تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

چینی سوشلزم: عہد بہ عہد ۔ جاوید اقبال راؤ

by جاوید اقبال 29/10/2017
written by جاوید اقبال 29/10/2017
148

اکتوبر کا مہینہ دنیا میں کمیونسٹ انقلاب کی یاد کے طور پہ جانا جاتا ہے، اسی مہینہ میں چین مین کمیونسٹ پارٹی کی ۱۹ویں کانگریس بھی منعقد ہوئی۔ اس موقع پہ چینی کمیونسٹ انقلاب کی تاریخ اور سفر پہ یہ اہم اور تحقیقی مضمون دانش کے قارئین کے لئے بطور خاص پیش کیا جارہا ہے۔


1978 کی ایک صبح روزنامہ گؤانگ مِن میں ایک مضمون چھپا جس میں تحریر تھا کہ ’’عمل ہی سچائی کی میزان ہے۔ مارکسزم سمیت تمام نظاموں کو عمل کی دنیا میں اپنی سچائی منوانا ہوگی‘‘۔ اس کے بعد سے چینی عوام نے نے کمر کس لی اور مارکسزم کے نظریات کو عمل کے پیمانے پر تولنے لگے۔ ماؤزے تنگ کے فلسفے کو عمل کے میدان میں اتارا۔ پھر وہ نظریہ اور عمل دونوں میدانوں میں سوچنے سمجھنے اور نئے نظریات کو پرکھنے لگ گئے۔ 1978 کی اس لہر سے سوچ آزاد ہوگئی۔

سرمایہ داری اور اسلام کے تناظر میں پرکھیں تو سوشلزم سینڈوچ بن جاتا ہے۔ ایک جانب سرمایہ داری کی انتہا، دوسری جانب اسلام کی فقیری و درویشی و مزدور پروری۔ سوشلزم نعرے باز ہے، جیسے آج کے ’کالجی‘ اسلامسٹ۔ سنجیدہ جدوجہد صرف سرمایہ داروں کو نصیب ہوئی۔ لیکن مغربی معاشرے نے اس سے قبل سرمایہ داری کے جنات کو قانون، انسانی حقوق اور عالمیّت کے دھاگوں سے باندھا۔ وگرنہ سرمایہ دار سب کچھ ہڑپ کرجاتا۔ تھامس پکٹّی نے یہ واضح کیا ہے کہ سرمایہ داری کو قابو میں رکھنے کے لیے اعلانِ جنگ کرنے سے ہی کامیابی ممکن ہے (تھامس پکٹی کہتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں سرمایہ دار کا منافع کم ہوگیا اور قومی آمدنی سرمائے سے بڑھ گئی)۔ ۔ یہی کچھ القاعدہ نے بھی کیا۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ میدان میں خود کش چھلانگ لگائے بغیر مالک و سرمایہ دار اپنی جیب ڈھیلی کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر عدل اپنی حقیقی صورت میں موجود ہوتا تو آج سب کو جنگ کے بغیر ہی اپنا حق مل چکا ہوتا۔

موجودہ دنیا میں سرمایہ دار نے کچھ ایسے کام کرڈالے ہیں کہ اسے تمام الزام دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر سرمایہ دار کی پشت پر موجود عوامل بھی اسے بچا لیتے ہیں۔ یہ عوامل کسی بھی کھلے ڈلّے معاشرے کو نصیب ہو جاتے ہیں۔ باقی معاشرے بند ہیں یا پھر انھیں کوئی نہ کوئی کمزوری لاحق ہوتی ہے۔ سوشلزم کھل ہی نہ سکا۔ چین نے تھوڑا سا کھلا ڈلا رویہ اپنایا تو دیکھیے کہ سرمایہ دار کو منڈی سے نکال باہر کیا۔ چین ایسے بڑے ملک کو بھی مزدور یونین پر مبنی نظام ہی سے کامیابی عطا نہیں ہوئی۔ ان کے بے قاعدہ (نان فارمل) سماجی نظام ’’ گؤانگ چی‘‘ کا بھی اثر ہے جو کہ کنفیوشس کے نظریات پر مبنی ہے۔ لیکن باہر کی دنیا کے ساتھ کھلم کھلا مقابلے بازی مشکل ہے۔ سرمایہ دار عقائد و نظریات کو ایک جانب رکھتے ہوئے، قاعدے قانون سے بالاتر ہوکر تمام ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ ایسے میں کسی کے لیے بھی ٹکنا ناممکن ہے۔ سرمایہ دار سے مراد مالک ہے۔ جاگیر دار اور کارخانے دار ہے۔ آپ یونین بازی کرکے صرف بیان جاری کرسکتے ہیں۔ ریاست نے کبھی یونین کو مالکانہ حقوق تفویض ہی نہیں کیے بھلے لاکھوں مزدور اکٹھے ہوجائیں۔ مالک تو مالک ہوتا ہے۔ مالک سے کیا مقابلہ بازی۔

سنجیدہ جدوجہد صرف سرمایہ داروں کو نصیب ہوئی۔ لیکن مغربی معاشرے نے اس سے قبل سرمایہ داری کے جنات کو قانون، انسانی حقوق اور عالمیّت کے دھاگوں سے باندھا۔ وگرنہ سرمایہ دار سب کچھ ہڑپ کرجاتا۔

روسی عوام نے پہلی بار 1917 میں سوشلزم کا مظاہرہ کیا اور دنیا حیران و ششدر رہ گئی۔ مارکس کی کتاب داس کیپیٹل کا نظریہ کئی رنگوں اور تجزیات پر مبنی ہے لیکن خدا سے مکمل انکاری ہے۔ مارکس نے خدا، مالک، ریاست، جاگیردار اور سرمایہ دار، تمام سے جان چھڑائی۔ سرمایہ دار یا مالک کا کام ہر ایک کو کام پکڑانا یا کام پر لگانا اور اس کی اوقات سمجھانا ہے۔ اگر وہ اس میں ناکام ہوجائے تو کوئی بھی مزدور انقلابی بن سکتا ہے۔ یہی روس میں ہوا۔ سوشلزم نے کارخانے پر قبضہ کیا۔ سرمایہ دار مالک کو باہر نکال دیا۔ لیکن مزدور یونین کا لیڈر کبھی اچھا مینیجر یا کاروباری ذہن (اچھے معنوں میں اینٹرپرے نیور یا برے معنوں میں بورژوائی) نہ بن سکا۔ مالک کی سی ذمہ داری نہ دکھلا سکا۔ جدید تحقیق یہی کہتی ہے کہ ایجادات میں سرمایہ دار بازی لے گیا۔ مزدور لیڈر قبضہ کردہ کارخانے کو چلا کر نہ دکھا سکا۔

جدید تحقیق یہی کہتی ہے کہ ایجادات میں سرمایہ دار بازی لے گیا۔ مزدور لیڈر قبضہ کردہ کارخانے کو چلا کر نہ دکھا سکا۔

سوشلزم بطور نظامِ زندگی (۱) معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو تسلیم کرتا ہے۔ (۲) عالمی حکومت کے قیام کا حامی ہے یعنی آفاقیت رکھتا ہے۔ (۳) مزدورانہ طبقے کی حکومت کا قائل ہے۔ اس حوالے سے اسلام کے قریب ہے۔ اگرچہ یہ معاشرے کے شدید ترین بوجھ کی وضاحت ہے کہ مقتدر اور امیر طبقے خدمت اور قربانی کی انتہا کے ساتھ ہی عوام پر حکمرانی کا حق حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن عملاً ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔ خدمت اور وہ بھی مفت، قربانی اور وہ بھی مسلسل۔ امیر اور خوشحال طبقات اس کا عملی مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ خدمت اور قربانی کے بغیر کسی کو حکمرانی کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ سوشلزم نے علاقائیت کو تسلیم کرکے حقِّ حکمرانی کے علاقائی نعرے کی بھی اہمیت تسلیم کی۔ یہ بڑی غلطی تھی۔ علاقائی حکمرانی کے نام پر بہت سے غیر مزدور (مثلاً جاگیردار یا سرمایہ دار) قوموں کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں۔ یہی کچھ پاکستان کے کچھ علاقوں میں ہوا جہاں سوشلزم کا نعرہ لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا گیا اور جاگیرداروں کی اولاد کو عوام کا قائد بننے کا شرف عطا کیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی جاگیردار مزدورانہ محنت کے عادی نہیں تھے۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر حکومت کے عادی تھے۔ ایوب خان نے ان سب کو جیل میں ڈال دیا۔ یہ آج تک ایسی محنت کے عادی نہ ہوسکے۔ نسلوں کے گزرجانے کے باوجود کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں ملا جس نے اپنے ہاتھ سے کام کیا ہو۔ یہ پاکستانی سوشلزم کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں شاید تمام نظاموں کے سورج کسی دوسری جانب سے طلوع ہوتے ہیں۔ اسلام نے حضرت عمر بن الخطاب، حضرت عمر بن عبدالعزیز اور اورنگ زیب عالمگیر ایسے حکمران دیے جنھوں نے حکمرانی کی لیکن مزدوری بھی کرکے دکھائی۔

سوشلزم کا پہلا عہد: کارل مارکس کی فکر کاارتقا تھا۔ مارکس نے جان لاک کے ذاتی جائیداد کے تصور سے انکار کیا گویا سرمایہ داری سے انکار کردیا۔ کوئی بھی شہری اپنی ذاتی جائیداد کا مالک نہیں ہوسکتا۔ وہ تاریخ کے نظریاتی مطالعہ کے بجائے مادیاتی (منفعت پذیری کے) اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آج کے ہمارے سوشلسٹ نظریات کی ترویج کا کیوں حوالہ دیتے ہیں؟ انھیں تو اپنے قائد کی طرح فقط مادّی فوائد یا نفع و نقصان کی بنیاد پر تجزیہ کرنا چاہیے۔ آخر کارل مارکس تاریخی میٹیریلزم پر یقین رکھتے تھے۔ نظریات اور مادہ پرستی ایک دوجے کے متضاد ہیں۔ ایسے میں نظریاتی حوالہ نامناسب ہے۔ کارل مارکس معاشرے کو طبقاتی (مال و دولت کی کثرت و قلّت پر مبنی) کشمکش کی نظر سے دیکھتا ہے جہاں کمزور طاقتور کے خلاف صف آراء ہے۔ لیکن ایسا کسی قدر، اخلاقی اصول یا مذہبی سیاسی نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً رقم یا مزدوری و ملکیت کی بنا پر ہے۔ اس لیے علامہ اقبال نے اسے شکم پر مبنی فلسفے کا بانی قرار دیا۔ مارکس اور ہیگل کے لیے آئیڈیالوجی کا مفہوم ہی کچھ مختلف ہے۔ وہ اسے کسی مخصوص طبقے کے مفادات سے تعبیر کرتے ہیں۔

سوشلزم کا دوسرا عہد لینن سے شروع ہوتا ہے جب اس نے مارکس کے فلسفے پر عمل کردکھایا۔ وہ سوشلزم کو سمجھ چکا تھا۔ ڈوما (روسی پارلیمان) کا پہلا کامیاب بائیکاٹ کیا اور پھر جدوجہد کو خونی جنگ میں بدل دیا۔ کیونکہ شاہ کسی طور جان چھوڑنے والے نہیں تھے۔ لینن نے طاقت کے استعمال کا جواب دیا اور جنگ جیت لی۔ وہ عمل کی دنیا کا دلیر کھلاڑی تھا۔

تیسرا عہد: ٹروٹسکی: ٹروٹسکی کو تیسرا عہد کہا جائے یا کمیونزم کی تیسری قسم قرار دیا جائے، دونوں ہی درست ہیں۔ آفاقی سوشلزم پر یقین رکھتا تھا۔ ریاستی یا ملکی انقلاب کا زیادہ قائل نہیں تھا۔ ٹروٹسکی اس کی وضاحت کرتا ہے کہ سوشلسٹ انقلاب ایسے ممالک میں کیسے آئے گا جہاں سرمایہ داری مکمل طور پر کامیاب نہیں یا جہاں انڈسٹری قائم نہیں ہوئی۔ یہ آمریت یا ظلم کے خلاف ایک کوشش ہے۔ ایسا ہی دوسرا نظریہ لکسمبرگ کا ہے جسے لینن و سٹالن کے نظریے کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی لینن و سٹالن کے نظریے کو غیر جمہوری سمجھتا ہے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
ChinaChina RevolutionCommunismCommunist Revolutionfeaturedجینی کمیونسٹ انقلابچینچینی انقلابسوشلزمکمیونزمکمیونسٹ انقلاب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
جاوید اقبال

previous post
ہاکی کا کھیل کب پاکستان میں واپس آئے گا: مہر عصمت اللہ
next post
شرمین چنائے کی بہن اور لبرلز کے فتوے: ثمینہ رشید

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.