تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

آزادی مُبارک : سحرش عثمان

by دانش ڈیسک 18/08/2017
written by دانش ڈیسک 18/08/2017
150

یہ ایسے نہیں تھا کہ صبح اٹھے اور کہہ دیا نہیں ساتھ رہنا۔کل سے اپنا اپنا کام کریں گے علیحدہ رہیں گے۔۔
اس "ساتھ نہیں رہ سکتے” کے پیچھے ایک لمبی داستاں ہے جدوجہد کی مخالفت کی کوشش کی عزم کی حوصلے کی سفرنگز کی قربانیوں کی ہمت کی خوابوں کی اور ان کی تعبیروں کی۔ اس کے پیچھے اے او ہیوم کی کانگرس سے لے کر دارالعلوم دیو بند تک ہر شخص ہر گروہ چھپا ہے۔
کبھی پیپرز کو طاق پہ دھر کے نمبرز گریڈز کو بھول کر پاکستان افئیرز کی بک کھول کر دیکھیں توایک ایک صفحہ ایک ایک سطر ایک ایک حرف داستانیں سناتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
جیسےمسجد کے مینار نے جھک کے صدیوں کے گم ہونے کے راز کی سرگوشی کی تھی بلکل ویسے ہی کتاب کے صفحات نے سرگوشیوں میں داستان عزم سنائی تھی۔
امیدوں کی بارآوری کی داستاں۔ کسی خواب کی تعبیر کا قصہ۔
تقسیم بنگال کا صفحہ تھا اور وائسرائے کے الفاظ کے "نو باڈی کین فورس ایس” ہاں یہ ہی کہا تھا وائسرائے نے کہ انتظامی فیصلہ ہے بدلا نہیں جائے گا لیکن پانچ سال کے قلیل عرصے میں واپس ہو گیا فیصلہ ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ نہیں رہ پائیں گے ساتھ۔
معاشرے میں ہر طبقہ فکر کا علیحدہ گروہ ہوتا ہے نا جنہیں سوشیالوجسٹس کمیونٹی پیٹرن کے نام سے ڈیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ہر گروہ کے اپنے مفادات اپنے اصول اپنی رائے۔
جب بھی کسی بڑے فیصلے کا وقت ہوتا ہے تو اس کے محرکات میں معاشرے کا کوئی نا کوئی گروہ ایکٹو ہوتاہے وہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔جیسے مزدوروں کے حقوق کے لیےوہ مزدور جس نے خود کو آگ لگا لی تھی۔جیسے میگنا کارٹا سے پہلے وکلاء کی تحریک جیسے اقوام متحدہ سے پہلے سیاستدانوں کا اکٹھ۔
رب کی کوئی مصلحت تھی جو اس تقسیم سے پہلے معاشرے کے ہر گروہ ہر فرد ہر سلیم الفطرت ہر دور اندیش فرد پر اتمام حجت کردی رب نے __ہر کسی کو یقین ہو گیا کہ ساتھ رہنا ممکن نہیں رہا۔
چاہے وہ اردو ہندی تنازعہ کے زریعے سر سید جیسے فرد کے ہاتھوں لکھوایا جانا ہو کہ شقی القلب مزہبی گروہ اکھٹے رہنے کے قابل نہیں رہا۔
یا پھر سائمن کمشن کے بعد ہندوستان کی چھوٹی سیاسی جماعتوں سے کہلوانا ہو۔۔
وہ گول میز کانفرنسز کا بے نتیجہ ہونا اور سر شفیع کے ساتھیوں کا کہہ دینا کے "یہ زندہ جلا ڈالیں گے یا زمین میں گاڑ دیں گے یا ہندو بنا دیں گے” یونہی بے سبب تو نہیں تھا۔
اور پھر نہرو رپورٹ اور چودہ نکات کو یکسر مسترد کر دینا۔۔۔ارون دھتی رائے کہتی ہے نا کہ چودہ نکات کا مسترد ہونا تاریخ کی سب سے فاش غلطی ہے۔۔
نہیں! یہ بلیسنگ ان ڈس گائز تھی۔
یہ اس ناتواں شخص کو یہ بتانا مقصود تھا۔
کہ اس خوابیدہ قوم کے مستقبل کے لیے تمہیں چنا گیا ہے اور وقت کم ہے بہت کم۔
جب پہلی دفعہ کہا کہ اب الگ رہنے سے کسی طور کم پر راضی نہیں ہم تو کیا ہوا؟؟
سارا ہندو میڈیا کہہ اٹھا "پاکستان” بنائیں گے۔
اور لہجے کے طنز نے بیک فائر کیا بہت سے مسلماں صحافی نا محسوس طریقے سے تحریک کا حصہ بن گئے۔بھلا کسی غیرت کو کب گوارا تھا مثال میں ہی مدینہ آئے اور کوئی پھبتی کسے۔
تحریک کی حمائت کرنے پر جب بہت سے کانگرسی مرد حضرات نے چھوڑ دینے کی دھمکی دی تو بہت سی خواتین خود ہی چھوڑ چلی آئیں بیگم رعنا لکھتیں ہیں نا لیگی خواتین کے حوصلے تو قابل دید تھے پر جو دو طرفہ قیامت کانگرس سے ایفیلیشن والی فیملیز کی خواتین پر جاری تھی وہ بیان سے باہر ہے۔دن میں تحریک کی سرگرمیاں ہوتیں تو اکثر شامیں گھریلو زمہ داریوں کی صورت کانگرس کی میٹنگز کو چائے ناشتے کا پوچھتیں__ اب سوچتی ہوں تو حیرت سے انگلی دانتوں تلے داب لیتی ہوں اتنی جرات کہاں سے آگئی تھی اس دور کی خواتین میں یہ کس کی آواز ان اندھیروں میں حوصلے
کا مینار نور بنتی تھی۔خدا جانے وہ ایسا کونسا جذبہ تھا جو ہر خوف ہر سراسمیگی پر بھاری تھا۔۔خود کو ان کی جگہ پر رکھتی ہوں تو جھرجھری آجاتی ہے یہ سوچ کر ہی کہ بغیر کسی واضح مضبوط سہارے کے خواب دیکھنے والے ایک پریکٹیکل شخص کی سدا پر لبیک کہنا تھا۔۔میں ہوتی تو شائد نہ کر پاتی یوں نہ ہوتا تو یوں ہوتا کے گرداب میں الجھی تو جانے کس سٹیشن پر ہوش آئی۔کسی شہر کا کوئی مصروف سا ریلوے سٹیشن تھا اکثریت آ جا رہی تھی زندگی رواں تھی۔۔بھلا دس لاکھ جانیں کیوں قربان کی جائیں اس جملے کی گردان ذہنی کشمکش کا پتا دے رہی تھی جانے کب تک اسی سوال کا جواب تلاشتی رہتی کے ایک آواز فیصلے کا صحرا بن کر کانوں میں پڑی کہ "ہندو پانی مسلم پانی” اور میں سبز ہلالی ٹرہن میں آ بیٹھی۔
کیونکہ گھر تو آخر اپنا ہے۔۔

Facebook Comments Box
پاکستانجشن آزادییوم پاکستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
گھر۔۔۔ تیسرے نمبر پہ آنے والا یگانہ نجمی کا افسانہ
next post
تہذیب کا جن: سلیم احمد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.