اسلام کا بے لوث داعی: مولانا طارق جمیل ۔۔۔۔۔۔۔۔ امتیاز عبد القادر، سری نگر

0
  • 50
    Shares

میرا اُس شہر سے واسطہ ہے جو صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اقبال نے شائد میری بستی کے باشندوں کو ہی یہ کہہ کر ’خراجِ عقیدت‘ سے نوازا تھا کہ ؎
ایں غلام، ابنِ غلام، ابنِ غلام حریت اندیشئہ اُو را حرام
یوں تو دنیا والے اسے ’جنتِ نظیر‘ کہتے ہیں لیکن یہاں کے باشندوں کی حالتِ زار اس ’خطاب‘ کو ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔ ہم انگشت بدنداں ہیں کہ اگر ’جنت‘ ایسی ہے تو پھر ’جہنم‘ کیسی ہو گی؟ ’زندگی‘ یہ ہے تو پھر موت ہمارے لئے ’انعام‘ سے کم نہیں۔ بھارت کا ’زیرِ انتظام‘ کشمیر۔ جہاں ہوا بھی پابہ زنجیر ہے۔ سرحد کے آر پار پرندہ بھی پرمارے تو وہ بھی ’صیاد‘ کے پنجرے کی ’زینت‘ بن جاتا ہے اور خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دے کر سُولی پر ’جھولنے‘ لگتا ہے۔ اس حالت پر یہاں کے بادل، پتّے، شجر و حجر، کوہ و دامن بھی ’سینہ کوبی‘ کر رہے ہیں۔

سیاست کے دلالوں نے ہمیں اس حالت کو پہنچایا۔ اسی وجہ سے اُس پار کی زمین، بستیاں مشاہدے میں تو آنے سے رہی البتہ پڑھا ہوا ہے کہ۔ ۔ ۔ خانیوال صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شہر ’میاں چنوں‘ سے ’عبدالحکیم‘ جاتے ہوئے راستے میں ’تلمبہ‘ کا تاریخی شہر پڑتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق ’تلمبہ‘ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی۔ اس شہر کے قریب سے گزرئے تو سامنے ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے۔ یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ ’حصنات‘۔ یہ مدرسہ عین اسی جگہ واقع ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ اسی جگہ دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازارِ حسن تھا۔ برطانوی عہد سے ہی اس خطے میں تین بڑے بازار ِحسن قائم تھے۔ لاہور، ملتان اور تلمبہ اس ’عشرت کدے‘ کے لئے مختص کئے گئے تھے۔ ’لاہور کا بازار حسن ’بوڑھے راوی‘ کا ہم عمر تھا۔ مہا راجہ رنجیت سنگھ کے دورِ انحطاط میں اس کا آغاز ہوا۔ اسی طرح تلمبہ‘ کا بازارِ حسن ۱۸۱۸ء میں مہا راجہ رنجیت سنگھ نے ہی قائم کیا اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص و عام تھا۔ سینما، تھیٹر اور ٹی۔ وی کے دور سے پہلے یہاں کی رقاصائیں ملک کے کونے کونے میں اپنے فن کا جادو جگا کر تقریبات کا حسن دوبالا کرتی تھیں۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی نے باقاعدہ ایک انڈسٹری کا روپ اختیار کیا تو بازار بھی اس سے متاثر ہوئے- ان بازاروں کو ’رونق‘ بخشنے والی رقاصائیں ترقی کرتے کرتے ’شہرت‘ کی اوجِ ثریا کو پہنچ گئیں۔ ’تلمبہ ‘ کا بازارِحسن اس دور میں ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی۔ یہ بازار نہیں، ایک سنگین بستر تھا، جہاں عورت کی عفت تھک کر ہمیشہ کی نیند سو گئی تھی۔ اس ’مقتل‘ میں عورت قتل ہوتی تھی۔ اس کا گوشت ’بکتا‘ تھا۔ کسی بھی گاہک کے لئے کوئی قید نہیں تھی۔ ہر بوٹی کی قیمت مقرر تھی۔ گویا عورتیں نہیں بھیڑیں ہوں ؎

خداکے نام پر بازار میں کوڑی نہیں ملتی
ہوس کی چاشنی سے دل کا کاروبار چلتا ہے
گلابی ہونٹ اک جنسِ گراں مایہ ہیں منڈی میں
انھیں اجسام سے یہ حُسن کا بازار چلتا ہے

جو لوگ اپنے گھر کا کچرا باہر گلی میں پھینک کر ’نصف ایمان‘ کے درجے پہ فائز ہو جاتے ہیں، ان کے لئے ’تلمبہ‘ کا بازار قطعاً اس قابل نہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچ کر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے۔ ’نیک لوگ‘ ایسی متعفن جگہوں سے منہ ڈھانک کر اور پائنچے چڑھا کر گزرتے ہیں اور بد خصلت صرف رات کے اندھیرے میں ادھر جھانکتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے دن کے اجالے میں اس تاریک نگر کا رخ کیا۔

شروع شروع میں مولانا کی یہ حرکت ان کے معتقدین، بازار کے نکڑ میں ’ٹھنڈے گوشت‘ کی ٹوہ میں لگے عفت و عصمت کے بھوکے ’خریداروں‘ ، سیاسی اکھاڑے میں موجود شعبدہ بازوں و کرتب بازوں اور خواتین سے پیشہ کرانے والے ان ’دکانداروں‘ کو ناگوار گزری لیکن مولانا کا استدلال یہ تھا کہ دین سیکھنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے کلمہ پڑھ رکھا ہے۔ بازار ِحسن سے تعلق رکھنے والے چونکہ مسلمان ہیں اس لیے انہیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا ایک مدت تک بلاناغہ اس ’اچھوت‘ بستی میں جاتے اور ایک کونے میں بیٹھ کر درس دیتے رہے۔ آہستہ آہستہ پیشہ ور خواتین کی ایک معقول تعداد اس محفل کا رُکھ کرنے لگیں۔ نفس کے ’تقوٰی ‘ نے نفس کے ’فجور‘ کو مات دے دی۔ رگوں میں گھومنے پھرنے والا شیطان کفِ افسوس ملنے لگا۔ بدی ڈنکے کی چوٹ پر ’تلمبہ‘ کے بازار میں رُسوا ہو رہی تھی۔ نیکی دبے پائوں تاریکی کا سینہ چیر کر اس بستی میں نویدِ صبح کا پیغامِ جاںفرا سنا رہی تھی۔ مولانا طارق جمیل صاحب انہیں ’میری بہنو‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ بنیادی عبادات کا مشق کرایا، اعتقاد کو پختہ تر کرنے کی نصیحت کی، قرنِ اول کی باغیرت اور عفت و عصمت کے لئے جان کی قربانی دینے والی پاکیزہ صحابیات و پارسا خواتین کا تذکرہ چھیڑتے۔ پاکی ِ نفس اور حیا کی تلقین موثر پیرائے میں کرتے۔ خباثتِ نفس اور بدکرداری کی نحوست سے آگاہ کرتے۔ دل سے نکلی درد بھری آہ نے اثر دکھلایا اور سماج سے بچھڑے ہوئے ان ’خطا کاروں‘ کو اللہ کی طرف لوٹنے کا موقع فراہم ہوا۔ بے عزتی کی جگہ اب عزت نے لے لی، اقبال نے ادبار کو پسپا کیا، پاکیِ دامانی ایسی کہ فرشتے بھی ’وضو‘ کرے۔ ۔ ۔

مولانا طارق جمیل صاحب یکم جنوری ۱۹۵۳ء کو ’میاں چنو‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے، جو تلمبہ سے دو تین کلو میٹر آگے آڑی والا (حسین پور) میں ہے۔ مولانا کا خاندان علاقے کے بڑے زمینداروں میں شمار ہوتا ہے۔ سینکڑوں کنال کی زرعی اراضی ہے۔ آم، کینو، امرود کے باغات ہیں۔ مولانا کا دوسرا بھائی ڈاکٹر طاہر سہو صاحب کا پاکستان کے دل کے بڑے ڈاکٹروں میں شمار ہوتا ہے۔

مولانا طارق جمیل صاحب نے گورنمنٹ کالج لاہور سے پری میڈیکل کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا مگر پھر دینی تعلیم کی طرف رجحان غالب ہوا تو مروجہ تعلیم مکمل کئے بغیر ہی کنگ ایڈورڈ کو خیرباد کہا۔ مولانا اگر وہ تعلیم مکمل کر کے مذہبی تعلیم حاصل کرتے تو شاید پاکستان کو ایک محسن، ایماندار، دیانت دار، دردِ دل رکھنے والا ڈاکٹر ملتا، جو روح کے امراض میں مبتلا نفوس کے ساتھ ساتھ اُن کے مادی وجود کے درد کا بھی دوا کرتے۔ مولانا جدید تعلیم سے آراستہ ذہن کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے آزاد فضا میں تعلیم پائی ہے۔ ان طبقات کی سنگت میں جوانی گزاری ہے جن کو آج وہ اپنی تبلیغ سے اپنا مرید بنائے ہوئے ہیں۔ یہ ان جیسی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ان کی سوچ کو سمجھتے ہیں۔ ان کے شکوک و شبہات سے آگاہ ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان طبقات کی سوچ کو کیسے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی توجہ کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ جبکہ عصر حاضر کے روایتی علما کی اکثریت اس خصوصیت سے محروم ہیں۔

مولانا کی آواز میں ایک کشش ہے، جو آپ کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف مائل کر دیتی ہے۔ زبان شستہ، لہجہ رفتہ۔ ان کے خطاب درد سے پُر ہیں۔ مبالغہ نہیں کی اُن کے ہاں امت کا درد جھلکتا ہے۔ اُن کے دل سے جو آہ نکلتی ہے، وہ شقی القلب افراد کے دلوں کو بھی پگلا دیتی ہے۔ موصوف کی زبان نہیں بولتی بلکہ ان کا دل گویا ہوتا ہے۔ اُن کی شخصیت میں ایک رعب ہے۔ خوش پوشاک، خوش خوراک، تبلیغی جماعت کے روحِ رواں۔ تامل و تذبذب سے بے زار، نہ زندہ باد کے تمنائی نہ مُردہ باد سے خائف۔ نہ رعب کھاتے نہ رعب ڈالتے۔ خطابت کے غنی ہیں لیکن خطبوں میں کڑک ہے نہ بھڑک۔ مولانا طارق جمیل صاحب کی خدمات دعوت و اصلاح کے میدان میں آبِ زر سے رقم کرنے کے لائق ہیں۔ چھ برِ اعظموں کا دورہ کرکے انہوں نے اپنے تئیں دین کی دعوت عام کرنے کی کوشش کی ہے۔ مولانا کی سب سے بڑی خوبی انسانوں کے تئیں ہمدردی و محبت ہے۔ وہ ’انسان‘ چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، کس مکتبہ فکر کا ہے، کس تنظیم، جماعت یا ادارہ سے وابستہ ہے، شیعہ ہو یا سُنی، غرض ہر ایک کے لئے ان کے دل میں بے پناہ وسعت ہے۔ وہ اُن تنگ نظر علماء کی طرح نہیں جو مسلمانوں میں کوئی کمی یا خرابی دیکھ کرکافر، فاسق اور ملحد کا فتوٰی صادرکرتے ہیں۔ جو ان کے نظریات و افکار سے اختلاف رکھیں تو انہیں ’گمراہ‘ جتلا کر اُمت میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ مسلکی و فروعی مسائل کو بنیادی و اصولی امور پر ترجیح دے کر امت میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب کی شخصیت میں رسول اللہ ﷺ کاخُلق جھلکتا ہے۔ ہر کسی سے نرمی اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ اُن کی شخصیت میٹھی، پرکشش و نرم ہے۔ چال ڈھال اور بول چال میں پارسائی اور تقدس کا احساس ہوتا ہے۔

مولانا کی شخصیت میں آپ کو حسین تنوّع دیکھنے کو ملے گا۔ ان کا دل لوگوں کے لئے کُڑھتا ہے۔ اس دل میں بڑی وسعت ہے۔ گستاخی معاف مگر وہ جس مکتبِ فکر سے وابستہ ہیں وہاں یہ سوچ محال ہے۔ لیکن مولانا کی مجلس میں کبھی گانے بجانے والوں کو آپ دیکھتے ہیں، تو کبھی ہند و پاک کے فلمی ’ستاروں‘ کی میزبانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کھلاڑیوں کے پاس جاتے ہیں، تو کبھی سیاست دانوں کیلئے دعا کرتے ہیں اور گاہے دیگر مذہبی رہنمائوں کے ’آستانہ‘ پر ’قدم بوسی‘ کیلئے جاتے ہیں۔ اُن کی یہ وسعتِ قلبی، شقی القلب افراد کو راس نہیں آتی۔ اپنے اور پرائے سامنے بھی اور پسِ پردہ بھی مولانا کی ملامت کرتے رہتے ہیں۔ طارق جمیل صاحب نے مولانا سید ابو الاعلٰی مودودی کی تعریف کی، منصورہ بھی گئے تو لوگوں نے طعنہ کسا۔ سیاسی مخالفوں کے ساتھ خوش مزاجی اور کھلی پیشانی کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں تو لوگ انہیں مطلبی قرار دیتے ہیں۔ مگر کیا کیجئے مولانا تو کسی اور خمیر کے بنے ہیں ملامت کرنے والوں کی ملامت انہیں پُشت بمنزل نہیں کرتی۔ مرحوم قاضی حسین احمد (سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان) کی دعوت پر، اُن کے پہلو میں بیٹھ کر کارکنانِ جماعت کو قرآن کی عظمت بیان کرتے ہیں تو کبھی سید منور حسن سے محبت کا اظہارکرتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل، طاہر القادری صاحب کی دعا لینے کبھی اُن کی مجلس کو بھی زینت بخشتے ہیں، داعی اُمت ڈاکٹر ذاکر نائیک کی خدمات جلیلہ کو سراہنے اُن کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں اور مدنی پھول بکھیرنے والے مولانا الیاس قادری صاحب کے پاس جا کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب ان مخلصانہ کوششوں کے باوجود ’توپوں‘ کی زد سے نہ بچے۔ لوگوں نے ’غیر مقلد، تجدد پسند، گمراہ ہے‘ کے فتوے صادر کئے۔ یہاں تک کہ پاکستان میں ایک ٹی۔ وی اینکر نے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر مولانا کو ٹی۔ وی پر برا بھلا کہا، منافق تک کہا لیکن مولانا طارق جمیل صاحب نے ان کے اگلے پروگرام میں نبوی اخلاق کی مثال قائم کر کے انہیں دعائیں دیں۔ مولانا نے عین اس وقت امام بارگاہوں کے دورے کیے کہ جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں شیعہ سنی فساد دستک دے رہے تھے، لوگوں نے کہا یہ تو ’شیعہ‘ ہو گیا ’رافضی‘ ہو گیا مگر کیا کیجئے مولانا پر کوئی اثر نہ پڑا۔ مسکرا کر ان ’تہمتوں‘ سے اعراض کرتے ہیں۔ ان بے جا اعتراضات کو مولانا مودودی کی طرح کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اُن کی طرح ہی اس سب و شتم، گالی گلوچ اور ’وصول‘ کی گئی تہمتوں کو قیامت تک کے لئے اٹھا رکھا ہے۔ جس قوم کے افراد سُوئِ ظن میں پختہ ہو گئے ہوں وہاں توقع رکھنا کہ جوانی تہمت کے بغیر گزر سکتی ہے، ایک ’خوش آئند‘ سانحہ ہے۔ جوانی کا بغیر تہمت کے گزرنا بھی ایک درد ناک ’المیہ‘ ہی ہے۔

مولانا طارق جمیل صاحب کو جدید تعلیم سے آراستہ ذہنوں میں پذیرائی حاصل ہے۔ مختلف تعلیمی اور پروفیشنل ادارے بھی ان کے لیکچرز کا اہتمام کرتے ہیں۔ سماجی انجمنیں، عدالتیں، اسپتال میں کام کر رہے ڈاکٹرز مولانا کو مدعو کر کے تسکینِ روح کا سامان کرتے ہیں۔ ان کے مختلف سبق آموز قصے، جن میں بیشتر اگرچہ ’صحت‘ کی رُو سے ’ضعیف‘، کہانیوں اور تراش خراش کر کے لائے گئے سند سے عاری واقعات پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن اُن کے واقعات سنانے کا انداز واقعتََا دل کھینچتا ہے۔ اُن کے دروس میں انسانوں سے محبت کا عکس نمایاں ہیں۔ ایسا لگتا ہے مانو لوگوں کو جہنم سے زبردستی کھینچ کر جنت کی راہ پر لگا رہے ہوں۔

اپنی زبان کو حتٰی المقدور کسی کی برائی کرنے سے روکتے ہیں۔ کبھی کسی مسلک کی تنقیص نہیں کی، کبھی علاقائی، نظریاتی، مذہبی بنیاد پر کسی کی مخالفت نہیں کی۔ کسی پر بے جا اعتراض نہیں کیا۔ ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی، ہم چوں ما دیگرے نیست کا زعم نہیں رکھتے، اس کے باوجود کچھ ’خیر خواہ‘ ان پر نقطہ چینی صرف اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ ان کے دسترخوان پر ۳ سے ۴ کھانے موجود ہوتے ہیں اور وہ لمبی گاڑی سے اترتے ہیں۔ کیا ہم اتنا گر چکے ہیں کہ ایک ایسے شخص کو جو اخلاقیات کا درس دیتا ہے، اس کی حقارت فقط اس کے اچھے لباس، اس کی گاڑی یا اچھا کھانا کھانے کی بنیاد پر کریں؟ جو شخص اگر روایتی طور پر زمیندار بن کر رہتا تو بھی یہ سب کچھ با آسانی کر سکتا تھا۔

مولانا (طارق جمیل صاحب) کے ہاں قرآن و حدیث کا فہم و حکمت سطحی ہے۔ قرآنی آیات کا صحیح فہم اور صحیح احادیث کی روح کو چھوڑ کر غیر ثقہ قصے، کہانیوں، وظائف، ضعیف و موضوع روایات اور ظواہر پر زیادہ زور ملتا ہے۔ مولانا کے مداحین کی تعداد لاکھوں میں ہیں۔  اسلئے مولانا کو چاہئے کہ مستند و معتبر ذرائع کاحوالہ دے کر صحیح واقعات، قرآن و حدیث کا صحیح فہم لوگوں تک منتقل کریں تا کہ ان سے عقیدت رکھنے والوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔

اس سب مساعی کے باوجود مولانا طارق جمیل ایک انسان ہے۔ اُن کے ساتھ بہت سے لوگوں کو شکا یات ہوں گی، اختلاف بھی ہے۔ علم کی دنیا ہی ایسی ہے۔ یہاں کسی شخص کی بات، چاہے وہ عبقری و علّامہ ہی کیوں نہ ہو، حرفِ آخر نہیں۔ تنقید سے مبرا تو بس ایک ہی ذاتِ اقدسﷺ ہے۔ مولانا طارق جمیل حفظہ اللہ کی مساعی جلیلہ کا ایک پہلو  یہ بھی ہے کہ اُن کے ہاں قرآن و حدیث کا فہم و حکمت سطحی ہے۔ قرآنی آیات کا صحیح فہم اور صحیح احادیث کی روح کو چھوڑ کر غیر ثقہ قصے، کہانیوں، وظائف، ضعیف و موضوع روایات اور ظواہر پر زیادہ زور ملتا ہے۔ مولانا کے مداحین کی تعداد لاکھوں میں ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ انھیں سنتے ہیں، عقیدت سے اُن کی نقل کرتے ہیں۔ اسلئے مولانا کو چاہئے کہ مستند و معتبر ذرائع کاحوالہ دے کر صحیح واقعات، قرآن و حدیث کا صحیح فہم لوگوں تک منتقل کریں تا کہ ان سے عقیدت رکھنے والوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ لیکن اس سب کے باوجود ان کی مخلصانہ کاوشوں، محنت اور جدوجہد کی قدر کرنا مہذب سماج کے فرائض میں سے ہے۔ جس طرح وہ محبت کا پیغام لے کر اٹھے ہیں، اخلاص اور للٰہیت کا تقاضا ہے کہ ایسے بندے کی دل و جان سے قدر کی جائے۔ ایسے نفوس کے بارے میں حسنِ ظن رکھا جائے اور یہ سمجھیں کہ اگرچہ میں اس جماعت، ادارہ یا تنظیم سے وابستہ نہیں لیکن اس کے باوجود ’وہ‘ لوگ میرا ہی کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ تو ہمارے محسن ہیں جن کو ہماری دنیا میں سے ذرہ برابر بھی معاوضہ نہیں چاہئے بلکہ ہماری آخرت بنانے کی فکر میں شب روز اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہیں۔ جو اپنی مصروفیات کو ہمارے ’کل‘ کے لئے تج دیتے ہیں۔ جن کے قلوب و اذہان پر دوسروں کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ ایسے لوگ چاہے جس دینی جماعت سے وابستہ ہوں، اُن کی قدر کرنا انسانیت کی دلیل ہے۔ امت کے ایسے گُل سر سبد احترام کے مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ بغض، عناد، مخاصمت، نفرت شقی القلب افراد کا ہی شیوہ ہے۔

قابلِ اتباع تو بس محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے، جنہیں تاج نبوّت نوازنے سے کئی سال پہلے ہی خالق کائنات نے شق صدر کر کے، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرما دیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں۔ نعرے بازی، سب و شتم، کافر کافرجیسے ’کھیل‘ تو اکثر لوگ کھیلتے ہیں۔ ۔ کاش کوئی ایسا مصلح بھی ہو، جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سو سال پہلے محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہالت میں ڈوبی اُس سوسائٹی کو صاف کیا تھا۔ درد سے، علم سے، حکمت سے اور اعلٰی اخلاق سے۔ ۔ ۔ ۔ !

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: