تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

انٹری ٹیسٹ، بے ضابطگیوں کا سدباب ناگزیر : مظہر چوہدری

by دانش ڈیسک 24/09/2017
written by دانش ڈیسک 24/09/2017
67

ویسے تو میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کیلئے منعقد ہونے والے انٹری ٹیسٹ پر وقتاً فوقتاً سوالیہ نشان اٹھتے رہے ہیں لیکن 20 اگست 2017ء کو پنجاب بھر کے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ میں پرچہ آؤٹ ہونے سمیت مختلف نوعیت کے تکنیکی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ انٹری ٹیسٹ کے پرچے کی مبینہ لیکج اور فزکس پورشن کے سوالات کے حل میں پیش آنے والی تکنیکی مشکلات کے خلاف نا صرف لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں طلبہ وطالبات سراپا احتجاج رہے بلکہ ایک درجن سے زائد درخواست گزاروں نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کالعدم قرار دینے اور ذمے داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کر رکھا ہے۔ عدالت نے 24اگست کو انٹری ٹیسٹ کے نتائج پر عمل درآمد روکتے ہوئے بعد ازاں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پنجاب حکومت سے جواب بھی طلب کئے۔ اب تک ہونے والی سماعتوں میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پنجاب حکومت عدالت کو تسلی بخش جوابات فراہم نہیں کر سکیں۔ 18ستمبر کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وکیل کے دلائل کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر کی لیکج کا معاملہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ فاضل جج نے یو ایچ ایس کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ پبلک نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو کیسے بے گناہ کہہ سکتے ہیں۔ عدالت نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج پر جاری کردہ اپنے حکم امتناعی میں 25ستمبر تک کی توسیع کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ایف آئی اے کی رپورٹ سمیت دیگر ضروری دستاویزات مہیا کرنے کے احکامات سنائے۔ واضح رہے کہ انٹری ٹیسٹ کے پرچے کی مبینہ لیکج کے بعد ایف آئی اے نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ناقص امتحانی نظام پر تحقیقات شروع کرتے ہوئے رپورٹ مرتب کی تھی جسے حکومت کی جانب سے پبلک نہیں کیا گیا۔

پنجاب میں میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد 1998ء سے کیا جا رہا ہے۔ پہلے تین سال انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی نے انٹری ٹیسٹوں کا اہتمام کیا جبکہ 2001 سے لیکر 2007 تک ہونے والے انٹری ٹیسٹ یو ای ٹی (یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی) کے زیر نگرانی منعقد ہوئے۔ 2008ء میں میاں شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ لینے کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو سونپ دی گئی۔ شروع کے کچھ سا ل میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ایف ایس سی کے 70فیصد اور انٹری ٹیسٹ کے 30 فیصد نمبروں سے ایگری گیٹ بنتا تھا لیکن چند سال قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے انٹری ٹیسٹ کے فیصدی نمبروں کو بڑھاتے ہوئے انٹرمیڈیٹ کے نمبروں کو کم کر دیا گیا۔ نئے فارمولے کیمطابق میٹرک کے 10فیصد، انٹرمیڈیٹ کے 40فیصد اور انٹری ٹیسٹ کے 50 فیصد نمبروں سے ایگری گیٹ بنتا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے فیصدی نمبر بڑھنے سے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ذہین بچوں کی حق تلفی ہوئی ہے۔ امیر گھرانوںکے بچے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرانے والی ایسی مشہور ومعروف اکیڈمیز کی بھاری بھرکم فیسیں ادا کر کے انٹری ٹیسٹ میں اچھے نمبرز حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جو انٹری ٹیسٹ میں آنے والے پرچے یا سوالوں کو وقت سے پہلے حاصل کرنے کا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہ لاہور سمیت بڑے شہروں میں واقع مشہور و معروف اکیڈمیز انٹری ٹیسٹ پیپر کے حصول کیلئے باقاعدہ بولیاں لگاتی ہیں۔

20اگست کو لیے جانے والے انٹری ٹیسٹ پر پرچے کی مبینہ لیکیج کے علاوہ فزکس سے متعلقہ پورشن میں پوچھے جانے والے مشکل ترین سوالات ہیں۔ ماہرین کے مطابق فزکس پورشن میں پوچھے جانے والے بیشتر کثیر الانتخابی سوالات کی نوعیت تھیورٹیکل کے بجائے نمیریکل تھی۔ اساتذہ کے مطابق ان مشکل سوالات کو حل کرنے کیلئے فی سوال کم از کم پانچ منٹ درکار تھے جبکہ انٹری ٹیسٹ میں ہر سوال کو حل کرنے کیلئے امیدوار کے پاس صرف 45 سیکنڈز ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے جانے والا انٹری ٹیسٹ کا پرچہ 220’’ایم سی کیوز‘‘ یا کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل ہوتا ہے جن کو حل کرنے کے لئے امیدوار کے پاس صرف اڑھائی گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ میڈیکل کالجز کے انٹری ٹیسٹ کے پرچے میں بیالوجی سے متعلقہ 88 ایم سی کیوز ہوتے ہیں جبکہ کیمسٹری اور فزکس سے متعلقہ ایم سی کیوز کی تعداد بالترتیب 58 اور 44 ہوتی ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے پرچے میں 30ایم سی کیوز انگلش سے متعلقہ بھی ہوتے ہیں۔ میڈیکل کالجز میں ہونے والے انٹری ٹیسٹوں کی ایک بڑی قباحت نیگیٹو مارکنگ بھی ہے۔ انٹری ٹیسٹ میں ہر درست جواب کے 5 نمبر ملتے ہیں لیکن جواب غلط ہونے کی صورت میں امیدوار کا ایک نمبر کاٹ لیا جاتا ہے۔ نیگیٹو مارکنگ کی وجہ سے امیدوار سوچ سمجھ کر سوالات حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی شش وپنج میں طلبہ و طالبات کی اکثریت بہت سے سوالات کے جوابات مارک کئے بغیر چھوڑ آتی ہے۔ انٹری ٹیسٹ میں ایک سوال کے جواب کیلئے 45سیکنڈ کا وقت بھی بہت کم ہے۔

انٹری ٹیسٹ کے مروجہ طریقہ کار میں خامیوں اور بے ضابطگیوں کو دور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ سنٹرل پیپرز مارکنگ سسٹم سے سکینڈری بورڈز کو غلطیوں سے پاک قرار دینے کے دعوے کرنے والی پنجاب حکومت کو انٹری ٹیسٹ ختم کر دینا چاہیے کہ انٹری ٹیسٹ پنجاب کے کچھ سیکنڈری بورڈز میں نقل کے رجحان اور مارکنگ سخت نہ ہونے کی وجہ سے شروع کئے گئے تھے۔ انٹری ٹیسٹ سیکنڈری بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ غریب والدین پر اضافی معاشی بوجھ ہے۔ حکومت کو انٹری ٹیسٹ جاری رکھنے پر اصرار کے بجائے تعلیمی معیار اور سیکنڈری بورڈز کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ فی الفور انٹری ٹیسٹ ختم کرنا قباحتوں کو جنم دینے کے مترادف ہے تو حکومت کو انٹری ٹیسٹ کے مروجہ طریقہ کار میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے تو حالیہ انٹری ٹیسٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور تکنیکی مسائل کے حل کے لئے انٹری ٹیسٹ کا مکمل پرچہ یا کم از کم فزکس پورشن کو دوبارہ لینے کے فوری اقدامات کئے جائیں۔ اس کے علاوہ حکومت اگلے سال سے انٹری ٹیسٹ کے نمبروں کی شرح 50فیصد سے کم کر کے 25فیصد کرنے کا اعلان کرے۔ انٹری ٹیسٹ کا انعقاد انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے اعلان کے ایک ماہ بعد کیا جائے تو اس سے نا صرف بچوں کے لئے حاصل کردہ نمبر دیکھ کر ٹیسٹ میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے بلکہ ٹیسٹ کی تیاری کرانے والی اکیڈمیزکا کاروبار محدود ہونے سے طلبہ و طالبات پر مالی بوجہ بھی قدرے کم ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments Box
Entry Testانٹری ٹیسٹتعلیمتعلیمی ادارےداخلہطلبہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
زنداں کا سکوت: شہنیلہ بلگم والا
next post
اقبال ایک جدت پسند مفکر : اعجازالحق اعجاز

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.