قرضوں کی ضرورت پر ایک نوٹ : معیشت اور عوام کا نصیب: (15) لالہ صحرائی

0

[ قرضوں کی ضرورت پر ایک نوٹ ]

۔

معاشی نظریات زمانہ قدیم سے انسان کے ہمراہ ہیں خواہ ان کی شکل کچھ بھی رہی ہو لیکن اٹھارہویں صدی میں یورپ کے اندر انڈسٹریلائزیشن اور سرمایہ داری نظام کا جب ظہور ہوا تو اس کیساتھ ہی طرح طرح کے معاشی نظریات بھی ترتیب پانے لگے جو بعد میں باقائدہ ایک پروفیشنل شعبے کی شکل اختیار کرگئے، اکنامکس کے بانی سر آدم سمتھ کے بعد اس شعبے میں پڑھنے سیکھنے کیلئے بہت کچھ در آیا ہے لیکن اس سیریز میں ہم صرف اپنے مطلب کی ان چند چیزوں کو ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ہماری مشکلات پہچاننے میں ہماری مدد گار بن سکیں۔

 

 

انفرادی زندگی میں صبر سے کام لیتے ہوئے اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانا بہترین پالیسی ہے لیکن کاروباری اور قومی زندگی میں لوگ اپنے مسائل کا فوری حل مانگتے ہیں اسلئے کچھ غیرمعمولی قدم بھی اٹھانے پڑتے ہیں، 1875 کے قریب ایک یورپی بینک نے مروجہ ڈگر سے ہٹ کر بزنس انٹرپرائیزز کیلئے قرضے کی ایک سہولت ڈیزائن کی تھی اور بزنس سیکٹر نے بھی ہمت کرکے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اس کولیبوریشن سے جب ایک گروپ نے فائدہ اٹھالیا تو پھر دوسرا بھی میدان عمل میں کود پڑا کیونکہ یہ انتظام بزنس سیکٹر کو فوری طور پر وہ سب کچھ کرنے کا موقع فراہم کر رہا تھا جو اپنے ذرائع سے وہ سالوں بعد جا کے ہی کرسکتے تھے اس طرح بینک باروئنگ بھی بزنس لائف کا ایک حصہ بنتی چلی گئی، پھر یہی چیز ریاستوں کے درمیان بھی در آئی، اب مسئلہ یہ ہے کہ اقوام عالم کے درمیان رہتے ہوئے بحیثیت قوم ہم صبر جیسی اخلاقی باتیں کرکے گزارا نہیں کر سکتے جبکہ ارد گرد کے لوگ مالیاتی اداروں سے قرض لیکر پانچ دس سالہ منصوبے بنا کر وہ سب کچھ ممکن بنا رہے ہوں جو عوام کیلئے طمانیت بخش ہو یا اپنے ملک کو اقوام عالم کی صف میں بہتر مقام دلوا سکے۔

 

 

ریاست کا کسی عالمی ادارے سے قرض لینا کوئی معیوب بات نہیں، شرط صرف یہ ہے کہ قرض کی رقم ایسے پروڈکٹیوو کاموں پر خرچ کی جائے جس سے عوامی سہولیات بھی پیدا ہوں اور اس منصوبے کی پروڈکٹیویٹی سے ری۔پیمنٹ بھی ممکن ہو سکے، مثال کے طور پر ہمارے اپنے وسائل اس قابل نہیں کہ ان کی مدد سے ڈیم بنا سکیں لیکن طویل مدتی قرض لیکر ڈیم بنانے سے جو بجلی، پانی اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے وہ اس قرضے کی ادائیگی کیلئے اگر وافر نہیں تو تسلی بخش ذریعہ بھی ضرور بنیں گے لہذا ایسے سیلف پیئنگ منصوبوں کیلئے قرض لینا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن نان۔پروڈکٹیوو منصوبوں کیلئے قرض لینا کسی سنگین ترین غلطی سے کم نہیں بلکہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتا ہے۔

 

 

[ بیرونی قرضوں کے احوال ]

قیام پاکستان کے بعد مالی مشکلات اور مسائل کا انبار اس بات کا متقاضی تھا کہ اگلی کئی دہائیوں تک اپنے وسائل بہتر ہونے کی راہ دیکھنے کی بجائے اقوام عالم کی طرز کے فیصلے کئے جائیں، ہماری انہی مالی مجبوریوں نے بیرونی قرضوں کی راہ کھولی جو بہرحال غیر ضروری فیصلہ قطعی نہیں تھا۔

 

 

ابتدائی طور پر 1949 تک کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ نے گرانٹس کی شکل میں کچھ امداد دی تھی، گرانٹس یا امداد ایسی رقوم ہوتی ہیں جن پر سود نہیں لگتا البتہ اصل رقم واپس کرنی ہوتی ہے، جو ممالک امداد دیتے ہیں وہ بھی مفت میں نہیں دیتے اس کے بدلے میں انہیں کوئی تجارتی سہولت دینی پڑتی ہے یا پہلے سے دی گئی کسی سہولت کے بدلے میں امداد مانگی جاتی ہے۔

 

 

پہلے باقائدہ قرضے کا معاہدہ فروری1951 میں امریکہ کیساتھ طے پایا تھا، اس معاہدے میں قرضے کی مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا اسلئے اسے یاد داشت ہی کہنا چاہئے، دوسرے قرضے کا معاہدہ 27 مارچ 1952 کو انٹرنیشنل بینک فار ری۔کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ IBRD کیساتھ طے پایا جس کی مقدار 27.2  ملیئن ڈالر تھی جو پاکستانی کرنسی میں کم و بیش دس کروڑ روپے بنتے تھے۔

 

 

1967 تک ان قرضوں کی مقدار صرف 4.9 ارب ڈالر تک تھی جس میں 3.67 ارب قرضہ اور باقی 1.23 ارب امداد کی مد میں تھے، یعنی کل ملا کر اس وقت کے ایکسچینج ریٹ سے بمشکل کوئی 24 ارب کے قریب بنتے تھے پھر اس کے بعد ہر آنے والے حکمرانوں نے قرضہ اٹھانے کا ایک کلچر پیدا کر لیا، ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق 1980 تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 9.9 ارب ڈالر تھا یعنی 445 ارب روپیہ، جو 1998 تک جمہوری حکومتوں کی برکت سے 32.23 ارب ڈالر یعنی 1450 ارب روپیہ تک پہنچ گیا، مشرف صاحب کے دور تک یہ رقم 3200 ارب روپے تک تھی پھر اگلی دو جمہوریتوں نے اسے ڈبل کر دیا یعنی 2016 کے اینڈ تک اس رقم کی کل مقدار 7700 ارب روپیہ تھی، انٹرنل بینک ڈیبٹ اس کے علاوہ ہے۔

 

 

یہ رقم اگر پیداواری منصوبوں، بجلی، ڈیم، معدنیات جیسے ریوینیو جنریٹر پروڈکٹیوو پراجیکٹس پر لگی ہوتی تو یہ کوئی اتنی بڑی رقم بھی نہیں جس کا سود اور قسط ادا کرنا مشکل ہوتی، یہ رقم ہمارے سوا سال کے مرکزی اور صوبائی بجٹوں کے برابر یا دوسال کی مرکزی ٹیکس کلیکشن کے برابر ہے لیکن چونکہ یہ غیرپیدواری منصوبوں پر خرچ ہوئی یا پھر خوردبرد ہوتی رہی اسلئے اب ادائیگی اپنی جیب سے کرنی پڑ رہی ہے جس کا بوجھ قوم اٹھا رہی ہے۔

 

 

دنیا کے دیگر ممالک کا بھی یہی حال ہے جیسا کہ انڈیا کا فارن ڈیبٹ 32000 ارب روپے کے قریب ہے اور ترکی کا بھی لگ بھگ اتنا ہی ہے، دنیا کے پندرہ بیس ممالک کے علاوہ ایک بھی ایسا نہیں جس پر فارن ڈیبٹ، بیرونی قرضہ یا کسی مالیاتی ادارے کا قرض واجب الادا نہ ہو، فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ صرف پروڈکٹیو منصوبوں کیلئے قرض لیتے ہیں اور تیسری دنیا میں لوٹ مار کیلئے لیا جاتا ہے۔

 

 

[ ٹریکل ڈاؤن اکانومی ٹرِکس ]

اکانومی کی تین مشہور قسمیں ہیں، پہلی سپلائی سائیڈ اکانومی ہے، ماڈرن اکنامکس کے بانی سر آدم سمتھ اس کے مین ایڈووکیٹ تھے، سپلائی سائیڈ اکانومی کا مطلب یہ ہے کہ سپلائی کا دارومدار ڈیمانڈ پر ہے، ڈیمانڈ کے گھٹنے بڑھنے سے پیداوار، سپلائی اور قیمتیں خودبخود کم زیادہ ہونے لگتی ہے۔

 

 

دوسری قسم کنٹرولڈ اکانومی کہلاتی ہے جس میں پیداواری یونٹوں پر حکومت کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق انڈسٹری کو کسی حد تک پیداوار کم یا زیادہ کرنے کا پابند کرسکتی ہے، مثال کے طور پر آٹوموبائل انڈسٹری سال میں ایک حد سے زیادہ گاڑیاں مارکیٹ میں نہیں لائے گی تاکہ جس رفتار سے سڑکیں ایکسپیڈ کی جارہی ہیں اسی تناسب سے ہی گاڑیاں سڑک پر آئیں ورنہ ایک سیلاب آجائے گا جو ان سڑکوں پر سنبھالنا مشکل ہو جائے گا، اسی طرح کی پابندیاں راءمیٹیریل امپورٹ پر بھی ہوتی ہیں تاکہ غیرضروری اشیاء بنانے کیلئے راءمیٹیریل پر زرمبادلہ ضائع نہ ہو۔

 

 

تیسری قسم فری مارکیٹ اکانومی کہلاتی ہے جس میں کسی پر کوئی پابندی نہیں ہوتی سوائے ممنوعہ آئیٹمز کے، غیر ممنوعہ آئیٹمز میں سے جس کا جو جی چاہے وہ بنائے اور بیچے۔

 

 

چوتھی قسم بیسویں صدی کی ایجاد ہے جسے ٹریکل ڈاؤن اکانومی کہتے ہیں، یہ کلی طور پر تسلیم شدہ تھیوری نہیں کیونکہ اپنی اصلی تعریف کے آئینے میں یہ قابل قبول ہے بھی نہیں، یہ تھیوری کہتی ہے کہ سپلائی کا انحصار ڈیمانڈ پر نہیں بلکہ آپ جو بھی اچھی چیز مارکیٹ میں پیش کریں گے اس کی ڈیمانڈ خودبخود نکل آئے گی، ضرورت صرف اس چیز کی ہے کہ آپ نئی چیزیں مارکیٹ میں پیش کریں اسلئے ٹاپ بزنس۔کلاس کو ٹیکسوں میں خاطرخواہ چھوٹ دی جائے تاکہ اس بچت اور اپنے تجربے سے وہ نئے یونٹ لگا سکیں جو قومی پیداوار اور روزگار میں شاندار اضافے کا باعث بھی بنیں گے، یورپ میں چونکہ ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے جو ایوریج کی بنیاد پر 45% تک ہے جس میں سے ایلیٹ کلاس کو دس بیس فیصد کم کرنا بھی اربوں ڈالر کا امپیکٹ بنتا ہے جس سے خاطرخواہ نئے بزنس پیدا ہو سکتے ہیں۔

 

 

اس تھیوری کا مرکزی خیال یا کی۔فیچرز صرف دو ہی تھے، پہلا یہ کہ اس چھوٹ سے ٹیکس کلیکشن میں ہونے والی کمی نئے پیداواری یونٹوں سے پوری ہو جائے گی اور دوسرا یہ کہ نئے یونٹوں سے معیشت میں گہماگہمی، جی۔ڈی۔پی میں گروتھ اور روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ماہرین معاشیات کے ایک بڑے طبقے نے اس تھیوری کو صرف اسلئے ریجیکٹ کر دیا کہ یہ صرف ایلیٹ کلاس کو ٹیکسز میں چھوٹ دینے کا بہانہ ہے جو نیشنل ریوینیو میں کمی کا باعث بنے گا، بزنس مین اس ٹیکس۔کٹ کا فائدہ تو ضرور اٹھائے گا لیکن اس سکیم سے کوئی نیا بزنس شروع نہیں کرے گا کیونکہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا اٹوٹ رشتہ کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

 

 

میرے اپنے خیال میں 1980 سے اب تک یہ تھیوری بالکل درست ہے اور آئیندہ کے دور میں بھی ہمیشہ درست رہے گی اسلئے کہ جو چیزیں آج ہماری بنیادی ضروریات ہیں وہ کبھی نئی پروڈکٹ تھیں، اس کا ثبوت لکڑی والے چولہے اور کوئلے والی استری کے متبادل، اسٹوو، اوون، گیزر، بجلی کی اشیاء، پزاہٹ، کے۔ایف۔سی، میکڈونلڈ، ہارڈیز، ہائیپر سٹار، میٹرو سٹورز، ڈبہ بند مصالحے اور لائف اسٹائل میں دیگر ایسی کئی چیزیں شامل ہیں جن کی ضرورت کا کبھی تصور بھی موجود نہیں تھا لیکن جب وہ آئیں تو زندگی کا لازمی حصہ بن گئیں۔

 

 

صدر ریگن نے اس تھیوری کو نہ صرف درست سمجھا بلکہ اپنے دور حکومت میں ایک لارج اسکیل پر پہلی اور آخری بار اسے کامیابی کیساتھ استعمال کرکے بھی دکھایا، ریگن کے بعد اس اکانومی کا دوسرا بڑا تجربہ شوکت عزیز صاحب نے کیا تھا، ہمارے ہاں یہ قطعی ناممکن کام تھا اسلئے کہ ہماری اکانومی کمزور اور ٹیکس کلیکشن انتہائی کمزور تھی، ہمارے ہاں اس پر عمل کرنے کیلئے تھیوری کے دوسرے حصے کو ٹیکس۔کٹ کی بجائے کسی متبادل ذرائع کی ضرورت تھی اس ضرورت کے تحت شوکت صاحب نے انٹرسٹ ریٹ اور دیگر شرائط کو نرم کرکے بینک فائنانس کو عام بزنس مین کیلئے بھی آسان بنا دیا، وہ قرضے جو پہلے کبھی صرف بڑے لوگ اور سیاستدان ہی لے سکتے تھے اب وہ عام بزنس۔کلاس کی دسترس میں بھی کر دئے گئے۔

 

 

یہ وہ دور تھا جب بزنس کیلئے رننگ فائنانس، پروجیکٹ پرچیز فائنانس، ہوم فائنانس اور کار فائنانس کی اسکیمیں لارج اسکیل پہ لانچ کی گئی تھیں، اسی دور میں بینکنگ کو کنوینشنل مارکیٹ سے نکال کر کمرشل اور کمپیوٹرائزڈ اینوائرمنٹ فراہم کیا گیا اور 2002 میں میزان بینک کے ذریعے اسلامی بینکنگ کی بھی بنیاد رکھی گئی تھی۔

 

 

ان بینک سکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کو بتدریج ٹیکس نیٹ میں بھی لایا گیا، ابتدا میں صرف آمدنی کا ثبوت فراہم کرنیوالوں کو یہ سہولت دی جاتی تھی پھر رجسٹرڈ ٹیکس گزار کو پھر اس پر تین سال کی ٹیکس ریٹرن اور آڈیٹڈ بیلنس شیٹ بھی لاگو کر دی گئی، تجربہ کار لوگوں کو نئے سیٹ اپ یا رننگ کیپیٹل ریکوائرمنٹس کیلئے یہ سہولت مقررہ شرائط اور لو۔انٹرسٹ ریٹ پر آج بھی میسر ہے، اب قرضہ معاف کرانے والی کوئی صورت باقی نہیں، پچھلے پندرہ سالوں میں بینک فائنانس کا رجحان اتنا بڑھ گیا ہے کہ کل رجسٹرڈ بزنس سرکل کا لگ بھگ پچاس فیصد حصہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اس دوران اسلامی بینکنگ نے بھی اپنا دائرہ کار بہت کامیابی کیساتھ بڑھایا ہے بلکہ آئیندہ کا دور اسلامی بینکنگ کا دور ہے اسلئے ہر بینک نے اپنا اپنا اسلامی ڈویژن بھی قائم کر لیا ہے جو لگ بھگ اتنا ہی ٹرن اوور کر رہا ہے جتنا کنوینشنل بینکنگ کر رہی ہے بلکہ اسلامی بینک کا رجحان کچھ زیادہ ہی ہے۔

 

 

اس چیپٹر کو سم۔اپ کرتے ہوئے پہلی بات یہ کہنا چاہوں گا کہ قرضہ لینا کوئی عار نہیں لیکن قرضہ صرف پیداواری ضروریات کیلئے ہی لینا چاہئے، غیرپیداواری قرضہ ملکی ہو یا بزنس فائنانس وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ کسی بھی ملک کے معاشی نظام میں عالمی اور اندرونی بینکوں کی شمولیت معیشت میں گراس روٹ لیول تک فائدہ پہنچاتی ہے، ان فائنانسز کی مدد سے جب نئے پروجیکٹ لگتے ہیں یا موجودہ پروجیکٹس میں کوئی ایکسپینشن واقع ہوتی ہے تو روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور معیشت میں گہما گہمی بھی آتی ہے، اس چیز کا متبادل کوئی نہیں سوائے اس کے کہ غیرملکی سرمایہ ہماری اکانومی میں انجیکٹ ہو مگر ملکی حالات کے پیش نظر غیرملکی سرمایہ کار کو ایٹریکٹ کرنا بھی ایک مشکل ترین کام ہے لہذا پیداواری سیکٹر کو پھیلانے کیلئے بینکنگ کو عام ہنرمند افراد کیلئے مزید آسان کرنا چاہئے تاکہ پیداواری سیکٹر کی مزید افزائش ہو سکے۔

۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں روایتی اور اسلامی بینکاری پر ایک گفتگو پیش کریں گے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

مضمون کا چودہواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: