تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینصنف/ جینڈر

آو مجھے مار دو میں مشعال ہوں! فرحین شیخ

by دانش ڈیسک 05/11/2017
written by دانش ڈیسک 05/11/2017
65

مجھے مار دو اور پھر میرا مثلہ بھی کر دو، میری لاش بے لباس کرکے گلی کوچوں میں گھسیٹو اور اس کی تصویریں اتار کر تشہیر بھی کرو، میرا جرم بہت بڑا ہے۔ سچائی مجھ سے چھپائے نہیں چھپتی۔ جھوٹ کے بازار میں چلانے کے واسطے کھوٹے سکے میری جیب میں نہیں، میرا ضمیر بکائو نہیں بن سکا! فریب کی خرید میں سرعام دام لگانے کو میں تیار نہیں، آنکھوں کے آگے پڑے پردے کھینچ لینے کی بھی گستاخی کر لیتا ہوں۔ مجھ پہ ہرگز رحم نہ کرو، جیسے مشعال پہ نہیں کیا، مارتے وقت میری ڈگریوں کا لحاظ نہ کرنا بلکہ میری لاش کے ساتھ ان کو بھی جلا دینا۔ معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں کو تسلیم کرنے سے انکار کی بنا پر میں اسی سلوک کا حق دار ہوں۔ اس گھٹن میں سانس لینا مجھے منظور نہیں، اس بدبو دار معاشرے کا حصہ میں بن نہیں سکتا، ظلم او ر ناانصافی دیکھ کر اندھا، گونگا اور بہرہ بننے کی اداکاری میرے بس سے باہر ہے۔ میں زور زور سے بول کر معاشرے کی بے جان اور بے حس روح میں جان ڈالنے کی بارہا کوشش کرتا ہوں۔ مجھے ان کوششوں کے رائیگاں ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دیکھو! جب مجھے مارنے کمرے میں گُھسو تو میری ماں کے ان دکھوں کا ہر گز حساب نہ کرنا جو اس نے مجھے پال کر جوان کرنے تک کے سفر میں اٹھائے ہیں۔ ان سپنوں کا نہ سوچنا جو میرے سہانے مستقبل کے لیے ان جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں۔ میرے باپ کے ان بوڑھے کاندھوں کی تم کو لاج نہ آئے جو میرے جنازے کا بوجھ اٹھائیں گے۔ بہن بھائی جو میرے غم میں ڈوب کر مسکرانا بھول جائیں تو اس سے تمہارا کیا لینا دینا؟ تم کچھ نہ سوچو۔ بس اپنا کام کرتے جائو، اٹھنے والی آوازوں کو سلا دینے کا کام۔ اس دیس میں ایک تم ہی تو ہو جو اپنے پیشے سے مخلص ہو۔ ایک تم ہی تو ہو جو اپنے مالکوں کے مکمل فرماں بردار اور نمک حلال ہو۔ یہ نیا سماج تو تمہاری ہی دن رات کی کاوشوں کا ثمر ہے، اس میں تمہارے لیے ہر جرم رو ا ہے اور ہم باغیوں کے لیے سانس لینا بھی ایک سزا ہے۔

آئو! کہ پہلی گولی میرے سر میں لگے کہ اسی میں ایک باغی ذہن کی پرورش ہوئی ہے، تمہارے عشرت کدے میں مخل ہونے کا اسی میں تو خیال ابھرا، یہ سلطنت اور بادشاہی لوٹ کر دکھیاروں میں تقسیم کرنے کو کبھی تو یہ کارل مارکس بن کر ابھرا، کبھی حق مانگنے کو بھگت سنگھ بنا، کبھی انقلاب کا علم اٹھائے یہاں سے ماؤ طلوع ہوا، تو کبھی سوریا سین بن کر باغی ذہنوں کی آبیاری کی!!! آئو اس دماغ کو لہو لہو کر دو کہ اب کبھی یہ چی گویرا اور فیڈرل کاسترو بننے کا نہ سوچ سکے، اسے کبھی لینن کی طرح انقلاب برپا کردینے کا خیال نہ ستائے۔ یہ کبھی مارٹن لوتھر،سرسید اور نیلسن منڈیلا بننے کا آرزومند ہونا تو درکنار، ان ناموں کو دہرانے کا بھی قصوروار نہ ٹھہرے۔ اور پھر قلم کی سیاہی میں لتھڑے ہاتھوں کو کاٹ کر چوک پر لٹکا نا نہ بھولنا، کہ انہوں نے ہی کافکا کی طرح قلم سے نیا سورج ابھارنا چاہا، سقراط اور ارسطو کی طرح زندگی کا تلخ فلسفہ رقم کردینا چاہا، ٹالسٹائی اور اقبال کی طرح اپنا سچ بیان کرنے کے لیے یہ انگلیاں بے تاب ہوئیں۔ نفرت کے صفحات پر محبت کے گل بوٹے انہیں ہاتھوں سے قلم نے کاڑھے۔ پھر میرا سینہ چیر کے دل اس جرم میں نکال پھینکنا کہ اس کے کسی کونے میں ہر وقت کیسے یہ خواہش ہمکتی ہے کہ دنیا میں ہر جگہ محبت کی عظمت کے مینار قائم ہوں، دلِ ناداں کی رگوں میں کیوں رومیو جیولٹ، پیرس ہیلینا، لیلیٰ مجنوں، سلیم اور انارکلی آج تک دوڑتے ہیں۔

اور دیکھو!!! میری تڑپتی ہوئی لاش پر خوب قہقہے لگانا، مجمع جمع کر کے مداری بن جانا اور میرا تماشا لگانا، ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارک دینا اور جشن منانا، جنگل کے قانون لاگو کرنے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو نشانِ عبرت بنا دینا ہی تمہاری بقا کے لیے ناگزیر ہے اور یہی اب قومی تقاضا بھی قرار پایا ہے۔ ایسا جدید قومی تقاضا جس کے بطن سے پھوٹننے والی مافوق الفطرت حمیت اور غیرت کی تم پیداوار ہو۔ یاد رکھنا! درس گاہ کو ہی میرا مقتل بنانا، جہاں سے میری آنکھوں نے تبدیلی کے خواب دیکھے انہیں دیواروں کو اب حیوانیت کا برہنہ رقص دکھانا، تاکہ میرے انجام سے ڈر کر میرے ساتھی فرائیڈ، فارابی، رومی، غزالی، اقبال جیسے انقلابی نظریات کا اپنے اندر ہی گلا گھونٹ دیں۔ میرا اُدھڑا جسم دیکھ کر وہ جان لیں کہ سچائی کا سورج طلوع ہونے میں ابھی طویل وقت درکار ہے۔

ذرا نزدیک آئو!!!! آئو کہ آخری سرگوشی میں تمہارے کان میں کرنا چاہتا ہوں،”سنو! کبھی شرمندہ نہ ہونا، بل کہ فخر کرنا کہ تم ہر اخلاقی قید سے آزاد ہو۔ یہ بے حسی بڑی نعمت ہے اس کی ہمیشہ حفاظت کرنا کہ اب تو یہی واحد قومی ورثہ ہے۔”

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
یونگ فراؤ (سفری خاکہ) سلمان باسط
next post
اس موگ‘‘ Smog کا ڈر اور صبح کے غمخوار: آصف محمود

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.