تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

ہاتھی کی قربانی —- ابن فاضل

by دانش ڈیسک 31/08/2017
written by دانش ڈیسک 31/08/2017
102

ہاتھی کس زبان کا لفظ ہے۔
ہاتھی لفظ نہیں جانور ہے۔
اچھا تو پھر ہاتھی کس زبان کا جانور ہے۔
ہاتھی کی کی کوئی زبان نہیں ہوتی وہ بے زبان جانور ہے
لیکن ہاتھی کی تو زبان ہوتی ہے میں نے خود دیکھی تھی چڑیا گھر میں
وہ ہتھنی ہو گی۔ ہاتھی اور شوہر بے زبان جانور ہیں۔
چلو یہ بتاؤ ہاتھی کو ہاتھی کیوں کہتے ہیں۔
یہ تو پتہ نہیں، لیکن ہے زیادتی۔ اتنا۔۔۔۔ بڑا۔۔۔ جانور اور اتنا سا نام۔ ہاتھی۔ کم سے کم ہاتھا ہی ہوتا۔

ہوسکتا ہے کہ پہلے پہل ہاتھا ہی ہوتا ہو اور پھر ہاتھا پائی والوں نے سٹے لے لیا ہو۔ تو اس کو ہاتھی کر دیا گیا ہو۔ ویسے "تھی” تو موئنث کا صیغہ ہے نا اور وہ بھی ماضی کا۔ ہا۔۔ تھی۔ یعنی کوئی ہا۔۔ تھی جو اب نہیں ہے۔ کس قدر زیادتی ہے۔ اور کچھ نہیں تو۔۔۔۔ "ہاہے” ہی کرلیں۔ کم از حال کا صیغہ تو ہے۔ بلکہ اس کے سائز کے حساب سے تو "ہاہاہاہاہاہے” ہونا چاہیئے .
اصل میں اس کا نام پہلے سنگھاڑا تھا جو اس کے جسم اور ہیئت پر بہت جچتا تھا۔ لیکن پھر لال بجھکڑ کی غلطی سے ہاتھی ہو گیا۔
وہ کیسے؟
ہوا یوں کہ ایک دفعہ لال بجھکڑ کا دہلی جانا ہوا۔ وہاں اس نے بادشاہ سلامت کو ایک بڑے سے جانور پر جاتے دیکھا۔ اتنا چھوٹا بادشاہ اور اتنا بڑا جانور دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا .بطور خاص اس کی ٹانگوں سے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس نے اس پایے کے پایے نہ دیکھے تھے اور نہ ہی کھائے تھے۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے تو لوگوں نے بتایا کہ "سنگھاڑا”۔ اس نے فوراً اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا۔ پھر کچھ دن بعد اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریڑھی پر سنگھاڑے بیچ رہا تھا۔ اس نے یہ بھی پہلی بار دیکھے تھے۔ اشتیاق سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ اشتیاق نے جواب دیا "ہاتھی”۔ یاد رہے کہ اشتیاق ریڑھی والے کا نام تھا۔ فوراََ ڈیری میں نوٹ کیا "ہاتھی”۔ انانوے دن کے بعد جب لال بجھکڑ پشاور سے تھوڑا آگے اپنے گاؤں پہنچا تو اس کے روحانی شاگردوں کا ایک جم غفیر اس کو دیکھ کر امڈ پڑا۔ یعنی وہ تینوں ریٹائرڈ بزرگ جن کے ساتھ بیٹھ کر وہ تاش کھیلتا تھا اس کے گرد جمع ہوگئے اور لگے بزرگوں کی سی ضد کرنے کہ ہمیں بتاؤ کیا دیکھا۔ اس نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے پہلے نہا دھو کر اور نسوار کھا کر تازہ دم تو ہو لینے دو پھر بتاتا ہوں۔ لیکن وہ بضد رہے کہ ابھی تو تمہیں نہائے ہوئے صرف آٹھ ماہ اور اکیس دن ہوئے ہیں ابھی اتنی کیا جلدی ہے۔ البتہ نسوار کی بابت ایک بزرگ نے ادھر ادھر اچھی طرح آؤ اور تاؤ دیکھ کر جیب سے شیشے والی ڈبیا نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ لال بجھکڑ نے گرم آہ نکالی اور نسوار کی چٹکی زیر زبان رکھ کر لگا ان کو اس بے تحاشہ جانور کے متعلق بتانے۔ باقی سب تو ان کو خوب سمجھ آگیا البتہ پائے پر پہنچ کر وہ بھی متفکر پائے گئے۔ ان کو بتا یا کہ اس کے پائے اتنے بڑے پائے کے ہیں کہ جتنے بڑے پائے کے فلاں پشتو شاعریا فلاں پشتو ادیب۔ لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ پائے۔ آخر لال بجھکڑ نے ان کو بتایا کہ اس کے پائے فلاں پشتو اداکارہ کے پائے کے ہیں۔ تب جا کر ان کو سمجھ آئی اور پھر وہ بھی حسبِ حق متاثر ہوئے۔ اس کے بعد کانوں کی باری آئی۔ کانوں کا سائز سمجھانے کے لئے لال بجھکڑ نے کسی مناسب سائز کی چیز کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا، اس کو قریب ہی حاجی فلاں خان صاحب اوریگا کمپلیکس والے کا جاپانی کپڑے کا کھوکھا نظر آگیا۔ وہ شاگردوں کو لیکر وہاں پہنچا اور تھوڑی سی تسلی کرنے کے بعد بولا اس کھوکھے کی لمبائی اور چوڑائی اس کے "دوکان” کے برابر ہے۔ بس پھر نہ صرف ان کو سمجھ آگئی بلکہ وہ اس کے بعد سے وہ اس کھوکھے اور باقی سب کھوکھوں کو "دوکان” کہنے لگے۔ جانور مذکور والا حجم بے تحاشہ و لحم بے اندازہ کی جملہ جغرافیائی خصوصیات جاننے کے بعد شاگردان بزرگ اس کا نام جاننے پر مصر ہوئے۔ لال بجھکڑ نے جھٹ سے ڈائری کھولی، اس پر صفحہ اول پر درج تھا۔ سنگھاڑا، ہاتھی۔ لال بجھکڑ نے اپنی کالی کھوپڑی پر پورا زور ڈالا۔ لیکن اس کو کچھ یاد نہ آیا۔ کہ ہاتھی کونسا تھا اور سنگھاڑا کونسا۔ پھر اس نے منہ دوسری طرف کرکے ہونٹوں کو گول کر کے ان میں شہادت کی انگلی گھمائی، بھر پوراووووووو کی آواز کے ساتھ، اور پوری یکسوئی سے اکڑ بکڑ کرنے لگا۔ جب وہ اسی نبے پورے سو پر پہنچا تو اس کی انگلی ہاتھی پر تھی۔ بس وہ دن اور آج دن وہ ہاتھی ہی کہلایا۔
اوہ اچھا۔ لیکن یہ ہاتھی گنے کیوں کھاتا ہے۔
اس لئے کہ اس کو چائے رس پسند نہیں۔ ویسے بھی اگر رس چائے میں گر گیا تو نکالے گا کیسے۔
یہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کیوں ہوتا ہے
"ہاتھی کا پاؤں” دوہزار سال قبل یونان میں جوتوں کا مشہور برانڈ تھا۔ تب انکا اشتہار تھا "ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں”
ہاتھی ہندی زبان کا لفظ ہے۔ یہ خشکی کا سب بڑا جانور ہے۔ نوزائیدہ ہاتھی کا وزن اوسطاً ایک سو کلو اور مکمل ہاتھی کی وزن تین سے چھ ہزار کلو گرام ہوتا ہے۔ ہاتھی کی اوسط خوراک دوسو کلو گھاس پتے چارہ وغیرہ اور قریب اتنا ہی پانی روزانہ پیتا ہے۔ اس کی طبعی اوسط عمر ساٹھ سال ہوتی ہے۔ دنیا میں ہاتھیوں کی کل آبادی سات لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ہاتھی چند جانوروں میں سے ایک ہے جن کے بڑے دانت ہوتے ہیں۔ بارہ سال کی عمر تک ہاتھی دانت کی لمبائی چھ فٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہاتھی دانت سے بہت سی اشیاء بنائی جاتی ہیں۔ جن میں زیورات اورزیورات کے ڈبے، فرنیچر کے بیل بوٹے، قلم، پیانو کے بٹن اور دیگر نمائشی اشیاء شامل ہیں۔ ہاتھی دانت کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے ہاتھیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کیا جاتا ہے۔ ایک غیر سرکاری مگر مصدقہ رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سال میں ستر ہزارسے زائد ہاتھیوں کو ہاتھی دانت کے حصول کی خاطر مارا گیا۔ یعنی تقریباً ہر پندرہ منٹ کے بعد دنیا میں کہیں کوئی ہاتھی انسان کی غیر ضروری نمودونمائش اور مختلف نظر آنے کی خواہش کی خاطر قربان ہوجاتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ انسان محض خود نمائشی، دکھاوے اور دوسروں سے ممتاز نظر آنے کی خاطر روئے زمین کے سب سے بڑے جانور ہاتھی کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
عید قربان پر جب میں فرائض بالخصوص نماز سے غافل اور حلال حرام کی تمیز سے عاری دوستوں کو بڑے بڑے اور کئی کئی قربانی کے جانور لا کر گھر کے باہر باندھے ہوئے دیکھتا ہوں تو جانے کیوں مجھے اپنی قربانی ہاتھی کی قربانی لگتی ہے۔

Facebook Comments Box
featuredفکاہیہقربانیمزاحہاتھی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پویلئین اینڈ سے ۔۔۔۔ اک سفر اونچے نیچے راستوں کا — قسط 2
next post
پہلی محبت —- کاشف نصیر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.