تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

ادبی صحافت کا ماضی اور حال: جرائد سے ویب سائٹس تک

by Daanish Editor 30/08/2017
written by Daanish Editor 30/08/2017
130

کسی بھی زبان کے رسائل کی اشاعت کا مقصد صرف اُس زبان میں تخلیق ہونے والے عمدہ ادب پاروں سے قارئین کو روشناس کرانا نہیں بلکہ اُن میں اشاعت پذیر ہونے والے فن پاروں پر بحث و تمحیص کی ہر ممکن مساعی کو ثمر آور بنانا بھی ہوتا ہے۔ جس سے فن پارے کی معنوی قدر و قیمت متعین ہو سکے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی رسالے کا مزاج و معیار اُس کے مدیر کے عالمانہ مزاج و معیار سے متعین ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے میں, ہر زبان کے بڑے رسائل ہمیشہ متبحر اذہان کے فیضان ثابت ہوتے رہے ہیں۔ انگریزی میں The Criterion کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ یہ رسالہ برطانیہ کا ادبی رسالہ تھا جو انگریزی کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار اور نقاد ٹی۔ ایس۔ الیٹ کی ادارت میں 1922سے لے کر 1939تک باقاعدہ ہر ماہ شائع ہوتا رہا۔ اس رسالے کے معیار کے متعلق 1935 میں جارج آرویل نے اپنے ایک دوست کو خط میں لکھا تھا کہ اس رسالے میں جتنے عمدہ مضامین میں نے پڑھے ہیں، کسی اور رسالے میں نہیں پڑ ھے.اس رسالے کی پہلی اشاعتی تعداد چھ سو تھی، اور اس کی پہلی اشاعت کے تخلیقی معاونین میں ورجینیا وولف، ڈبلو۔ بی۔ ایٹس، .ای۔ ایم۔ فارسٹر اور ایذرا پاونڈ جیسے عظیم المرتبت شاعر و ادیب شامل تھے۔ اس رسالے کی ایک اجتہادی حیثیت یہ بھی رہی ہے کہ اس رسالے کے وسیلے سے Marcel Proust اور Paul Valery جیسے ممتاز فرانسیسی ادیبوں کی تخلیقات پہلی بار انگریزی میں شائع کی گئیں۔

انگریزی کی بات چل رہی ہے تو بھلا انگریزی کے قد آور نقاد ایف۔ آر۔ لیوس اور ایل۔ سی نایٹس کی ادارتِ مشترکہ میں شائع ہونے والے رسالے Scrutiny کا ذکر کیسے نہ آئے یہ رسالہ اور اُس کی تحریرکی خوبیاں آج تک یاد کی جاتی ہیں۔ یہ وہی لیوس ہیں جن کی نگرانی میں اردو کے یکتائے اسلوب نقاد کلیم الدین احمد نے اپنا تحقیقی مقالہ (کیمبرج یونی ورسٹی) لکھا تھا۔

اسی طرح روسی زبان کا Fakel اور فرانسیسی زبان کا رسالہ Tel Quel اپنے تفکیری مباحث کے لیے خاصے معروف ہیں۔ انگریزی کی طرح اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ بھی قابلِ صد رشک ہے۔ زمانہ (پریم چند)، اردوئے معلی (حسرت موہانی)، مخزن (عبد القادر)، نیا دور (ممتاز شیریں)، نگار (نیاز فتح پوری)، آجکل (جوش ملیح آبادی)، فنون (احمد ندیم قاسمی)، سویرا (حنیف رامے)، اوراق (وزیر آغا)، سوغات (محمود ایاز)، شعر و حکمت (شہریار، مغنی تبسم) اور شب خون (شمس الرحمن فاروقی) وغیرہ کے علاوہ اور بھی رسائل کی نشاندہی ممکن۔ لیکن چونکہ یہاں فہرست سازی مقصود نہیں بلکہ اُن قدروں کی بازیافت مطلوب ہے جن سے رسائلِ مذکورہ کی تاریخی حیثیت متعین ہوتی ہے۔

یوں تو یہ تمام رسائل اپنی تخلیقی پیش کش اور تنقیدی رویوں کے اظہار کی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ لیکن "شب خون” کواس لحاظ سے اولیت حاصل ہے، اور اگر حاصل نہیں ہے تو اُسے یہ اولیت حاصل ہونی چاہیئے کہ اس رسالے سے اردو ادب میں ایک ایسے عہد کا آغاز ہوتا ہے جو پوری طرح رد وقبول سے عبارت تھا۔ "شب خون” کی اشاعت سے قبل ترقی پسند ی کی انتہا پسندی اردو ادب میں ایک غالب رویے کے طور پر رائج تھی۔

سیاسی جماعت کی طرح ادب بھی چند منشورات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ مارکس کے سیاسی فلسفے کو سمجھے بغیر ہی اُسے تخلیق و تنقیدکی بنا قرار دے دی گئی تھی۔ اردو کے بیشتر ترقی پسند ادب کو پڑھنے اور بہت کوشش کرنے کے بعد بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مارکس کا طبقاتی تصادم اُس کے فلسفے کا ایک مرحلہ تھا یا منزل۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مارکس کا فلسفہ اُس نظام کو رائج کرنے کا وسیلہ تھا جو مساوات پر اُستوار ہو۔ لیکن ہماری ترقی پسندی میں طبقاتی تصادم کو ایک حاوی تخلیقی میلان سمجھ لیا گیا۔ مطلب یہ کہ راستے کو منزل سمجھ لیا گیا۔ اس صورت میں ادب میں گُمراہی کا پیدا ہونا فطری تھا۔ ترقی پسندی کے اس طریقِ کار سے اُس کے ادب کی ایک شناخت تو قائم ضرور ہو گئی لیکن اسی کے ساتھ ساتھ فن کاروں کی فکری و فنی آزادی کے تمام راستے بھی بند ہو گئے۔ سنہ ساٹھ کی دہائی میں "شب خون” کی اشاعت کے ساتھ شمس الرحمن فاروقی نے پہلی بار فن کار کی فکری اور فنی آزادی کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں قلعہ بند ادیبوں نے اپنی یکجہت فکری غلامی سے رہائی حاصل کی۔ "شب خون” کو صرف اس اعتبار سے ہی اہمیت حاصل نہیں کہ اُس نے ہر نوع کی تخلیقی وابستگی کو غیر ضروری قرار دیا تھا بلکہ اسی رسالے کے توسط سے شمس الرحمن فاروقی نے اردو میں "جدیدیت” کی پہلی باقاعدہ فلسفیانہ اور استدلالی بحث کا آغاز بھی کیا۔

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ "شب خون” نے جہاں ایک طرف جدیدیت کے تخلیقی میلانات کی نظریاتی صورتِ حال کو نمایاں کیا وہیں اُس نے شاعر و ادیب کی ایک ایسی نسل کی افزائش کی جو ہر نوع کی کوری تقلید کو نا مناسب تسلیم کرتی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت جلد جدیدیت کے زیرِ اثر پران چڑھنے والی نئی نسل کے تخلیقی شعور میں غیر معمولی نکھار پیدا ہو اور شعر و ادب میں اُس کی انفرادیت متعین ہوئی۔ اردو میں جدیدیت، ترقی پسندی کی طرح محض مغرب کی تقلید نہیں تھی بلکہ اُس نے مغرب کی وجودی فکر کی تخلیقی جہت کو اپنی ادبی تہذیب میں پیوست کرنے کی کوشش کی تھی۔

رکھنے والے "شب خون” پر آج جس قدر چاہیں یہ الزامات رکھیں کہ اس سے اردو میں تجربی اور تجریدی ادب کی بے معنویت کو فروغ حاصل ہوا اور اسی سے علامتی طرزِ اظہار کے نام پر ادب میں مہملیت کی روایت قائم ہوئی۔ لیکن کسی میں اتنی علمی جرات نہیں کہ وہ "شب خون” کے تخلیقی اور تنقیدی مباحث, اور اُن مباحث سے پیدا ہونے والے ادبی ذوق کو غلط ثابت کر سکے۔ مذکورہ رسالے بالعموم اور "شب خون” بالخصوص نے ادبی صحافت میں جو برا بھلا کیا، وہ تمام متعلقہ لوگ بخوبی جانتے ہیں. لیکن جب آج کی ادبی صحافت پر نظر ڈالی جاتی ہے تو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ یوں تو برِ صغیر ہند و پاک سے متعدد رسالے  ہو تے ہیں۔ لیکن ان رسالوں میں کچھ ہی ایسے ہیں جن کی ادبی، تحقیقی اور تنقیدی کد و کاوش قابلِ تحسین قرار دی جا سکے۔ اکثریت ایسے رسالوں کی ہے جو ادبی گوشوں کے نام پر اوسط درجے یا یوں کہیے کہ محلے ٹولے کے شاعر و ادیب پر لچر سی تحریر شائع کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔

آج کی ادبی صحافت میں یہ خامی اس لیے پیدا ہوئی کہ اس نوع کے رسائل کے مدیران کی بذاتِ خود کو ئی تخلیقی اور تنقیدی حیثیت نہیں۔ کسی رسالے کی ادارت کا منصبِ جلیلہ اُسی کو زیب دیتا ہے جو متبحرِ علمی کی صفت سے متصف ہو۔ یہاں اس بات کا اعتراف ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اردو کی مکتوبی ادبی صحافت کے بر عکس برقیاتی ادبی صحافت دامنِ دل می کشید کی زیادہ قوت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں "دانش”، "ایک روزن” اور "لالٹین” کی مثالیں بالکل سامنے کی ہیں۔ ان تمام برقی رسائل میں تخلیق و تنقید کا ایک واضح شعور نظر آتا ہے۔ مشمولات کے تنوع سے مذکورہ رسائل کے مدیران کے فکری تنوع کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ یہ برقی رسائل سو دو سو صفحے کے مکتوبی رسائل و جرائد سے زیادہ ہمہ گیر نظر آتے ہیں۔


معراج رعنا
شعبۂ اردو، چھتر پتی شاہو جی مہاراج یونی ورسٹی، کانپور (بھارت)

Facebook Comments Box
ادبادبی پرچےادبی جرائدادبی رسائلادبی صحافت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
مردم شماری، کراچی اور جھوٹ سچ کی سیاسی کسوٹی — احمد اقبال
next post
سالٹ رینج کا عشق اور کٹاس راج: ایک رومان —  سحرش عثمان

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.