تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

سنگ ہر شخص نے ہاتھوں پہ اٹھا رکھا ہے: ظفر اللہ

by دانش ڈیسک 15/09/2017
written by دانش ڈیسک 15/09/2017
100

بیانیہ کی کاشت میں جُتے ہمارے شوقیہ دانشوران کو دیکھ کر ایسا لگنے لگا ہے کہ گویا وہ اس ملک کو دو بیلوں کی لڑائی کا اکھاڑہ بنانے کے خواہاں ہوں. کبھی بنام قوم باچاخانی بیانیہ تو کبھی متبادل بیانیہ، اور اب تیسرا یعنی پاپولر بیانیہ کہ دو انتہاوں میں سے کسی ایک انتہا کو اپنایا جائے یعنی آپ کو یا تو ٹائیگر ہونا پڑے گا یا پھر پٹواری۔۔۔

محترم آصف محمود صاحب نے کچھ دن پہلے اس حوالے سے بڑا اہم اور مدلل کالم لکھا ہے، آپ وہ ملاحظ کریں تو قوم کو سینگوں پر اٹھانے کی پوری کہانی آپ کو سمجھ آجائے گی.
پاپولر بیانیہ کے دو پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں. پہلا اس فیصلہ سے قبل اور مابعد جو زبان ایک دوسرے کے لئے استعمال کی گئی وہ اور دوسرا اس فیصلہ سے ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا کرنا چاھئے تھا اور پھر یہ کہ ہمارا انصاف کا نظام اتنا سست اور ادارے کیوں زبوں حالی کا شکار ہیں.!!!؟؟؟
پہلےکہا جاتا تھا کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے مگر آج اسے ثابت کرکے دکھایا جاتاہے. کچھ عرصہ سے یہ احساس شدت سے کچوکے لگانے لگا ہے کہ بدزبانی کا بےقابو ہوتا جن ہماری قیمتی اقدار کو کب تک نگلتا رہے گا. یہ نگلے یا نہ نگلے مگر حالیہ کچھ دنوں میں طرفین کی طرف سے جو معیار مقرر کیا گیا ہے اس نے اخلاقی اصولوں کی جس طرح دھجیاں اڑا کے رکھ دی ہیں وہ قابل تشویش ضرور ہے۔

پانامہ اور اقامہ کے معاملہ میں ہم نے کتنا وقت صرف کیا اور اس مصرف کا ماحصل کیا رہا؟ منظر نامہ اب بھی دھندلا سا ہے، پاکستان میں پانامہ کے حوالے سے "یہ کوئی” 430 کے لگ بھگ لوگوں کا نام آیاہے. اس حوالے سے عدلیہ نے صرف چار لوگوں کا احتساب کیا اور اس میں بھی "یہی کوئی” چار مہینے کا ٹائم لگایا گیا. میں اس فیصلہ کے حامیان میں شمار ہوتا ہوں اس لئے اس تھوڑے پر بھی ہم خوش ضرور ہیں مگر اس پہ کامل مطمئن نہیں. اس کی ایک وجہ ہے اور جس کی طرف میں بار بار اشارہ کررہاہوں کہ احتساب کا یہ معاملہ اب رکنا نہیں چاھئے سب کو اس ترازو میں تولا جائے تبھی انصاف کا بول بالا ہوگا بصورت دگر یہ فیصلہ محض جوڈیشل ایکٹوزم کے زمرے میں آئے گا اور کل کلاں کو لوگ اس کو عدالتی قتل کہنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

انڈیا کی مثال لے لیں انڈیا کی سیاست ہم سے کہیں بڑھ کر میچور ہے وہاں بھی پانامہ کے سلسلہ میں بڑے پیمانےپر اسکینڈل سامنے آئے مگر مجال ہے جو اس پر کوئی سیاست دیکھنے کو ملی ہو یا سننے میں آئی ہو.ہمارے ہاں اس معاملہ کو صرف ایک شخص سے نتھی کرکے اداروں کے پسینے بہائے گئے. وہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی. ادارے حرکت میں آئے اور بہت کچھ مال مسروقہ برآمد کیا گیا. یہاں پانامہ اسکینڈل کے حوالے سے سیاستدانوں میں سے بہتوں کے نام آئے تھے جن میں رحمن ملک اور بےنظیر صاحبہ کا نام بھی شامل تھا جہانگیر ترین سمیت عمران خان بھی ان میں شامل تھے. مگر تفتیشی دائرے میں ان کو لانے کے بجائے کسی کو مدعی اور کسی کو مدعا علیہ بنا کر معاملہ کو عجیب رخ دیا گیا.یہ ملکی اداروں کی نااہلی نہیں تو اور کیا ہے؟

سراج الحق نے جب "احتساب سب کا” مطالبہ کیا تو اس وقت بجائے کہ اس کا ساتھ دیا جاتا الٹا اسے بھی کیس کو محدود کرنے کا مشورہ دیا گیا اور وہ بھی پاپولر بیانیہ کی بھینٹ چڑھا. اگر کیس کو صحیح معنون میں آگے لایا جاتا تو تمام پانامیوں کا بیک وقت احتساب ممکن تھا اور یہی اصل چیز ہے. وڈے دانشور فرماتے ہیں کہ عدلیہ کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تمام پانامیوں کو احتساب کے شکنجے میں کسے، تو گویا وہ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ ہماری عدلیہ اور تفتیشی ادارے انصاف کے معیار پر خود بھی پورا نہیں اترتے ہیں۔

بھارت کے 700 شہریوں کے نام پانامہ میں سامنے آئے تھے۔ مئی 2017 تک بھارتی حکومت ان میں سے 628 افراد سے 8437 کروڑ روپے ریکور کر چکی ہے۔ ہم نے سوا سال صرف ایک شخص کے تعاقب میں پورے ملک کو عملا معطل رکھ کر سوائے صادق اور امین کھیلنے اور نا اہلی وصول کرنے کے کیا حاصل کیا؟ اس پر ایک عام انسان بن کر سوچئے اس پہلے کہ آپ ٹائیگر اور پٹواری نامی مخلوق کا حصہ بن جائیں۔۔۔

Facebook Comments Box
احتسابپانامہسراج الحق
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آزادیِء رائے کو بھونکنے دو: سلیم احمد کی یادگار تحریر
next post
….تے بیبا ساڈا دل موڑ دے: سحرش عثمان

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.