تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

آرٹیکل 62 اور 63 : وسیم تارڑ

by دانش ڈیسک 16/08/2017
written by دانش ڈیسک 16/08/2017
110

سابق وزیراعظم کی عدالت عظمی سے نااہلی کے بعد سیاسی حلقوں میں آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے خاتمے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ماضی میں باسٹھ ، تریسٹھ کو آئین کے ماتھے کا جھومر سمجھنے والےمیاں صاحب اب ان آرٹیکلز کو نہ صرف عوامی مینڈیٹ کی توہین سمجھتے ہیں بلکہ اسےجمہوریت کیلئے بڑا خطرہ بھی قرار دے رہے ہیں۔یہ شریف سیاست کا ایک بڑا یوٹرن ہے۔

دراصل مقدمہ یہ نہیں کہ آرٹیکل باسٹھ ،تریسٹھ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے یا نہیں؛ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں سیاست اخلاقیات کے تابع رہنی چاہیے؟ کیا سیاسی عمل پر اخلاقی حدود باندھی جا سکتی ہیں؟ اور کیا قومی سیاست میں غلط بیانی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ جمہوری دنیا کے کسی ملک میں ان سوالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں مگر کچھ اور ہی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے دور اقتدار میں متعدد باراعلانیہ غلط بیانی کے مرتکب قرار پائے ہیں۔ دنیا بھر میں سیاسی رہنما اس کے بعد اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہتے۔ برسوں قبل سابق امریکی صدر نکسن اس اخلاقی جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حزب اختلاف رہنماؤں کے فون ٹیپ کیے۔ اس الزام کو انہوں نے مسترد کر دیا مگر انکوائری کمیشن کی تحقیقات میں الزام سچ ثابت ہوا۔ اس غلط بیانی پر امریکی صدر نکسن کو نہ صرف عہدہ چھوڑنا پڑا بلکہ انہوں نے ہمیشہ کیلئے سیاست کو خیر آباد کہہ دیا۔ قریب دو دہائیاں قبل سابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی ایسی ہی مشکلات سے دوچار ہوئے تھے۔ ان پر بھی قوم سے غلط بیانی کا الزام سچ ثابت ہوا۔ امریکی صدارتی انتخابات میں بل کلنٹن نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ وہ سابق پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف سے زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ مگر ان کے خلاف بھی مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔

گزشتہ چند روز سے جاری سابق وزیراعظم کی کی تقاریر کچھ فکری مغالطوں پر مبنی ہیں۔ یہ ایک کمزور مکالمہ ہے کہ کروڑں ووٹوں سے منتخب شدہ عوامی نمائندگان پر اخلاقی اصول لاگو نہیں ہوتے۔ قانون کی نظر میں یہ توجیع قابل قبول نہیں۔ سابق وزیراعظم کے دفاع میں اسے ایک مضبوط دلیل نہیں قرار دیا جا سکتا۔آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ محض عوامی نمائندگان کو مروج اخلاقی اصولوں کا پابند کرتا ہے۔ یہ دنیا بھر کی مضبوط جمہوری روایات کا اٹوٹ انگ ہے، جسے کسی ایک سیاسی جماعت یا عوامی رہنما کی خواہش پر جمہوری نظام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments Box
میاں نواز شریفنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قومی زبان، اردو زبان اور قومی ترانے کے مباحث: داود ظفر ندیم
next post
ٹیکس گردیاں: ایک عبرت آمو ز داستان ۔۔۔ عماد بزدار

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.