ کا بیس کیمپ تھا۔ لاؤتر بروونن پہاڑوں میں گھرا ایک خاموش سا قصبہ تھا۔ اس کے نام نے مجھے چونکا دیا۔ لاؤتر بروونن یعنی بلند آہنگ جھرنا۔ عجب موسیقیت سی لئے ہوئے تھا۔

ہمارے اردگرد کا تمام علاقہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ قدرت نے ایک فرض شناس ہاؤس کیپر کی طرح ہر منظر کو ایک سفید چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ دھوپ نکلتی تو یہی برف کی چادر آنکھیں چندھیانے لگتی۔ میں اپنی آنکھوں کا سن گلاسز سے دفاع کرتا مگر قدرت کو بے حجابانہ دیکھنے کے لطف سے محروم ہونا مجھے گوارا نہ تھا۔ میں چشمہ اتارتا اور اپنی آنکھوں کے زینوں سے اس حسن کو دل کے تہہ خانے میں اتارنے لگتا۔ میرے پاس وقت کم تھا اور حسن لامحدود تھا۔ آنکھوں کی ڈبیا میں جتنا حسن بھرا جا سکتا تھا، میں بھرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ بدن کو چیر دینے والی سرد ہوا ہڈیوں میں اتر رہی تھی۔ سردی سے بچاؤ کی خاطر کی گئی میری تمام کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔ انسان کے ہاتھوں بنے گرم کپڑے، کوٹ اور اوور کوٹ قدرت کے سامنے بے بس تھے اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے تھے۔ میں بار بار اوورٹ کوٹ کے کالر اوپر کرتا، مفلر سے گردن اور سینے کو ڈھانپتا۔ دونوں ہاتھوں کو باہم رگڑتا اور اوور کوٹ کی جیبوں میں ڈالتا مگر برفیلی ہوا رگ و پے میں اترتی رہتی۔ بالآخر میں نے ہتھیار ڈال دیے اور برف سے ڈھکے مناظر کو دیکھنے اور اپنے کیمرے میں قید کرلینے میں مشغول ہو گیا۔

چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں چار کیبل کارز کے ذریعے اوپر جانا تھا۔ شدید سردی کے باوجود دنیا بھر سے سیاح اس برف پوش چوٹی کو دیکھنے کے لیے امڈ آئے تھے۔ بلندی کی طرف جاتے ہوئے بھی فطرت قدم قدم پر رخ سے نقاب الٹ رہی تھی۔ سیاحوں کے کیمرے مسلسل کلک کر رہے تھے۔ ڈھلوانوں پر بنے مکانات اور ان کو جانے والے راستے مکمل طور پر برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ برفیلی ہوا سرگوشیوں میں بتا رہی تھی کہ موسمِ گرما میں یہاں کے مکین بھی زندگي کی ہما ہمی میں مگن رہتے تھے مگر اب موسمِ سرما کی حکومت تھی جس کا مطلب صرف اور صرف جمود تھا۔ اس جمود کو توڑتے ہوئے کئی سکئیرز لہو گرم رکھنے کی خاطر بلندی سے انتہائی سرعت کے ساتھ نیچے کی طرف جا رہے تھے۔ ان کے علاوہ حسین رنگوں والے چھاتے لیے بہت سے پیرا گلائیڈرز بھی آسمان کی وسعتوں سے برف کی چادر کی جانب محوِ پرواز تھے۔

تقریباََ دس ہزار فٹ کی بلندی پر فطرت کے حسن کا انداز مبہوت کر دینے والا تھا۔ یونگ فراؤ (jungfraujoch) کا نام بھی بہت دلچسپ تھا۔ کنواری دوشیزہ۔ اس کنواری دوشیزہ کی ہوشربا زیبائی میری آنکھوں کے سامنے تھی اور میں سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا۔ چاروں جانب برف نے اپنی حکمرانی کا سفید جھنڈا نصب کر رکھا تھا۔ لوگ تصویریں بنا رہے تھے اور زندگی کے عسرت زدہ لمحوں کے لیے یہ خزانہ جمع کرنے میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی تصویریں بنائیں۔ میں نے کیمرا آنکھوں پر رکھے رکھے گھمایا تو ایک بہت ہی منفرد منظر نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ سیاحوں کی خاطر ماحول کا نظارہ کرنے کے لیے جگہ کے گرد بنائی گئی ریلنگ پر ایک سیاہ رنگ کا کوا بیٹھا تھا۔ اس سیاہ کوے کے عقب میں مکمل سفیدی تھی۔ ہر طرف سفید برف، کانوں میں سیٹیاں بجاتی، سنسناتی ہوئی سرد ہوا اور اکیلا سیاہ کوا۔ جانے یہ کوا رزق کی تلاش میں یہاں کیسے آ نکلا تھا۔ یہاں تو ایک دانہ تک ملنے کا امکان نہ تھا۔ میں رازقِ کائنات کی فیاضی اور اس کے اس بھید سے نا آشنا تھا مگر اس منظر کو تصویر ضرور کر لیا۔ تاحدِ نظر برف کا سمندر تھا۔ جہاں تک بصارت کام کرتی تھی کوئی اور منظر نظر نہ آتا تھا۔ جہاں بھی نظر جاتی افق پر آسمان اور برف آپس میں گلے ملتے نظر آتے۔ ہم دیر تک برف کی اس حکمرانی سے لطف کشید کرتے رہے۔ پھر وہی ہوا۔ کُوچ کا وقت آپہنچا۔ نقارے پر چوٹ پڑ گئی۔ مجھے اس حسن سے منہ موڑنا پڑا۔ ہم چوٹی پر بنے ہوئے ریستوران کی اندر سرک آئے۔ باہر کی یخ بستگی سے بچ کر ایک کونے میں بیٹھ کر سین وچز اور کافی سے بدن کو کچھ حدت پہنچائی. آخر کار اپنا مختصر اسباب اٹھایا، کنواری دوشیزہ کی جانب الوداعی ہاتھ ہلایا اور بوجھل قدموں کے ساتھ نیچے جانے والی کیبل کار میں سوار ہو گئے۔

Facebook Comments Box
jungfraujochسفر نامہشاہین کاظمییورپیونگ فراؤ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سیاہ کار ——– عماد بزدار
next post
آو مجھے مار دو میں مشعال ہوں! فرحین شیخ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.