وحید مراد اور ہمارا عہد: زمانے کا اشارہ —- قسط 7 — خرم علی شفیق

0
  • 240
    Shares

جہاں تک آپ کے تبصروں سے اندازہ لگا سکتا ہوں، پچھلی قسط سب سے زیادہ پسند کی گئی ہے۔ اس لیے یہ قسط بہت سوچ سمجھ کر لکھنی پڑی ہے کہ آپ کی توقعات پر پوری اُتر سکے۔ سیریز شروع کرتے ہوئے سوچا تھا کہ اپنی انگریزی کتاب سے ترجمہ کرتا جاؤں گا۔ لیکن پہلی قسط کے بعد سے ہی اُردو کتاب کا راستہ الگ ہوتا گیا ہے۔ اس لیے اب یہ آپ کے مشوروں کی روشنی میں ایک نئی کتاب ہی بنتی جا رہی ہے۔ اس لیے پڑھنے کے بعد اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔ مصنف۔


وحید جن دنوں ایم اے کر رہے تھے، کراچی یونیورسٹی کے ایک مقابلے میں حصہ لینے پر اُنہیں انعام میں جیمز جوائس کا ناول ’’یولیسس‘‘ ملا۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں یہ بیسویں صدی کا سب سے عظیم ناول تھا (یہ 1918 میں شائع ہوا تھا)۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ’’شعور کی رَو‘‘ کا ناول تھا۔ شعور کی رَو کا مطلب یہ تھا کہ جدید نفسیات کے مطابق انسان کے ذہن سے گزرنے والا ایک خیال اگلے خیال سے جُڑا ہوتا ہے، خواہ بظاہر دونوں میں کوئی تعلق نہ ہو۔ خیالات کا یہی تسلسل انسان کا اصل وجود ہے۔ رُوح کا کوئی وجود نہیں ہے۔

اس لیے ’’شعور کی رَو‘‘ کے ناول مکمل طور پر کسی کردار کے ذہن سے یکے بعددیگرے گزرنے والے خیالات پر مبنی ہوتے تھے۔ انہی سے اندازہ لگانا پڑتا تھا کہ اس وقت وہ کردار کیا کر رہا ہو گا یا اُس کے ساتھ کیا واقعات پیش آ رہے ہوں گے۔ جیمز جوائس نے ’’یولیسس‘‘ میں ایک خاص بات یہ بھی پیدا کی تھی کہ اس کے مرکزی کردار کے جو خیالات دکھائے تھے وہ تقریباً سبھی علامتیں اور استعارے تھے۔ زیادہ تر یورپی ادب کی طرف اشارے تھے۔

وحید کے دوست جاوید علی خاں کا کہنا ہے کہ ’’یولیسس‘‘ پڑھ کر وحید کو اِس قسم کے ناولوں سے ایک دلچسپی پیدا ہو گئی اور طالب علمی کے زمانے میں ہی انہوں نے اس انداز میں لکھنے والے بڑے بڑے مصنفوں کے ناول پڑھ ڈالے جن میں جیمز جوائس کے علاوہ ہنری جیمز، ورجینیا وولف اور ولیم فاکنر شامل تھے۔ ان دنوں وہ اپنے ایک منصوبے کا اکثر ذکر کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسی تکنیک کے مطابق ایک فلم لکھی جائے یعنی اس میں کسی کردار کے ذہن کے اندر کی دنیا دکھائی جائے۔

یوں لگتا ہے کہ فلم ’’اشارہ‘‘ میں انہوں نےیہی کیا لیکن اس فرق کے ساتھ کہ’’شعور کی رَو‘‘ کے برعکس یہاں رُوح کا وجود ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ ان کی پانچویں ’’خاص‘‘ فلم تھی (اگر خاص فلموں سے ہم فلم آرٹس کی وہ فلمیں مراد لیں جن میں وحید خود ہیرو تھے)۔ نہ صرف انہوں نے اس کی کہانی خود لکھی اور پروڈیوس کی بلکہ یہ واحد فلم ہے جس کی ہدایات بھی انہوں نے ہی دیں۔ مکالمے اور نغمات مسرور انور نے لکھے اور موسیقی سہیل رعنا کی تھی۔ اداکاروں میں وحید کے علاوہ دیبا، روزینہ، لہری، ایس ایم سلیم، نیلوفر، زریں، ہما، یاسمین، سنبل، شاہین، خورشید کنول، ناز بیگم، لاشاری، حمید، انصاری اور ہادی امام شامل تھے۔ ان کے علاوہ نوجوان طلعت حسین پہلی دفعہ متعارف کروائے گئے جنہوں نے بعد میں جو بلند مقام حاصل کیا وہ کسی بیان کا محتاج نہیں ہے۔ وحید اور دیبا نے ایک نغمہ اپنی آوازوں میں بھی گایا اگرچہ کریڈٹ میں ان کے نام گلوکاروں میں نہیں آئے۔ فلم 17جنوری 1969 کو ریلیز ہوئی اور سلوی جوبلی سے کچھ زیادہ ہفتے چلی۔

فلم اس طرح شروع ہوتی ہے کہ ہم ایک گلی میں داخل ہو رہے ہیں (یعنی سبجکٹیو کیمرا ہے گویا کیمرے کی آنکھ ہماری آنکھ ہے)۔ آف اسکرین وحید کی آواز اُبھرتی ہے جو ہم سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں، ’’میرا نام عامر ہے۔ اور یہ ہے وہ گلی جہاں میں رہتا ہوں۔ ‘‘ ہم چلتے رہتے ہیں اور عامر (وحید مراد) کی آواز اُس گلی کے مختلف لوگوں سے ہمارا تعارف کرواتی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہم عامر کے گھر میں آتے ہیں تو وہ کہتا ہے، ’’اور یہ ہے میرا کمرہ۔ تصویریں بناتا ہوں جن کے قدردان تو بہت ہیں لیکن خریدار کوئی نہیں۔ ‘‘

اب ہم پہلی دفعہ عامر کو دیکھتے ہیں۔ وہ ایک کینوس پر تصویر بنا رہا ہے۔ اُس کے سامنے تین بچے بیٹھے ہیں۔ تصویر مکمل کر کے وہ ان سے پوچھتا ہے، ’’کیوں کیسی ہے؟‘‘ بچوں سے بالترتیب جواب ملتے ہیں، ’’بہت اچھی‘‘، ’’کچھ خاص نہیں‘‘ اور ’’بالکل ہی بکواس‘‘!

یہاں سے آگے آپ اس فلم کو جس طرح دیکھیں وہ ا س پر منحصر ہے کہ آپ نے یہ ’’اشارہ‘‘ کس طرح سمجھا ہے۔ ایک مطلب ہو سکتا ہے کہ فلم کے شروع میں جس گلی میں آپ کا داخلہ ہوا، وہ تخیل کی دنیا ہے جسے آپ نے آج تک صرف اسکرین پر دیکھا تھا لیکن آج آپ اُسے اندر سے دیکھ رہے ہیں، عامر جو ’’تصویریں‘‘ بناتا ہے وہ فلمیں ہیں (اُس زمانے میں اُردو میں فلم کو تصویر بھی کہتے تھے، جس طرح انگریزی میں اسے پکچر کہتے تھے)، اور یہ کمرہ جہاں وہ تصویریں بناتا ہے، اس سے مراد ہے عامر کا ذہن اور خود عامر سے مراد وحید کی وہ ذات ہے جو اپنے فن میں ظاہر ہوتی ہے یعنی وحید مراد بحیثیت فرد نہیں بلکہ بحیثیت فنکار۔

اس صورت میں آپ ان تینوں بچوں میں سے ایک ہیں جو عامر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ آپ نے عامر کی دنیا میں نیا نیا قدم رکھا ہے اس لیے آپ بچوں کی طرح ہیں۔ اس مرحلے پر آپ عامر کے فن کے بارے میں جو بھی رائے دیں وہ ظاہر ہے کہ انہی تینوں آرأ میں سے ایک ہو گی – اچھی، بری یا کوئی خاص نہیں۔ لیکن ہر صورت میں یہ ایک بچے کی رائے ہو گی کیونکہ ابھی آپ اس دنیا سے واقف نہیں ہیں۔

کچھ مناظر کے بعد کالج کی ایک طالبہ دکھائی دیتی ہے جسے خود بھی تصویریں بنانے کا شوق ہے۔ اس کا نام عالیہ (دیبا) ہے۔ یاد رہے کہ اس فلم کی ریلیز والے سال ہی جب وحید کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو اُنہوں نے اُس کا نام بھی یہی رکھا۔ سلمیٰ مراد کا کہنا ہے کہ جب وہ ہسپتال میں اپنی بیٹی کو دیکھنے آئے تو اُنہوں نے نرس سے پوچھا، ’’میری ہیروئین کہاں ہے؟‘‘ نرس سمجھیں کہ وہ سلمیٰ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں لیکن وحید نے کہا، ’’نہیں، میرا مطلب ہے ننھی والی!‘‘ اس لحاظ سے اس فلم میں عالیہ آیندہ آنے والی نسلوں کا استعارہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے اقبال نے اپنی شاعری میں اپنے بیٹے ’’جاوید‘‘ کا نام آیندہ نسلوں کے استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے اور جاویدنامہ کے شروع میں کہا ہے، ’’میں جو بڑے بوڑھوں سے ناامید ہو چکا ہوں، آنے والے دن سے خطاب کر رہا ہوں!‘‘

اس لحاظ سے فلم ’’اشارہ‘‘ کی ہیروئین عالیہ فنکار کے ساتھ آپ کے تعلق کی علامت ہے، خواہ آپ مرد ہوں یا عورت۔ عالیہ آیندہ آنے والی نسل ہے، اور فلم ’’اشارہ‘‘ اس نسل کے ساتھ یعنی وحید مراد بحیثیت فنکار کے ساتھ آپ کے تعلق کی کہانی ہے۔

اس کہانی میں تقدیر عامر کو عالیہ سے ملاتی ہے۔ پوری فلم میں جو کچھ دیکھا جا رہا ہے، یہ وہ خیالات ہیں جو عام طور پر اُس زمانے کی پاکستانی فلم دیکھتے ہوئے ایک فلم بین کے ذہن سے گزرتے ہیں۔ یہ ایک فلم بین کے ’’شعور کی رَو‘‘ ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے تخیل کی دنیا میں واقع ہو رہا ہے جو صرف وحید کے تخیل کی نہیں بلکہ آپ کے تخیل کی دنیا بھی ہے، جسے آپ اور وحید ہمیشہ مل کر تخلیق کرتے رہتے ہیں، جب بھی آپ اُن کی کوئی فلم دیکھیں:

انجمن

یاد میں اُن کی کھو کر گزرا ہر اک لمحہ تنہائی کا،
ملنے کی دل میں حسرت بھی تھی، ڈر بھی تھا ہم کو رُسوائی کا!
کہنے کو تھے لاکھ فسانے، ہو گئی کیوں خاموش زباں!
سوچا تھا اُن سے ملیں گے، کہیں گے،
’’آپ ہمیں تڑپاتے ہیں، آنکھوں سے نیند چراتے ہیں!‘‘
’’آپ خیالوں میں آتے ہیں، ایسے بھلا کیوں ستاتے ہیں!‘‘

تقدیر عامر پر یوں مہرباں ہوتی ہے کہ ایک امیر لڑکی ریشماں (روزینہ)، اس کی تصویروں کی قدر کرنے لگتی ہے۔ اس طرح عامر کے لیے تصویریں بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن ریشماں اُس سے محبت بھی کرنے لگتی ہے۔ ریشماں کو ہم فنکار کے وہ ہمعصر سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اُسے اپنے زمانے میں مقبول بنایا اور یہ ممکن ہوا کہ وہ اپنے شہکار تخلیق کر سکے۔ لیکن اُس کا دل اپنے ان ہمعصروں کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے دھڑکتا ہے۔

دوسری طرف عالیہ کا امتحان یہ ہے کہ اُسے اُس کی آنٹی نے پرورش دے کر بڑا کیا ہے اور وہ اُس کی شاد ی اپنے لڑکے عشرت (طلعت حسین) سے کرنا چاہتی ہیں۔ اس مسئلے کو تقدیر خود حل کرتی ہے۔ لیکن یہ تقدیر کا روایتی تصوّر نہیں بلکہ تقدیر ایک ایسی طاقت ہے جو ہمارے کردار کی مضبوطی کی مناسبت سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ تصوّر فلم کے آخری نغمے میں عامر کے تخیل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی اگر باقی فلم عامر کا ذہن تھی تو یہ نغمہ ہمیں ذہن سے بھی ایک سطح نیچے لے جاتا ہے جو تخیل، روح کی گہرائی یا خودی ہے۔ یہاں فلم بلیک اینڈ وہائٹ سے رنگین ہو جاتی ہے، جس طرح ہماری شخصیت کی یہ گہرائی ہمارے خیالات سے کہیں زیادہ رنگین ہوتی ہے۔

اس نغمے میں، جو عامر کے تخیل میں پیش آ رہا ہے، رقاصائیں اُسے ایک پارک میں لے جاتی ہیں جہاں ایک اونچی سطح پر عالیہ سیاہ لباس میں کھڑی ہے۔ عامر اُسے مخاطب کر کے جو نغمہ گاتا ہے، اور جسے گاتے ہوئے وہ سیڑھیاں چڑھ کر اُس تک پہنچتا ہے، اُس کا موضوع ’’زمانہ‘‘ یعنی وقت ہے۔ فنکار اور ہمارے درمیان، وقت کا ایسا فاصلہ حائل ہے جسے عبور کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے لیکن یہاں فنکار ہمیں تفصیل سے بتا رہا ہے کہ ہم کس طرح وقت کی اس گردش پر غالب آ کر اُس سے ملیں۔ نغمے کے شروع میں وہ کہتا ہے کہ اُس کے اور محبوب کے درمیان ’’زمانہ ‘‘ حائل ہے (’’زمانہ‘‘ کا مطلب صرف دنیا والے نہیں ہوتے بلکہ وقت کو بھی ’’زمانہ‘‘ کہتے ہیں):

انجمن

مری محبوب سوگوار نہ ہو، زندگی درد کا فسانہ ہے!
اِک طرف تُو ہے اِک طرف میں ہوں، درمیاں سنگدل زمانہ ہے!
آخری بار مل رہے ہیں ہم، آؤ پھر کیوں نہ مسکرا کے ملیں،
غم کے سارے دئیے بجھا کے ملیں!
اپنے آنسو چُھپا لو آنکھوں میں، دل جلاؤ نہ یوں خدا کے لیے،
آج ہے امتحاں وفا کے لیے!
وقت سے ہم نظر ملا کے ملیں!
غم کے سارے دئیے بجھا کے ملیں!
دیکھ لیں آج تم کو جی بھر کے، کل تو ہونا ہے اجنبی ہم کو،
چھوڑ کر جاؤ نہ ابھی ہم کو،
آج ہر درد کو چھپا کے ملیں!
غم کے سارے دئیے بجھا کے ملیں!

رقاصاؤں کی حرکات و سکنات وقت کی گردش کی علامت ہیں۔ آخر میں وہ عالیہ کو کھینچ کر پارک سے باہر لے جاتی ہیں۔ عامر پارک ہی میں رہ جاتا ہے اور گیٹ بند ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے تخیل سے نکلتا ہے اور چند منٹوں میں تمام مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ عشرت کو معلوم ہو گیا ہے کہ عالیہ اُسے پسند کرتی ہے، اس لیے وہ اور ریشماں اُسے خلافِ توقع اُس ہوائی جہاز میں سوار کروا دیتے ہیں جو عالیہ کو لے جا رہا ہے۔ جو کہانی ایک تنگ گلی میں داخلے سے شروع ہوئی تھی، آسمان کی بلندیوں پر ختم ہوتی ہے۔

اس طرح تقدیر مسائل حل کرتی ہے، بشرطیکہ ہم ’’غم کے سارے دئیے‘‘ بجھانے اور وفا کے امتحاں میں وقت سے نظر ملانے میں کامیاب ہو سکیں۔ لیکن ایک پیچیدگی پھر بھی ہے۔ جب عامر اپنی حقیقی زندگی سے تخیل میں گیا تو فلم بلیک اینڈ وہائٹ سے رنگین ہو گئی۔ لیکن نغمے کے بعد جب وہ واپس اپنی دنیا میں آیا تو فلم دوبارہ بلیک اینڈ وہائٹ نہیں ہوئی بلکہ رنگین ہی رہی۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس نغمے کے بعد جو مناظر پیش آئے ہیں یعنی عامر کا عالیہ سے مل جانا اور دونوں کا اکٹھے سفر پر روانہ ہونا وہ سب کچھ بھی کہیں سچ مچ کی دنیا کے بجائے اُس کے تخیل ہی میں تو نہیں پیش آ رہا؟

اس سوال کا صرف ایک جواب ہے، اور وہ یہ ہے کہ کہانی اُس کے اور ہمارے دونوں کے تخیل کی عکاس ہے۔ فنکار کا تخیل ہمارے تخیل سے جہاں ملتا ہے، وہی دنیا ہے جہاں ہم اُس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہیں ہم ’’سچ مچ‘‘ میں اُس سے ملتے ہیں، اور وہاں سے باہر آتے ہی ہم جدا ہو جاتے ہیں – ’’آخری با رمل رہے ہیں ہم!‘‘ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آج کی دنیا کو ویسا بنا دیں جیسی دنیا ہم نے اور ہمارے محبوب فنکار نے مل کر اپنے مشترکہ تخیل میں تشکیل دی ہے۔

وحید، دیبا، سلمی، شباب کیرانوی: تمہی ہو محبوب میرے

وہ کیسی دنیا ہے؟ ’’اشارہ‘‘ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی منفی کردار نہیں ہے۔ نہ صرف ولن کا وجود نہیں بلکہ مزاحیہ کردار بیزار صاحب (لہری) بھی کوئی مسخرہ نہیں۔ ہم اُسے ہیرو کے برابر یا اُس سے زیادہ قابل سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

پاکستان کی بنیاد جس عہدنامے پر ہے، اُس میں بھی ایک ایسی ہی دنیا کا تصوّر موجود ہے جہاں کسی سے نفرت کرنے کی ضرورت نہ ہو (قرارداد کا لِنک ہے، اور یہ دوسرا لِنک اُس جلسے کی پوری کاروائی پیش کرتا ہے جہاں وہ عہدنامہ پیش کیا گیا تھا)۔ لیکن اقبال نے کہا تھا، ’’کوئی نئی دنیا خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا وجود پہلے انسانوں کے ضمیر میں متشکل نہ ہو۔ ‘‘ اقبال کے مطابق یہ کام ادبیات اور فنونِ لطیفہ کا ہے کہ ہمارے تخیل میں اُس دنیا کو تخلیق کر دیں جسے ہم وجود میں لانا چاہتے ہیں۔ فلم ’’اشارہ‘‘ ہمارے ضمیر میں ویسی دنیا کو جنم دیتی ہے جیسی دنیا بنانے کا عہد ہم نے پاکستان کے قیام کے وقت کیا تھا یعنی ایسا معاشرہ جہاں کسی کو برا سمجھنے کی ضرورت نہ رہے اور جہاں ہم وقت کی گردش پر بھی غالب آ سکیں۔

اِس فلم کی تمام علامتوں کی تشریح کے لیے ایک علیحدہ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے (’’یولیسس‘‘ کی علامتوں پر ساڑھے پانچ سو صفحے کی کتاب لکھی گئی ہے)۔ لیکن اس بات کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھنا مناسب نہ ہو گا کہ کہانی میں عامر اور عالیہ کی اتفاقیہ ملاقات کا دلچسپ واقعہ ابن صفی کے ناول بیباکوں کی تلاش سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس کوئی ایسی معلومات نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ ابن صفی اور وحید مراد نے کبھی آپس میں صلاح مشورہ کیا لیکن جب کچھ برس بعد ابن صفی نے اپنے کسی ناول کو فلمانے کا فیصلہ کیا تو اُس وقت تک لکھے ہوئے سو سے زیادہ ناولوں میں سے بیباکوں کی تلاش ہی کو منتخب کیا۔ اُس فلم کا نام ’’دھماکہ‘‘ (1974)تھا۔ ایسٹرن اسٹوڈیوز میں اس کی شوٹنگ کے دوران ایک روز وحید، ابن صفی سے ملاقات کے لیے اچانک چلے آئے۔ چنانچہ اس موقع پر دونوں کی اکٹھے تصویر بھی لی گئی جو محفوظ ہے۔
—-
اقبال رضوی کا کہنا ہے کہ ایک دن اچانک ایک کہانی اُن کے ذہن میں آئی۔ اُنہوں نے جلدی سے بنیادی خیال لکھ لیا اور لے جا کر وحید کو دکھایا۔ وحید نے فوراً پسند کر لیا اور رضوی سے کہا کہ اسے ڈیولپ کر دیں۔ نغمات مسرور انور نے لکھے۔ لعل محمد اور اقبال نے موسیقی دی۔ قمر زیدی نے ہدایات دیں۔ یہ فلم آرٹس کی اگلی پروڈکشن ’’نصیب اپنا اپنا‘‘ تھی۔ 3 اپریل 1970 کو ریلیز ہوئی۔

ایک طرح سے یہ اُس سوال کا جواب تھی جو رضوی ہی کی لکھی ہوئی ’’ہیرا اور پتھر‘‘ میں تعلیم کے حوالے سے اٹھایا گیا تھا۔ وہاں ایک طالب علم نے بیروزگاری سے ڈر کر اونچے گھرانے میں شادی کرنے کے لیے اپنے باپ، بہن اور بھائی کے وجود سے انکار کر دیا تھا۔ ’’نصیب اپنا اپنا‘‘ کا مرکزی کردار جاوید (وحید مراد) بھی گھر والوں سے دُور مری میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اُس کی والدہ (تمنا) اور بہن صفیہ (زمرد) ملازمت کر کے اُس کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتی ہیں۔ تعلیم مکمل ہونے پر اُسے ایک فرم میں ملازمت ملتی ہے۔ اُس کمپنی کے مالک (ایس ایم سلیم) کی بھتیجی عائشہ (شبنم) جاوید کو پسند کرتی ہے۔ لیکن جب عائشہ کے انکل یہ رشتہ اس شرط پر منظور کرتے ہیں کہ جاوید گھر داماد بن کر رہے تو وہ کہتا ہے:

’’تجویز نہایت معقول ہے سیٹھ صاحب، لیکن اُس آدمی کے لیے جسے دولت سے پیار ہو۔ میں دنیا میں تنہا نہیں ہوں۔ میری ایک ماں ہے، جس نے مجھے بڑی حسرتوں سے پالا ہے۔ میری ایک بہن ہے جس کی آنکھیں ایک اچھے مستقبل کے لیے میری راہ دیکھ رہی ہیں۔ میں ایک محبت کی خاطر ان دونوں کو مایوس نہیں کر سکتا۔‘‘

اس طرح جاوید اُس آزمائش سے کامیاب گزرتا ہے جس میں ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کا تعلیم یافتہ نوجوان ناکام ہوا تھا۔ اس کے بعد اُسے ایک زیادہ بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی ماں کسی زمانے میں بازارِ حسن سے تعلق رکھتی تھی اور اُس کی بہن وہیں رقص کر کے اُس کی تعلیم کے اخراجات اٹھاتی رہی ہے۔ یہ انکشاف ہونے پر وہ اتنی سخت باتیں کہتا ہے کہ بہن ان کی تاب نہ لا کر خودکشی کر لیتی ہے۔ ماں اُسے بتاتی ہے کہ عائشہ کے انکل نے اُس کے ساتھ باقاعدہ نکاح کیا تھا جس سے جاوید اور اُ س کی بہن پیدا ہوئے۔ لیکن اس کے بعد بدنامی کے خوف سے اُس نے بیوی بچوں سے قطع تعلق کر لیا۔ جاوید بہن کی لاش اٹھا کر باپ کے سامنے لے جاتا ہے اور وہ جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا ہے۔

اس فلم کی شوٹنگ کا سب سے مشہور واقعہ یہ ہے کہ جس منظر میں جاوید اپنی ماں سے سخت کلامی کرتا ہے، وہ اُسے تھپڑ مارتی ہے۔ وحید نے اصرار کیا کہ تمنا بیگم اُنہیں سچ مچ تھپڑ ماریں تاکہ منظر میں حقیقت کا رنگ دکھائی دے۔ اُن کے اصرار پر تمنا نے ایسا ہی کیا۔ اس منظر میں وحید کے چہرے پر اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس فلم کے یادگار نغموں میں رشدی کی آواز میں ’’دل تم کو دے دیا ہے‘‘ بھی شامل ہے لیکن رشدی ہی کی آواز میں ’’اے ابرِ کرم! آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں‘‘، ضربُ المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی طرح رونا لیلیٰ کی آواز میں، ’’ملی گُل کو خوشبو مجھے مل گیا تُو، پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا‘‘!


فلم ’’انجمن‘‘31 جولائی 1970 کو ریلیز ہوئی۔ برسوں بعد ٹی وی پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘ میں جب وحید سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنی کون سی فلم سب سے زیادہ پسند ہے تو اُنہوں نے کہا، ’’انجمن میرے حساب سے بڑی مکمل فلم تھی۔ بڑی مکمل اِس حساب سے کہ اُس کی کہانی، کردار، موسیقی، رقص، سیٹ، ڈائرکشن – اُس فلم میں مجھے کوئی خامی نہیں ملتی۔ ‘‘

وحید کے ان الفاظ کی وجہ سے اس فلم کو پاکستانی ثقافت کی تاریخ میں ہمیشہ جو مقام حاصل رہے گا وہ ظاہر ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی اس فلم کے ارتقأ کے پیچھے بڑی عجیب و غریب کہانی ہے۔ 1922 کے لگ بھگ حکیم احمد شجاع نے اسٹیج ڈرامہ لکھا، ’’باپ کا گناہ‘‘۔ یہ اپنے دور کا سپرہٹ ڈرامہ ثابت ہوا۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ایک طوائف نے اپنی بیٹی کے ذریعے ایک شریف آدمی کی دولت ہتھیانے کا منصوبہ بنایا جس کی وجہ سے اُس آدمی کا گھر برباد ہوتے ہوتے بچا۔ بعد میں شجاع نے اسی خیال کو مزید ترقی دے کر فلم ’’دو آنسو‘‘ (1952)کی کہانی لکھی جسے شجاع کے صاحبزادے انور کمال پاشا نے ڈائرکٹ کیا اور وہ پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم ثابت ہوئی۔ حسن طارق اس کے کچھ عرصہ بعد پاشا کے اسسٹنٹ ہوئے اور بالآخر ملک کے ایک نامور ہدایتکار بنے۔ ’’انجمن‘‘ انہی نے ڈائرکٹ کی۔ کہانی اور مکالمے آغا حسن امتثال نے لکھے۔ نغمات فیاض ہاشمی، مسرور انور اور سیف الدین سیف نے لکھے۔ موسیقی نثار بزمی نے دی۔

اس دوران ملتے جلتے موضوعات پر بھارت میں ’’بینظیر‘‘ (1964) اور پاکستان میں پنجابی فلم ’’دِلاں دے سودے‘‘ بن چکی تھیں۔ حسن طارق کی ’’انجمن‘‘ میں ان سب کی جھلکیاں موجود ہیں۔ بلکہ ایک خاص بات یہ ہے کہ اُن دوسری فلموں کے بعض اہم کردار یہاں ثانوی کردار بنا دئیے گئے ہیں، مثلاً فلم کے کریڈٹس والے منظر میں الیاس کاشمیری ایک مہمان اداکار کے روپ میں فلم کی ہیروئین انجمن (رانی) کا رقص دیکھتے نظر آتے ہیں لیکن جب انجمن روپے لینے سے انکار کرتی ہے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ پوری فلم میں اُن کا بس اتنا ہی کردار ہے لیکن اصل میں یہ کردار ’’دلاں دے سودے‘‘ سے آیا ہے جہاں اس کے ساتھ ایک پوری کہانی وابستہ ہے۔ نواب محبوب (لہری) بھی ایک ایسا ہی کردار ہے جو ’’دو آنسو‘‘ سے آیا ہے جہاں اس کے ساتھ بھی ایک مکمل وابستہ ہے۔ اس قسم کے کرداروں کے ارتقا کے مراحل کہانی میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اور مکمل ارتقا یافتہ کردار مل گئے ہیں۔ اس سے کہانی میں ایک خاص اختصار پیدا ہوا ہے اور کہانی بہت ٹھوس لگتی ہے۔

’’انجمن ‘‘ میں صرف مرکزی کردار آصف (وحید مراد) کی شخصیت کے ارتقأ پر توجہ دی گئی ہے۔ اسے اپنے بھائی نواب وجاہت (سنتوش کمار) اور بھابھی (صبیحہ خانم) کی خوشیاں بہت عزیز ہیں۔ بھابھی کی چھوٹی بہن ندرت (دیبا) سے محبت ہو جاتی ہے۔ بڑی آسانی سے یہ رشتہ طے بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دوران یہ مشکل پیش آتی ہے کہ انجمن کی نائکہ (تمنا) نے انجمن کو مجبور کر کے اُس کے ذریعے وجاہت کو پھانس لیا ہے۔ اب وجاہت اپنی بیوی کو چھوڑ کر انجمن کے ساتھ وقت گزارنے لگا ہے اور جب رات گئے شراب پی کر گھر آتا ہے تو گھر میں قیامت آ جاتی ہے۔ آصف انجمن کے پاس جاتا ہے کہ وہ اُس کی دولت لے کر اُس کے بھائی سے منہ موڑ لے۔ لیکن انجمن ہمیشہ سے کسی کو خواب میں دیکھتی آئی ہے اور وہ آصف ہے۔ اس لیے وہ دولت قبول کرنے کی بجائے یہ شرط رکھتی ہے کہ آصف ہر شام اُسے ملنے آئے تو وہ وجاہت کو ٹھکرا دے گی۔ آصف اپنی بھابھی کی خاطر یہ شرط قبول کر لیتا ہے اور نتیجے میں اُسے نہ چاہتے ہوئے بھی ندرت سے دُور ہونا پڑتا ہے۔ آخر جب بھابھی کو معلوم ہوتا ہے تو وہ خود انجمن سے جا کر بات کرتی ہے اور اُسے بتاتی ہے کہ آصف کسی اور سے محبت کرتا ہے۔ انجمن آصف کو آزاد کر دیتی ہے لیکن یہ شرط رکھتی ہے کہ وہ آصف کی شادی پر رقص کرے گی۔ اُس رقص کے دوران وہ زہر کھا کر مر جاتی ہے۔ آصف اپنا سہرا اُس کی قبر پر ڈال دیتا ہے۔

آصف کا کردار اُن تمام کہانیوں کے مرکزی کرداروں سے کہیں زیادہ پختہ ہے جن سے اس فلم کا خمیر تیار گیا۔ اُن کہانیوں کے ہیرو بھی نیک عزائم رکھتے ہیں مگر کہیں نہ کہیں کمزور پڑ جاتے ہیں اور اُنہیں کسی نہ کسی کی نصیحت کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ جبکہ آصف کے سامنے ایک واحد مقصد ہے، اور وہ ہے اپنے گھر کی خوشیاں برقرار رکھنا:

میں اِس گھر کے سُکھ کی خاطر ہنس کے سو دُکھ جھیلوں
اِس دنیا سے ہنسی خوشی کی ساری دولت لے لوں
تم سے تمہاری خوشیاں چھینے، کس کی ہے یہ مثال!

اس مقصد کے لیے وہ بڑی سے بڑی قربانی دے سکتا ہے اور زندگی کی رنگینیاں اُسے بالکل متاثرنہیں کر سکتیں۔ اُسے کسی سے نصیحت لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اُس کا اپنا ضمیر ہی اُس کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1922 میں ڈرامہ ’’باپ کا گناہ‘‘ کے ساتھ، جو شجاع کے دعوے کے مطابق اُردو کا پہلا مجلسی ڈرامہ تھا، اس کردار کو دریافت کرنے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا تھا جو تقریباً نصف صدی کے بعد فلم ’’انجمن‘‘ کے ذریعے تکمیل کو پہنچا:

تمہی ہو مری منزلوں کا پتہ، تمہی ہمسفر ہو مرے پیار کے
مرے دل میں ہے ایک ہی آرزو، تمہیں جیت لوں زندگی ہار کے
ہر دھڑکن پکارے یہی پیار سے، میرے حسیں ہمسفر شکریہ!
دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ!
تم میری اُمنگوں کی شب کے لیے آئے ہو بن کے سحر شکریہ!

علامہ اقبال کا مشہور قول ہے، ’’افراد کا ضبطِ نفس خاندانوں کی تعمیر کرتا ہے اور قوموں کا ضبطِ نفس انہیں سلطنت عطا کرتا ہے۔‘‘ اس قول کی تشریح کے لیے فلم ’’انجمن ‘‘ سے زیادہ مکمل مثال ہمارے ادب میں شاید موجود نہیں ہے۔

لیکن اس فلم کا اصل طلسم غالباً یہ ہے کہ یہ دو روحوں کے ایک ایسے تعلق کو ظاہر کرتی ہے جو ظاہری دنیا سے بہت آگے لے جاتا ہے۔ فلم کی کہانی ہمِیں آصف اور ندرت کی محبت کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی رہتی ہے لیکن جو کردار حقیقت میں ایک جیسے ہیں، وہ آصف اور انجمن ہیں۔ دونوں ہی اپنے اپنے اوباش سرپرستوں کی وجہ سے اپنی مرضی کے خلاف اپنے آپ کو بیچنے پر مجبور ہیں۔ انجمن اپنی ماں کے دباؤ میں آ کر خود کو وجاہت کےسپرد کرتی ہے، اور آصف اپنے بڑے بھائی وجاہت کی گمراہی کی وجہ سے خود کو انجمن کے حوالے کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ خودغرض معاشرے میں صرف آصف اور انجمن ہی وہ کردار ہیں جو قربانیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ آصف اپنے گھر کے سکون کے لیے اپنی محبت قربان کرنے پر تیار ہے۔ انجمن، آصف کے لیے اسی قسم کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی بھی دے دیتی ہے۔ وہ اپنی موت سے ثابت کرتی ہے کہ آصف کی اصل روحانی ساتھی (soulmate) وہی تھی، اور فلم کے آخری منظر میں آصف اپنا سہرا اُس کی قبر پر ڈالتے دکھائی دیتا ہے۔

فلم میں انجمن کا مکالمہ ’’اُف اللہ! ہم تو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے!‘‘ اب ضربُ المثل بن چکا ہے، اور اکثر نغمات بھی، جیسے ’’بھابھی، میری بھابھی، تم جیو ہزاروں سال!‘‘، ’’یاد بخیر بچپن میں کھیلے تھے گھر آنگن میں‘‘، ’’لگ رہی ہے مجھے آج ساری فضا اجنبی‘‘، ’’اظہار بھی مشکل ہے چپ رہ بھی نہیں سکتے‘‘، ’’آپ دل کی انجمن میں حُسن بن کر آ گئے‘‘ اور ’’دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں‘‘۔

وحید کی خوشگوار گھریلو زندگی کی ایک جھلک ان دنوں کے انگریزی فلمی رسالے’’ایسٹرن فلمز ‘‘ کے ایک فوٹو فیچر میں ملتی ہے جس میں وحید نے لکھا تھا کہ انہیں تین عورتوں سے محبت ہے اور وہ تینوں ایک ہی چھت کے نیچے رہتی ہیں! یہ اُن کی والدہ شیریں، بیوی سلمیٰ اور شیرخوار بچی عالیہ ہیں۔

اندرونِ ملک شوٹنگ پر وحید عموماً سلمیٰ اور عالیہ کے ساتھ ہی جاتے تھے۔ بیرونِ ملک شوٹنگ پر تنہا جانا پڑتا تھا۔ جولائی 1970 میں ایسا ایک سفر فلم ’’خاموش نگاہیں‘‘ کے سلسلے میں پیش آیا جس میں جاپان میں ہونے والی ایکسپو70 کے مناظر شامل کیے جا رہے تھے۔ اس سفر کے دوران وحید نے جو خطوط اور ٹیلی گرام گھر بھیجے وہ محفوظ ہیں اور دستیاب ہیں۔ ان سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں گھر بہت یاد آرہا تھا بلکہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے بعد انہیں سب سے زیادہ جاپان پسند آیا۔ انہوں نے یہاں کی جھیلوں کو سوئٹزرلینڈ پر ترجیح دی اور لکھا کہ وہ فیملی کے ساتھ یہاں واپس آنا چاہتے ہیں۔ یہ خطوط اور ٹیلی گرام انگریزی میں ہیں اور میری انگریزی کتاب میں شامل ہیں۔ 11 جولائی 1970 کے خط کے ایک اقتباس کا ترجمہ اس طرح ہو سکتا ہے:

’’آج مجھے ایک زبردست تجربہ ہوا۔ ہم صبح سویرے ہی ایک مقام نِکّو کے لیے روانہ ہوئے – ٹرین کا سفر ہمیں ٹوکیو سے، جو عمارتوں کا ایک جنگل ہے، باہر دیہی علاقے میں لے گیا اور تبدیلی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ دیہی علاقہ اتنا سرسبز اور سادہ دکھائی دیتا ہے—تقریباً پاکستان جیسا– آخر ہم ایک ہل اسٹیشن پر ہیں جس کا نام نِکّو ہے، جہاں ایک چھوٹا سا [ریلوے] اسٹیشن ہے اور ایک پیارا چھوٹا سا شہر شیمونکس [فرانس کے ایک شہر] جیسا، اور ایک بڑی سی جھیل – جنیوا کی جھیلوں سے زیادہ صاف اور پرسکون۔ اور پھر آبشار تھی، اتنی بڑی اور اتنی بلندی سے گرتی ہوئی کہ ہم اپنی آواز بھی نہیں سن سکتے تھے۔ وہاں ہم نے ایک نغمہ شروع کیا لیکن کچھ دیر بعد اتنی گہری دُھند آئی کہ ٹیکسی سچ مچ رینگتی ہوئی واپس اسٹیشن تک پہنچی۔‘‘

یہ جس نغمے کا ذکر ہے وہ یقینی طور پر احمد رشدی کی آواز میں ’’کبھی تو مانگو‘‘ ہے۔ دیہی علاقے کے بارے میں جو تاثرات یہاں بیان ہوئے ہیں، اور جس طرح انہیں دیکھ کر بے اختیار پاکستان کے دیہاتوں کی یاد آئی ہے، وہ فلم آرٹس کی اگلی فلم ’’مستانہ ماہی‘‘ میں شکیل (دحید مراد) کے کردار میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔


ان دو برسوں، 1969 اور 1970میں ریلیز ہونے والی وحید کی بقیہ فلموں کے نام ہیں، ’’سالگرہ‘‘، ’’تمہی ہو محبوب مرے‘‘، ’’لاڈلا‘‘، ’’عندلیب‘‘، ’’اک نگینہ ‘‘، ’’ماں بیٹا‘‘، ’’افسانہ‘‘، ’’بیوفا ‘‘، ’’پھر چاند نکلے گا‘‘ اور ’’چاند سورج‘‘۔ ان میں سے ’’تمہی ہو محبوب مرے‘‘ ان کی پہلی مکمل رنگین فلم تھی (یہ 23فروری 1969 کو ریلیز ہوئی)۔ ’’ماں بیٹا‘‘ کے پروڈیوسروں میں وحید بھی شامل تھے (اگرچہ یہ فلم آرٹس کی پروڈکشن نہیں تھی)۔

ان تمام فلموں کے یادگار نغمات کی فہرست بہت طویل ہے، جس میں سےبعض اب ہماری زبان میں اس طرح شامل ہو چکے ہیں کہ عام گفتگو میں سنے جاتے ہیں، مثلاً ’’کچھ لوگ رُوٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے!‘‘ (عندلیب) اور ’’ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری‘‘ (بیوفا)۔ ان کے علاوہ کچھ یہ ہیں: ’’میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ‘‘ (سالگرہ)، ’’لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے‘‘ (سالگرہ)، ’’فسانۂ دل ہے مختصر سا کہ آگ دل میں بھڑک اُٹھی ہے‘‘ (تمہی ہو محبوب مرے)، ’’سوچا تھا پیار نہ کریں گے ‘‘ (لاڈلا)، ’’پیار مل جائے تو ہر بات حسیں لگتی ہے‘‘ (لاڈلا)، ’’مل گئی مل گئی مل گئی ہم کو پیار یہ منزل‘‘ (اک نگینہ)، ’’دل کے چمن میں پھول کھلا‘‘ (ماں بیٹا)، ’’یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم‘‘ (افسانہ)، ، ’’چھوڑ چلے ہم چھوڑ چلےلو شہر تمہارا چھوڑ چلے‘‘ (پھر چاند نکلے گا) اور ’’عشق کو حسن سے دوچار نہ کر دینا تھا‘‘ (چاند سورج)۔

ان میں سے ’’پھر چاند نکلے گا‘‘ کا منظرنامہ مشہور دانشور سلیم احمد نے لکھا تھا۔ کہانی کا پس منظر پاکستان کی جدوجہدِ آزادی تھی۔ ’’لاڈلا ‘‘ اور ’’چاند سورج‘‘ کی خصوصیت یہ ہے کہ دونوں فلمیں مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کے واضح مقصد کے ساتھ پیش کی گئی تھیں۔ ’’لاڈلا‘‘ میں یہ پیغام دیا گیا کہ مغربی پاکستان کے لوگوں کو بھی بنگالی سیکھنی چاہیے۔ وحید نے بھی اس فلم میں بنگالی کے کچھ الفاظ بولے اور رونا لیلیٰ کے ایک اُردو نغمے میں بنگالی مصرعے بھی شامل تھے۔ ’’چاند سورج‘‘ میں دو کہایناں پیش کی گئیں جن میں سے ایک مغربی پاکستان کے اداکاروں کے ساتھ یہاں فلمائی گئی تھی اور دوسری مشرقی پاکستان کے اداکاروں کے ساتھ وہاں فلمائی گئی تھی۔ اِس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اس فلم کا یہ مشہور نغمہ بہت معنی خیز ہو جاتا ہے:

وہ زمیں اور ہو، آسماں اور ہو، اب جہاں ہم رہیں وہ جہاں اور ہو!
شہر سے دُور جا کر بسیں گاؤں میں، میری جنّت بنے زلف کی چھاؤں میں
اِن مکانوں سے ہٹ کر مکاں اور ہو!
اعتبار آئے آ کے نہ جائے کبھی، اِس محبت پہ ا ب شک نہ آئے کبھی،
اِس محبت کے قابل سماں اور ہو!
ایسی دنیا جہاں پیار آزاد ہو، ایسا گلشن کہ جس میں نہ صیاد ہو،
وہ چمن اور ہو آشیاں اور ہو!

دسمبر 1970 میں انتخاب ہوئے۔ آزادی کے بعد سے اب تک جتنے انتخابات ہوئے تھے وہ کسی نہ کسی ایسے تجربے پر مبنی تھے کہ ہر شخص کو براہِ راست ووٹ سے حکومت منتخب کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ اس لیے 1945-46 کے انتخاب کے بعد (جو آزادی سے پہلے ہوئے تھے)، یہ پہلا موقع تھا کہ ملک میں بالغ حقِ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخاب ہوئے۔ بہت جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور ایک نیا قومی نغمہ اس نئے جوش کی آواز بن گیا، ’’سوہنی دھرتی‘‘! اسے مسرور انور نے لکھا، سہیل رعنا نے دُھن بنائی اور مشرقی پاکستان کی کلوگارہ شہناز بیگم نے گایا۔ قومی ترانے کے بعد یہ پہلا نغمہ تھا جو اِس طرح پاکستان کی شناخت بن گیا اس لیے بعد میں کسی نہ کسی موقع پر اِسے تقریباً ہر بڑے گلوکار نے گایا (مرد گلوکار عام طور پر ’’عظمت پہ ہم واری واری جائیں‘‘ کی بجائے ’’عظمت کی ہم اتنی شان بڑھائیں‘‘ گاتے ہیں)۔ اگلے برس ’’جیوے پاکستان‘‘ نے بھی ایسی ہی مقبولیت حاصل کی جس کا ذکر اگلی قسط میں آئے گا۔

’’سوہنی دھرتی‘‘ کی معنویت زیادہ بڑھ جاتی ہے اگر ہم اسے ’’اشارہ ‘‘ کے آخری نغمے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سنیں (اور وہ نغمہ بھی مسرور انور اور سہیل رعنا کی ہی تخلیق ہے)۔ وقت اور زمانے کی گردش پر غالب آنا اور ابدیت حاصل کرنا جو اُس نغمے کا موضوع ہے، وہی یہاں بھی موجود ہے:

سوہنی دھرتی، اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے!
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے!
تیرا ہر اِک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے!
دھڑکن دھڑکن پیار ہے تیرا قدم قدم پر گیت رے
بستی بستی تیرا چرچا نگر نگر ہیں مِیت رے
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے!
تیری پیاری سچ دھج پہ ہم واری واری جائیں
آنے والی نسلیں تیری عظمت کے گُن گائیں
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے!

—جاری ہے—

اگلی قسط، ’’مواخات‘‘ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔  یہ 1971 کے واقعات اور اُس برس ریلیز ہونے والی وحید مراد کی فلموں کے بارے میں ہے۔ جب ملک خانہ جنگی کی آگ کی لپیٹ میں تھا اُس وقت وحید نے فلم آرٹس کے بینر سے کیا پیغام دیا؟

ویڈیوز:
’’اشارہ ‘‘ کا ابتدائی منظر:

’’اشارہ ‘‘ کا پہلا نغمہ:

’’اشارہ ‘‘کا اختتام:

’’اے ابرِ کرم‘‘:

مکمل فلم ’’انجمن‘‘:

’’سوہنی دھرتی‘‘:

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: