تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

اقبال, مغرب اور ویلفیئر سٹیٹ: در جوابِ نعمان علی خان ۔۔۔ جاوید اقبال راؤ

by جاوید اقبال 19/10/2017
written by جاوید اقبال 19/10/2017
238

کچھ عرصہ قبل جناب نعمان علی خاں کا ایک مضمون نظر سے گزرا جس میں وہ فرماتے ہیں: "حکیمِ ملت علامہ اقبال رح نے مغربی تہذیب کے آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرنے کی جو پیشن گوئی کی تھی وہ آج تک پوری نہیں ہو سکی اور ہم سیدھے سادے مسلمانوں کو ہمارے کچھ "ماہرین۔ اقبالیات”، فرموداتِ اقبال کی غلط تشریح کے ذریعے، آج تک مغرب کی خود کشی کے انتظارمیں غلطاں کیے ہوئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان "ماہرینِ اقبالیات” نے مغرب کی خودکشی کی تمنا کو ہماری اجتماعی سوچ پر اس قدرغالب کیا ہوا ہے کہ ہم خود اپنی تباہی اور گراوٹ کا ادراک کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ ہمارے ان ماہرینِ اقبالیات کے کھڑے کیے ہوئے بے ہودہ فکری نان ایشوز کے گرد و غبار میں ہمارے اپنے اصل ایشوز انتہائی سنگ دلی اور سفاکی سے دبا دیے گئے ہیں۔”

ضروری نہیں کہ انسان کی ہر ایک پیش گوئی پوری ہو چاہے وہ کوئی قومی مفکر ہی کیوں نہ ہو۔ مصنف نعمان علی خان صاحب کا بنیادی تفکر ویلفیئر سٹیٹ (عوامی مفادِ عامہ پر مبنی ریاست) کا ہے۔ بنیادی طور پر سرمایہ دار اس اختصاص پر فخر ہی نہیں کرتا۔ سرمایہ دار بہت کچھ چاہتا ہے۔ ایک مداری کی طرح ہر جانب کھیلتا ہے۔ اداراتی عوامل، قانونی و اصولی ادارے یا رسالے، تعلیمی مراکز، علمی تحریکات۔ اور پھر، سیاسی و سماجی تغیرو تبدل۔ یہ سب کا شیدائی ہوتا ہے۔ انھیں ہی فائنانس کرتا ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ دور میں بہت سی معاشرتی قوتوں کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ صرف ویلفیئر سٹیٹ تو اس کی چھوٹی سی کمزوری ہے۔ اگر یہ صرف ویلفیئر سٹیٹ تک محدود ہو، تو ایسی سٹیٹ بے مقصد بھی ہو اور یہ ناکام بھی ہوجائے۔ اس لیے حقیقی اختصاص ڈھونڈیے۔ مغربیوں میں سے امریکہ شاید ویلفیئر سٹیٹ سے کچھ مختلف ہے۔ اگر یہ ویلفیئر سٹیٹ نہ رہے تو کیا قائم رہے گا؟ ٹرمپ کی موجودہ حکومت قریباَ جمہوری آمریت ہے۔ اندرونی و بیرونی، دونوں طرح سے۔ بش کے آٹھ سال بھی اسی تعریف میں آسکتے ہیں۔ بش نے نیشنل سیکورٹی ایجنسی بنائی تو اسے اخبارات کے کالموں میں ڈکٹیٹر لکھا گیا۔ دی نیشن میں جوناتھن شیل کا یہ پسندیدہ کام تھا کہ وہ بش کو ڈکٹیٹر لکھے۔ بش واچ نامی ویب سائیٹ پرتفصیلات دیکھ لیں۔ کلنٹن اور اوباما قدرے مختلف تھے۔ جمہوری آمریت کو سمجھاجا سکتا ہے۔ ہٹلر جمہوری آمر تھا۔ لہٰذا اب امریکی اور ان کے پپیچھے پیچھے شاید یورپی بھی جمہوریت کی حقیقی روح سے دور اور جمہوری آمریت کی جانب گامزن ہیں۔ یہ کچھ عرصے میں ویلفیئر سٹیٹ کے بنیادی تصور سے دور جاسکتے ہیں۔ کیونکہ ٹی ایچ مارشل کے نزدیک ویلفیئر سٹیٹ جمہوریت، سرمایہ داری اور ویلفیئر کا امتزاج ہے۔ ویلفیئر سٹیٹ یورپی ممالک تک محدود ہے۔ اسے ری ڈسٹری بیوشن آف اکانومی بھی کہتے ہیں جس میں حکومت لوگوں کو ٹیکس کی رقم ایسے تقسیم کرتی ہے کہ آمدن کا فرق اور غربت کم ہوجائے۔ لیکن اسلامی اصولوں پر قائم معاشرے تو ویسے ہی آمدن کا فرق کم کردیتے ہیں۔ دراصل یورپی یا امریکی پروڈکشن سٹیٹ ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر انّوویشن سٹیٹ (ایجاداتی ریاست) ہیں۔ سویڈن کی کیس سٹڈی پر بحث کریں تو جب معاشی ترقی میں کمی ہوئی تو ویلفیئر سٹیٹ کا تصور بھی مدہم پڑگیا۔ ترقی کا ایجادات کے ساتھ خاصا قریبی تعلق بتایا جاتا ہے۔ پھر ایجادات کی بنیاد غیریقینی صورت حال اور اس کی وجہ سے رسک لیا جاتا ہے۔ (جوئے بازی اسی کی ایک صورت ہے)۔ یہی اقبال نے بھی کہا۔

شفق نہیں مغربی افق پر یہ جوئے خوں ہے/ طلوع فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے بہانہ۔
جہانِ نو ہورہا ہے پیدا وہ عالمِ پیر مررہاہے/ جسے فرنگی مقامروں نے بنادیا ہے قمار خانہ۔

معیشت میں رسک لے کر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ سرمایہ کاری کو موجودہ دور میں پابند کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگر امریکہ کچھ وقت کے لیے ویلفیئر سٹیٹ نہ رہے اور یہ اپنے حقیقی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتا رہے، تو بھی قائم رہ سکتا ہے۔ لیکن انسان ازل سے ہی سمجھنے سیکھنے اور پھر خود سے اپنے نظریات کے مطابق زندہ رہنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس لیے مغربی اندازِ تفکر سے جان چھڑاتے ہوئے اپنے ہی انداز کو برقرار رکھنے کے لیے ماؤزے تنگ نے چین کے آئین میں عوامی جمہوری آمریت کے الفاظ شامل کیے۔ یہ کمال کا اضافہ ہے۔ چین نے مکمل جمہوریت کے بغیر ہی ویلفیئر اور پروڈکشن دونوں کرکے دکھا دی ہیں۔ پروڈکشن زیادہ اور ویلفیئر کم۔ یہاں ہرسال ریڈ سکوائر کی یادیں تازہ کرنے کے لیے مغربی اخبارات شور مچاتے رہ جاتے ہیں لیکن ان کی حکومتوں کو چین سے درآمد بھی کرنا پڑتا ہے، قرض بھی اٹھانا پڑتا ہے اور ساتھ میں سلامتی کونسل میں ویٹو پاور بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ چین کے ویلفیئر کے نظام کی تفصیلات پڑھیے، اس کے آئینی اقدامات کی شقیں دیکھیے۔ چین پانچ کمیونسٹ ممالک میں سے معاشی طور پرکامیاب ملک ہے۔

مسائلِ پاکستان میں کمی کے لیے ویلفیئر ازم کا اضافہ کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ علامہ اقبال کو بخشیے۔ قوم اس سے پہلے تمام قسم کی نقالی کر چکی ہے۔ جمہوریت پر کاربند رہنے کی تمام کوشش۔ بھٹو کا سوشلزم اور پھر دونوں کی ناکامی (جی ہاں۔ ناکامی) کے بعد مارشل لاء کا ڈنڈا۔ اس میں بھی جمہوریت، اسلام اور سوشل ویلفئیر، تمام ہی کے تجربات ایک مستند ڈنڈے کے تحت۔ پاکستانی قوم پر بار بار مارشل لاء کیوں آئے؟ اس لیے کہ اس قدر ہمہ گیر و مختلف الذہن معاشرہ، کبھی کسی ایک مقصد پر متفق رہ نہیں سکا۔ بہت سے اتحادات بنے اور سب ہی بہت جلد بکھر گئے۔ کم ہی کوئی اتحاد حکومت کرنے کی منزل پر پہنچا۔ حمید گل صاحب کا اسلامی جمہوری اتحاد کا تجربہ دوسال میں ہی اختتام پذیر ہوگیا تھا جب کہ خود مسلم لیگ کا بھان متی کا کنبہ اب نواز شریف کے ساتھ اختتام پذیر ہو سکتا ہے۔ کیا مزید نقالی کی کوئی صورت و ضرورت و فائدہ باقی رہ جاتے ہیں؟ اگر ہم بطور قوم کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں ہو پاتے اور ہمارے عظیم ترین ادارے کسی بھی ایک اہم اصول کو پاکستان کی بنیاد تسلیم نہیں کرتے تو کیا ویلفیئر سٹیٹ بننے کی نقالی کرسکتے ہیں یا کرکے کسی صورت ترقی کر پائیں گے؟

مشرف نے ویلفیئر سٹیٹ کی تمام بنیادیں فراہم کردی تھیں۔ نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو کے تمام اقدامات اس کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن ویلفئیر ازم کو جن سیاسی بنیادوں کی ضرورت تھی، وہ فراہم نہیں کی گئیں۔ جمہوری حکومتیں اس ویلفیئر ازم کو لے کر ہی نہیں چل پائیں۔ پروڈکشن اور پھر ری ڈسٹری بیوشن ذرا بعد کے اور دقّت طلب مراحل ہیں جہاں خالص جمہوریت (وہ بھی اسلامی معاشرے میں) بڑے مسائل سے دوچار ہوگی۔ وہاں ایک پارٹی کی جمہوریانہ آمریت یا آمرانہ جمہوریت کامیاب ہوسکتی ہے۔ اقبال جیسے مفکرین ہمیں اکٹھا رکھنے، جوڑنے اور برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایسے کچھ مزید مفکرین موجود ہوں تو ہم مضبوط اندرونی جوڑ بناسکتے ہیں جس کے نتیجے میں اتحادات کچھ عرصہ کسی ایک ایجنڈے اور مقصد پر موجود رہ سکتے ہیں۔ ایسے اتحادات بعد میں اپنے مقاصد بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ مقاصد کچھ بھی ہوسکتے ہیں مثلاً ترقی، انفراسٹرکچر، ویلفیئر یا کسی دشمن کے بالمقابل طویل محاذ آرائی۔ یاد رکھیے یکایک فیصلہ کن اور یکبارگی جنگ مشکل کام ہے۔ طویل محاذ آرائی کی قوت حاصل کرکے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر قوتیں یہی کرتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ایک مقصد و اتحاد کے بغیر ہونا مشکل ہے۔ قومی فلسفی (جنھں ہم حکیم الامت بھی کہتے ہیں)، جیسا کہ علامہ اقبال ہیں ہمیں اکٹھا رہنے کے لیے مقاصد اور ترجیحات فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اسلام اور اس میں بھی عشقِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کا بنیادی نکتہ ہے۔ خودی کے علاہ باقی نکات بہت سے ہیں۔ لیکن علامہ نے جہاں جمہوریت پر تنقید کی ہے، اسے غور سے پڑھ کر اور اس پر مزید کوشش کرنے سے کوئی بھی جمہوریت کی خامیوں سے جان چھڑا کر حقیقی نظامِ عمل فراہم کرسکتا ہے۔ ہمارے دوسرے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی تھے۔ جنھیں ہم بھول ہی جاتے ہیں۔ مقاصد موجود ہیں۔ ادارے بھی ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی ہیں۔ لیکن قومی مقصد حاصل کرنے کے لیے واضح سیاسی فکر اور دیرپا اتحادات پر مبنی جس طویل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، وہ نہیں ہوپائی۔ ہمارے قائدین ضروری جدوجہد یا مقصد کے حصول کے لیے ضروری قربانی دینے سے اجتناب کرتے رہے۔ کچھ کھیل کھیلتے رہے۔ لہٰذا نہ تو انڈسٹری لگی، نہ پروڈکشن ہوئی اور نہ ہی ویلفیئر۔ مشرف ناکام ہوکر بھا گ گیا۔ نیا جمہوری قائد لائیے۔ اسے اس ایجنڈے کے لیے تیار کیجیے اور پھر آغاز کیجیے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ضروری نہیں کہ انسان کی ہر ایک پیش گوئی پوری ہو۔ مکمل ایمان قرآن و حدیث پر ہونا چاہیے۔ مذہبی معجزات کے وقوع پذیر ہونے کو یقینی سمجھیں۔ اقبال یا کوئی انسان چاہے جس قدر بڑا ہوجائے اور ایک نہیں دو، تین یا چار انقلابات لانے کا محرک بھی بن جائے، پھر بھی اس کی ذاتی تحریک ختم ہوجائے گی۔ ایسی کسی تحریک کے اجزاء کا بھی باقی رہنا بعید از قیاس ہے۔ بہرحال اس کے باوجود اقبال کو نابغہ تسلیم کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اقبال نے اسلام کے اصولوں میں سے ترجیحی امور کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ دور پر تنقید کی۔ اسلام ابدی حقائق اور مکمل ترین ادوار سے کم ازکم عرصے میں گزرنے والا بہترین نظام ہے۔اس کے بنیادی اجزاء کو ترجیحات کے ساتھ سمجھ لینے سے حکمت کے کچھ اسرار و رموز سے آگہی ضرور ہوسکتی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر ایک پیش گوئی پوری ہوجائے۔ ممکن ہے کہ کسی ایک آدھ پیش گوئی کو یا کسی تحریک کو قدرت کی جانب سے پذیرائی مل پائے۔ لیکن ایسا ہوتے چلے جانا اور پھر یہ یقین بنا لینا کہ ہمارے شاعر کی پیشین گوئی اس قدر اہم ہے کہ وہ ضرور بالضرور ہی درست ثابت ہوگی، کچھ مناسب نہیں۔ شعر کو سمجھ لینا اور اس کے ضمن میں بحث و تمحیص ممکن ہے، لیکن یہ یقینی بنانا یا اس یقین کا دفاع کرنا کہ پیش گوئیاں پوری ہوں گی، آگہی سے خالی ہوجاناہے۔ اس پر کسی شاعر کو مطعون کرنا مزید خرابی کا موجب ہے۔ شاید اقبال کے اس شعر کو کچھ نہ کچھ حقیقت میسر آجائے۔ حقیقت میسر آنے کے امکانات پر بات ہوسکتی ہے۔اور اس کے برعکس ہونے کے بھی شاید اتنے ہی امکانات ہوسکتے ہیں۔ ہمارا علم یقینی نہیں۔ یقینی علم تو فقط اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے۔لیکن کسی ظالم کی رسی دراز ہوتے دیکھ کر آرزو یا خواب پالنے والے سے شکایت بھی نہیں ہونی چاہیے۔

تحریر کنندہ کو اس شعر کے اجزا سے الفت ہے۔ اس تحریر کے بعد مجھے اس کے حصے بخرے کرنے اور انھیں سمجھنے میں وقت صرف کرنا ہوگا۔ تہذیب، خودکشی، خنجر، شاخِ نازک، آشیانہ اور ناپائیداری، یہ تمام شعر کے الفاظ ہیں۔ تہذیب کو سمجھنا مجھ جیسے معیشت کے طلبا کے لیے دور کی کوڑی ہے۔ تہذیبی خود کشی، اس کا آخری مقام ہے، اس لیے تہذیب کو سمجھے بغیر ابتدا و اختتام سمجھنا مزید مشکل کا باعث ہوگا۔ کسی بھی بظاہر حقیقت کی تہ میں مضمر عوامل کو سمجھنا بڑی کوشش ہے اور یہ فقط اہلِ علم کو نصیب ہوتی ہے۔ہمیں نتائج سے سمجھنا ہوگا۔ میں تہذیبِ مغرب پر اقبال کی تنقید کی بنیادوں کو سمجھنا چاہوں تو شاید کچھ سرا پا سکوں۔ جہاں اقبال نے سوشلزم کو شکم پر مبنی نظام کہا، وہاں مغرب کو ایسا قرار نہیں دیا۔ مغربی تہذیب کے اجزا کچھ زیادہ ہمہ جہت ہیں۔ اس لیے اقبال کی تنقید بھی فرنگ پر کہیں زیادہ ہے۔ پھر بھی معاشی انداز میں خود اہلِ مغرب اسے بیان کرتے ہیں تو کیا قباحت ہے کہ ایسا ہی سمجھا جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اہلِ مغرب شکم پروری کی جانب آچکے ہیں۔ کیونکہ لادینی فکر نے دور تک ڈیرے جمالیےہیں۔ جب مغرب نے عراق و افغان پر حملہ کیا تو گویا جمہوریت کے نام پر اپنی تمام طاقت صرف کردی۔ براہِ راست ایک نظریے کو لےکر حملہ آور ہونے سے مراد اپنی مذہبیت کا انکار تھا۔ اس کا اس قدر واضح اظہار اس سے قبل نہیں ہوا تھا۔ روس افغان جنگ تک مغربی یوں کھلم کھلا مذہب سے نہیں ٹکرائے تھے۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ پوزیشن کئی دہائیوں تک قائم رہ سکتی ہے۔ مغربی مذہب کے بالمقابل آن کھڑے ہوئے ہیں۔ اب یہ روحانیت (غیب پر یقین) اور ظاہر پر یقین یا عوامی جمہوریت پر یقین کی جنگ ہے۔ اس بے وقوفی میں اضافہ اقوامِ متحدہ کی وجہ سے بھی ہوا ہے۔ یہ بڑی شدت اختیار کرے گی تو دو واضح سمتیں جھلکنے لگیں گی۔ یقین کا وسائل کے ساتھ ٹکرا جانا صاف معلوم پڑسکتاہے۔ ایسے میں مغربی وسائل کو سمجھنا اور اس کی حقیقت کو کریدنا ضروری ہوگا۔ اگر ان وسائل کی کچھ غیر طبعی بنیادیں بھی موجود ہیں تو ان کو سمجھ لینا میرے بس کی بات نہیں۔ شاید کوئی دوسرا کرپائے۔میں معاشی جانب کو سمجھ کر کچھ رائے دے سکتا ہوں۔

مغربی وسائل سمجھنے کے لیے کچھ دور تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔ مغرب سے عیسائیت کو دیس نکالا دینے میں پروٹیسٹنٹ (احتجاجی تحریک) نے اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن چرچ کے بالمقابل سماجی ادارے قائم نہیں کیے تھے۔ حکومتی ادارے ضرور بنائے گئے جنھوں نے بادشاہ کے کردار کو کم کردیا۔ پوپ کا کرداراحتجاجی چرچ سے ہونے لگا۔ پوپ کو ختم کرنے کی موجودہ دور میں باقاعدہ سرکاری مہم چلائی ہی نہیں گئی۔ موجودہ دور میں چرچ کے بالمقابل کئی ادارے وجود میں آئے۔ مسجد، لیبر یونین، آزادی کا راپ الاپنے والی این جی او، یا دہریوں کی تنظیمات جنھوں نے حال ہی میں اپنے دفاتر سے شادیاں کرانے کے اجازت نامے حاصل کیے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
اقبالاقبال اور مغرباقبالیاتعلامہ اقبالفلاحی ریاستمغرب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
جاوید اقبال

previous post
وقت کسی کا نہیں: برلن کا ایک یادگار سفر ۔۔۔ حصہ 2 ۔۔۔ شاہین کاظمی
next post
رمل علی کی اصلیت: چامکوں کی پریشانی — شوکت علی مظفر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.