تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

جدید ریاست افلاطون کی ریپبلک سے بہت آگے جا چکی ہے: نعمان علی خان

by Daanish Editor 02/10/2017
written by Daanish Editor 02/10/2017
166

یہ دنیا جس تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے اس کا ذمے دار کوئی ایک سیاسی یا مذہبی نظریہ نہیں ہوگا۔ اس بربادی کے ذمے دار وہ سب دانشور ہوں گے جنہوں نے پسماندہ قوموں کو آج کے جدید دور میں اس نان ایشو میں الجھایا ہوا ہے کہ ریاست کو کیسے چلایا جائے؟ کسی دانشور کا خیال ہے کہ انسانیت کے تمام دکھوں کا مداوا سیکولر ازم میں ہے۔ کوئی دوسرا کہتا ہے نہیں اس کا حل مذہبی جمہوریت میں اور کسی تیسرے کے مطابق، آمریت میں ہے۔ جن لوگوں اور دانشوروں کا خیال ہے اور جو اپنے اس خیال کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں، کہ ریاست کو چلانے کے فلاں فلاں مذہبی یا غیر مذہبی طریقوں پر عمل کیا جائے تو یہ دنیا سیاسی، معاشی اور امن و امان کے اعتبار سے بہتر ہوجائے گی، وہ سب دراصل اس تباہی کے ذمہ دار ہونگے جس جانب یہ پسماندہ قومیں بڑھ رہی ہیں۔

ان دانشوروں میں سے بیشتر اصل میں "مغرب” ہی سےمستعار لی ہوئی مختلف سیاسی آئیڈیالوجیز، کی جگالی کرکے اسے مغرب ہی کے منہ پر اگل دینے کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ اس فن میں تو مہارت رکھتے ہیں لیکن باقی انسانیت تو کجا، خود اپنے مسائل کا اوریجنل حل دینے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ آج کے دور میں پاکستان ایسے دانشوروں سے بھرا پڑا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ سیکولرازم، جمہوریت، بادشاہت یا ملائیت، ان سب کا ریاست کے پس منظر میں آخر کیا مقصد ہے؟ یہی نا کہ یہ سب ریاست کو چلانے کے مختلف بیانئیے یاطریقے ہیں؟ تو، میرا اپنے ان دانشوروں سے سوال ہے کہ کیا ساری دانشوری، ساری بحث صرف اسی نقطے پر مرکوز رہنا چاہئیے کہ ریاست کو کیسے چلایا جائے؟ کیا یہ ہے کل لب لباب ساری انسانی دانش اور فکر کا؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تو انسانیت آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں افلاطون کے ریپبلک لکھنے کے دور میں کھڑی تھی۔ ریپبلک میں بھی تو افلاطون نے یہی طے کیا تھا کہ ریاست کو کیسے چلایا جائے اور کون چلائے اور اس نے نتیجہ نکالا تھا کہ ریاست کو درست چلانے کے لئے فلسفیوں کے ہاتھ میں اقتدار ہونا چاہئیے۔ کیا ہمیں آج بھی بس یہی طے کرنے کے مرحلے میں رہنا چاہئیے کہ ریاست کو فلسفی چلائیں، لبرلز چلائیں، سیکولرز چلائیں یا ملا چلائیں؟

نہیں جناب! میں نہیں مانتا۔میرے خیال میں انسانیت آج افلاطونی ریاست سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ کیونکہ میں صاف طور پر دیکھ سکتا ہوں کہ بہت سی قوموں نے افلاطونی ریپبلک سے بہت آگے بڑھ کر ایک زیادہ عظیم تر اصول پر اپنی ریاست کی تشکیل کی ہے اور وہ ریاستیں تاریخ میں پہلی بار انتہائی اعلیٰ تر انسانی آدرشوں سے ہمکنار ہورہی ہیں۔ ہاں ان ریاستوں کے مقابلے میں، پاکستان سمیت، تیسری دنیا کی زیادہ ترقومیں آج بھی افلاطونی دور ہی سے گذر رہی ہیں اور اسی بات پر کنفیوذڈ ہیں کہ ہمیں ریاست چلانا کیسے ہے۔ ہمارے اس کنفیوژن کی غالب ترین وجہ یہی ہے کہ قومی سطح پر ہمیں ہمارے دانشوروں نے اپنے "فکری” نان ایشوز کے شوروغوغے کے ذریعے سے کنفیوذ کیا ہوا ہے۔ یہ دانشور اپنے نان ایشوز کے جال میں الجھا ئے رکھ کر ہمیں افلاطونی مقدمے سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیتے ہیں۔

ان دانشوروں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ہمارا آج کا مقدمہ یہ ہے ہی نہیں کہ ریاست کیسے چلائی جائے۔ بلکہ یہ ہے کہ جیسے بھی چلائی جائے اس طور سے چلانے کا عظیم ترین مقصد کیا ہونا چاہیئے؟ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت مغرب میں برطانیہ، جرمنی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور سکینڈے نیوین کنٹریز اور مشرق میں ملیشیا، سنگاپور اور خلیجی ممالک نے اس سوال کا نا صرف جواب تلاش کیا بلکہ ریاست کی عملی ترجیحات کا رخ اس مقصدکے حصول کی فیضیابی کی سمت میں رواں کردیا ہے۔ ریاست خواہ بادشاہت کے تحت چلائی جائے ( برطانیہ، نیدر لینڈز، وغیرہ اور خلیجی ممالک) یا سیکولر اور لبرل پالیسیز کے تحت چلائی جائے (تمام مذکورہ مغربی ممالک) یا مذہبی پالیسیز کے تحت (خلیجی ممالک)، اس کا آخری مقصد یہی ہونا چاہئیے کہ ریاست کے عام شہری کی بنیادی ضروریات کی ترسیل ریاست کی پہلی ذمے داری ہو گی۔

گویا جدید ریاست کے قیام کا بنیادی مقصد، جمہوریت، بادشاہت، سیکیولرزم یا ملائیت کا قیام نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی فلاحی حقوق کی فراہمی، یعنی ویلفئیر سٹیٹ کا قیام ہے۔اگر جمہوریت، بادشاہت، سیکیولرزم یا ملائیت میں سے کوئی بھی طرزِ حکمرانی تو رائج کردیا جائے لیکن لوگوں کے فلاحی حقوق معطل رکھے جائیں اور دانشور محض کون سا طرزِ حکمرانی ہونا چاہئیے کا راگ الاپتے رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم کے ساتھ انتہائی قبیح قسم کا دھوکا، سب مفاد پرست طبقے مل کر کررہے ہیں۔

پاکستانی قوم کے ساتھ یہ دھوکہ دہی کئی دھائیوں سے جاری ہے۔ پاکستان کے آئین کی ابتدائی چالیس شقوں میں سے بیشتر کی تشریح کے مطابق، یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست ہے لیکن اقتدار پرست طبقے اور مفاد پرست دانشوروں نے ایک خاموش باہمی اتفاق کے ساتھ ان فلاحی شقوں کو عملاً معطل کیا ہوا ہے۔ پارلیمنٹیرئینز ان شقوں پر عملدرآمد کیلئیے کبھی بحث نہیں کرتے۔ رہے دانشور تو وہ بھی ان شقوں کی یاددہانی کے لئے آواز نہیں اٹھاتے۔ ایسا لگتا ہے گویا آئین میں ایسی کوئی شقیں موجود ہی نہیں۔ آئین کی شق ۳۷ اور ۳۸ کے مطابق عوام کو بے روزگاری یا لاچاری کی صورت میں خوراک، لباس، گھر، ھیلتھ کئیر، بغیر کسی شرط اور بلا تعصب ملنا چاہئیے لیکن نہیں مل رہا۔ سوشل سیکورٹی کا انتظام حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کیلئیے ہونا چاہئیے لیکن نہیں کیا جارہا۔ لوگوں کو سستا انصاف اور مساوی مواقع اور روزگار کی سہولتیں ملنا چاہئیں لیکن نہیں دی جارہیں۔

آئین کی شق ۲۹ کے مطابق صدر مملکت ہر سال، پارلیمنٹ میں ان عوامی فلاحی شقوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں رپورٹ پیش کریں گے؛ عوام، میڈیا اور دانشوروں میں سے معلوم نہیں کِس کو خبر ہے کہ گذشتہ نو سال میں یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں کب پیش کی گئی؟ اس پر کیا بحث ہوئی اور اس بحث کے نتیجے میں عوام کے فلاحی حقوق کی اس بے شرمی سے جاری مسلسل معطلی کو ختم کرنے کیلئیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ جن ذمے داران نے ان آئینی حقوق کو معطل کیا ہے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا؟

ہمارے دانشوروں کی ساری دانشوری کا زور محض آئین کی ان دوسری شقوں پر ہنگامہ بپا کئیے رکھنے تک محدود ہے جو ختمِ نبوت ؐاور بلاسفیمی سے متعلق ہیں یا جن کا تعلق جمہوریت کے ڈرامے کے جاری رکھنے کیلئیے نان ایشوز کھڑے کرکے میڈیا پر مباحث سے ہو۔
جب تک پاکستان میں ہماری اجتماعی دانش کو ” اس ملک کو کیسے چلانا چاہئیے” جیسے افلاطونی نان-ایشو میں الجھائے رکھنے کی اجازت ہو گی، ہم اس ملک کے قیام کے اصل مقصد، یعنی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کو حاصل نہیں کرپائیں گے۔ یہاں کے عوام کے بنیادی فلاحی حقوق، دانشوروں اور استحصالیوں کے مفادات پر قربان ہوتے رہیں گے۔

Facebook Comments Box
featuredافلاطونجدید ریاستجدید سیاستحکومتریاستسیاستنظام حکومت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
عورت، مرد اور ذہنی ہم آہنگی​ ۔ محمودفیاض
next post
پویلئین اینڈ سے: ایک سفر اونچے نیچے راستوں کا ۔۔۔ 4

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.