تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

این ا ے 120: ریشم سے زیادہ نرم یا آگ سے زیادہ گرم: خبیب کیانی

by دانش ڈیسک 16/09/2017
written by دانش ڈیسک 16/09/2017
140

این ا ے ۱۲۰کا معرکہ اپنے آ خری مرحلے کی جانب گامزن ہے۔سیا سی جماعتوںکی مہم بظاہر ایک سادہ عمل ہے جس میںکسی بھی گلی محلے کے سیاسی کارکنان اپنے لیڈر کے فراہم کردہ فنڈز اور راہنمائی کے ساتھ عام ووٹر کو راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ این ا ے ۱۲۰کی حالیہ مہم اس سادگی سے کوسوں دور رہی۔حلقے کا رہائیشی ہونے کی وجہ سے تمام پارٹیوں کی سیاسی مہم کا براہ راست مشاہدہ ایک دلچسپ تجربہ رہا۔ مینیجمنٹ اور سٹریٹیجی کے طالب علم کے طور پر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔مختلف سیاسی جماعتوں کی مہم پر مختصر تبصرہ حسب ذیل ہے۔

خبیب کیانی

پاکستان مسلم لیگ (ن):

وفاقی و صوبائی حکومت،منظم بنیادی ڈھانچہ،مہم چلانے کا تجربہ اور ترقیاتی فنڈز کے بلا خوف و خطر استعمال جیسے عوامل کو مسلم لیگ ن کی سیاسی حکمت عملی کے اہم ستون کہا جا سکتا ہے۔ اپنے مخالف کو اچانک حیران کر دینے کی صلاحیت اور مہم کے مختلف لوازمات (پوسٹرز، بینرز،انتخابی دفاتر،بریانی حلیم کی دیگیں، بوتلیں، سیاسی ریلیز،لائوڈسپیکرز پر جگہ جگہ نغموں کی گونج وغیرہ) کی مقدار میں اپنے مخالفین سے وا ضح برتری ن لیگ کی انتخابی حکمت عملی کے اہم ترین ہتھیا ر ہیں۔مریم نواز نے ایک اچھی خاصی متحرک مہم چلائی اور کمال مہارت سے اپنے ووٹر کو جذباتی کرنے کی بھر پور کوشش کی۔گلی محلوں سے دور رہ کر چلائی گئی اس مہم کے دوران مریم اپنے والد کی حلقے سے برتی جانے والی بے رخی سے مکمل واقف تھیں اور اسی لیے مہم کا دائرہ کار مین سڑکوں تک محدود رکھا گیا۔ اگر وہ گلی محلوں میں جاتیں تو کارکردگی کی بنیاد پر انہیں یقینی طور پر ٹف ٹا ئم دیا جاتاجو ان کے خلاف جا سکتا تھا۔ کارکنوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے فنکشن رکھے گئے تا کہ ہر طبقے کے ووٹرز کو متحرک کیا جا سکے۔ ترقیاتی کاموں میں جتنی تیزی ان چند دنوں کے دوران آ ئی وہ شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سر گنگا ہسپتال سے لے کر مزنگ اڈہ سے تک کے روڈ کو کارپٹ کیا گیا، آس پاس کے گلی محلوںکے معمولی سے معمولی گڑھوں کو بھرا گیا، جس کی جو شکایت آئی اس کو حل کیا گیا یا حل کرنے کی یقین دہا نی کروائی گئی، وہ یونین کونسل دفاتر جہاں ناظمین کی شکل خال خال نظر آتی تھی رات گئے تک کھلی رکھی گئیں۔ ان تمام بے ضابطگیوں پر بعض چینلز نے شور ڈالا مگر الیکشن کمیشن حسب روایت کمزوری دکھا گیا۔ حکمران جماعت بہر حال اس مہم کی سب سے تگڑی طاقت ہے اور ممکنہ فاتح بھی مگر جماعت کے اندر اس بات کو لے کر کافی پریشانی ہے کہ فتح کا گزشتہ مارجن برقرار رکھنا ممکن ہو پائے گا یا نہیں۔ اگر ایسا نہ ہو پایا تو شاید فتح بھی شکست ہی تصور کی جائے گی۔ رہی بات مریم نواز کو انتخا بی مہم کا کریڈٹ دینے کی تو میری رائے میں مریم کا کریڈٹ ضرور بنتا ہے مگر ثانوی۔ ان کی مہم پہلے سے موجود موافق عوامل کی محتاج تھی۔ اس مہم کی بنیاد پر ان کے سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ لگانا ایک غلطی ہی گنا جا سکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف:

موجودہ ماحول اس بات کے واضح اشارے لیے ہوئے ہے کہ اس مقابلے میں مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف ٹف ٹا ئم دے سکتی ہے۔سپیکر ایاز صادق سے کڑے مقابلے کے بعد ہارنے والی تحریک انصاف کی موجودہ مہم کافی منظم رہی۔ حلقے میں بنیادی ڈھانچے کی تنظیم کی گئی، مسلم لیگ کے مقدار کے وار کو بھی نیوٹرلائیز کیا گیا، جگہ جگہ انتخابی دفاتر قائم کیے گئے،ڈاکٹر یاسمین راشد گلی گلی محلے محلے جا کر ذاتی حیثیت میں لوگوں سے ملیں، بینرز،پوسٹرز، نغموں کسی بھی جگہ ن لیگ کی برتری کو قائم نہیں رہنے دیا گیا، بلدیاتی و صوبائی نمائندے متحرک رہے اور ہر گزرتے دن کے پارٹی کی موجودگی کو نمایاں کیا گیا۔ اس مہم کے دوران تحریک انصاف کی اہم ترین کامیابی حلقے کے نوجوان اور خواتین ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرناہے۔ اس کا کریڈٹ ڈاکٹر یاسمین راشد کی ڈور ٹو ڈور مہم اور عمران خان کی کرپشن کے خلاف انتھک جدو جہد ہے۔ بزرگ ووٹرز میں سے بھی بہت سے ووٹرز تحریک انصاف کے لیے جھکائو رکھتے ہیں مگر عمران خان کے غیر ضروری بیانات کو لے کر کنفیوزڈ نظر آتے ہیں۔ اپ سیٹ نا ممکن نہیں ہے ممکن ہے مگر اس کا دارومدار آخری دن کی کارکردگی پر ہو گا۔ اگر تحریک انصاف خواتین ووٹرز کو نکالنے میں کامیاب ہو گئی اور پہلے دو تین گھنٹے اچھے مینیج کر گئی تو کچھ بھی ممکن ہے۔ گزشتہ انتخابات کے مارجن میں واضح کمی بھی سیا سی پنڈتوں کے نزدیک تحریک انصاف کے حق میں جائے گی کیونکہ یہ امر ۲۰۱۸ کے انتخابات کے لیے پارٹی کو مومینٹم فراہم کرے گا۔

ملی مسلم لیگ:

سیاسی قد کاٹھ، تجربے اور وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر کسی پارٹی کی مہم کو نمبر ون کہا جائے تو بلاشبہ ملی مسلم لیگ نمبر ون رہی۔ آزاد امیدوار شیخ محمد یعقوب کی حمایت میں آنے والی ملی مسلم لیگ ابھی باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ جماعت نہیں ہے لیکن جس احسن اور منظم انداز میں حلقے کے ایک ایک گھر اور گھر میں موجود افراد اور ان کے ڈیٹا کو اس جماعت کے کارکنان کی طرف سے کور کیا گیا وہ قابل تحسین تھا۔ مہم میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی لائی گئی جو بہترین انداز میں پلان کی گئی تھی۔ بعض تجزیہ کار اس جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی جماعت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بہترین مہم کے بعد اگر یہ جماعت پیپلز پارٹی کے بجائے تیسری قوت کے طور پر ابھرتی ہے تو یہ حیران کن ہر گز نہیں ہو گا۔ انتخابات جیتنا تو شاید ممکنات میں نہیں مگر اس مہم کی پلاننگ میں اس جماعت کا کوئی ثانی موجود نہیں۔

دیگر:

انتہائی تکلیف کے ساتھ دیگر میں پیپلز پارٹی کو بھی شامل کر رہا ہوں۔ میری ذاتی رائے ایک مضبوط لیفٹ کی جماعت ہمارے سیاسی نظام کے لیے ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی ایک بہت اچھی پوزیشن سے آج اس جگہ پر آن پہنچی ہے کہ واپسی شاید کئی سال لے لے۔ تیسری پوزیشن کا مقابلہ پیپلز پارٹی، ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک کا ہو گا جس میں بظاہر دونوں مذہبی جماعتیں بہتر پوزیشن میں نظر آرہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کو پڑنے والا ووٹ کس پارٹی کے ووٹ بینک سے ٹوٹتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں یہ ووٹ مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک سے ٹوٹے گا جس کی اہم وجہ ممتاز قادری کے معاملہ پر مسلم لیگ ن اور مذہبی جماعتوں کے نظریہ میں بعد ہے۔ جماعت اسلامی کی مہم کافی کمزور رہی اور نئے ووٹر کو متوجہ کرنے میں ناکام رہی۔ ہا ں اتنا ضرور ہے کہ جماعت کے کارکن یا ووٹر کا ووٹ توڑنا دوسری کسی بھی پارٹی کے ووٹ کو توڑنے سے کہیں مشکل ہے۔ ملی مسلیلیگ، تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان آخری دن تصادم کا واضح خطرہ موجود ہے۔ یہ نہ تو مسلم لیگ ن کے ریشم سے نرم جیت ہو گی اور نہ ہی آگ سے کم گرم الیکشن۔ خواہش ہے کہ سارا عمل پرامن انداز میں مکمل ہو یہ الیکشن بہتری کی جانب ایک قدم ثابت ہو۔

Facebook Comments Box
featuredNA 120پیپلز پارٹیجماعت اسلامیسیاستضمنی الیکشنلاہور ضمنی انتخابمسلم لیگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شکوہ جواب شکوہ دور جدید کے آئینے میں: یگانہ نجمی
next post
دانش daanish.pk پر ہی کیوں؟ چوہدری محمدخان قلندر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.