تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

اردو میں تحقیقی مقالے کی صورتِ حال : معراج رعنا

by دانش ڈیسک 14/10/2017
written by دانش ڈیسک 14/10/2017
110

معراج رعنا ہندوستان میں اردو کی تدریس و تحقیق کے حوالے سے صورتحال کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ اہل پاکستان بھی، جہاں تہاں، اس آئینہ میں اپنا حال ملاحظہ کرتے ہوئے شریک گریہ ہوسکتے ہیں۔


اگر پوری ایمانداری سے گزشتہ دو تین دہایوں کا محاسبہ کیا جائے تو اردو بیت العلمی میں تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ شعبۂ تحقیق میں خاصی گراوٹ دیکھی جاسکتی ہے۔ تعلیم و تعلم کا معاملہ تو پھر بھی کھینچ تان کے بہتر ثابت کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اس کا تعلق تحریری روایت کے بر عکس زبانی روایت سے ہوتا ہے۔ چونکہ ہماری جامعات میں اساتذہ کی سند سازی میں طلبہ کی رائے ناگزیر تسلیم نہیں کی جاتی ہے۔اس لیے اُن کی قدری صفات کے تعین کا کوئی آزاد اور غیر جانبدار پیمانہ موجود نہیں۔ آزادی کی اس بڑی نعمت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اساتذہ اپنی جماعت گاہ میں مارکس کی کتاب Das Kapital کو ارسطو کے نام سے منسوب کر کے ایک لمبا چوڑا لیکچر دے دیتے ہیں۔ اور اگر غلطی سے کسی ذہین طالب علم استفہامی انداز میں اُن کی اس غلطی کی نشان دہی کرتا ہے تو استادِ موصوف عذرِ بیجا کو بنیاد بنا کر جھٹ سے اپنی اس غلطی کی اصلاح کرلیتے ہیں۔ زبانی روایت کا یہی تو حُسن ہے کہ اُس میں غلطیوں کی اصلاحات کی اچھی خاصی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

اردو بیت العلمی میں جمود اور بے حسی کی متعدد وجہیں ہو سکتی ہیں لیکن اُن میں دو بڑی وجوہ بالکل سامنے کی ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ کہ گزشتہ دہایوں میں ہماری جامعات میں بد قسمتی سے زیادہ تر ایسے اساتذہ کی تقرری عمل میں آئی جو سوائے علم کے ہر چیز سے آراستہ و پیراستہ نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے استاد سے ایک عمدہ تحقیق کی نگرانی کی توقع کارِ فضول سے زیادہ کچھ نہیں۔ جامعاتی سطح کی سیاست اور وہ بھی جوڑ توڑ کی سیاست اُن کے دل و دماغ پر اِس طرح حاوی ہوتی ہے کہ تحقیق کے نئے موضوعات پر کچھ سوچنا محال ہوتا ہے۔ اور اگر غلطی سے کبھی کچھ نیا سوچ بھی لیں تو اُس کی عمل آوری اُن کی علمی دسترس سے ناممکن حد تک دور ہوتی ہے۔ دوسری وجہ اُن بزرگ اساتذہ کی انجمادی طمانیت ہے جو اُن کے اندر قبل از وقت پروفیسری کا منصب مل جانے کے بعد پید ا ہوجاتی ہے۔ یہ مرحلہ سر ہو جانے کے بعد ادب کے نئے تحقیقی موضوعات پر غور کرنے اور اُسے عملی شکل دینے کی ساری صلاحیتیں گویا سلب ہو جاتی ہیں۔ ادبی جلسوں کی جستجو اُن کی باقی ماندہ علمی زندگی کی واحد جستجو ٹھہرتی ہے۔ کیوں کہ یہاں علم کے نام پر تعیش، عمدہ طعام اور ایک بڑی رقم کی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں۔ اس نوع کے ادبی جلسوں کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس میں لکھے اور پڑھے گئے مضمون کو بزرگ پروفیسر ان بعد میں کتابی صورت میں چھپوا کر اپنی تصنیفی تعداد میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اُن کے اس اضافے سے علمی مباحث کے نئے دروازے کُھلنے کے، پہلے سے کُھلے تمام دروازے خود بہ خود بند ہونے لگتے ہیں گویا تحریر، تحریر نہیں کسی پُرانی بستی کا آسیب ہو۔

…دوسری وجہ اُن بزرگ اساتذہ کی انجمادی طمانیت ہے جو اُن کے اندر قبل از وقت پروفیسری کا منصب مل جانے کے بعد پید ا ہوجاتی ہے.

ہندوستان میں یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کی ایک حالیہ سرکاری روداد کے مطابق یہا ں کی مرکزی اور صوبائی جامعات میں ہر سال مختلف علوم و فنون میں تقریبا سات سے آٹھ ہزار تحقیقی مقالے تفویضِ سند کے لیے جمع کیے جاتے ہیں۔لیکن اس روداد میں اُن مقالوں کے تحقیق معیار کو ادنیٰ ترین قرار دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ تحقیقی موضوعات کی تکرار اور اُس کے طریقِ کار کو بہتر بنانے کی جو تجویز پیش کی گئی ہے، اُس سے یقینی طور پر تحقیق کا معیار بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اس تجویز کو ممکن العمل اس لیے نہیں بنایا جا سکتا کہ اس میں اساتذہ کی علمی ذمہ داری خاصی بڑھ جانے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم اس روداد کو جامعاتی نوعیت کی تحقیق کے لیے مثالی قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش میں زیادہ تر اساتذہ جو مختلف الخیال ہونے کے با وجود بھی اِس نکتے پر متحد الخیال نظر آنے لگے ہیں کہ اس تجویز کا اطلاق کسی طور پر ممکن نہیں۔ یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کی اِس روداد میں اردو زبان و ادب کی تفریق تو نمایاں نہیں لیکن اس حقیقیت کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ اِ س میں اردو تحقیق کی کیا صورتِ حال ہوگی۔

حال ہی میں عدالتِ عظمیٰ کے ایک فیصلے کے مطابق کانپور یونی ورسٹی کی 5000 تھیسس مسترد کر دی گئی ہے جن پر محققین کوڈاکٹریٹ کی سند تفویض کی جا چکی تھی۔ مسترد ہونے والی تھیسس میں اردو کی تھیسس کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ اگر ہم اردو میں تحقیقی مقالے کا ایک سر سری جائزہ لیں تو اِس کا ایک بڑا حصہ شاعر و ادیب کی حیات و خدمات سے معمور نظر آتا ہے۔ اس نوع کے موضوعی انتخاب کی اصل وجہ مواد کی حصولیابی کی ہوتی ہے۔ دو چار کتابوں کے فیضان سے ایک تحقیقی مقالے کی مرقومیت قدرے آسان ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس نوع کی تحقیق میں سرقہ قبح نہیں حُسن بن جاتا ہے۔ گرفت ہونے کی صورت میں بجائے غالب کے اس مصرعہ پر "شرم تم کو مگر نہیں آتی” عمل پیرا ہونے کے، واوین کی معدومیت کی علت کاتب یا کمپوزر کے سر کسی گناہ کی طرح مڑھ دی جاتی ہے۔

کچھ اردو تھیسس کے ممتحن ہونے کی وجہ سے مجھے اس بات کا علم ہے کہ موضوع تو موضوع اُس موضوع کے اظہار کے لیے جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ کسی بھی صورت میں تحقیقی اسلوب کو زیب نہیں دیتی۔ یعنی یہ کہ اُس میں قواعد کی متعدد غلطیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ تکرارِ عبارت اتنی کثرت سے مستعمل ہوتی ہے کہ ایک باب کی متشابہات دوسرے باب کو مشکوک کر دیتی ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اردو میں ایسے تحقیقی مقالے بہت کم لکھے گئے ہیں جن کی علمی اور تحقیقی خالصیت ایک مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ فی زمانہ ضرورت اس بات کی نہیں کہ اردو بیت العلمی کثرتِ تحقیق پر اصرار کرے بلکہ تقاضا اس بات کا ہے کہ اُس کے معیار کی ہر ممکن مساعی کو ثمر آور بنائے۔ اگر مستقبل قریب میں ایسا ہوا تو اردو بیت العلمی خواجہ حافظ کے اس شعر کی معنوی حد بندی سے آزاد ہوجائے گی:

اسپ تازی شدہ مجروح بہ زیرِ پالان
طوقِ زریں ہمہ بر گردنِ خر می بینم

Facebook Comments Box
اردو پی ایچ ڈیاردو تحقیقاردو تدریسبھارت میں اردو تدریسہندوستان میں اردو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عالمی اداروں کی ملکی سیاست پر چھاپ ۔ حصہ 3 — جاوید اقبال راو
next post
سجّن بے پرواہ اور صدف مرزا — زارا مظہر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.