علم، کتاب، زندگی اور ہم —- عارفہ سید

0
  • 234
    Shares

میں اردو ادب اور تاریخ کی بہت معمولی طالب علم ہوں، اور اس سے معمولی تر زندگی کی طالب علم ہوں۔ اس لیے زندگی کے جتنے موضوع ہیں وہ شوہروں اور بیویوں میں بٹے ہوئے نہیں ہیں، اور وہ میرے دل کے ساتھ لپٹے چلے آتے ہیں جب تک کہ میں خود خاک میں نہ لپٹ جاوں۔ بات یہ ہےکہ میرے کچھ ساتھی مجھ سے میرے ایک جملے کی وجہ سے خفا ہیں جو کہ میں نے ایک تقریر میں کہا۔ غلطی سے میں نے وہ تقریر انگریزی میں کی تھی، کیوں کہ اردو اب تو بغاوتاََٰ بولنا پڑتی ہے۔ میں نے یہ کہا کہ میں خواتینی یا نسوانی دنیا میں زندگی نہیں گزارنا چاہتی اور نہ ہی مردانہ، میں نے انسانی دنیا میں رہنا سیکھا ہے اور اسی کے لیے آواز بلند کرتی ہوں۔

میری تمنا اتنی ہے اور شاید پروردگار کا منشاء بھی یہی تھا کہ ہم آدمی سے انسان ہوسکیں۔ آدمی ایک مادی وجود ہے اور انسان ایک اخلاقی۔ آدمی سے ایک انسان کیسے ہوتا ہے؟ جب درمیان میں کتاب آجاتی ہے۔ وہ کتاب چاہے آسمان سے آئی ہو چاہے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے والی ہو۔ زندگی کا حوالہ لکھے ہوئے حرف یعنی کتاب کے بغیر مکمل نہیں ہے۔

کہا گیا کہ مطالعے کی عادت مر چکی ہے۔  اب جسے مرنا کہتے ہیں تو ہر کسی کے مرنے کا انتظار نہیں کرتےجب اکثریت مر چکی ہوتی ہے تو وہ مرجاتی ہے۔ اگر اقلیت زندہ رہ جاتی ہے تو اسے کوئی زندگی نہیں کہتا۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر خود کو علم سے دُور کیا ہے۔ ہم ہُنر کے پیچھے ہیں۔ ہم علم روزگار کے لیے حاصل کرتے ہیں، زندگی کے لیے نہیں۔ دل کی سیاہی پتہ نہیں کم ہوئی نہ ہوئی مگر بالوں کی ساری سیاہی یہی بات کہتے ہوئے گنوا دی، کہ زندگی کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ اور یہ جو کتاب سے، حرف سے علم سے رشتہ ہے، یہ دراصل علم کا ایک دوسرے کی طرف ورثے کے منتقل ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔ جو بچپن کی کہانی تھی نا کہ چڑیا لائی دال کا دانہ چڑا لایا چاول کا دانہ۔۔۔۔۔۔ اگلا جملہ بہت معنی خیز ہے۔ اور میں آج کل کی تمام صنفی لوگوں کو یہ کہانی سناتی ہوں۔ دونوں نے مل کی پکائی اور دونوں نے مل کر کھائی۔ مگر اب ہم کہانی کو یوں لکھتے ہیں کہ چڑیا ہی لائی دال کا دانہ اور چڑیا ہی لائی چاول کا دانہ۔ ایک نے پکائی دوسرے نے کھائی۔

اب سوال یہ ہے کہ جو دونوں نے مل کر پکائی اور کھائی، اگر اس کہانی کو زندہ رکھنا ہے تو اس کہانی کو لکھنا پڑے گا۔ اور اگر یہ کہانی لکھی ہوئی ہے تو پڑھی بھی جائے گی۔ مطالعے کی عادت ہمارے ہاں ختم ہوتی جاتی ہے اس کی ایک بنیادی وجہ ہے وہ جو میرے محبوب جنرل ضیاء الحق تھے۔ انھوں نےاس معاشرے سے چند بُری عادتیں چھین لیں، جیسے کہ تقریر کا فن چھین لیا خطبہ رہ گیا۔۔ تقریر میں آپ دونوں موضوع سوچتے ہیں نا۔ مثبت بھی اور مخالف بھی۔ امکان کی بات کرتے ہیں۔ اور خطبے میں آپ صرف فتوے کی بات کرتے ہیں۔ زندگی فتووں پر زندہ نہیں ہے۔ زندگی امکان پر زندہ ہے۔ دوسرا کمال یہ کیا کہ کتاب سے رشتہ ہٹا دیا۔۔ میں ایک بار ان کی مجلس میں شریک ہوئی اور بزورِ حکمِ سرکار بھیجی گئی اور میں چونکہ اُس وقت سگِ شکم (سرکاری نوکر) تھی تو اس لیے گئی۔ اور وہاں انھوں نے کہا کہ میں استادوں اور شاعروں سے بہت تنگ ہوں۔ یہ بہت ظالم طبقہ ہے۔ کیوں کہ یہ سوچتا بھی ہے اور یہ کہتا بھی ہے۔

آپ معاشرے سے استاد کی قدو قامت کم کر دیجیے تو کتاب تو درمیان سے خود بخود ہٹ گئی۔ کتاب ختم ہوگئی بحث باقی رہ گئی۔ اب بحث باقی ہے بحث پر فتوی ہے۔ نہ کتاب ہے نہ اس کا مطالعہ ہے۔ اور اس سے پہلے بھی ایک چیز معاشرے میں موجود تھی وہ ہم میں ایک دوسرے کو سہارنے کی قوت تھی، برداشت کی سکت تھی۔ اب ہم اس لیے بھی نہیں لکھتے کہ جانے کیا لکھیں؟ اور جانے کیا سمجھا جائے؟ اور جانے کیا کہا جائے؟ اور جانے کیا ہو جائے؟ اس لیے کہ اب ہم کچھ سوچتے نہیں ہیں۔ کتاب سوچنا سکھاتی ہے، ہم نے بہت آہستہ آہستہ اس معاشرے کو سوچنے سے الگ تا کہ معاشرے کا مادی وجود باقی رہے۔ معاشرے میں سیاست کا بازار گرم رہے مگر معاشرے کا اخلاقی وجود کم ہوتا چلا جائے۔۔ میں جب بھی ادبی میلوں میں جاتی ہوں  تو زندگی کے دن بڑھ جاتے ہیں اور عمر کے دن گھٹ جاتے ہیں۔ اتنے حبس کے موسم میں، اتنی گھٹن کی فضاء میں یہ موقع ملے کہ یہاں ہم بیٹھ کر وہ بات کرسکیں جو معاشرے کی زندگی کی بات ہوتی ہے۔ اور مجھے ایک اور بھی شکائت ہے۔ ہم ہر چیز کی زمہ داری اور توقع حکومت سے رکھتے ہیں۔ میں معافی چاہتی ہوں جو حکومت آئینی زمہ داریاں پوری نہیں کرسکتی، وہ اخلاقی زمہ داریاں کیوں کر پوری کرے گی۔

تقریر میں آپ دونوں موضوع سوچتے ہیں نا۔ مثبت بھی اور مخالف بھی۔ امکان کی بات کرتے ہیں۔ اور خطبے میں آپ صرف فتوے کی بات کرتے ہیں۔ زندگی فتووں پر زندہ نہیں،  امکان پر زندہ ہے۔

مجھے معلوم نہیں ہے شاید کراچی میں بھی یہی حال ہوگا۔ میں جب بچہ تھی (قہقہ) تو لائبریری ہوتی تھی اور ایک آنہ لائبریری کہلاتی تھی، بلکہ کچھ لائبریریاں تو چلتی پھرتی تھیں جن کو گشتی لائبریریاں کہتے تھے۔ اور جو یہاں پنجابی بیٹھے ہیں وہ اس لفظ کو اگر سمجھتے ہیں توبراہ کرم کچھ دیر کے لیے بھول جائیں۔

اب ایک معاشرے کی ترجیحات دیکھیے۔ اخبار میں اشہار آتا ہے “ایک ہزار کا پیزا سستا ہے” چار لوگ کھا سکتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایک پیپسی کی بوتل راحتِ جاں کے لیے مفت ساتھ آتی ہے۔ جب کوئی ہم سے یہ کہتا ہے کہ پانچ سو روپے کی کتاب خرید لو تو ہم کہتے ہیں کتابیں بہت مہنگی ہوگئی ہیں۔ میری گزارش یہ ہے کہ ایک ہزار روپے کا پیزا چار لوگ کھاتے ہیں اور صبح تک اس کو کسی تہذیب میں شمار نہیں کیا جاتا۔ جبکہ پانچ سو روپے کی کتاب ایک شخص خریدتا ہے اور شاید سو لوگ اس کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اور وہ ہمیشہ تہذیب میں شمار کی جاتی ہے۔ ہم بڑی مدت سے خود فریبی میں مبتلا ہیں، معذرت کے ساتھ، مایوسی نہیں ہے لیکن کبھی کبھی اپنا چہرہ بھی دیکھ لینا چاہیے۔ گو کہ ہمارے چہرے ہم سے ہمیشہ ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم نے ابھی تک خود فریبی سے اپنے آپ کو الگ نہیں کیا۔ خود فریبی میں لطف یہ ہے کہ وہ نظر آتا ہے جو نہیں ہوتا اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا۔ صرف کتاب وہ آئینہ ہے جو وہ دکھا دیتی ہے کہ جو تھا جو ہے اور جو ہوگا اور جو ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: