تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

حب الوطنی کا معیار: ثاقب ملک

by Daanish Editor 12/08/2017
written by Daanish Editor 12/08/2017
75

پاکستان میں بھارت دشمنی، حب الوطنی کا سب سے برتر معیار بن چکا ہے جو ہمارے ظاہری اسلام کے منافقانہ تسلسل کے عین مطابق نمائشی حب الوطنی کی شکل میں ظہور پذیر ہوا ہے.

جب تک بطور معاشرہ ہم دنیا کے اخلاقی معیار کے مطابق حب الوطنی کے بلند معیار کو اپنی منزل نہیں بنائیں گے، پاکستان زندہ باد، پائندہ باد کے نعرے صرف کانوں کی موسیقی ہی رہیں گے، عملی پائندہ باد اور زندہ باد میں نہیں ڈھلیں گے. ظاہر ہے بھارت دشمن ملک ہے مگر ہر وقت بلاوجہ دشمن کو اپنے ذاتی، سیاسی یا سماجی فائدے کے لئے استعمال کرنا اور پھر ڈھٹائی سے اسے بطور حب الوطنی کے سرٹیفکٹ کے گلے میں ڈھول کی طرح لٹکا کر بجانا خود غرضی ہے.

کوئی بھی ہلکے کردار کا حامل زید حامد، مبشر لقمان، عامر لیاقت انڈیا مخالف نعرے لگا کر اور پاک فوج کے جوانوں کے شہداء کو کیش کروا کر، عوام میں مقبولیت حاصل کر لیتا ہے. کم فہم اوریا مقبول جان، اقرار الحسن، حامد میر، بادامی، انصار عباسی اور دیگر جذبات فروشی کرکے اپنے تئیں حب الوطنی کی سارے فرائض ایک دن ہی ادا کر لیتے ہیں. فوج اور ایجنسیاں تو اپنی مثبت پروجیکشن کے لئے خوب جنگی جذبات ابھارتی ہیں اور حدود کے اندر رہ کر یہ سب کرنے میں حق بجانب ہیں لیکن اول و آخر اگر پاک فوج زندہ باد ہی حب الوطنی ہے اور باقی سب غدار کی کیٹیگری میں آتے ہیں تو یہ فضا قابل قبول نہیں ہے.

اس میں ایک قصور تو ہماری انٹیلی جینسیا یعنی نام نہاد اہل دانش کا ہے جو بکنے اور جھکنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہے. دوسرا قصور سیاستدانوں کا ہے جو سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے قوم پرستی اور ملک سے محبت کے جذبات ابھارنے میں مکمل ناکام رہے.

فوج نے اس خلا کو ہمیشہ پر کیا. مارکیٹنگ اس قصے میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتی ہے. پھر فوج کے پاس ملک کے لئے جان دینے والے حقیقی شہیدوں کی لمبی قطار ہوتی ہے. سیاستدان مجموعی طور پر اس سے محروم رہے کیونکہ انھوں نے اپنی اموات کو مظلومیت کارڈ کھیل کر صرف سیاسی انداز میں ہی کیش کروایا. یوں بھی ایک آدھ کے علاوہ سب اقتدار کی راہ میں مارے گئے.

حالانکہ حب الوطنی ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے. مختصراً جب تک میں اپنے مفادات کو اپنے وطن کے مفادات کے تابع نہیں رکھتا تب تک میں حب الوطن قرار نہیں پا سکتا.
انفرادی لیول پر مجبوری کو اگر جواز بنایا جائے کہ میں تو بہت مجبور ہوں، تو پھر ہر گناہ ہر جرم کا جواز ہوتا ہے. اصل امتحان ہی یہی ہے کہ آپ اپنے ملک کے لئے ذاتی نقصان اٹھانا افورڈ کر سکتے ہیں کہ نہیں؟ یوں بھی ملک سے محبت تو کافی آگے کی بات ہے، ایک انسان کے اندر کچھ اچھا کرنے کا جذبہ ہے یہ تو اسکے ضمیر کی دین ہے. اگر اپنے خدا یا نظریات کے لئے کوئی اچھائی کا تکلف نہیں کرتا تو وہ اپنے ملک یا اپنے ہموطنوں کے لئے کیا کریگا؟

ملک قربانیوں سے ہی بنتے ہیں. مجبوری میں مر جانا یا مصیبتیں برداشت کرنا قربانی نہیں کمزوری ہوتی ہے. ہم اکثر جسے قربانی کہتے ہیں وہ ہماری مجبوری ہوتی ہے. قربانی انسان اپنی مرضی سے دیتا ہے.

لوگ کہتے ہیں ملک نے ہمیں کیا دیا؟ ملک جغرافیہ اور انسانوں سے بنتے ہیں اگر آپ کو اپنی جائے پیدائش سے لگاؤ ہے تو یہ چیز ملک کی ہی عطاء کردہ ہے اور یہ بات سامنے ہے کہ ملک اور زمین سب ہمارے عقیدے کے مطابق خدا کی دین ہے. اس بات کا شکر واجب ہے اور اسکا کچھ فرض بھی ہے. باقی پہلا حق وطن کا ہوتا ہے کہ آپ پڑھ لکھ کر ملک کے لئے کیا کرتے ہیں یا ہمیشہ کے لئے طعنہ زن ہی رہتے ہیں. اگر آپ کسی کے لئے کچھ کرنے پر آمادہ نہیں تو پھر گلہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں.

اپنے وطن کو صاف شفاف رکھنے کی کوشش کرنا بھی پیٹریاٹ ازم ہے. اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنا بھی حب الوطنی ہے. ملک کو مالی نقصان سے بچانا بھی حب الوطنی ہے. اپنے وطن کی نیک نیتی سے خامیاں گنوا کر تجاویز دینا بھی حب الوطنی ہے. اپنے لوگوں میں اخوت پیدا کرنا بھی حب الوطنی ہے. غرض ایک محب وطن پاکستانی کے بہت سے پہلو ہوسکتے ہیں.

پٹاخے چھوڑنا، ون ویلنگ کرنا، تیز رفتاری سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا، جانوارانہ شور و غل پیدا کرنا، جھنڈیاں لگا کر پھر انھیں ادھر ادھر پھینک دینا، فضول خرچی کرنا، بلا وجہ بھارت کو یا دیگر ملکوں کو گالیاں دینا یہ قوم کے آزادی نہیں جہالت کی آزادی کا ثبوت ہے.

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
خواتین ناول نگار اور مذہبی رومانویت : ایک تاثر ۔۔۔۔ جویریہ سعید
next post
ایک مرد کو کیسا شریکِ حیات ہونا چاہیئے؟ زارا مظہر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.