تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

سوال ایسے سوالوں پر: محمد عثمان جامعی

by دانش ڈیسک 24/10/2017
written by دانش ڈیسک 24/10/2017
162

سوال انسان کی سب سے اہم ایجاد نہیں تو اہم ترین ایجادات میں ضرور شامل ہے۔ یہ ”کیوں“ اور ”کیسے“ کی پُراسرار نازنینوں کا تعاقب ہی تھا جو ابن آدم کو ترقی اور تمدن کے روشن راستوں اور منزلوں تک لے گیا۔ سوال کے جھونکے ہی سماج کو حبس سے بچاتے ہیں، سوال اٹھتے ہیں تو شکوک وشبہات کی گرد بیٹھتی ہے، ان کی نوک دار کرن ہی سے توہمات اندھیرے چاک کیے جاسکتے ہیں۔ سوال کے نشتر سے بدعنوانی، ناانصافی، تعصب، اندھی عقیدت اور ان جیسی دیگر سماجی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے، ان کی کھُرچ نقابوں کو نوچ کر مکروہ چہرے سامنے لے آتی ہےلیکن یہ سوال وہ ہیں جن کا تعلق حیات وکائنات سے ہے، جو انسانی وجود کی بنیادی آزادیوں کو جکڑے ریت رواج پر حملہ کرتے ہیں، جو قانون شکنی، ظلم اور زیادتی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے سوال ہمارے معاشرے میں شعور و جرات کی غذا کی کمی کے باعث دماغ کی کوکھ ہی میں مرجاتے ہیں یا زبان کی نوک پر جان دے دیتے ہیں، اگر زندہ جنم لے لیں تو اکثر زندہ دفن کردیے جاتے ہیں۔

مگر ایسا نہیں کہ ہم سوال نہیں کرتے، اِس کا جتنا شوق ہمارے ہاں پایا جاتا ہے دنیا کی دیگر اقوام اُس سے محروم ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ ہمارے سوال جستجو، جاننے کی لگن، حق گوئی اور صداقت شناسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، یہ ”کیا“ اور ”کیوں“ پوچھنے، کھوجنے، اپنی بڑائی اور حقارت کے جذبے کو خوراک دینے اور وقت گزاری کے آلات ہیں۔

ہمارے ہاں شاید سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے ”اور“، جو ٹیلی فون پر ہونے والی طویل گفتگو کے بعد اس وقت کیا جاتا ہے جب کہنے اور سُننے کو کچھ نہیں رہ جاتا۔

”کیا ہونے والا ہے“ ہمارے ملک کا دوسرا مقبول ترین سوال ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے دورانیے کم کم آتے ہیں جب یہ سوال اخبارات اور ٹی وی اسکرینوں سے ڈرائنگ رومز اور تھڑوں تک پوچھا نہ جارہا ہو۔ بس مارشلائی ادوار کا بڑا حصہ ایسے سکوت میں گزرتا ہے کہ ایسے کسی سوال کی سوئی بھی نہیں گِرتی۔ یہ استفسار اپنے اندر ایک ہی معنی رکھتا ہے، بڑی سیاسی تبدیلی، چناں چہ فوراً اپنا ابلاغ کرلیتا ہے۔ پھر جواب میں دانش وری کا طوفان اٹھتا اور خواہشات کا باب کُھلتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ پوچھنے والا اور جس سے پوچھا جائے دونوں حقائق کی روشنی سے دور لاعلمی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔

سوال اپنا بے ضرر روپ بدل کر تیر وخنجر اُس وقت بن جاتے ہیں جب انھیں جہل، ذہنی پس ماندگی، تعصب اور نفرت سے تراشا گیا ہو۔ کبھی یہ ان جانے میں ہوتا ہے اور بعض اوقات سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

میں نے ایک اخباری ادارے سے ناتا جوڑا تو میرے ہاتھ میں ایک فارم تھمادیا گیا، جس میں مجھے سوالات کا جواب تحریر کرتے ہوئے اپنے کوائف درج کرنا تھے۔ دیگر سوالات کے ساتھ یہ فارم پوچھ رہا تھااپنی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیےاتنا ہی نہیں آپ کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں! میں نے اصرار کیا کہ خود کو صرف مسلمان سمجھتا ہوں اور یہیں لکھنا چاہتا ہوں، کہا گیا جو پوچھا گیا ہے اس کا جواب تو لکھنا ہوگا۔

مجھے نہیں پتا کہ اس نوعیت کے سوالات جو کسی کے سیاسی نظریے اور عقیدے کی بابت کیے گئے ہوں پاکستان میں اور کس کس ادارے سے وابستگی اختیار کرنے والوں کو دینا پڑتے ہیں؟ لیکن سوال ایسے سوالوں کے جواز پر ہے۔

ایسے سوالات پر سوال اٹھائیے، انھیں دھتکاریے، ٹھکرائیے، کہ یہ بے مصرف اور بے مقصد سماج کے عکاس ہیں

آگے بڑھتے ہیں۔ اس منظر میں چلیے:
خوشی کی تقریب میں ایک نوجوان ہر فکر و اندیشے سے بے نیاز مسرور نظر آرہا ہے۔ ہنس رہا ہے، مسکرا رہا ہے، پُراعتماد دکھائی دے رہا ہے۔ ساتھ بیٹھے صاحب اُن لوگوں میں سے ہیں جن کا مقصد حیات ہوتا ہے کہ دوسروں میں اپنے حصے کا جتنا دُکھ بانٹ سکتے ہو بانٹ دو، کسی کو جس قدر نقصان پہنچانے کی اسطاعت رکھتے ہو پہنچا دو۔ کھنکار کے نوجوان کو مخاطب کرتے ہیں اور پوچھ گچھ شروع کردیتے ہیں، ”کیا کرتے ہو کس ادارے میں“ یہ سوال تو حملے کی تیاری تھے، تیر تو اب چلے گا۔ ”کتنی تنخواہ دے رہے ہیں؟“ جواب سے حیران ہو کر وار کرتے ہیں”اتنی کم۔“ پھر کہیں اور ملازمت کا ہم دردانہ مشورہ دے کر نوجوان کی مالی اور سماجی حیثیت اس کی نظر میں گرادی جاتی ہے۔ اب اُس کے چہرے پر خوشی ہے، آنکھوں میں چمک، نہ لہجے اور نہ جسمانی حرکات وسکنات میں اعتماد۔ اس کے سینے میں گھونپا گیا سوال اپنا کام کرچکا ہے۔

اگر کسی تقریب میں میاں بیوی بچوں کے بغیر دکھائی دیں تو اِدھراُدھر کی کچھ باتیں کرکے اجنبیت دور کرنے کے بعد اپنائیت اور خلوص کے بھرپور اظہار کی ٹھانی جاتی ہے۔ بڑی معصومیت سے پوچھا جاتا ہے ”بچوں کو نہیں لائے“، جواب محرومی کی کہانی سُنادیتا ہے تو شادی کی مُدت پوچھی جاتی ہے (جیسے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہو کہ ایکسپائری ڈیٹ گزر تو نہیں گئی؟) پھر تفتیش اور افسوس کے بھرپور جذبات کے ساتھ کسی ڈاکٹر، حکیم، ہومیوپیتھ یا جھاڑ پھونک کرنے والے کے بارے میں اس یقین کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ بس یہ کہنا رہ جاتا ہے کہ ”ارے خواتین تو کیا وہ تو حضرات کو بھی ولادت کی سعادت عطا کرسکتے ہیں۔“

یہ بہ ظاہر معصومانہ سوال اور پیار چھلکاتی گفتگو اس جوڑے کے ہونے پر ہی سوالیہ نشان لگادیتی ہے۔ خاص طور پر ان لفظوں کے کانٹے عورت کی روح میں ایسے چھبتے ہیں کہ کتنے ہی دن ان کی چبھن نہیں جاتی۔ اس سوال سے اس کے دل میں یہ زخم سا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا میرا وجود اولاد کے بغیر کچھ نہیں؟ اور لٹیرا سوال جوڑے سے چند پَل کی خوشی چھین کر یہ جا وہ جا۔

لڑکی نے پچیسواں برس پار کرلیا ہو اور مرد نے تیس کی چوکھٹ پھلانگ لی ہو تو ”اب تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟“ کی تشویش ہر جگہ ان کا پیچھا کرتی ہے۔

کوئی کہیں بھی آپ سے بے دھڑک پوچھ سکتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ یعنی مادری زبان کیا ہے، کس صوبے کے ہو، کون ذات ہو، قبیلہ کیا ہے؟ جب اس سوال کے پھاو_¿ڑے سے کُھدائی کرکے بھی کچھ حاصل نہ ہوپارہا ہو تو ”پیچھے کہاں کے ہو؟“ کی کُدال چلائی جاتی ہے۔ اسی دھڑلے کے ساتھ آپ سے مذہب، مسلک اور فرقہ پوچھا جاسکتا ہے۔

ہمارے گھروں سے درس گاہوں اور محفلوں سے عبادت گاہوں تک کہیں کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ سوال کی بھی کوئی اخلاقیات ہوتی ہے۔ ذاتی نوعیت کا سوال پوچھنا بعض دفعہ توہین کرنے اور گالی دینے کے مترادف ہوتا ہے، ایسے سوالات کبھی اعتماد پر وار کرتے ہیں تو کبھی مسرت اور ہمت وحوصلے پر حملہ۔

ایسے سوالات پر سوال اٹھائیے، انھیں دھتکاریے، ٹھکرائیے، کہ یہ بے مصرف اور بے مقصد سماج کے عکاس ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کو بولنے کے لیے لفظوں کی تلاش ہے، لیکن اس کا کتاب دشمن، عقل و خرد کا بیری اور سوچنے اور غور کرنے سے بے زار رویہ اسے بانجھ کرچکا ہے، سو الفاظ اور موضوعات کیسے جنم لیں گے؟

Facebook Comments Box
featuredسماجی بیماریاںسماجی عوارضسماجی مسائلسوالغیر ضروری سوال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
چیونٹیاں: سبین علی کا افسانہ
next post
ڈالر بمقابلہ یوآن ۔۔۔۔۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آصف محمود

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.