ایک غیر ملکی سیاح کا “سفر نامہ لاہور” — قسط: 3 —– عطاء الحق قاسمی

0
  • 19
    Shares

تشخیص کا کمال
لاہور میں قیام کے دوران جب ایک بار میں بیمار ہوا تو طب مشرق کی شہرت سن کر میں ایک طبیب کے پاس گیا تھا اور مایوس ہوا تھا۔ اس کا احوال میں بیان کر چکا ہوں چنانچہ جب دوسری بار میں بیمار ہوا میں نے طبیب کی بجائے ڈاکٹر کے کلینک کا رخ کیا۔ ڈاکٹر نے زبان نکلوا کر ’’غوں غاں‘‘ کروانے کے بعد مجھے نسخہ لکھ دیا۔ اس نسخے میں کم از کم دس پندرہ دوائیوں کے نام درج تھے میں نے اپنے ایک شناسا میڈیکل ریپریرنٹیٹو کو یہ نسخہ دکھایا اور ایک بخار کے لئے اتنی ساری دوائیاں تجویز کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے نسخہ تجویز کرتے ہوئے خاصی احتیاط سے کام لیا ہے اور تمام ممکنہ امراض کا سدِباب کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ اس نسخے میں ٹی بی پیچش اسہال، لقوہ، بو اسیر اور دیگر امراض کے لئے ایک ایک دوا تجویز کر دی تاکہ ان میں سے جس بیماری کا بھی آپ شکار ہوں وہ رفع ہو جائے۔ آخر میں احتیاطاً انہوں نے خلل دماغ کی بھی دوا لکھ دی ہے کہ جسمانی نظام بہت پیچیدہ چیز ہے ممکن ہے آپ کو بیماری ویماری کچھ نہ ہو بلکہ محض خلل دماغ کے باعث محسوس کرتے ہوں کہ بیمار ہیں۔

جنگی تربیت
میں نے محسوس کیا ہے لاہور کے عوام بچوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ان کی تربیت پر بہت دھیان دیتے ہیں میرے ایک دوست نے مجھے یہاں ایک بار اپنے گھر پر مدعو کیا تو مجھے اس کا بخوبی احساس ہوا۔ ڈرائنگ روم میں میزبان کا چار سالہ بچہ بھی موجود تھا بہت کیوٹ۔ میں نے اسے گود میں اٹھا لیا اور پیار کرنے لگا میز بان نے مجھے بتایا کہ یہ بہت شریر ہے اور اس کا ثبوت دینے کے لئے انہوں نے بچے کو چمکارا ’’منے! انکل کو چپت مارو ‘‘۔ اور پیشتر اس کے میں اس ضمن میں حفاظتی اقدامات کرتا، منے نے ہاتھ گھما دیا۔ میری عینک ٹو ٹ کر نیچے جا گری۔ اس پر میرے میزبان ہنستے ہنستے دوہرے ہو گئے اور منے کو گود میں اٹھا کر چومنے لگے یہاں کے لوگ اپنے بچوں کو بہادر دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے شروع سے ان کی تر بیت جنگی بنیادوں پر کرتے ہیں۔

مقفیٰ و مسجع گالیاں
ایک عرصے تک یہ خیال عام رہا تھا کہ گالی دینا ایک ناپسندیدہ حرکت ہے چنانچہ آج تک وکٹو رین عہد میں زندہ رہنے والے ثقہ لوگ اس سے بدکتے تھے حالانکہ کتھارسز کے لئے یہ ایک انتہائی ضر وری فعل ہے۔ اب نہ صرف یہ کہ یورپ میں یہ ’’ٹیبو‘‘ (Taboo) تو ڑ دیا گیا بلکہ لاہور کے گلی کوچوں میں خواص و عام کی محفلوں میں میں نے اس رجحان کو خاصا مضبوط پایا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو زیادہ مناسب ہو گا کہ اہالیان لاہور نے اس صنف نازک کو اپنی معراج تک پہنچا دیا ہے۔ اس محفل میں جس کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے، میز بان نے اپنے بیٹے کی زبانی بہت پیاری پیاری گالیاں سنوائیں۔ آخر میں انہوں نے کہا: منے! ایک گالی انکل کو بھی دو، وہی والی۔ اور منے نے جو گا لی دی، میزبان سے اس کا ترجمہ سن کر میں عش عش کر اٹھا اس میں تہہ در تہہ معانی پوشیدہ تھے اور اس کی زد میں مخاطب کی سات پشتیں آتی تھی۔

سراپا محبت
جیسا کہ میں نے شروع میں بیان کیا کہ لاہور کے لوگ بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ان کا ثبوت مجھے اس محفل میں بارہا ملا۔ میں نے اپنے اس دوست کے پاس دو گھنٹے گزارے جس میں صرف دو چار منٹ ہم نے آپس میں گفتگو کی ہو گی ورنہ بقیہ وقت منے کی باتیں سننے اور اس کی سرگر میاں دیکھنے میں صرف ہوا۔ اپنے والد کی فرمائش پر اس نے ہمیں نظمیں سنائیں۔ قا لین پر الٹ با زی کے کرتب دکھائے۔ دو دفعہ اس نے میرے گھنٹوں پر پاؤں جما کر میرے کاندھوں پر چڑھنے کی کو شش کی۔ ایک گلدان توڑا۔ کوکا کولا کی بوتل اپنے ابو کے سر پر انڈیل دی، میرے سامنے جو بسکٹ رکھے تھے وہ سب کے سب ایک ایک کر کے اپنی جیب میں ٹھونس لئے مگر کسی بھی مرحلے پر میرے دوست کے ماتھے پر بل نہ آیا (میرے ما تھے پر بھی نہیں آیا) واقعی لاہور کے لوگ اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں ان کے ہاں آنے والے مہمان بھی انہیں بہت پیار کرتے ہیں۔

بعض نامانوس لفظ
لاہور میں قیام کے دور ان دو ایک لفظ میں نے ایسے بھی سنے جو میرے لئے بالکل نئے تھے۔ خود مقامی لوگوں نے جب مجھے سمجھانے کی غرض سے ان لفظوں کو انگریزی میں ادا کرنا چاہا تو وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان میں ایک لفظ ’’غیرت‘‘ بھی تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی گفتگو میں یہ لفظ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس موضوع پر یہاں بے شمار فلمیں بھی بنی ہیں اور سنا ہے اس مسئلے پر آئے روز قتل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے جب ایک دوست سے اس لفظ کا مطلب جاننے کی کو شش کی تو اس کے ذہن پر زور دے کر کہا ریسپیکٹ (Respect) مگر دوسرے ہی لمحے کہنے لگا نہیں اس کا تر جمہ ریسپیکٹ نہیں اس کا مطلب تو عزت ہوتا ہے غیرت کچھ اور چیز ہے۔ پھر اس نے غیرت کے متبادل دو اور لفظ ’’ آنر‘‘ اور موڈ یسٹی‘‘ وغیرہ ڈھونڈ کر نکالے مگر ہر بار خود ہی انہیں غلط قرار دے ڈالا۔ میری الجھن بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اور خود وہ بھی خاصا پریشان نظر آنے لگا تھا۔ بالاخر کہنے لگا اگر تم اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد کے ساتھ ملو ث دیکھو تو اس موقع پر تمہیں کیا آئے گا؟

میں نے جو اب دیا غصہ جز بز ہو کر بو لا ’’غیرت نہیں آئے گی‘‘ میں نے جھنجھلا کر کہا وہ کیا ہوتی ہے؟ یہی تو جاننا چاہتا ہوں‘‘ اس پر اس نے فوراً ڈکشنری منگوائی اور جلد ورق الٹنے لگا آدھ گھنٹے بعد اس نے ڈکشنری بند کر کے ایک طرف رکھ دی اور کہا:۔

’’ تمہاری ڈکشنری میں غیرت کا لفظ ہی موجود نہیں ہے۔ یہ قصہ چھوڑو‘‘
لگتا ہے یہ کوئی مقامی مسئلہ ہے اور ہم مغرب والے اس سے وا قف نہیں ہیں۔ یہ یقیناً کوئی دلچسپ چیز ہوگی۔

لباس
میں نے یہاں لوگوں کو ملکی اور غیر ملکی دونوں لباسوں میں ملبوس دیکھا ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ غیر ملکی لباس پہنتے ہیں اور جوان پڑ ھ ہیں وہ اپنے ملک کے لباس کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسرے طبقے کے لوگوں میں دھوتی ایک بہت مقبول لباس ہے یہ ایک ان سلے کپڑے پر مشتمل ہوتا ہے جسے لوگ اپنی کمر کے گرد باندھ لیتے ہیں۔ کئی لوگ رات کو سوتے وقت بھی دھوتی باندھ کر سوتے ہیں اور بہت ہی گہری نیند سوتے ہیں میں ایک دوست کے گھر مہمان گیا تو اس نے سوتے وقت مجھے بھی ایک دھوتی باندھنے کے لئے دی جب صبح میری آنکھ کھلی تو یہ دھوتی میں نے اوپر لی ہوئی تھی۔

آخری آدمی
میں یہاں ایک ریستوران میں بھی گیا جس کے متعلق میرے دوست نے بتا یا کہ یہاں زیادہ تر وہ ادیب شاعر اور دانشور بیٹھتے ہیں جو ادب کی جدید قدروں کے علمبردار ہیں۔ انسانوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے کے خلاف ہیں اور بین الاقو امیت کے پرچارک ہیں۔ نیز یہ کہ دنیا میں امن محبت اور روار داری کا دور دورہ چاہتے ہیں مگر میں نے دیکھا کہ وہ خود مختلف میزوں پر مختلف گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے بلکہ ایک میز پر بیٹھنے والے بھی ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے سے لگتے تھے ہم یہاں کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ اب رات ہو چکی تھی اور لوگ ایک ایک کر کے جانا شروع ہو گئے تھے۔ ہماری میز پر صرف دو ادیب رہ گئے تھے اور میرے دوست کے ساتھ انتہائی محبت اور یگانگت کے رو یے کا اظہار کر رہے تھے۔ مجھے ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے اکتا ہٹ سی محسوس ہونے لگی تھی، چنانچہ میں نے اپنے دوست سے واپس چلنے کے لئے کہا۔ یہ سن کر وہ اپنا منہ میرے کان کے قریب لایا اور آہستگی سے بو لا ’تم صورت حال کو نہیں سمجھتے اس میز سے جو اٹھ کر جاتا ہے باقی لوگ اس کے خلاف گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ میں نے تہیہ کیا ہے کہ میں آج سب سے آخر میں یہاں سے جاؤں گا۔

پتنگیں لوٹنے کا شوق
یہاں کے لوگوں کو پتنگیں لوٹنے کا بہت شوق ہے۔ وہ بیسیوں فٹ بلند چھو توں کی پتلی اور کمزور سی منڈیر پر ’’ڈھانگا‘‘ (پتنگ لوٹنے میں آسانی پیدا کرنے والا ایک آلہ) لئے کھڑے رہتے ہیں اور پھر کٹی ہوئی پتنگ دیکھ کر وہ اس پر انتے فریفتہ ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بند ھ جاتی ہے اور وہ اس کا پیچھا کرتے کرتے بلندی سے نیچے سڑک پر آن گرتے ہیں۔ مگر یہ پتنگیں لوٹنے کا شوق ایسا ہے کہ اگلے روز ان کے پسماندگان ایک بار پھر ہاتھ میں ’’ڈھانگا‘‘ لئے وہاں کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ لوٹ مار کا یہ شوق یہاں کے سیاستدانوں میں بھی پا یا جاتا ہے، چنانچہ وہ بھی ہاتھوں میں ’’ڈھانگا‘‘ اٹھائے ہوئے بلند و بالا چھتوں کی منڈیروں پر کھڑے رہتے ہیں اور جب وہ اس کے نتیجے میں المناک حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں تو اگلے روز ان کی پسماندگان کئی ہوئے پتنگیں لوٹنے کے شوق میں ایک بار پھر اس منڈیر پر ہاتھ میں ’’ڈھانگا‘‘ لئے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

تیسری دنیا
لاہور میں قیام کے دوران میں نے سیاستدانوں اور عوام کو تیسری دنیا کے مسئلے پر بہت گر ما گرم بحثیں کرتے دیکھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انتے خشک موضوع پر بھی میں نے ان کی روایتی زندہ دلی میں کوئی کمی محسوس نہیں کی۔ ایک رہنما نے تیسری دنیا کے نظر یے کی مخالفت کرتے ہوئے جلسہ عام میں کہا۔ ایک دنیا تو یہ ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ دوسری دنیا ہے جہاں ہم نے جانا ہے۔ میں پو چھتا ہوں بیچ میں تیسری دنیا کہاں سے آ گئی؟ اگلے روز اسی مقام پر حریف جماعت رہنما نے پورے جوش و خر وش سے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ یہ لوگ پو چھتے ہیں تیسری دنیا کیا ہے۔ اوئے سنو میں بتاتا ہوں ایک دنیا وہ جہاں ہم رہتے ہیں، دوسری جہاں ہم نے جانا ہے اور تیسری دنیا وہ جہاں انہوں نے جانا ہے۔

پچھلا دروازہ
یہاں رمضان کے مہینے میں کھا نے پینے کی دکانیں شام تک بند رہتی ہیں روز شہر میں گھومتے پھرتے مجھے بھوک محسوس ہوئی تو میں نے اپنے ایک مقامی دوست کو جو اس وقت میرے ہمراہ تھا، اس ہنگامی صورت حال سے آگاہ کیا، چنانچہ وہ چلتے چلتے ایک جگہ رک گیا اور ایک بند دکان کے با ہر آویزاں گتے پر لکھی عبا رت پڑھنے لگا میں نے پو چھا کیا لکھا ہے؟ بو لا لکھا ہے۔ رمضان المبارک کے احترام میں ہو ٹل ہے۔ ہم کھانا کھا نے کے لئے پچھلے دروازے سے داخل ہوئے اور کھانا کھا کر پچھلے دروازے سے با ہر آ گئے مجھے بتا یا گیا کہ یہاں پچھلے دروازے کا استعمال بہت عام ہے۔ لوگ سیاست اور اقتدار میں بھی پچھلے دروازے سے داخل ہوتے ہیں، اور پھر ایک روز ان کی وا پسی بھی پچھلے دروازے ہی سے ہوتی ہے۔

مقبول تر ین آلہ مو سیقی
رمضان کے مہینے میں میں نے ایک اور عجیب و غریب چیز کا مشاہدہ کیا۔ یہاں کچھ لوگ آدھی رات کو گلوں میں ڈھول لٹکائے اور ہاتھوں میں چمٹا پکڑے گھروں سے نکل کر سٹرکوں پر آ جاتے ہیں اور خوب اودھم مچاتے ہیں۔ جن کے پاس ڈھول نہیں ہوتا وہ کوئی ٹین وغیرہ کھڑ کاتے ہیں۔ میں نے ابھی (ڈرم) اور چمٹے کا ذکر کیا تھا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر یہ بتاتا چلوں یہاں کا ایک مقبول تر ین آلہ مو سیقی ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ یہ ساز پاکستان کے قریباً ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔ اور خاصا کثیر الااستعمال بھی ہے۔ کئی مائیں اس سے بچوں کو پیٹنے کا کام بھی لیتی ہیں اور کچھ لوگوں کو تو میں نے اس آلے سے دہکتے ہوئے کوئلے بھی پکڑتے دیکھا ہے۔

دیدہ دلیری
یہاں ایک دانشور نے ایک دوست کے حوالے سے اپنی ایک کتاب مجھے عنایت کی اور کہا کہ اس اردو دان دوست کی مدد سے میں انگریزی میں تر جمہ کر دوں۔ اس کھاتے پیتے دانشور نے متذکرہ کام کے لئے مجھے خاصی معقول رقم کی پیشکش کی اور ظاہر ہے میں نے یہ پیش کش قبول کر لی کیونکہ مجھے پردیس میں پیسے کی ضرورت تھی مگر چند ابواب کے مطالعے کے بعد میں نے یہ کتاب بصد معذرت واپس کر دی اور اپنے اس معاون دوست کو بتایا کہ اس کتاب کو انگریزی میں تر جمہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کتاب پہلے ہی انگریزی سے تر جمہ شدہ ہے میں متذکرہ دانشور کی اس دیدہ دلیری پر بہت پریشان تھا تاہم مجھے بتایا گیا کہ ایسی صورت حال کو یہاں ’’تو ارد‘‘ کہا جاتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ دیکھئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: