وحید مراد اور ہمارا عہد: ابتدائی زندگی —- قسط 3 — خرم علی شفیق

0
  • 78
    Shares

قسط کا عنوان دیکھ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جی ہاں، اعلان کے مطابق ’’وحید مراد کا بچپن‘‘ ہونا چاہیے تھا لیکن شاہد اعوان صاحب نے کہا کہ قسطیں طویل کر کے دس بارہ اقساط میں سوانح مکمل کر دی جائے تو قارئین زیادہ خوش ہوں گے۔ اس لیے اس دفعہ بھی بات صرف ہیرو کے بچپن تک نہیں رہی اور عنوان بدلنا پڑا۔ آپ کو چائے اور کافی میں سے جو بھی پسند ہے، تیار کر کے اپنے قریب رکھ لیجیے کیونکہ یہ قسط کافی طویل ہے۔ پچھلی قسط اس لنک پہ دیکھی جاسکتی ہے۔
آخر میں اپنی رائے دینا مت بھولیے گا کیونکہ میری کوشش ہے کہ اگلی قسطوں کو آپ کی رائے کے مطابق لے کر چلوں۔ مصنف۔


وحید مراد کی تعلیم لارنس کالج، گھوڑا گلی مری میں شروع ہوئی۔ اسے انگریزوں نے ۱۸۶۰ء میں قائم کیا تھا اور آج بھی خطے کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں پہلی سے بارہویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ وسیع رقبے پر پھیلی درسگاہ تین حصوں میں منقسم ہے، جن میں سے ایک جونیر اسکول ہے، اور پہلی سے چوتھی جماعت پر مبنی ہے۔ پہلی میں داخلے کے وقت بچے کی عمر عام طور پر پانچ برس ہوتی ہے، اور سیشن مارچ میں شروع ہوتا ہے۔ اس لیےامکان ہے مارچ ۱۹۴۴ء میں وحید نے جونیر اسکول میں تعلیم کا آغاز کیا ہو گا۔

ابن صفی

یہاں اُن کا ابتدائی قیام کچھ زیادہ طویل نہ تھا۔ والدین اکلوتی اولاد کی جدائی برداشت نہ کر سکے اور واپس لے گئے۔ لیکن وحید بعد میں بھی بار بار مری آتے اور یہاں گرمیوں کی چھٹیاں گزارتے رہے۔

کراچی میں انہیں میری کولاسو اسکول (Marie Colaco School) میں ڈالا گیا۔ صدر بازار کے کنارے، ایمپریس مار کیٹ اور بندر روڈ کے درمیان (جس کا نام اب ایم اے جناح روڈ ہے)، یہ اسکول بھی اُس وقت لارنس کالج کی طرح غیرملکی انتظامیہ کے ہاتھ میں تھا اور کراچی کے اونچے طبقے کے بچوں کی تعلیم یہاں ہوتی تھی۔

Hakeem Ahmad Shuja

فلم ڈسٹری بیوٹر کا بیٹا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ شروع ہی سے وحید کو بہت سی فلمیں دیکھنے کو ملی ہوں گی۔ ان میں دیسی فلمیں بھی شامل تھیں۔ وحید جس طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور جس قسم کے اسکول میں تعلیم پا رہے تھے، وہاں دیسی فلموں کا گزر مشکل ہی سے ہو سکتا تھا لیکن والد کے ڈسٹری بیوشن کے کاروبار کی وجہ سے وحید کو موقع ملا کہ وہ خواص کے ساتھ تعلیم پانے کے باوجود عوام کے ساتھ مل کر خواب دیکھ سکیں یعنی اُن فلموں کے ذریعے جو زیادہ تر عوام ہی کے لیے ہوتی تھیں۔

جہاں تک معاشرے کا تعلق ہے، اُنہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہوش سنبھالا۔ یہ جنگ ۱۹۳۹ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۴۵ء تک جاری رہی۔ گویا اُن کی زندگی کے پہلے سات برسوں میں سے چھ برس پوری دنیا جنگ لڑ رہی تھی۔ البتہ خوش قسمتی سے اُن کے شہر پر اُس طرح حملے نہیں ہوئے جس طرح دنیا کے دوسرے بہت سے شہروں پر ہو رہے تھے۔ اور کراچی کے مئیر جمشید نسروانجی مہتا تھے، جن کی شخصیت اب ایک افسانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اُن کی بدولت یہ پورے ایشیا کا سب سے زیادہ صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا (اور نظر بھی آتا تھا!)۔

نوجوان وحید مراد

وحید کی عمر سات آٹھ برس تھی جب ۴۶-۱۹۴۵ء کے انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ نے ’’پاکستان ‘‘ کے حق میں ووٹ مانگے۔ اس موقع پر جو فضا تھی، اُس میں کوئی بچہ بھی غیرسیاسی نہیں رہ سکتا تھا۔ وحید کے بارے میں تو معلوم نہیں لیکن سید اقبال حسین رضوی، جنہوں نے بعد میں وحید کے لیے کئی فلمیں لکھیں، اُس وقت علیگڑھ میں بارہ برس کے بچے تھے۔ اُنہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کا بہت بڑا سا جھنڈا بنایا اور شہر کی گلیوں میں لہراتے پھرے۔

انتخاب کے نتیجے میں مسلم لیگ نے پورے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستوں میں سے قریباً ستاسی فیصد فیصد حاصل کیں۔ اِن منتخب نمایندوں نے ۱پریل ۱۹۴۶ء میں دہلی میں متفقہ طور پر وہ قرارداد منظور کی جس میں قراردادِ پاکستان کو دہراتے ہوئے پاکستان کے تصوّر اور آئیڈیالوجی کی مکمل وضاحت کر دی گئی۔ اس کے بعد تمام نمایندوں نے حلف اٹھایا، جس کی ایک اہم شِق یہ تھی کہ ’’آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک پر عمل درآمد کے لیے اس کی طرف سے جاری ہونے والے تمام احکامات اور ہدایات کی دلی رضامندی اور استقامت کے ساتھ اطاعت کروں گا/گی۔‘‘ دوسروں کی طرح قائداعظم نے بھی یہی حلف اٹھایا اور اپیل کی، ’’آج ہر مسلمان یہ حلف اٹھائے۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ اب یہ مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے، کیونکہ ’’وہ چند مسلمان جو ہمارے ساتھ نہیں ہیں… ان کے وجود سے فرق نہیں پڑتا، لیکن کم سے کم اب وہ خاموش رہیں۔ ‘‘ قائداعظم نے یہ بات اُن تمام لوگوں کے بارے میں کہی تھی جو مسلم لیگ کی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہیں تھے، خواہ اپنے طور پر کوئی بھی اسلامی یا غیراسلامی نظریہ پیش کر رہے ہوں۔

عام مسلمانوں کے بارے میں، جنہوں نے مسلم لیگ سے وفاداری کا حلف اٹھایا، قائداعظم نے کہا کہ انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کے تسلط کی وجہ سے قوم جو کردار کھو بیٹھی تھی، ’’اُسے اپنی اصل شریف صورت میں دوبارہ حاصل کر رہی ہے! ہمارے مرد، ہماری عورتیں، ہمارے بچے – وہ اب مختلف طرح سوچتے، بولتے اور عمل کرتے ہیں۔‘‘

نوجوان وحید مراد

گویا اُس وقت کے عام مسلمانوں کے بارے میں یہ قائداعظم کی گواہی تھی۔ انہی میں سات آٹھ سالہ وحید شامل تھے (اِس سوانح کے عنوان میں بھی ’’ہمارا عہد ‘‘ کا ایک مطلب ہمارا زمانہ لیکن دوسرا مطلب یہی عہدنامہ ہے۔ قرارداد اور حلف، اور مکمل پس منظر میری اُردو ویب سائٹ پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں)۔

جون ۱۹۴۷ء میں تقسیم کے منصوبے کا اعلان ہوا تو مشہور گراموفون کمپنی ایچ ایم وی نے ایک قومی نغمے کا ریکارڈ جاری کیا۔ اسے ایک نوجوان نغمہ نگار نے لکھا تھا، جو بعض مشہورترین گیت لکھ کر نامور ی حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بول تھے:

زمیں فردوس پاکستان کی ہو گی زمانے میں     غلامانِ نبیؐ مصروف ہوں جنّت بسانے میں

نغمہ بیحد مقبول ہوا۔ خاصا امکان ہے کہ وحید نے بھی سنا ہو گا۔ نغمہ نگار فیاض ہاشمی تھے، جنہوں نے بعد میں وحید کے لیے بھی بہت سے یادگار گیت لکھے۔

اگست ۱۹۴۷ء میں پاکستان وجود میں آیا تو کراچی دارالحکومت بن گیا (اور ۱۹۶۱ء تک رہا)۔ وحید نے آزادی کی تقریبات اور جشن ضرور دیکھے ہوں گے۔

قیامِ پاکستان کے بعد نثار مراد کا فلم ڈسٹری بیوشن کا بزنس بھی ہندوستانی ہیڈ آفس سے آزاد ہو گیا اور اُنہوں نے اُس کا نام پاکستان فلمز رکھ دیا۔ کمسن وحید نے، جنہیں قریبی لوگ ’’وِیدُو‘‘ کہتے تھے، اپنے شہر کے نقشے کو بدلتے بھی دیکھا ہو گا۔ تقسیم کے نتیجے میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے تو اسکول میں نئے دوست بنے۔ ان میں سے جاوید علی خاں، وزیراعظم لیاقت علی خاں کی کزن کے بیٹے تھے۔ ایک اور دوست پرویز ملک، ایک آرمی افسر کے بیٹے تھے۔

اُنہوں نے لکھا ہے:

جب ۱۹۴۹ء میں میرے والد کا تبادلہ کراچی ہوا تو میں اس اسکول میں داخل ہوا اور یہیں پر میری وحید سے پہلی ملاقات ہوئی۔ ہم دونوں چوتھی جماعت کے طالب علم تھے۔ میں سعید منزل کے قریب بندر روڈ پر ایک فلیٹ میں رہتا اور وحید بھی بندر روڈ پر ہی کچھ آگے چل کر لائٹ ہاؤس سنیما کے سامنے ایک دوسرے فلیٹ میں رہتا تھا۔ ایک دن وحید نے مجھے اپنی گاڑی میں لفٹ دینے کی پیش کش کی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا اور اس طرح ہماری دوستی کا آغاز ہوا۔ وحید جسے ہم پیار سے ’’وِیدُو‘‘ کہتے تھے بڑا ہونہار طالب علم تھا اور خاص طور پر انگلش میں کلاس سے بہت ہوشیار تھا۔ کھیلوں میں کرکٹ کا بہت شوق تھااُسے اور ہم دونوں اپنے اسکول کی کرکٹ ٹیم کے ممبر تھے۔ ہم نے بے شمار میچوں میں حصہ لیا۔

پرویز نے جس فلیٹ کا ذکر کیا ہے وہاں سے نثار مراد جلد ہی ۲۳۱- سی، پی ای سی ایچ سوسائٹی منتقل ہو گئے اور اپریل ۱۹۶۵ء کے بعد کسی وقت اسی بلاک میں ۱۵۸-آر، طارق روڈ پر۔

نوجوان وحید مراد دوستوں کے ہمراہ

اِس دوران وحید نے ۱۹۵۴ء میں ’’ہائی اسکول فائنل‘‘ کا امتحان یعنی میٹرک پاس کیا۔ فزکس اور کیمسٹری میں امتیازی نمبر حاصل کیے۔ اختیاری مضامین میں انگلش ایڈوانسڈ کے ساتھ عربی منتخب کی تھی۔ ایف ایس سی کا امتحان ایس ایم سائینس کالج سے پاس کرنے کے بعد سائینس چھوڑ دی اور ایس ایم آرٹس کالج سے بی اے کیا۔ ان کے ایم اے کا ذکر کرنے سے پہلے کچھ اور باتوں کا ذکر ضروری ہے۔

وحید کا ایک مشغلہ کتابیں جمع کرنا تھا۔ خاص طور پر ڈرامے کے موضوع پر کتابیں اور انگریزی کے مقبول ناول جمع کرنے کا شوق تھا۔ جاوید کے مطابق اُن کی ہر بات سے ذہانت ظاہر ہوتی تھی۔ اُنہیں ہر کام بڑے سلیقے کے ساتھ کرنے کی عادت تھی خواہ باپ کے بزنس کی دیکھ بھال ہو یا دوستوں کے ساتھ کرکٹ میچ۔ جاوید کو لگتا تھا کہ وحید زندگی کے جس شعبے میں گئے ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔

جاوید کے مطابق وحید کی شخصیت کا ایک اور نمایاں وصف یہ تھا کہ بیحد حساس تھے اور دوسروں کے دُکھ کو اپنے دُکھ کی طرح محسوس کر سکتے تھے۔ اُن دنوں جاوید نے کسی جذباتی معاملے میں کوئی چوٹ کھائی اور وحید کو بتایا۔ اگلے دن وہ وحید سے ملنے گئے تو دیکھا کہ وحید اپنی والدہ کے سامنے بیٹھے رو رہے ہیں اور وہ انہیں تسلی دے رہی ہیں۔ جب وحید اُٹھ کر گئے تو جاوید نے اُن کی والدہ سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔ معلوم ہوا کہ وحید اپنی والدہ کو جاوید کی پریشانی کے بارے میں ہی بتا رہے تھے اور بتاتے بتاتے رو پڑے۔

لڑکپن میں کئی برس تک یہ معمول بھی رہا کہ جاوید اور دوستوں کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیوں میں مری چلے جاتے تھے۔ عام طور پر یہ دوست کسی ہوٹل میں قیام کرنے کی بجائے مل کر کوئی اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیتے تھے تاکہ زیادہ دن ٹھہر سکیں۔

اسکول اور کالج کے دنوں کے بارے میں پرویز نے لکھا ہے:

“اس پورے دَور میں وحید کا گھر ہم سب کی سماجی سرگرمیوں کا گہوارہ تھا۔ اب وحید کی فیملی ایک کوٹھی میں منتقل ہو چکی تھی جہاں پر ہفتہ ختم ہونے پر کوئی نہ کوئی فنکشن ضرور ہوتا تھا اور اس بہانے ہم سب اکٹھے ہوتے تھے۔ یوں تو وحید کے دوستوں کا دائرہ بہت وسیع تھا مگر اس کے قریبی دوست اب بھی اس کے اسکول کے ساتھی تھے۔ اپنے کالج کے دَور میں بھی وحید لڑکیوں میں بہت مقبول تھا۔ امیر باپ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے وہ بہترین لباس پہنتا، کالج بھی اپنی موٹر میں آتا، اس کے علاوہ اس میں شروع ہی سے بے انتہا خوداعتمادی تھی۔ موسیقی اور ڈانس سے اُسے شروع ہی سے لگاؤ تھا۔ وہ ایک بہترین ڈانسر تھا۔ وحید کے والد چونکہ ایک کامیاب فلم ڈسٹری بیوٹر تھے اس لیے وحید کے گھر کا ماحول بھی فلمی تھا۔ فلم سے متعلق سب ہی لوگ کراچی آتے تو وحید کے گھر دعوت پر آتے۔ ان دعوتوں میں ہم سب دوست بھی شریک ہوا کرتے اور یہیں وحید کے گھر پر میں نے اُس وقت کے مشہور فلمسٹارز کو دیکھا جن میں سنتوش کمار، صبیحہ خانم، شمیم آرا، علأالدین، طالش اور بے شمار دوسرے لوگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ جب بھی نثار مراد صاحب کوئی فلم تقسیم کاری کے لیے لاتے تو پہلے اُس فلم کا ایک شو گھر پر کرتے جن میں ہم سب شریک ہوتے۔ پھر اُس پر بحث ہوتی، ہم سب اپنے اپنے تاثرات دیتے اور فلم کے چلنے یا نہ چلنے کے بارے میں پیش گوئیاں کرتے تھے۔ یہی ماحول تھا جس نے مجھ میں فلم کا شوق جگایا ورنہ کہاں میں ایک آرمی آفیسر کا بیٹا اور کہاں فلم انڈسٹری! وحید نے اور میں نے امریکہ میں فلم کی تعلیم کا منصوبہ بنایا۔ جب داخلے کے کاغذ آئے تو وحید کے والد نے یہ کہہ کر کہ وہ تین سال تک وحید کی جدائی برداشت نہیں کر سکتے اور وحید کو اپنا شوق پورا کرنے کے لیے امریکہ جانے کی ضرورت نہیں، وحید کو جانے سے روک دیا۔ میں چار سال کے لیے امریکہ چلا گیا اور وحیدمراد نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔”

طالش، وحید، علاوالدین

وحید نے ایم اے انگریزی ادب میں پرائیویٹ اُمیدوار کے طور پر داخلہ لیا۔ چونکہ ان دنوں پاکستان میں فلمساری کی ڈگری نہیں ملتی تھی، اس لیے والد نے تجویز پیش کی تھی کہ وحید فلمسازی کا ادارہ کھول کر عملی تجربے سے یہ کام سیکھ لیں (ا س کے لیے وہی رقم کام آئی جو امریکہ جا کر فلمسازی کی تعلیم پر صرف ہونے والی تھی)، اور ساتھ ہی ادب کے شعبے میں ڈگری لے لیں۔ اس طرح فلمسازی بھی آ جائے گی اور تعلیم بھی مکمل ہو جائے گی۔

ایک لحاظ سے یہ ابن صفی کا زمانہ تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اُبھرنے والے اُردو کے مصنفین میں وہ سب سے زیادہ مقبول تھے۔ ۱۹۵۲ء میں اِس مقصد کے ساتھ ناول نگاری کا آغاز کیا تھا کہ اُن کے ناولوں کے ذریعے ’’ایک ایسی سوسائٹی بنانے کا خیال پیدا ہو جس میں جرائم کے لیے کوئی گنجائش ہی نہ رہے۔‘‘ اُن کے قارئین میں وزیروں اور پروفیسروں سے لے کر معاشرے کے بالکل نچلے طبقے کے لوگوں تک سبھی شامل تھے بلکہ جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ بھی اُن کے ناول خرید کر دوسروں سے پڑھواتے تھے (تفصیل کے لیے میری کتابیں سائیکومینشن، رانا پیلس اور دانش منزل ملاحظہ کیجیے)۔

ابن صفی کا کہنا تھا کہ زندگی کا کوئی پہلو نہیں جس پر اُنہوں نے اپنے ناولوں میں روشنی نہ ڈالی ہو۔ سنیما کے بارے میں اُن کی رائے بالکل وہی تھی جو علامہ اقبال پیش کر چکے تھے، یعنی ایک قسم کا سنیما دوزخ کی مٹی اور دوسری قسم کا سنیما ملک و قوم کی خدمت ہے۔ ۱۹۵۴ء میں ان کا ناول ’’گیتوں کے دھماکے‘‘ شائع ہوا (جب وحید میٹرک کر رہے تھے)۔ اس میں فلمی ماحول کی گھٹن دکھاتے ہوئے اپنے ایک کردار سے کہلوایا، ’’جب تک انڈسٹری پر جاہل اور کمینے قسم کے لوگ چھائے رہیں گے یہی ہوتا رہے گا۔ جنہیں علم کی دولت ملی ہے وہ ذہن ہیں۔ اُن کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ ‘‘
یہ تو معلوم نہیں کہ وحید نے کبھی ابن صفی کے ناول پڑھے یا نہیں لیکن عملاً انہوں نے وہی کر دکھایا جس کی خواہش ابن صفی نے ظاہر کی تھی۔ ایک دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ اِس ناول میں فلمساز کمپنی کا نام ’’فلم آرٹ پروڈکشن‘‘ تھا اور وحید نے بھی اپنے پروڈکشن ہاؤس کا نام ’’فلم آرٹس‘‘ رکھا (اِس مماثلت کی نشاندہی کرنے کا سہرا ابن صفی کی ویب سائٹ کے ایڈمن محمد حنیف کے سر ہے)۔

وحید نے فلم آرٹس ۱۹۶۰ء میں قائم کیا جب وہ ایم اے کے طالب علم تھے۔ یہ درست ہے کہ اُن کا اس پیشے کی طرف آنا ایک قدرتی بات تھی کیونکہ والد بھی اسی پیشے سے وابستہ تھے۔ لیکن بہرحال ایک فنکار کی کوئی انسپریشن بھی ہوتی ہے اور کوئی جذبہ اُسے تخلیق کی طرف مائل کرتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے وحید کو کون سا جذبہ تخلیق پر اُکساتا تھا؟ جب مجھے جاوید علی خاں سے یہ بات پوچھنے کا موقع ملا تو اُنہوں نے دوٹوک لہجے میں کہا، ’’ہم یہی سوچتے ہوئے بڑے ہوئے تھے کہ ہمیں اُس طرح قوم کی خدمت کرنی ہے جس طرح قائداعظم اور قائدملت لیاقت علی خاں نے بتایا ہے۔ وحید کا خیال تھا کہ وہ فلموں کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘

پروڈیوسر کے طور پر وحید کی پہلی دو فلمیں’’انسان بدلتا ہے‘‘ (۱۹۶۱) اور ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ (۱۹۶۳) تھیں۔ ان میں سے کسی میں بھی انہوں نے اداکاری نہیں کی۔ دونوں فلموں کے ہیرو درپن تھے، اور کامیڈین کے طور پر لہری بھی دونوں فلموں میں موجود تھے۔ پہلی فلم کی ہیروئین شمیم آرا اور دوسری کی زیبا تھیں۔

’’انسان بدلتا ہے‘‘ کی کہانی وحید نے خود لکھی۔ مکالمے اقبال حسین رضوی نے لکھے (جن کا ذکر پہلے ہوا ہے کہ بچپن میں علیگڑھ کی گلیوں میں مسلم لیگ کا جھنڈا لیے پھرتے تھے)۔ فلم کی ریلیز کے موقع پر جاری ہونے والے بروشر کے انگریزی حصے میں ادارے کا تعارف بھی تھا۔ خاصا امکان ہے کہ یہ وحید نے خود لکھا۔ ترجمہ یوں ہو سکتا ہے:

’’یونٹ کے پاس تجربے کی جو کمی ہے اُسے وہ اپنی نوجوانی اور تعلیم، نئی تکنیک اور پرخلوص محنت کے ذریعے پورا کرنے کی اُمید رکھتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سوائے موسیقار ظفر خورشید کے، یونٹ کے کسی ممبر کی عمر تیس برس سے زیادہ نہیں ہے۔ بائیس برس کی عمر میں وحید غالباً دنیا کا سب سے کم عمر پروڈیوسر ہے اور ڈائرکٹر ظفر خورشید، کیمرا مین محبوب، مصنف رضوی سب نوجوان ہیں جن کے پاس تازہ خیالات اور تخلیقی صلاحیت کی فراوانی ہے۔
’’فلم آرٹس یونٹ بلند نصبُ العیناور ترقی پسند سوچ کے لیے وقف ہے۔ مستقبل میں خدا کی مہربانی سے ہم آپ کو باقاعدگی کے ساتھ بلندترین معیار کی موشن پکچرز فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘

یہ الفاظ پڑھ کر بے اختیار اقبال کا وہ بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی فلم کمپنی ’’ اِس بلند مقصد کو لے کر کام کے لیے اُٹھے تو بے شبہ وہ ملک کی خدمت کرے گی۔ ‘‘ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ فلم آرٹس کے تعارفی پیراگراف میں ’’ترقی پسند سوچ ‘‘ سے مراد اُردو ادب کی نام نہاد ’’ترقی پسند تحریک‘‘ نہیں تھی کیونکہ انگریزی میں اُس کا نام بڑے P کے ساتھ (Progressive) لکھا جاتا تھا جبکہ یہاں چھوٹے p کے ساتھ (progressive) لکھا گیا۔

Pledge 1946

حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد پاکستانی سنیما کی بنیاد رکھنے والوں میں ایسے لوگ شامل تھے جنہوں نے اقبال سے تربیت لی تھی یا تحریکِ پاکستان سے وابستہ رہے تھے۔ لیکن سنیما سے پہلے ہمیں اپنے قومی ترانے کا ذکر کرنا چاہیے جس کی موسیقی احمد جی چھاگلہ نے ترتیب دی اور شاعری حفیظ جالندھری نے فراہم کی۔ ۱۹۵۴ء میں اسے پہلی دفعہ ریکارڈ کیا گیا تو گیارہ آوازوں کے کورس میں نوجوان گلوکار احمد رشدی شامل تھے۔ سنیما ؤں میں فلم شروع ہونے سے پہلے یہ ترانہ بجایا جاتا تھا۔ اس کی موسیقی اور شاعری نے ہمارے مزاج، ہماری مقبولِ عام موسیقی اور شاعری پر جو اثرات ڈالے، وہ ایک علیحدہ کتاب کا موضوع بن سکتے ہیں۔

جہاں تک فلمی صنعت کا تعلق ہے، ان میں انور کمال پاشا کا نام بہت نمایاں ہے۔ یہ اُنہی حکیم احمد شجاع کے بیٹے تھے جن کا ذکر اقبال کے شاگرد کے طور پر پہلے ہو چکا ہے۔ پاشا نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ایم اے کر کے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد فلمی صنعت کا رُخ کیا۔ فلمساز اور ہدایتکار کے طور پر جو فلمیں بنائیں اُن میں سے اکثر اُن کے والد شجاع کی لکھی ہوئی کہانیوں پر مبنی تھیں۔ ان میں پہلی سلور جوبلی فلم ’’دو آنسو‘‘ (۱۹۵۰) کے علاوہ ’’گمنام‘‘ (۱۹۵۴)، ’’قاتل‘‘ (۱۹۵۵)، ’’انتقام‘‘ (۱۹۵۵)، ’’سرفروش‘‘ (۱۹۵۶) اور ’’انارکلی‘‘ (۱۹۵۷) شامل ہیں۔ سنتوش کمار، اسلم پرویز اور رانی اُن ستاروں میں سے ہیں جنہیں پاشا نے پہلی دفعہ متعارف کروایا۔ ان کے علاوہ صبیحہ خانم اور شمیم آرا سمیت بہت سے ستارے اگرچہ کسی اور کے ذریعے متعارف ہوئے لیکن اصل شہرت پاشا کی کسی فلم سے حاصل کی۔ انہی فلموں نے ایسے نغمات دئیے جو پورے ملک کی فضا میں گونجتے ہوئے اب ہماری زبان میں ضربُ المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، مثلاً ’’ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں‘‘، ’’تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے‘‘، ’’تیری اُلفت میں صنم دل نے بہت درد سہے‘‘، ’’کہاں تک سُنو گے کہاں تک سناؤں‘‘ اور بہت سے دُوسرے نغمات۔ پچھلی قسط میں جس ’’قومی تھیٹر‘‘ کا ذکر ہوا، اب وہ آہستہ آہستہ ایک قومی سنیما میں تبدیل ہو رہا تھا۔

۱۹۵۶ء میں فلم ’’بیداری‘‘ نے بہت کُھل کر حبُ الوطنی کا پیغام دیا۔ یہ کئی لحاظ سے ایک بھارتی فلم کا چربہ تھی، اور یہ علیحدہ بحث ہے کہ اُن حالات میں اِس کا جواز تھا یا نہیں (اِس پر کسی اور وقت تفصیل سے لکھنے کا ارادہ ہے)، لیکن کسی نے بہت خوب کہا ہے کہ ا س فلم کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی آنکھوں سے جو آنسو نکلے وہ چربہ نہیں تھے۔ اِس کے نغمے فیاض ہاشمی نے لکھے، جن کے ۱۹۴۷ء میں لکھے ہوئے قومی نغمے کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ بہرحال اب یہ نغمے اس طرح ہمارے شعور کا حصہ بن چکے ہیں کہ شاید ہمیشہ رہیں، مثلاً ’’آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی‘‘، ’’اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے‘‘ اور:

“دیکھا تھا جو اقبال نے اِک خواب سہانا
اُس خواب کو اِک روز حقیقت ہے بنانا
یہ سوچا جو تُو نے تو ہنسا تجھ پہ زمانہ
ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرانا
مارا وہ تُو نے داؤ کہ دشمن بھی گئے مان
اے قائداعظم، ترا احسان ہے، احسان!”

جاری ہے —

اگلی قسط، ’’قلندر کی بارگاہ‘‘ ہو گی۔ اس میں وحید مراد کی تعلیم مکمل ہونے، اداکاری کے آغاز، شادی اور فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کے علاوہ ایک اور دلچسپ واقعے کا ذکر ہے جس کی طرف قسط کے عنوان میں اشارہ ہے۔ ، ۴؍ دسمبر (منگل) کی شام کو آ رہی ہے۔

اس دلچسپ سلسلہ کی پہلی قسط اس لنک پہ اور دوسری قسط اس لنک پہ دیکھی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: