آخری ای میل ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف کے قلم سے عمر میمن مرحوم کا تذکرہ (۱)

0
  • 168
    Shares

میمن صاحب!
پچھلے کئی گھنٹے سے اپنا ای میل اکاؤنٹ کھول کر بیٹھی ہوں اور آپ کی پرانی ای میلز پڑھ رہی ہوں۔ بار بار جی چاہتا ہے کہ اس آخری ای میل کا جواب لکھ دوں جس کی صرف رسید ہی دے پائی تھی، جواب نہیں لکھ سکی تھی۔ وجہ کچھ خاص نہیں تھی، بس یوں ہی بے دلی سی تھی۔ خود سے، اردگرد سے، دنیا بھر سے، آپ سمیت سب سے۔

حالانکہ آپ نے اس آخری ای میل میں روح کو اجال دینے والی، لطیف تر کر دینے والی، ترفع پر مامور بلکہ مجبور کر دینے والی موسیقی کے کلپ کا لنک بھیجا تھا اور مجھے ہدایت کی تھی کہ پانچ منٹ کے اس کلپ سے اپنی روح کو، اپنی زندگی کو، اپنے وجود کو غسل نور دے ڈالوں۔ لیکن میں یہ بھی نہ کر پائی۔ وہ کلپ میں نے سنا تو ضرور اور اس سے حسب توفیق مرعوب بھی ہوئی مگر میرے وجود میں ایسی کثافت، ایسا بھار، ایسا بوجھل پن تھا کہ نور میں نہانا بھی مجھے لت پت ہونے کے مترادف لگ رہا تھا۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔

آپ ناراض تو ہوئے ہوں گے۔ مجھے پوری طرح علم ہے، کن لفظوں میں میرے بارے میں خود کو بتایا ہوگا ۔ مجھے یہ سوچ کر ہی ہنسی آ گئی ہے کہ آپ کیسے جزبز ہوتے ہوں گے۔ یوں بھی پچھلے دو تین سال سے آپ مجھ سے کچھ مایوس سے ہو گئے تھے، ایک دو بار میری کسی بات پر غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے اور مجھے حسب عادت خوب کھری کھری سنائی تھیں۔ مجھے بھی آپ پرکئی طرح کا غصہ تھا۔ شاید میں لوگوں کے بارے میں آپ کی شکایتیں سن سن کر تنگ آنے لگی تھی اور مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ آپ کچھ زیادہ ہی حساس ہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ زندگی مجھے بھی وہی سبق سکھانے پر تلی ہوئی تھی جو اس نے پہلے آپ کو ازبر کروائے تھے۔

آپ کی باتوں سے مجھے لگتا تھا آپ کسی شے سے خوش نہیں ہوتے۔ کسی بھلے آدمی سے بھی نہیں۔ اس کی نیت کے اندر غوطہ لگا کر کوئی نہ کوئی کمینگی، کوئی نہ کوئی گھٹیا پن ڈھونڈ ہی لاتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ میں سمجھتی تھی دنیا بھلے آدمیوں سے خالی نہیں۔ کبھی نہیں ہوتی۔ لیکن کوئی بھی آدمی، کتنا ہی بھلا کیوں نہ ہو، اس کے اندر چھوٹی موٹی کمیاں، کجیاں، خامیاں تو ہوتی ہی ہیں۔ انھیں نظر انداز کر کے، اس کے روشن اور جمیل پہلوؤں کو کیوں نہ دیکھا جائے۔ کیوں انسان کی عفونتوں پر پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ کیوں نہ اس کی عطر بیزیوں کا لطف اٹھا یا جائے۔

ادھر آپ کے تجربوں نے آپ کو کچھ اور سکھایا تھا۔ ایک خوف —کہ کہیں کوئی آپ کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا لے، کہیں کوئی جذباتی استحصال نہ کر دے، کہیں کوئی فریب نہ دے جائے— شکست انا کا خوف— نہ سمجھے جانے کا خوف— تحسین ناشناس کا خوف — اس خوف نے آپ کو حد سے زیادہ محتاط اور چوکنا کر دیا تھا اور آپ ہر لمحہ ایک ایسی دفاعی پوزیشن پر ایستادہ رہتے تھے جہاں سے بآسانی کراس فائر ہو سکے۔

مگر میں جانتی ہوں کہ آپ کے سینے میں کیسا مخلص، کیسا محبتی اور گرمجوش دل تھا۔ آپ اپنی وابستگی اور لگاؤ کے اظہار سے ہر ممکن گریز کرتے تھے مگر کبھی کبھی بے احتیاطی ہو ہی جاتی تھی۔ یہ تب ہوتا تھا جب آپ کا کوئی عزیز کسی مشکل میں گرفتار ہوتا تھا۔ تب آپ کس قدر بے چین ہوجاتے تھے۔ اگر عملی طور پر کچھ نہ کر سکتے تو کڑھ کر رہ جاتے۔ بار بار پوچھتے۔ اس کا دکھ خود بھی جھیلتے اور ساتھ ساتھ بڑبڑ اتے بھی جاتے۔ اندر کی کڑواہٹ کچھ اور بھی کڑوی ہو جاتی۔ تلخابۂ حیات اور صبر آزما ہو جاتا۔

میمن صاحب
میں نے آپ کو کبھی نہیں بتایا تھا کہ میں آپ سے کیسے متعارف ہوئی تھی۔ اس عمل میں میری خواہش تو کیا مرضی بھی شامل نہیں تھی۔ آپ سے رابطہ کرنا میرے لیے کڑوا گھونٹ بھرنے کے مترادف تھا۔ یہ ۲۰۰۸ یا اوائل ۲۰۰۹ کی بات ہے۔ یونی ورسٹی میں ہمارے شعبے نے ایک نیا تحقیقی جرنل نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ہمارے صدر شعبہ پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل اور اس وقت کے ڈین فتح محمد ملک صاحب نے، جو بعد میں ریکٹر بننے والے تھے، میرے ذمے آپ سے مقالہ حاصل کرنے کا کام لگا دیا تھا۔

مجھے یاد ہے، میں ان کے دفتر میں بیٹھی تھی، جب عقیل صاحب نے مجھے کاموں کی فہرست سونپتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے آپ محمد عمر میمن کو ای میل کیجیے اور ان سے مقالہ حاصل کیجیے۔ یونی ورسٹی آئے مجھے ایک دو سال ہی ہوئے تھے اور میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ محمد عمر میمن صاحب کون ہیں۔ انھوں نے میرے بشرے سے قیاس کر لیا کہ ’’ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں‘‘۔ چنانچہ مشکوک انداز سے مجھے گھورتے ہوئےپوچھا،
آپ جانتی ہیں نا، میمن صاحب کو؟
میں نے معصومیت سے افقاً سر ہلایا۔

اس پر عقیل صاحب نے ملامت اور مذمت بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور مایوس مگر سرزنش بھرے لہجے میں کہا:
’’کیا۔۔۔؟ نہیں نہیں بھئی۔ ایسا نہ کہیے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ آپ محمد عمر میمن کو نہیں جانتیں؟‘‘

عقیل صاحب آسانی سے کسی کی تعریف نہیں کرتے۔ ان الفاظ میں وہ محمد عمر میمن کا ذکر کر رہے تھے تو ضرور وہ کوئی قابل ذکر شخصیت ہوں گے۔ مگر میری یادداشت میں ایسا کوئی نام محفوظ نہیں تھا۔ میں سخت شرمندہ ہوئی۔

ملک صاحب نے مجھے یوں پٹتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے اپنی کرسی سے اٹھے اور بائیں ہاتھ کی الماری کھول کر اس میں سے اینوئل اوف اردو سٹڈیز کا ایک ضخیم شمارہ نکال کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

’’اردو زبان و ادب کے سب سے معتبر جرنل کے مدیر ہیں میمن صاحب!‘‘ میں نے دیکھا جرنل تو سارے کا سارا انگریزی میں تھا۔ میں اور بھی مرعوب ہو گئی۔

اس کے ساتھ ہی ملک صاحب نے مجھے خبردار کرنے کے انداز میں ’’میمن صاحب‘‘ کی شخصیت اور ان سے ملاقات کے ایک دو حوصلہ شکن تجربے بیان کر ڈالے۔ مقصد مجھے ڈرانا نہیں، خبردار کرنا تھا۔
نتیجتاً میں خبردار ہی نہیں ہوئی ڈر بھی گئی تھی اور میں نے گھگھیا کر عقیل صاحب کی طرف دیکھا:
’’سر! آپ خود ہی میل کر دیں نا میمن صاحب کو، میں باقی لوگوں سے رابطہ کر لیتی ہوں۔ میری ان سے کوئی شناسائی نہیں ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے بھئی؟ آپ اس مجلے کی شریک مدیر ہیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ شناسائی نہیں ،تو ہو جائے گی۔ ہونی ہی چاہیے۔ آپ اب یونی ورسٹی کی استاد ہیں۔‘‘
عقیل صاحب ’’نہ‘‘ سننے کے بالکل عادی نہ تھے۔

میں نے اسی روز شام کو گھر آ کر ڈرتے ڈرتے، مگر نہایت احتیاط سے ایک ای میل ڈرافٹ کی۔ اسے بھیجنے سے پہلے تیس پینتیس مرتبہ پڑھا۔ ہر بار کسی نہ کسی فل سٹاپ، کومے یا کولن کو ادھر سے ادھر کیا۔ کہیں کہیں however اور nevertheless جیسے الفاظ کا اضافہ کیا اور ہاتھوں پر پھونک مار کر سینڈ کا بٹن دبا دیا۔

آپ کا جواب اگلے روز صبح صبح ہی مل گیا۔ آپ نے پاکستانی یونی ورسٹیوں کی بے توفیقی، یہاں کے استادوں کی نالائقی، تدریسی نظام کی خرابی، کمپیوٹر سسٹم کی فرسودگی اور کاپی رائٹ کے قوانین سے دیدہ و دانستہ غفلت برتنے کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مجھے سمجھایا تھا کہ نیا تحقیقی جرنل نکال کر ہم کوئی تیر مارنے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو آنکھیں کھول لیں اور حقیقت کی دنیا میں آ جائیں۔ اس کے بعد آپ نے کہا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر میں مقالہ بھیج دوں تو تم ناکارہ لوگوں کے ناکارہ کمپیوٹر جو تیس روپے کی سی ڈی خرید کر ان پیج کا نقل مار کہ سوفٹ وئیر استعمال کرنے پر سدھائے گئے ہیں، اس مقالے کو، جو میں نے کئی ہزار روپے خرچ کر کے خریدے ہوئے اصلی ان پیج پروگرام میں لکھا ہے، کھول بھی سکیں گے۔ اور اگر میں پی ڈی ایف فائل بھیجوں تو تمھارے نکمے کمپوزر زندگی بھر اس مقالے کی درست کمپوزنگ نہ کر سکیں گے۔ وہ تو میرے رموزِ اوقاف ہی کو نہیں سمجھ سکتے تو ان سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں اپنے انتہائی احتیاط سے لکھے اور کئی بار کی پروف خوانی کےبعد تصحیح کیے ہوئے مقالے کے نئے سرے سے پروف پڑھنے میں مصروف ہو جاؤں۔ بی بی! میں سخت مصروف آدمی ہوں اور میرے سامنے کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ میں تمھارے اس نئے جرنل کے لیے مقالہ بھیجنے کی کھکھیڑ کیوں اٹھاؤں۔

آپ نے یہ سب کچھ انھی الفاظ میں براہ راست تو نہیں لکھا تھا مگر بین السطور عین میں یہی مدعا بیان کیا تھا۔ مجھے سمجھنے میں ذرا دقت نہ ہوئی اور میرے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔

آپ کی ای میل لے کر میں سیدھی عقیل صاحب کے پاس پہنچی۔
’’سر! اب آپ خود اس کا جواب دیجیے گا!‘‘
’’جی نہیں! یہ کام آپ خود ہی کریں گی۔ لکھ دیجیے کہ آپ مقالہ بھیجیں، اسے کھولنا ہمارا کام ہے۔‘‘ انھوں نے ٹکا سا جواب دے دیا۔
اب میں پھر کمپیوٹر کے سامنے، دل ہی دل میں دو زانو ، بیٹھی۔ سب سے پہلے ہر بات میں آپ کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اپنی کم نظری، کم فہمی اور کم کوشی کا اعتراف کیا، اس کی معذرت طلب کی اور اس کا مداوا کرنے کے لیے ایک بار پھر آپ کا مقالہ طلب کیا۔

بس پھر اس برقی خط کتابت کا ایک طویل سلسلہ چل پڑا۔ میری ہر ای میل کا آغاز ایک معذرت سے ہوتا اور انجام ایک اور معذرت سے۔ بعض اوقات درمیان میں بھی دو چار عذر خواہیوں کی نوبت آ جاتی۔ مشکل یہ تھی کہ آپ نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا، وہ سب کے سب سچ ثابت ہوئے تھے۔ ہمارا تیس روپے والانقلی ان پیج، آپ کی فائل کھولنے کا حوصلہ نہ کر سکا۔ آپ کو کئی بار اپنے مقالے کے پروف پڑھنے پڑے۔ آپ ہر بار جھنجھلاتے، میں ہر بار ہاتھ جوڑ دیتی۔ اول اول تو مصلحتاً، لیکن آہستہ آہستہ مجھے اس تنک مزاجی کے پس پشت چھپے اخلاص کی خوشبو آنے لگی تھی۔ مجھے اس سچ کا مزا آنے لگا تھا جسے ہم منہ در منہ سننے کے عادی نہیں رہے تھے۔ شدید منافقت اور جھوٹ سے لتھڑی ہوئی دنیا میں رہتے ہوئےسچائی اور بے غرضی کی پاکیزگی ہمیں اجنبی محسوس ہوتی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ آپ کی یہ سچائی کبھی کبھی بے مروتی کی حد تک پہنچ جاتی تھی مگر دنیا میں آپ کے سوا ایسا کون تھا جو سچ کہنےکے لیے اس حد تک جا سکتا ہو۔ آپ نے کبھی کسی مصلحت، کسی ضرورت، کسی توقع کو اپنی صاف گوئی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا تھا۔ میں دل سے آپ کی قائل ہو گئی تھی اور شاید آپ کے دل میں بھی میرے لیے ایک نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس کا احساس مجھے پہلی بار تب ہوا جب ہماری یونی ورسٹی میں خودکش دھماکا ہوا۔ میں اس وقت کیمپس ہی میں تھی۔ جب بچ بچا کے گھر لوٹی تو سب سے پہلی ای میل آپ کی ملی۔ آپ میرے بارے میں سخت متفکر تھے۔ اس فکرمندی میں ایک گہرا اخلاص شامل تھا۔

بہر حال ہم نے اپنے پرچہ ’معیار‘ کے چار شمارے نکالے اور ہر شمارے میں آپ کا ترجمہ شدہ کوئی نہ کوئی مضمون چھاپا۔ ہر مضمون کے لیے یوں ہی کئی کئی ای میلز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس کے بعد عقیل صاحب یونیورسٹی سے رخصت کر دیے گئے اور مجھے بھی معیار سے علیحدہ کر دیا گیا۔ یہ میری پیشہ ورانہ زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔ یونی ورسٹی کی سیاست میرے لیے بالکل نئی چیز تھی اور میں اندر سے ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔ میں نے یونیورسٹی کے شوق میں اپنی گزشتہ سرکاری ملازمت کے انیس سال قربان کر دیے تھے مگر یہاں کی فضا نے تین چار سال ہی میں میرے اندر مایوسی اور اذیت کے ڈھیر لگا دیے۔

اس انتہائی کڑے وقت اور شکست خوردگی کی کیفیت میں آپ کس طرح میرے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔ مجھے ایک ایک بات یاد ہے۔ مجھے حوصلہ دینے کے لیے آپ نے مجھے اپنی نوکری کے کتنے ہی قصے سنائے۔ آپ کو زندگی بھر یونی ورسٹی میں مخالفانہ سیاست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ کی کسی کولیگ نے آپ کو سب کے سامنے تھپڑ دے مارا تھا۔ اینوئل اوف اردو سٹدیز کو جاری رکھنے کے لیے آپ کو وسکانسن یونی ورسٹی میں کتنی سخت جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ حسد اور ٹانگ کھینچنے کے کیسے کیسے مظاہرے ہوئے تھے۔ میں یہ سب سن کے شل ہو گئی تھی لیکن ساتھ ساتھ یک گونہ تسلی سی بھی ہو گئی تھی کہ اگر امریکہ کی یونی ورسٹیوں میں، محمد عمر میمن جیسے سینئر پروفیسروں کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو پھر میرا معاملہ تو خاصا ہلکا ہے۔ آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ مجھے کچھ تسلی ہو جائے۔

لیکن سچ پوچھیں تو مجھے آپ سے ذاتی وابستگی تب محسوس ہوئی جب میں نے آپ کی فرمائش پر پاکستانیات میں شائع ہونے والا آپ کا انٹرویو، انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ آپ نے ہر سوال کا نہایت مفصل جواب دیا تھا اور پورے خلوص اور سچائی سے۔ اپنی زندگی کا احوال، تجربات، نظریات سبھی کچھ کہہ ڈالا تھا۔ میری مصیبت یہ ہے کہ ترجمہ کرتے ہوئے متن کو اپنے اندر اتار لیتی ہوں؛ جیسے شہد کی مکھی پھولوں کا رس چوس لیتی ہے۔ آپ کے تجربات، آپ کے محسوسات، آپ کے جذبات، جب میرے لفظوں میں ڈھلے تو میری اپنی کیفیت بن گئے۔ مجھے لگا کہ آپ کی زندگی میں نے بھی جی لی ہے۔ آپ نے مختلف سوالوں کے جواب میں لکھا تھا:

میں علی گڑھ میں پیدا ہوا تھا۔ اپنے والدین کا چھے میں سے آخری بچّہ۔ ہمارا گھرانہ قصبے کا واحد میمن گھرانہ تھا۔ کوئی صرف ’’میمن، علی گڑھ‘‘ لکھ کر خط بھیجتا تو ہمیں مل جاتا۔ آٹھ سال بڑی ایک بہن کے سوا، میرے سب بہن بھائی، میری پیدائش کے بعد جلد ہی گھر چھوڑ چکے تھے۔ عمر میں اکیاون سال بڑے اور ہر وقت کسی نہ کسی کتاب میں گم رہنے والے والد کے ساتھ پروان چڑھتے ہوئے میں نے بہت تنہا اور بے رنگ سا بچپن بتایا ہے اور ایک مبہم سی اداسی زندگی بھر میرے تعاقب میں رہی ہے۔ اگرچہ میرے کچھ دوست بھی تھے اور ہم اس دور کے ہندوستانی لڑکوں کے عام کھیل بھی کھیلتے تھے۔ زندگی کے مختلف ادوار میں، میں متعدد مشغلوں سے اناڑی پن سے الجھتا رہا ہوں، جیسے مصوری، چوب کاری، مکرامے بنانا، منقش موم بتیاں بنانا اور باغ بانی (ایک زمانے میں میرے پاس افریقی بنفشے کی ۱۵۰ اقسام تھیں جن میں سے ایک بھی خریدی ہوئی نہیں تھی، میں نرسریوں سے گرے ہوئے پتّے چنتا یا پھر دوستوں سے قلمیں لیتا اور سنگ دو دی اور مروارید کا آمیزہ استعمال کر کے انھیں خود بوتا)۔ بہر کیف، گزشتہ بیس برس کے دوران لکھنا، پڑھنا اور باغبانی ہی میری اہم مصروفیات رہی ہیں۔ ملازمت سے سبک دوشی کے بعد تو میں خاص عزلت گزیں ہو گیا ہوں۔ جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے اس ٹمٹماتی ہوئی سرخ روشنی کے ڈر سے ٹیلی فون کی طرف دیکھنا بھی برا لگتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مجھے کسی کو جوابی ٹیلی فون کرنا پڑے گا۔

میں نے حال ہی میں ایک اور انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ میری زندگی عام سی تھی۔ دوسرے لڑکوں کی طرح میں بھی لڑکپن اور نوجوانی کے کئی تجربات سے گزرا۔ اب ان سب کو دہرانا بے معنی ہے، حالاں کہ کچھ دہائیاں پہلے تک، جب مجھے زیادہ شعور نہیں تھا، میں بڑے شوق سے ایسا کرتا۔ اب ایسی باتیں صرف غیر اہم ہی نہیں، بالکل مضحکہ خیز بھی لگتی ہیں۔ کائنات کی اس بے کرانی میں ایک زندگی کی وقعت ہی کیا ہے؟

کیا مجھے اندازہ تھا کہ میں مستقبل میں کیا کروں گا؟ ہاں، کچھ لڑکوں کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں اور ہم ان کی زندگی کی ترجیحات اور کارکردگی کی ایک جھلک پیچھے ان کے ماضی میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ میرے لیے تو زندگی محض لمحۂ موجود تھی۔ میرا بچپن متشددانہ حد تک تحفظ زدہ تھا۔ مجھے تو اپنے دوستوں کے ساتھ گلّی ڈنڈا اور کرکٹ کھیلنا، اسکول سے واپسی پر یونی ورسٹی کے باغوں سے آم اور دوسرے پھل چرانا اور تیراکی کرنا پسند تھا۔ مجھے مستقبل کے بارے میں دریافت کرنے کی فرصت نہیں ملی۔ شاید کوئی ’’مستقبل‘‘ ہو گا مگر اتناہی دور افتادہ اور بعید از دست رس، جتنی پریوں کی کہانی کی شہزادی۔ در حقیقت میں نے کبھی مستقبل پر غور نہیں کیا۔

پیشہ؟ بہت بڑا لفظ ہے۔ مجھے نہیں معلوم! یادش بخیر، میرا خیال ہے میں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا چاہا ہو گا۔ یہ نہیں کہ میری کوئی مرضی تھی اور ایسا بھی نہیں کہ کوئی مرضی نہیں تھی۔ بس ایک بے پایاں بے دھیانی تھی ۔۔۔ مکمل، حقیقی اور معیار بند۔ اس سے آگے کچھ نہیں تھا۔ ایک بار اس میں داخل ہو گئے، پھر یہ خود بخود، اپنی ہی کسی منطق کے تحت، کسی سمت یا مقصد کا تعین کیے بغیر، لیے پھری۔

ترجمہ کرتے کرتے میں بھی اسی بے دھیانی کا حصہ بن گئی تھی۔ مجھے تنہا رہنے اور بےدھیان پھرنے والے لوگوں سے مطابقت پیدا کرنا آسان لگتا ہے۔ میں ان کے ساتھ زیادہ بہتر طور پر افہام و تفہیم کا رشتہ پیدا کر سکتی ہوں۔ اپنے آپ سے مطمئن، خود پر ناز کرنے والے، خود اعتماد لوگوں سے مجھے اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔

اس انٹرویو کے دو نتائج سامنے آئے تھے۔ ایک تو یہ کہ آپ نے پہلی بار کھل کر مجھے داد دی تھی اور دوسرا یہ کہ اس دوران مجھے آپ کی شخصیت کی ہمہ جہتی کا ٹھیک طرح سے اندازہ ہوا تھا۔ اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں آپ یکساں اور سطح کمال کو چھوتی ہوئی مہارت سے ترجمہ کیا کرتےتھے۔ آپ کے تراجم کے موضوعات میں کس قدر تنوع تھا۔ فکشن، تنقید، تصوف۔ ہر موضوع پر آپ کا کام آپ کے حیرت انگیز تبحر علمی کا مظہر ہوتا تھا۔ انگریزی، اردو، عربی اور فارسی پر تو آپ کو مکمل عبور تھا۔ فرانسیسی، جرمن اور سپینی زبان سے بھی شاید تھوڑی بہت شناسائی تھی۔ کم از کم اتنی ضرور کہ تلفظ سمجھ لیتے تھے۔ پھر جتنا کچھ آپ نے ترجمہ کر ڈالا تھا، اتنا کچھ تو لوگ زندگی بھر میں پڑھ نہیں پاتے۔ ایک زمانے میں خود بھی کہانیاں لکھتے تھے۔ آپ کی نو کہانیوں کا مجموعہ ’’تاریک گلی‘‘ کے عنوان سے ۱۹۸۹ میں سنگ میل لاہور سے شائع ہوا تھا جس کا انتساب تھا:

’’خود اپنی ریا (ح) کاری کے نام۔‘‘

لیکن بعد میں آپ افسانہ نویسی سے منحرف ہو گئے تھے۔ آپ کہا کرتے تھے، میں نے اتنا عمدہ فکشن پڑھ لیا ہے کہ اب اس سے بڑھ کر کیا لکھوں گا۔ اینوئل اوف اردو سٹڈیز کی ادارت کے لیے آپ جتنی محنت کرتے تھے، اتنی محنت تو کوئی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بھی نہیں کرتا ہو گا۔ مجھے خوب معلوم ہو گیا تھا کہ میں جس شخصیت سے متعارف ہو رہی ہوں وہ کوئی عام انسان نہیں، ایک نابغہ ہے۔

آپ سے پہلی ملاقات ۲۰۱۰ میں میڈیسن ایئر پورٹ پر ہوئی تھی۔ آپ کی تجویز پر مجھے وسکانسن یونی ورسٹی میں ہونے والی اس ایک روزہ کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا جو آپ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر آپ کے اعزاز میں منعقد ہو رہی تھی۔ ہوائی اڈے کے طویل زینے سے نیچے اترتے ہوئے میں نے آپ کو نیچے بڑے ہال میں کھڑا دیکھا۔ گورارنگ، تیکھے نقش، دبلے پتلے، طویل القامت، سر پرسولا ہیٹ، آنکھوں پر چشمہ، ہونٹوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ۔ عمر ستر برس کے لگ بھگ تھی لیکن دبلی پتلی جسامت کے باوجود بالکل تندرست لگ رہے تھے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بغیر کسی دقت کے پہچان لیا۔ آپ نے آگے بڑھ کے میرا سامان میرے ہاتھ سے لے لیا اور مجھے ہوٹل تک چھوڑنے گئے۔ اگلے روز آپ نے چند مندوبین کو گھر پر کھانے کے لیے مدعو کیا اور اس روز میں نے آپ کی سٹڈی دیکھی، آپ کے اٹھنے بیٹھنے اور لکھنے پڑھنے کی جگہیں دیکھیں، ہر چیز میں ایک پختہ اور اعلیٰ ذوق کی جھلک تھی۔ آپ کی خوب صورت، کم گو اور باوقار جاپانی بیگم ناکاکو صاحبہ سے ملی اور آپ کے گلابوں کے پودے دیکھے جن کی آپ خود دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: