تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

سموگ : کاش ہم چڑیا گھر کے جانور ہوتے — ابن فاضل

by دانش ڈیسک 03/11/2017
written by دانش ڈیسک 03/11/2017
131

سموگ کا چرچا ہے۔ بنیادی طور پر یہ الفاظ ‘سموک’ اور’ فوگ’ کا مجموعہ ہے۔ فوگ یعنی دھند تب بنتی ہے جب خاص تناسب کے گرد اور آبی بخارات کے آمیزے کو ایک مخصوص درجہ حرارت تک ٹھنڈا کر دیا جائے . اور اگر اس آمیزے میں کاربن کے ذرات اور سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس بھی شامل ہو جائیں تو یہ سموگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ انتہائی زہریلی گیس ہے۔ یہ پانی کے ساتھ ملکر سلفیورس ایسڈ بناتی ہے۔ جو سورج کی روشنی کی موجودگی میں ہوا کی آکسیجن کے ساتھ تعامل کر کے گندھک کے تیزاب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس گندھک کے تیزاب کے ننھے بخارات کاربن اور گرد کے ذروں پر چپک جاتے ہیں اور یوں یہ ایک انتہائی مہلک بلکہ قاتل مرکب سموگ کی شکل ڈھال لیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ فضا میں یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن آتی کہاں سے ہے۔ اور لاہور اور گردونواح پر اس کی خصوصی نظرِ کرم کیوں ہے۔ اور پھر یہ پچھلے ایک دو سال سے کیوں اسقدر بڑا مسئلہ بن گیا ہے جبکہ اس سے پہلے ہم نے کبھی اس کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ تو عزیزان گرامی ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں جو پتھر کا کوئلہ کوئٹہ مچھ اور اس کے گردونواح میں پایا جاتا ہے اس میں سلفر کی مقدار دو سے چار فیصد ہے۔ اور اوسطاً تین فیصد۔ گویا ایک ٹن کوئلہ جلانے پر تیس کلو سلفر ساتھ جلتی ہے۔جس سے ساٹھ کلو سلفر ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اور آخر کار تقریباً بانوے کلو گرام گندھک کا تیزاب پاک وطن کی فضاؤں میں بکھر جاتا ہے۔اسی طرح سموگ کادوسرا بڑا جزو کاربن کے ذرات بھی کوئلہ جلانے سے وافر مقدار میں فضا میں شامل ہو جاتے ہیں جو کسی اور ایندھن یعنی گیس، ڈیزل یا مٹی کے تیل وغیرہ سے میسر نہیں آتے۔ آج سے تین چار سال پہلے تک وطنِ عزیز میں سوئی گیس کی فراوانی تھی سو یہ کوئلہ بہت کم مقدار میں صرف اینٹوں کے بھٹوں اور کچھ دور دراز فیکٹریوں کے بوائلرز وغیرہ میں جلایا جاتا۔جس سے نکلنے والی گیسیں اور کاربن کے ذرات اتنی مقدار نہیں ہوتے تھے کہ وہ سموگ بنا سکیں۔ جب کہ باقی صنعتیں قدرتی گیس بطور ایندھن استعمال کرتی تھیں۔

پھر سی این جی کا دور آیا اور آپ اور ہم نے دیکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں قدرتی گیس تقریبا ختم ہو گئی۔ مجبوراً صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی رک گئی۔اس موڑ پر حکومت نے صنعتکاروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اب صنعتکاروں کے پاس دو ہی راستے بچے تھے یا تو اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو مٹی میں ملنے دیتے یا اپنے لئے متبادل ایندھن کا انتظام کرتے۔ اور ظاہر ہے کہ صنعتکاروں نے متبادل ایندھن کے طور پر کوئلہ کا استعمال شروع کر دیا۔

غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف لاہور اور اسکے گردونواح میں سریا بنانے والی ایک ہزار کے قریب فیکٹریاں ہیں۔ ان کو سٹیل ری رولنگ ملز کہا جاتا ہے۔ ان فیکٹریوں کی پیداواری استعداد تیس سے دوسو ٹن سریا فی مل روزانہ ہے۔ اگر ہم اوسطاً پچاس ٹن بھی تصور کریں تو لاہور اور اس کے ارد گرد پچاس ہزار ٹن سریا روزانہ بنتا ہے۔ ایک ٹن سریا کی پیداوار کے لئے سو کلو گرام کوئلہ جلانا پڑتا ہے۔ گویا پانچ ہزار ٹن کوئلہ روزانہ۔ اور اگر صرف ایک فیصد بھی کوئلہ کاربن ذرات کی شکل میں فضا میں جاتا تو پچاس ٹن کاربن ذرات روزانہ لاہور کی فضاؤں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح دو سو ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ روزانہ بھی۔ اور گرد مالٹا ریل منصوبہ کی وجہ سے پہلے ہی وافر ہے۔ جیسے ہی درجہ حرارت میں کچھ کمی واقع ہوئی یہ سب مل کر سموگ کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ ہے اس سموگ کی اصل وجہ۔

پچھلے کچھ عرصہ سے حکومت نے محکمہ ماحولیات پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ صنعتکاروں کو پابند کریں کہ وہ کوئلہ براہِ راست جلانے کی بجائے گیسی فائرز میں جلائیں۔ اور براہِ راست جلانا مقصود ہی ہو تو مناسب ڈسٹ کولیکٹر اور سکربرز لگائیں۔تاکہ کاربن کے ذرات فضا میں نہ جائیں۔ لیکن بد قسمتی سے اس معاملہ کو بھی محکمہ نے رشوت کا ذریعہ بنالیا ہے۔ نتیجتاً صرف بیس سے پچیس فیصد صنعتوں نے گیسی فائرز اور سکربرز لگائے ہیں اور باقی سب نے محکمہ کے ملازمین کا ماہانہ۔ دوسرے نمبر پر جو گیسی فائرز اور سکربرز لگے وہ بھی انتہائی ناقص معیار کے جو آلودگی کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اور تیسرے نمبر پر ان سب انتظامات میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کو روکنے کا کوئی نسخہ شامل نہیں۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ کو دھویں سے نکالنے کے لیے پیک سکربرز لگائے جانے چاہییں جن میں ہمہ وقت چونے کے پانی کا سپرے ہوتا ہو۔

اب جب مسئلہ حد سے بڑھا ہے اور سموگ نے شہر بھر پر اپنے بے رحم پنجے گاڑ دیے ہیں تو محکمہ ماحولیات نے حکمرانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بہت سی چھوٹی صنعتوں کو جبری طور پر کچھ عرصہ کے لئے بند کر دیا ہے۔جو کہ بذات خود ایک احمقانہ اور ظالمانہ اقدام ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملہ کو انتہائی سنجیدگی سے لے اس کے مختصر المدتی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ اپنے اداروں جیسے نیسپاک وغیرہ کی ذمہ داری لگائے کہ ڈسٹ کولیکٹر اور سکربرز کے جدید ڈیزائن صنعتکاروں کو مہیا کرے۔ اور انتہائی سخت جانچ کا نظام وضع کرے جس کے تحت قابل اور ایماندار انسپکٹرز باقاعدگی سے صنعتوں کے دورے کر کے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کو یقینی بنائیں۔ سول سوسائٹی کو بھی چاہئے کہ مسئلہ کی سنگینی کا درست اندازہ کرتے ہوئے حکومت پر راست اقدامات کے لئے اپنا دباؤ ڈالے۔

ابھی ٹی وی پر ایک رپورٹ دیکھی کہ سموگ کے اثرات سے بچاو کے لئے چڑیا گھر کے جانوروں کے لئے کئی خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان جانوروں کے ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ انہوں نے سموگ کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کیلیے ان کی خوراک بہتر کی ہے۔ ان کو فالتو وٹامنز اور منرلز دے رہے ہیں اور میں سوچ رہا تھا کہ کاش میرے ہموطن بھی چڑیا گھر کے جانور ہوتے کم سے کم حکومت کچھ تو کرتی ان کے لئے۔

Facebook Comments Box
featuredدھندفوگلاہورماحولماحولیاتماحولیاتی مسائلموسمیات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دل و دماغ کا مکالمہ : مبارک انجم
next post
مسز ریس کی متجسس دنیا: ہیتھرسیلرز ۔۔۔ مترجم: سیدہ صبیح گل

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.