اشفاق احمد کے نام ایک خط — سلمان باسط

0

پیارے اشفاق صاحب!

السلام علیکم ۔ میں اس یقین کے ساتھ آپ پر سلامتی بھیج رہا ہوں کہ جہاں آپ پہنچ چکے ہیں وہاں اسی طرح سلامت ہیں ۔ آسانیاں وصول کر رہے ہیں اور آسانیاں بانٹنے کی دعائیں حاصل کرنے والوں سے اب اپنے لیے دعاؤں کا حصّہ وصول کر رہے ہیں۔ مجھے موت کی حقیقت سے انکار نہیں مگر کیا کروں انسان ہوں اور اپنی تمامتر حیرتوں، کجّیوں اور کوتاہ بینیوں کے ساتھ زندہ ہوں۔ اپنے سامنے اس قلزمِ خاموش میں آپ جیسے ٹائٹینک ڈوبتے ہوۓ دیکھتا ہوں مگر ہر بار مجھ پر وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جسے ہم سکتہ کہتے ہیں اور اس بار تو اشفاق صاحب! میں اس کیفیت کی طوالت سے خوفزدہ ہوں۔

ناگہش سیلِ فنا نقشِ امل باطل کرد
چہ کنم گردشِ ایّام مرا غافل کرد

کہتے ہیں پیغمبر اور شاعر کبھی نہیں مرتے مگر آپ نہ تو پیغمبر تھے اور نہ ہی شاعر۔ پھر آپ مر کیوں نہیں رہے۔ اسی طرح زندہ کیوں ہیں۔ اپنی چٹی سفید داڑھی سمیت۔ گرہ در گرہ گفتگو کے ساتھ جس کے تمام رموز سننے والے کی روح میں اتر کر کھلتے ہیں۔ اپنی شخصیت کے شفّاف آئینوں کے ہمراہ جو ہر زاویے سے ایک ہی عکس دیکھنے والے تک منتقل کرتے ہیں۔ میری آپ سے ملاقاتیں کم ضرور تھیں مگر میں آپ کی محبت اور شفقت کے تھاپڑے آج بھی اپنی کمر پر محسوس کرتا ہوں۔ میرے لیے اور میرے غیر مکمل فن کے لیے کہے ہوۓ آپ کے چند فقرے مجھے ہمہ وقت سرشار رکھتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آپ کے چلے جانے کا دکھ جس طرح آپ کے ادیب اور شاعر دوستوں کی رگوں میں اتر گیا ہے شاید آپ کے اعزّا نے بھی محسوس نہ کیا ہو۔

ماپے تینوں گھٹ رون گے بہتا رون گے دلاں دے جانی

ہمارا تو آپ کے ساتھ لفظ کا رشتہ تھا جو اپنی حرمت کے باعث بسا اوقات خون کے رشتوں سے بھی گہرا ہوتا ہے۔ لفظ کا رشتہ! اورپھر آپ سے۔ کیسا عجیب احساس ہے۔غالبا” ایمرسن نے کہا تھا:

“Cut the words and they will bleed.”

اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کے قلم نے الفاظ کے بدن پر کیسے کیسے نشتر چلاۓ اور ان کے ہر بُنِ مُو سے لہو ٹپکا۔ جانے احساس کی، مشاہدے کی اور طرزِ بیان کی یہ دولت آپ نے کہاں سے حاصل کی تھی اور ہم اتنے قلّاش کیوں ہیں۔

میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آسکا اشفاق صاحب! کہ آپ ملامتی صوفی ہوتے ہوۓ بھی اتنے اُجلے کیوں تھے کہ آپ سے کبھی کوئی نفرت نہیں کر سکا۔ اور میں کیا شاید یہ بات اپنی شخصیت کو ہر قسم کی ملامت سے پاک رکھنے کی سعی کرنے والے صوفیا کی سمجھ میں بھی نہ آسکی ہو۔ ترکھان،موچی اور لوہار کے علم کو علمِ نافع ماننے والے اشفاق صاحب! آپ نے علم و فضل کی دھاک بٹھا دینے والے مستند علما کو ان لوگوں کے فن کی اور علم کی قدر کرنا سکھایا جو انہیں جاہل اور ان پڑھ سمجھتے تھے۔ آپ نے کیسے کیسے بے خبروں کو خبردی۔ کتابی علم پر پریکٹیکل وزڈم کو کیا فوقبت ہے یہ ہمیں آپ کے لیکچرز، آپ کے ڈراموں اور آپ کے تخلیق کردہ کرداروں کی معرفت پتہ چلا ورنہ ہم تو اپنے تئیں خود کو بہت پڑھا لکھا تصوّر کرنے لگے تھے۔ ذات کی نفی کر کے تلاشِ ذات کیسے کی جاتی ہے یہ راستہ بھی آپ نے ہمارے لیے آسان کر دیا۔ اشفاق صاحب! آپ بڑے گُنی آدمی تھے اتنے گُنی کہ آپ کی بڑائی ہمارے گُن کھا گئی۔ ہم اپنی پہچان کیسے کروائيں۔ ہماری کیا شناخت رہ گئی۔ ہر راستے سے تو آپ ہو گزرے ہیں اور شاہی سواری گزر جانے کے بعد پیادوں کو کون دیکھتا ہے۔ ہمیں تسلیم ہے کہ آپ اقلیمِ سخن کی بادشاہ تھے اور ہم تو محض آپ کے باجگزار ہیں۔

بہت پیارے اشفاق صاحب! آپ کی زندگی کے توازن نے مجھے ہمیشہ حیران رکھا ہے۔ میری برادری کے بے شمار ادیبوں کے برعکس آپ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ عظیم ادیب کی شخصیت کی تنک تابی اپنے گھر کے درودیوار کو بھی روشن رکھتی تھی۔ شفیق باپ جو اپنی اولاد، بہؤوں اور ان کی اولاد تک کے لیے محبوب ترین ہستی تھا۔

آپ نے گڈریا کیا لکھا ہم سب کے داؤ جی بن گۓ۔ یقین کریں اشفاق صاحب! آپ نے بارہا زمانے کی یخ بستگی میں میرے اوپر اوڑھے ہوۓ لاعلمی اور بے خبری کا لحاف اتار کر مجھے بے شمار سبق دیے ہیں جنہیں میں اپنی آرام طلب طبیعت کے باعث کبھی ازبر نہیں کر سکا۔ میں آپ سے شرمندہ ہوں مگر آپ سے ارادت کا تعلق توڑ نہیں پاتا۔ کج رو ہوں مگر نسبت قائم رکھنا چاہتا ہوں اور آپ تو میرے داؤ جی ہیں۔ آپ مجھ سے کیسے ناراض ہو پائیں گے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ ابھی آپ اپنے اوپر اوڑھا ہوا مٹی کا حصیر ایک طرف ہٹا کر میری طرف پیار سے دیکھیں گے اور کہیں گے ” داؤ کی جان! ادھر آ۔ دیکھ روٹھا مت کر۔ بس یہ سبق پڑھ لے پھر میں دیر تک کوئی اور سبق نہیں پڑھاؤں گا” مٹی کا حصیر۔۔۔۔۔۔۔ منوں مٹی کا حصیر۔۔۔۔۔۔ کیسے ہٹا پائیں گے داؤ جی آپ۔ بس آپ سوۓ رہیں۔ مت اٹھیں۔ کوئی اور سبق نہ دیں۔ مجھے تو بس آپ کے مٹی کے اس حصیر سے یہ کہنا ہے:

اے خاکِ تیرہ! دلبرِ مارا عزیز دار
ایں نورِ چشمِ ماست کہ بر در گرفتہ ای

آپ کا

سلمان باسط

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: