کرپٹو کرنسی: حقیقت اور فسانہ — لالہ صحرائی کی مکمل راہنما تحریر

0
  • 282
    Shares

کریپٹو کوائنز کے متعلق بلند بانگ دعووں اور سنہری مواقع کی تفاصیل سن کر اکثریت اس نظام سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے مگر ایک طرف اس کی حلت پر کوئی واضح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے کنفیوژ ہے تو دوسری طرف ان باتوں کو من و عن سچ سمجھنے پر بھی مجبور ہے جو کریپٹو کے پروموٹرز بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

مارکیٹنگ کا یہ اصول ہے کہ جب تک سبز باغ نہ دکھائے جائیں، راتوں رات کروڑ پتی ہونے والوں کی مثالیں نہ دی جائیں تو کوئی بھی انویسٹمنٹ کیلئے موٹیویٹ نہیں ہوتا، اسلئے کریپٹو کے حامی تھوڑی نہیں بلکہ کافی زیادہ مبالغہ آرائی بھی کرتے ہیں جس کی بنیاد حقیقت پسندی کی بجائے محض ظن و تخمین پر ہے۔

اسی چیز کو دیکھتے ہوئے سیکیوریٹی ایکسچینج کمیشن آف امریکہ کے چئیرمین جے۔ کلیٹون نے اپنی ایک لیگل فائنانس ریگولیشن اسٹیٹمنٹ میں درج ذیل بیان دیا ہے جو ان کی سرکاری ویبسائیٹ پر موجود ہے:

“اگر کریپٹو کرنسی پروموٹر کی جانب سے آپ کو منافع کی گارینٹی دی جاتی ہے، آپ کو اس کا بتایا ہوا موقع نہایت سنہرا اور سو فیصد سچا دکھائی دیتا ہے اور آپ کو فوراً فوراً اس نظام میں انویسٹمنٹ کا فیصلہ کرنے پر اکسایا جاتا ہے تو انتہائی محتاط ہو جائیں ایسی صورت میں آپ کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے جو آپ کی انویسٹمنٹ کیلئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے”۔

برطانیہ اور چند دیگر ممالک نے عوامی سرمائے کی حفاظت کیلئے کریپٹو ٹریڈ سینٹرز اور انویسٹرز کو رجسٹریشن کا سختی سے پابند کیا ہوا ہے تاکہ کوئی بڑا بزنس سکیم جنم نہ لے سکے کیونکہ وہ حکومتیں اپنی عوام کے جان و مال کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔

جن دوچار ممالک نے اس ٹریڈ کو رجسٹریشن کا پابند کیا ہے اس سے کریپٹو کو بطور کرنسی قانونی حیثیت نہیں ملتی بلکہ بطور پرائیویٹ بزنس یہ اقدام ان ممالک نے اپنے زرمبادلہ کی مانیٹرنگ اور ٹیکسز وصولنے کرنے کیلئے کیا ہے۔

بطور بزنس کریپٹو کی بلاشبہ ایک افادیت ہے جسے سمجھنا مشکل نہیں، اسے یکسر نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہئے اور اس پر زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی بھی ضرورت نہیں۔

امید ہے یہ آرٹیکل آپ کو حقیقی صورتحال جاننے، بے جا خوش فہمی سے دور رہ کر حقیقت پسندی کیساتھ انویسٹمنٹ کرنے اور علماء اکرام کو اس کی حلت و حرمت طے کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

اس مضمون کو عام فہم انداز میں سمجھانے کی حتی الوسع کوشش کی گئی ہے، پھر بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت رہ گیا ہو تو اس پوسٹ پر ماہرین معاشیات، ماہرین کریپٹو، ماہرین فقہ اور عوام الناس کیساتھ ایک سیرحاصل ڈیبیٹ کا آپشن کھلا رہے گا۔

سرکاری کرنسیوں کی حیثیت:
موجودہ دور میں کرنسی دراصل کسی ملک کی طرف سے اس کی اکانومی کے بیہاف پر ایک قانونی اور ضمانتی دستاویز ہوتی ہے جو لیگل ٹیندر کے طور پر کہیں پیش کی جا سکے۔

لیگل ٹینڈر سے مراد کسی گورنمنٹ کا وہ ویلیوایبل انسٹرومنٹ ہے جو تجارتی بل، قرضہ یا کوئی بھی لائبلیٹی ادا کرنے یا نقد خریداری کیلئے بطور جنسِ مبادلہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرکاری طور پہ قابل قبول ہو۔

لیگل ٹینڈرز کا بیکنگ سسٹم:
کرنسی کا پہلا دور بارٹر سسٹم کا تھا جہاں ایک جنس کے بدلے مقررہ پیمانے سے دوسری جنس خرید لی جاتی تھی، بعد ازاں اس میں سہولت پیدا کرنے کیلئے مخصوص اوزان کے سونے اور چاندی کے سکے بنائے گئے، یہ چونکہ بذات خود بھی ایک جنس تھے لہذا انہیں قبول کرنے میں کوئی تردد نہیں تھا۔

پھر بڑھتی ہوئی مقامی آبادی اور بین الاقوامی ٹریڈ میں آسانی پیدا کرنے کیلئے گولڈ بیکڈ کرنسی نوٹ لایا گیا، اس وقت جس ملک کے پاس جتنا سونا قومی خزانے میں موجود ہوتا وہ اتنے نوٹ چھاپ لیتا تھا لیکن بیسویں صدی کے ابتدائی جنگی انتشار میں بعض یورپی حکومتیں جعلسازی کرکے مقررہ مقدار میں نوٹ چھاپنے کی بجائے تجاوز کرنے لگیں۔

بیرِٹن ووڈ ایگریمنٹ:
اقوام عالم کی اس جعلسازی کو روکنے کیلئے دوسری جنگ عظیم کے بعد بیرِٹن وُوڈ کانفرنس کے تحت ورلڈ بینک قائم ہوا جو ستر کی دہائی تک گولڈ بیک کرنسی سسٹم کی مانیٹرنگ کرتا رہا، رچرڈ نکسن جب امریکہ کے صدر بنے تو انہوں نے ڈکلیئر کیا کہ اب ہمارے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ اس نظام کو مزید چلا سکیں کیونکہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر بلک کوانٹیٹی میں نئے نوٹ چھاپنا بھی ایک مجبوری ہے اور بدلے کیلئے اتنا سونا رکھنا بھی ناممکن ہے۔

موجودہ فیئٹ کرنسی‌ سسٹم:
رچرڈ نکسن کی ایماء پر اقوام عالم کے درمیان ایک نیا کنسینسز پیدا کیا گیا اور بیریٹن ووڈ ایگریمنٹ ختم کرکے ہر کرنسی کی نسبت گولڈ کی بجائے اکنامکس کے چند اصولوں کی بنیاد پر ان ممالک کی اکانومی اور زرمبادلہ کے ذخائر کیساتھ جوڑ دی گئی اور تناسب کیلئے انہیں لیڈنگ معیشت کیساتھ پیگ peg کر دیا گیا تاکہ عالمی سطح پر زرمبادلہ کا کنورژن ریٹ باآسانی طے کیا جا سکے۔

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب نوٹ چھاپنے کیلئے کوئی پابندی نہیں، آپ ورلڈبینک کو بتا کر جتنے چاہیں نوٹ چھاپ سکتے ہیں لیکن اس نوٹ کی قدر لیڈنگ اکانومی اور آپ کی اکانومی کی باہمی نسبت کے آئینے میں طے ہو گی، ڈالر چونکہ دنیا کی بڑی اور مضبوط اکانومی کا نمائندہ تھا اسلئے بیشتر کرنسیز ڈالر کیساتھ ہی پیگڈ ہیں اور ان کا ایکسچینج ریٹ ڈالر کے پروپورشنیٹ سے ہی طے کیا جاتا ہے۔

فیئٹ کرنسی کا بیک۔ اپ:
فیئٹ کرنسی آج بھی ایک جنس مبادلہ ہے جو اقوام عالم میں اپنی اپنی حکومتوں کے بیہاف پہ قابل قبول تو ہے مگر اس کے بدلے میں کوئی حکومت آپ کو سونا نہیں دے گی نہ کسی حکومت کے پاس اب اتنا سونا موجود ہے جتنی مالیت کی اس کی کل کرنسی مارکیٹ میں موجود ہے۔

البتہ ان حکومتوں کی گارینٹی کی بنیاد پر آپ کو اس کرنسی کے بدلے میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کسی بھی کمیونٹی کی طرف سے ہر وہ جنس ضرور مل جائے گی جس کی آپ کو طلب ہو۔

پاکستانی کرنسی پر “حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا” یا ڈالر پر لکھا ہوا will pay to the bearer on demand” کا مطلب بعض لوگ یہ لیتے ہیں کہ اس نوٹ کے بدلے میں حکومت آپ کو عندالطلب سونا دے گی یہ بالکل غلط ہے، اس کا مطلب صرف وہی ہے جو اوپر کے پیرا میں بیان کیا گیا ہے۔

فیئٹ کرنسی کا بیک۔ اپ صرف وہ اعتماد ہے جو اقوام عالم کو ایک دوسرے کی کرنسی پر ان کی حکومتوں کی گارینٹی سے حاصل ہے اور ان کی مالیت صرف وہ ہے جو ان کی اکانومی کے آئینے میں طے ہوگی۔

کتابی تفصیل میں نہیں جاتے بس یوں سمجھ لیجئے کہ اگر امریکہ کی اکانومی اس سال بڑھ جائے تو اس کے مقابلے میں باقی کرنسیز اپنی اپنی نسبت کے لحاظ سے خودبخود ڈیویلیو ہو جائیں گی لیکن اگر امریکہ کی اکانومی سٹیبل رہے اور اس کے مقابلے میں دیگر اکانومیز ترقی کر جائیں تو اقوام عالم کے سامنے ڈالر کی قدر گر جائے گی۔

اسی طرح اگر ہماری اکانومی بڑھ جائے اور ہم نئے نوٹ نہ چھاپیں تو ہمارے روپے کی قیمت خودبخود بڑھ جائے گی، لیکن اگر ہم اس گروتھ کے بدلے میں اتنے نئے نوٹ چھاپ لیں تو پھر روپے کی قیمت اپنی جگہ پر برقرار رہے گی اور اگر نسبتاً زیادہ نوٹ چھاپ لیں تو انفلیشن کی وجہ سے اکنامک گروتھ ہونے کے باوجود روپے کی قدر کم ہو جائے گی، اسی طرح اگر ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر گر جائیں تو بھی ہماری کرنسی ڈیویلیو ہو جائے گی، کیونکہ ہم باہر سے کچھ کما کے نہیں لائے جو ہماری کل مالیت میں جمع ہوتا الٹا جو کچھ پلے میں تھا وہ بھی خرچ کر دیا۔

دوسرا فیکٹر ڈیمانڈ اینڈ سپلائیز کا ہے، مثلاً اس سال امریکہ اور دیگر ممالک کی اکانومیز اپنی اپنی سطح پر برقرار رہیں تو اصولاً ڈالر کی قیمت بھی برقرار رہنی چاہئے لیکن اگر ڈالر کی پبلک ڈیمانڈ میں اضافہ ہو جائے تو اکنامک سٹیل۔ میٹ ہونے کے باوجود ڈالر کی قیمت بڑھ جائے گی یعنی قانونی طور پر تو ڈالر بڑھنے کا مجاز نہیں لیکن خریداروں کے رش کی وجہ سے لوگ زیادہ قیمت دینے پر آمادہ ہیں اسلئے ریٹ بڑھ جائے گا اور یہ اضافہ براہ راست اس کی معیشت کو مزید مضبوط کر جائے گا۔

ڈیمانڈ اینڈ سپلائیز کا اصول کسی کرنسی کی خرید و فروخت پر کیوں اثر انداز ہوتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ہر مالیاتی اینٹائیٹی کی ایک ریٹنگ ہوتی ہے، اس ریٹنگ سے پتا چلتا ہے کہ اس اینٹائیٹی کی لائف لائین کتنی ہے یا اس کا سروائیول سپین کتنا ہے۔

مثال کے طور پر کوئی کمپنی مجھ سے انویسٹمنٹ مانگتی ہے تو اس کی ساکھ کے بارے میں جاننے کیلئے مجھے لمبے چوڑے سوالات پوچھنے کی ضرورت نہیں، صرف یہ پوچھ لوں کہ آپ کی لونگ ٹرم کریڈٹ ریٹنگ کیا ہے اور ریٹنگ ایجنسی کون ہے تو سب کچھ واضع ہو جاتا ہے۔

اگر کسی کمپنی کی ریٹنگ AAA+ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے ایسٹس، پرافٹس، آپریشنز اور گروتھ کے لحاظ سے اتنی سٹرانگ ہے کہ ہر سال مسلسل نقصان کرنے لگ جائے تو بھی ڈوبتے ڈوبتے اسے تیس سال لگیں گے لہذا ان کے ساتھ انویسٹمنٹ کرنا اگلے تیس سال تک محفوظ ہے۔

اسی طرح نیشن۔ وائز اکانومیز کی بھی ریٹنگ ہوتی ہے، یہ ریٹنگ چونکہ سہ ماہی بنیاد پر مسلسل جاری رہتی ہیں اور بیک وقت، موڈی۔ ز، سٹینڈرڈ اینڈ پؤور اور فچ نامی، تین عالمی ایجینسیاں یہ ایسیسمنٹ کرتی ہیں لہذا ہر ریپبلکن اینٹائیٹی کا لائف اسپین بھی ہمیشہ سامنے موجود رہتا ہے، کینیڈا کی ریٹنگ AAA+ یا پرائم ہے، امریکہ کی AA+ یا ہائر گریڈ، برطانیہ کی AA یا ہائر گریڈ اور پاکستان کی B یا رسکی گریڈ میں ہے۔

ماضی میں کبھی روس کی ریٹنگ بھی AA+ ہوگی اسی لئے وہ ابھی تک نہیں ڈوبا، کچھ نقصان ہوا اور کسی جگہ پر آکے رک گیا، ابھی بھی وہ ہم سے بہت اچھا ہے، اس کی ریٹنگ BB- ہے یعنی اپنے گھر میں تو ٹھیک ہے مگر نان۔ انویسٹمٹ گریڈ میں ہے۔

کینیڈا کی اکانومی سب سے بہتر ہے لیکن وہ لیڈنگ پوزیشن میں نہیں جبکہ امریکہ اپنی معیشت، افواج، سسٹم، پالیسیز اور بہترین مینجمنٹ کی وجہ سے اپنی کرنسی کا مضبوط بھروسہ ہے، ڈالر کا سحر تب تک نہیں ٹوٹ سکتا جب تک اسکے پیچھے موجود حکومت یا معیشت میں سے کوئی ایک ڈانواں ڈول نہیں ہوتی۔

سینٹرالائزڈ منی ٹریل سسٹم:
اس سلسلے کی آخری بات یہ کہ ہر ملک کی کرنسی ڈاکومنٹڈ ہوتی ہیں، ایک طرف سینٹرل بینک اپنی کرنسی کی پروڈکشن اور سپلائیز کو اپنی اکانومی کے کنٹراسٹ میں مینیج اور کنٹرول کرتا ہے تو دوسری طرف ورلڈ بینک ہر ملک کے اکنامک انڈیکیٹرز کے آئینے میں اسے مانیٹر یا ویریفائی کرتا ہے اسلئے اس نظام کو سینٹرالائیزڈ کرنسیز کہا جاتا ہے۔

فیئٹ کرنسی کا سروائیول:
کُل ملا کر بات یوں ہے کہ اس وقت دنیا میں کسی کرنسی کے پاس بھی سونا بطور جنس مبادلہ بیشک موجود نہیں، یہ بھی سچ ہے کہ ان کی ضمانت صرف ان کا اعتبار ہے لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ یہ اعتبار ان ممالک کی جی۔ ڈی۔ پی، اکنامک انڈیکیٹرز، سینٹرالائزڈ کرنسی سسٹم اور فارن کریڈٹ ریٹنگ فراہم کرتی ہے، یہ اعتبار محض زبانی کلامی کا کھیل نہیں، ڈالر کے پیچھے چونکہ ایک مضبوط ترین معیشت ہے اسلئے لوگ ڈالر پر سب سے زیادہ اعتبار اور انحصار کرتے ہیں، دنیا میں کسی بھی کرنسی کا سروائیول انہی فیکٹر کی بنیاد پر ہے کہ اس ملک کی اکانومی کتنی مضبوط ہے یا کریڈٹ ریٹنگ کی بنیاد پر اس ملک کا لائف سپین کتنا ہے۔

مستقبل کی ڈیجیٹل کرنسی:
اس سفر میں ہم نے ایک چیز دیکھی کہ عصری ضروریات کے مطابق کرنسی کی شکلیں ہمیشہ بدلتی رہی ہیں، آج پھر ہم ایک ٹرانزیشن کے دور سے گزر رہے ہیں جہاں کرنسی نوٹ کی جگہ گراس پیمنٹس کیلئے اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ آنلائن ٹرانسفر اور ریٹیل پیمنٹس کیلئے کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ کا استعمال بتدریج بڑھتا چلا جا رہا ہے، ان دونوں میڈیم کیساتھ مستقبل کا زمانہ ڈیجیٹل کرنسی کا ہوگا جو اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ ٹرانسفر ہوتی رہے گی، تب موجودہ نوٹ کی شکل دیکھنا کسی کو نصیب نہیں ہوگی لیکن اس آنے والے مجوزہ ڈیجیٹل نوٹ کی اپنی شکل کیسی ہوگی یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔

اوپر دی گئی تمام تفصیلات کریپٹو کرنسی کی حقیقی پوزیشن سمجھنے کیلئے اب آپ کے کام آئیں گی۔

کریپٹو کرنسی کی تخلیق:
اس کرنسی کی بیک پر کوئی اکانومی یا اکنامک انڈیکٹر نہیں جس کے تحت کرنسی چھاپنے کا کوئی ضابطہ بنایا جا سکتا اسلئے انہوں نے ایک ایسا میتھمیٹیکل نظام وضع کیا ہے جو فارمولے کے ذریعے انسکرپشن، بلاک چین سسٹم اور کریپٹو گرافی کی مدد سے سکے جنریٹ کرتا ہے۔

جیسے جیسے سسٹم جنریٹڈ الوگرتھمک فارمولے آپ حل کرتے جائیں گے تو انسکرپشن یعنی کندہ کاری کے ذریعے سسٹم اپنے ڈیٹا بیس میں ایک سکے کی شکل بناتا جائے گا، جب آپ ایک مخصوص تعداد میں فارمولے حل کر دیں گے تو سکہ مکمل ہو جائے گا۔

پھر بلاک چین سسٹم اس سکے پر ایک سیریل نمبر لگائے گا اور اسے مرکزی لیجر اور اس کی کاؤنٹر اینٹری اس کے مالک کے انفرادی اکاؤنٹ میں پوسٹ کر دے گا، یوں پروڈکشن اور سپلائی کا ایک بلاک بن جائے گا، پھر دوسرا اور تیسرا، پھر جو لوگ آپس میں لین دین کریں گے ان کے بھی بلاکس بنتے چلے جائیں گے کہ کونسا سکہ کب پیدا ہوا، کس کو ملا، اس نے آگے کس کو دیا وغیرہ، بلاک چین سسٹم سے اسی طرح تمام ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل ترتیب پاتی جائے گی، بنیادی طور پر یہ مرحلہ اکاؤنٹنگ کا جنرل لیجر لکھنے جیسا ہے۔

پروڈکشن کرنیوالوں کے سامنے صرف الوگرتھمک فارمولے ہوتے ہیں باقی کا سارا عمل بیک گراؤنڈ میں آٹومیٹک ہو رہا ہوتا ہے تاکہ کوئی ڈیٹابیس کی معلومات نہ دیکھ سکے کہ کونسے سکے کا سیریل نمبر کیا ہے، وہ کس کی ملکیت ہے اور کہاں رکھا گیا ہے اسلئے اس نظام کو خفیہ کاری یا کریپٹو گرافی کہتے ہیں، اسی مناسبت سے یہ کریپٹو کرنسی کہلاتی ہے۔

ڈی۔ سینٹرالائزڈ منی ٹریل:
اس کا کوئی مرکزی دفتر اور عملہ نہ ہونے کی وجہ سے اس سسٹم کی مینجمنٹ دنیا بھر کے عام لوگوں کے حوالے کر دی گئی ہے یعنی اس کرنسی کا اسٹیٹ بینک کی طرز کا کوئی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر موجود نہیں جہاں کا عملہ اپنی کرنسی کی پروڈکشن اور سپلائیز کا حساب یکجا رکھ سکے بجز اس کے اپنے میتھمیٹکل سسٹم کے جو کسی پر عیاں نہیں۔

پھر اس کا کوئی مرکزی ڈیٹا سرور نہیں جہاں اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہو جسے کوئی مانیٹرنگ اتھارٹی آڈٹ کر سکے بلکہ یہ اپنی حفاظت کیلئے اپنا ڈیٹا ان تمام کمپیوٹرز پر پھیلا کے رکھتا ہے جو مائننگ کیلئے اس سسٹم کیساتھ منسلک ہوتے ہیں، اگر سو میں سے پچاس کمپیوٹرز لاگ آف ہونے لگتے ہیں تو یہ ان کا ڈیٹا اٹھا کے بقیہ پچاس پر شفٹ کر دیتا ہے، پھر اگلی صبح پچاس کمپیوٹر واپس لاگ ان ہو جائیں تو یہ اپنا ڈیٹا پچاس سے اٹھا کے واپس ان سو پر پھیلا لیتا ہے، ان وجوہات کی بنا پر اسے ڈی۔ سینٹرالائزڈ کرنسی کہا جاتا ہے۔

کریپٹو کا مینجمنٹ سسٹم:
اس سکے کی پروڈکشن اور سپلائیز کو مائیننگ اور اس کے ہینڈلرز کو مائنرز کہتے ہیں۔

جب ایک بندہ دوسرے کو پیمنٹ کرتا ہے تو یہ اینٹری ڈائریکٹ ٹرانسفر ہونے کی بجائے ایک ورچؤل لاونج میں چلی جاتی ہے جسے مائننگ زون کہتے ہیں، یہاں لانے سے پہلے سسٹم اس ٹرانزیکشن کو میتھمیٹیکل فارمولے سے چھپا دیتا ہے تاکہ یہ پتا نہ چل سکے کہ کس نے کس کو کتنے پیسے کہاں سے کہاں بھیجے ہیں تاکہ کوئی بندہ اس اینٹری کو ریورس، ڈیلیٹ، کوائنز کی چوری یا ڈپلیکیٹنگ نہ کرپائے یا ہیومن ایرر سے رانگ پوسٹنگ نہ ہو جائے، سسٹم اس اینٹری کیساتھ ہی اس کی پوسٹنگ کیلئے چند فارمولوں کا ایک سیٹ جنریٹ کر دیتا ہے جن میں سے کوئی ایک فارمولا ایسا ہوتا ہے جو اس اینٹری کو اس کے مطلوبہ خانوں میں بٹھا دے گا۔

مائننگ زون میں موجود لاکھوں مائنرز اس اینٹری کو اس کے ساتھ دستیاب الوگرتھمز کی مدد سے پوسٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہاں کامیابی کیلئے ان کو ایک خاص اسپیڈ درکار ہوتی ہے اسلئے عام کمپیوٹر یہاں کام نہیں دیتا بلکہ ایک ہائی سپیڈ کمپیوٹر کے ساتھ چھ یا آٹھ گیمنگ کارڈز لگا کے اسے ہیوی الیکٹرک سپلائی دینی پڑتی ہے تب جا کے وہ سپیڈ بنتی ہے جس میں مائنرز جلدی سے اس مطلوبہ فارمولے کو تلاش کر پاتے ہیں جس سے اینٹری پاس ہو جائے گی۔

اس ڈی-کوڈنگ سپیڈ کو ہیش۔ فلئیر یا ہیش۔ ریٹ کہتے ہیں، جیسے جیسے ڈومین پہ کام زیادہ ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے یہ ہیش۔ ریٹ بڑھتا چلا جاتا ہے یعنی الوگرتھم کمپلیکسڈ تر ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے ڈیفیکلٹی لیول بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

اس بات کی سمجھ نہیں آئی تو یوں سمجھ لیجئے کہ اگر آپ نے سو رسیدیں لکھنی ہوں تو سیریل نمبر ایک سے سو تک آئے گا جو لکھنا آسان ہے لیکن جب آپ پچاس کروڑویں رسید کاٹیں گے تو سو کی نسبت زیادہ ڈیجٹس لکھنے پڑیں گے اسی طرح ہر اگلی ٹرانزیکشن کا الوگرتھم ریٹ چونکہ زیادہ ہو جاتا ہے لہذا ہیش۔ ریٹ یا رسید نمبر لگانا اور اینٹری کو پاس کرنا مشکل تر ہو جاتا ہے۔

بہرحال جب آپ کوئی اینٹری پاس کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ساتھ ہی انسکرپشن اور بلاک چین کے اصول سے ایک نئے کوائن کا کچھ حصہ بھی جنریٹ ہو جاتا ہے جو صلے کے طور پر آپ کو دے دیا جاتا ہے، جیسے جیسے آپ کی پوسٹ کردہ اینٹریز کی تعداد بڑھتی جاتی ہے یہ کوائن بھی بڑھتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک مخصوص تعداد کی پوسٹنگز مکمل ہونے پر وہ کوائن بھی مکمل ہو جاتا ہے۔

بعض لوگ اکیلے اکیلے مائننگ کرنے کی بجائے ایک ٹیم بنا لیتے ہیں جسے مائننگ پُول کہتے ہیں، یہ سب مل کر جب ایک ہی اینٹری پر کام کرتے ہیں تو جلدی کامیاب ہو جاتے ہیں، مثال کے طور پر ایک اینٹری کیساتھ دس فارمولے ہیں تو پہلا بندہ ایک کو دوسرا دو کو اسی طرح دسواں بندہ دسویں فارمولے کو چارج کرے گا تو آن واحد میں اینٹری پاس ہو جائے گی، اس صورت میں ملنے والا معاوضہ یہ باہمی رضامندی سے آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔

آمدنی کے ذرائع اور رسک فیکٹرز:
بیروزگار حضرات مائننگ کیلئے مخصوص کمپیوٹرز بنوا کے مائننگ سے کریپٹو کرنسی کما سکتے ہیں، اس کام کیلئے نارمل سسٹم چھ عدد سستے گیمنگ کارڈ کیساتھ دو لاکھ تک کا بن جاتا ہے جو بجلی کا خرچہ نکال کر پچیس تیس ہزار تک آمدنی دے سکتا ہے، طاقتور اور مہنگے کارڈز والا سسٹم پانچ لاکھ تک کا بنتا ہے جس سے آپ ماہانہ ساٹھ ہزار تک کما سکتے ہیں، اس سے بھی طاقتور سسٹم آٹھ کارڈ کیساتھ آٹھ لاکھ تک کا بنتا ہے جس سے آپ ستر ہزار تک ماہانہ کما سکتے ہیں، اس کام میں دس بارہ گھنٹے کی محنت کے علاوہ آپ کا دس سے بارہ ہزار تک بجلی کا خرچہ بھی آئے گا۔

آمدنی کا بنیادی ذریعہ تو یہی ہے کہ آپ مائننگ کرکے سکے کمائیں اور پھر اپنی گزر بسر کیلئے انہیں بیچ کر فیئٹ منی میں کنورٹ کرلیں، اگر کمائی آپ کی ضرورت سے زیادہ ہو تو اضافی کمائی کو قیمت بڑھنے تک پڑا رہنے دیں جو کچھ عرصے بعد زیادہ نفعے کا باعث بنے گی۔

دوسرا ذریعہ ٹریڈنگ کا ہے، جن لوگوں کے پاس بزنس کیلئے معقول سرمایہ موجود ہے، وہ سکے خرید کر ان کی قیمت بڑھنے کیلئے رکھ چھوڑیں، جب قیمت بڑھ جائے تو بیچ دیں۔

سسٹم پروائیڈرز اور کریپٹو کے ڈیلر یا پروموٹرز ان دونوں کاموں کی ٹریننگ آپ کو دے دیتے ہیں، جو لوگ پروگرامنگ، سوفٹرئیر اور میتھمیٹکس میں زیادہ ہوشیار ہیں وہ اس کام کو بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔

اس میں پہلا رسک ان مائنرز کیلئے ہے جو میتھمیٹکس میں کمزور ہوں اور مائننگ کے نظام کو سمجھ نہ پائیں، دوسرا رسک ان ٹریڈرز کیلئے ہے جو ٹریڈنگ کی باریکیوں کو سمجھنے سے عاجز ہوں ایسے دونوں افراد اس کام میں انویسٹمنٹ کرکے پریشان ہو سکتے ہیں۔

تیسرا رسک ہیکرز کی طرف سے ہے جو ان دونوں کیلئے یکساں ہے، نارملی کوئی ہیکر کسی ایک یا بہت سارے سسٹمز کو اپنے قبضے میں لیکر مرکزی ڈیٹابیس کو توڑ کرکے سکے چرانا چاہے تو یہ ممکن نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی مائنر یا ٹریڈر کی اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے ہیکر اس تک پہنچ جائے اور اس کے پرسنل اکاؤنٹ کو ہیک کرکے اس کے کوائنز اپنے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر لے۔

کریپٹو کے دعوے اور حقیقت:
ان کا پہلا دعویٰ یہ ہے کہ کریپٹو سسٹم بنیادی طور پر منی ٹرانسفر کیلئے بنایا گیا ہے، اسپر یہ سوال بنتا ہے کہ، اگر اس سے مراد فیئٹ کرنسی ہے تو کوئی بھی فیئٹ کرنسی اس نظام سے کہیں بھیجی نہیں جا سکتی، اس کا کلئیر کٹ جواب یہ ہے کہ بھیجنے والا یہاں سے فیئٹ کرنسی کے عوض کریپٹو خریدے اور جسے بھیجنا چاہتا ہے اسے بھیج دے، یہ رقم صرف چند منٹ میں بغیر کسی کاغذی کاروائی، ٹیکسز اور بینک چارجز کے دوسری طرف پہنچ جائے گی، وہاں وصول کرنے والا اسے بیچ کر واپس فیئٹ کرنسی میں کنورٹ کرلے۔

اس منی ٹرانسفر کی ضرورت کس کو ہے یہ گروتھ کے سیکشن میں ڈسکس ہوگی، یہی اس کھیل کا اہم پہلو ہے۔

ان کا دوسرا دعویٰ یہ کہ جب فیئٹ کرنسی کے پاس اپنے بدلے میں دینے کیلئے کوئی tangible asset یعنی سونا وغیرہ کچھ نہیں پھر بھی وہ محض اعتبار والے فیکٹر پر سروائیو کر سکتی ہے تو کریپٹو کیوں نہیں چل سکتی، اس کا جواب یہ ہے کہ نوٹ اپنے بدلے میں سونا بیشک نہیں دے گا مگر ہر نوٹ اپنے بدلے میں جنس دلوانے کی ضمانت اپنے اوپر لکھوا کے پھر رہا ہے جبکہ کریپٹو کا تو کوئی بھی گارینٹر نہیں لہذا جو لوگ یہ بات کہتے ہیں وہ خود بھی حقیقت سے لاعلم ہیں یا پھر بیوقوف بناتے ہیں۔

تیسرا دعویٰ یہ کہ بہت سے ممالک فیئٹ ختم کرکے کریپٹو کرنسی بنانے کی سعی کر رہے ہیں، یہ بالکل جھوٹ ہے، اس معاملے میں یہ اوپر بیان کی گئی ڈیجیٹل کرنسی اور کریپٹو کرنسی کو باہم خلط ملط کرکے بیان کرتے ہیں۔

موجودہ کریپٹو کرنسی کو کوئی ملک اپنانے والا نہیں البتہ اس ماڈل کو کاپی کرکے کوئی ملک اپنی نیشنل کرنسی کو ڈیجیٹلائز یا کریپٹائز کر سکتا ہے، جاپان اور وینزویلا نے اس اقدام کا عندیہ دیا ہے، لیکن اس نیشنل کریپٹو کرنسی کو حسب دستور اقوام عالم میں لیگل ٹینڈر کے طور پہ جاری رکھنے کیلئے انہی پیرامیٹرز کے اندر رکھنا ہوگا جو فیئٹ کرنسی پر اپلائی ہوتے ہیں۔

ان کا چوتھا دعویٰ یہ کہ کریپٹو مستقبل میں فیئٹ کرنسی کو وائیپ آؤٹ کرکے دنیا پر حکمرانی کرے گی، یہ اسی وقت ممکن ہے جب کریپٹو کوائنز لیگل ٹینڈر بن جائیں جو نیشنلائز کئے بغیر ممکن نہیں، ان موجودہ کوائنز کو نیشنلائز کرنے کی بجائے ہر قوم اپنی کرنسی کو کریپٹائز کیوں نہ کر لے کیونکہ لیگل ٹینڈر صرف نیشنل کرنسیز ہی بن سکتی ہیں خواہ وہ فیئٹ منی کی شکل میں ہوں، ڈیجیٹل کرنسیز میں ڈھل جائیں یا ان کی بھی کریپٹو کرنسی بنا لی جائے، یہ الگ بات ہے کہ نیشنل کریپٹوگرافی میں بھی ایک بڑی خامی حائل ہو جائے گی۔

بنیادی طور پہ اس نظام میں تین بڑی خامیاں ہیں، پہلی یہ کہ اس کا گارینٹر کوئی نہیں، دوسری یہ کہ کسی نہ کسی حد پہ جا کے اس کی جنریشن رک جاتی ہے جو نتیجۃً اس کی ویلیوایبل گروتھ کے اوپر یہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ جب کسی سکے کی مائننگ بند ہونے سے مائنرز کا انٹرسٹ ختم ہو جائے گا تب فنڈ ٹرانسفر کون انجام دے گا اور فنڈ ٹرانسفر کے بغیر ٹریڈنگ کیسے ممکن ہو گی، ان خامیوں کی وجہ سے سردست یہ ممکن نہیں کہ کریپٹو کرنسی فیئٹ کرنسی کی جگہ لے سکے کجا یہ کہ دنیا پر حکومت کرے۔

ان کا پانچواں اور آخری دعویٰ یہ کہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی بنیاد پر کریپٹو کرنسی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے، اس بات میں البتہ صداقت ہے اور کریپٹو کی یہی ایک بات قابل اعتناء ہے، اس کی وجوہات بھی سمجھ میں آنے والی ہیں۔

جیسے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی بنیاد پر ڈالر گروتھ کر جاتا ہے ویسے ایک محدود یا لامحدود طبقے میں باہمی اعتماد کی بنا پر کوئی بھی چیز لین دین کا رواج پاسکتی ہے کیونکہ یہ صرف ان لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ کس چیز پر مطمئن ہیں، اگر کسی سنار کا دل چاہے تو وہ چھ بکریوں کے عوض ایک سونے کا سیٹ دے سکتا ہے پھر یہ ٹریڈنگ دیہاتیوں اور سناروں کے درمیان روزمرہ کا معمول بھی بن سکتی ہے اسی حساب سے کریپٹو کا رواج پانا بھی کچھ عجیب نہیں۔

پھر وہ سنار چھ بکریوں کو سال بھر اپنے پاس رکھے تو وہ بارہ ہو جائیں گی، اور جس دیہاتی نے بدلے میں سونے کا سیٹ لیا ہے وہ بھی سال بعد اپنی مالیت بڑھا چکا ہوگا، اسی طرح کریپٹو کی مالیت بھی بڑھ سکتی ہے یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں۔

کریپٹو کی گروتھ کے اصلی و نقلی اسباب:
کریپٹو کی مقبولیت میں صرف ریپڈ گروتھ ہی ایک ٹھوس وجہ ہے جو صارفین کے درمیان اس کا اعتبار قائم رکھ سکتی ہے اور یہ اعتبار ہی اس کی بڑھتی ہوئی مانگ کا موجب بن رہا ہے لیکن یہ وہی خفیہ گوشہ ہے جو پہلے دعوے کے جواب میں ہم نے مؤخر کر دیا تھا۔

اب اصلی اور اندر کی بات یہ ہے کہ منی ٹرانسفر کے اس نظام کی ضرورت صرف ان لوگوں کو تھی جو سینٹرل بینک کے ٹیکسز اور چارجز سے بچنے کیلئے ہنڈی سے رقوم بھیجتے تھے، دوسرے نمبر پر وہ لوگ جو اپنا کالا دھن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے تھے، ان میں اسلحہ ڈیلرز، ڈرگ مافیا، بھتہ مافیا، لوٹ مار، تاوان خور، رشوت خور، کرپٹ سیاسی عناصر اور دیگر وائٹ کالر کریمنلز شامل ہیں۔

کہنے کو تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ نظام فائل ٹرانسفر کیلئے وضع کیا گیا تھا مگر بعد میں اسے منی ٹرانسفر کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا، ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی تعلق بنتا ہی نہیں، یہ اندرخانے منی ٹرانسفر سسٹم ہی تھا جو اوپر بتائے گئے اسٹیک ہولڈرز کیلئے بنایا گیا اور انہی کی وجہ سے ریپڈ گروتھ سے ہمکنار ہوا۔

اس کے بعد جو لوگ مائننگ اور ٹریڈنگ سے پیسہ کمانے کیلئے اس نظام میں پے درپے وارد ہوئے اور آجکل عوامی بھیڑچال سے متاثر ہو کر دھڑا دھڑ جو لوگ آرہے ہیں وہ بھی اس کی ریپڈ گروتھ کا باعث ہیں، یہ سلسلہ اب رکنے والا بھی نہیں۔

کریپٹو کی قانونی حیثیت:
یہ کرنسی بلاشبہ ایک انتہا درجے کی تکنیکی اور معاشی سمجھ بوجھ کا حیران کن مظاہرہ ہے جسے صرف آئی-ٹی اور معیشت کو جاننے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود عام مؤجدین کی طرح اس کے فاؤنڈرز اس سسٹم کو رجسٹر کراکے اپنی پراڈکٹ یا سسٹم کا نفع اٹھانے یا صارفین سے رائلٹی لینے کی بجائے اسے ڈی-سینٹرالائز کرکے سائیڈ پہ کیوں ہو گئے…؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ایک ایسا نظام بناتے ہیں جو کسی سرکاری نظام کے مد مقابل آئے تو مواخذے کا امکان بھی ہوتا ہے، ان کا یہ نظام تو ہر معیشت کیلئے ایک چیلنج ہے، یہی وجہ ہے کہ مؤجدین نے اس نظام کو سنبھالنے کیلئے کوئی کمانڈ اینڈ کنٹرول یا سینٹرل رجسٹری بنانے اور اپنے آپ کو ہینڈلرز کے طور پر سامنے رکھنے کی بجائے سارا سسٹم ہی اپنے صارفین کے حوالے کر دیا ہے اور خود پیچھے ہٹ گئے، عین ممکن ہے کہ جب دنیا میں اس کی کوئی لیگل شکل بن جائے تو وہ اپنے نظام کا پھر سے کنٹرول سنبھال لیں۔

ان حالات میں اس کی قانونی حیثیت ہر ملک میں بس اتنی سی ہے کہ کسی ملک نے ابھی تک اسے مکمل طور پر غیرقانونی قرار نہیں دیا البتہ دنیا اس نظام پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، اور خاموش اسلئے ہے کہ فی الحال یہ کنورژن کیلئے ڈالر، یورو اور دیگر فیئٹ کرنسیوں کی سخت محتاج ہے جس سے فیئٹ کرنسیز کی اپنی ویلیو بھی ڈیمانڈ اینڈ سپلائیز کے تحت گروتھ کر رہی ہے، جس دن یہ توازن خراب ہوا اسی دن ڈالر اور یورو کے مالک ہی اس پر ہاتھ ڈال دیں گے۔

ہمارے ملک میں ابھی تک اسے سرکاری طور پر تو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا مگر اس کا تعلق ایک طرف ڈارک ورلڈ کیساتھ ہونے، زرمبادلہ کی ان۔ ڈاکومنٹڈ بیرون ملک ترسیل اور کرپشن کا پیسہ باآسانی باہر بھیجنے کا باعث ہونے کی وجہ سے ایف۔ آئی۔ اے نے اسے قابل گرفت قرار دے دیا ہے اور ان کا اکنامک کرائم ونگ اس کے خلاف آپریشنز بھی کر رہا ہے۔

وجہ تحریر اور حاصل کلام:
آئیندہ کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس کے بغیر پیسہ کمانا ممکن نہ ہوگا، ہمیں ابھی سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے اپنی قوم کو اس ٹیکنالوجی میں ڈال دینا چاہئے۔

کریپٹو کی جو افادیت ہے اور جو بے بنیاد باتیں ہیں وہ دونوں اوپر واضع کر دی گئی ہیں، اسے ایک بزنس کے طور پر کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک غیر سرکاری، غیر مستند اور فیک نظام ہے لیکن ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے تحت یہ اس وقت تک نہ صرف چلتا رہے گا بلکہ پھلتا پھولتا بھی رہے گا جب تک دنیا اسے رول بیک نہیں کر دیتی، اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔

اسے یکسر غیرقانونی ڈکلئیر کرنے کی بجائے میری سفارش یہ ہے کہ کالے دھن کا ٹرانسفر اور زرمبادلہ کے زیاں سے بچنے کیلئے اس کی ٹریڈنگ کو روک دینا چاہئے لیکن بیروزگاری کا فیکٹر ذہن میں رکھ کے بطور پرائیویٹ بزنس اس کی مائننگ کو لیگلائز کرنا چاہئے۔

مائننگ کیلئے 50 ڈالر تک کی خریداری کو جائز قرار دے دینا چاہئے تاکہ ہمارا بیروزگار طبقہ سیلف ایمپلائمنٹ سے پیسہ کما سکے جو زرمبادلہ کمانے کا باعث بھی ہوگا، یہ اقدام ملک اور قوم دونوں کیلئے مفید ہے۔

برطانیہ نے بھی عام آدمی کیلئے 50 ڈالر کی خریداری جائز قرار دے رکھی ہے، زیادہ خریداری کیلئے رجسٹریشن کی پابندی لازم ہے تاکہ زرمبادلہ کا حساب رہے، اور ٹیکسز بھی وصول ہو سکیں۔

اگر اس پر ایک واضح موقف پیدا ہوجائے تو ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے ڈیزائن کردہ سکے بیرونی دنیا کو سپلائی کرکے ملک کیلئے کروڑوں ڈالر اور عوام کیلئے وسیع ایمپلائمنٹ پیدا کر سکتے ہیں جو ہماری اکانومی کیلئے بھی بہتر ہے۔

کریپٹو کی حلت و حرمت کے پہلو:
اس حوالے سے بیشتر مصری، سعودی اور مقامی علماء ابھی تک اسے جائز یا ناجائز کہنے میں متردد ہیں کیونکہ ان کے سامنے اس نظام کی صحیح توجیح موجود نہیں، امید ہے اوپر دی گئی تفصیلات سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

دوسری طرف کچھ لوگوں نے اسے حرام اور کچھ نے حلال قرار دیا ہے مگر اپنی آراء کی حمایت میں کوئی ٹھوس دلیل پیش کرنے کی بجائے محض ظن و تخمین کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا ہے۔

میرے حساب سے اس سبجیکٹ کے دو پہلو ہیں لہذا اس پر ایک واضح فتویٰ ترتیب دینے کیلئے اس معاملے کو دو حصوں میں تقسیم کرلینا چاہئے، اول اس کی ٹریڈنگ ہے، یہ بالکل اسٹاک ایکسچینج کی ٹریڈنگ کے مماثل ہے جو پہلے سے موجود فتاویٰ کی روشنی میں بالاتفاق جائز ہے، اسی حساب سے کریپٹو کی ٹریڈنگ بھی جائز قرار دی جا سکتی ہے۔

لیکن یہ ٹریڈنگ ہمارے ملکی مفاد میں نہیں کیونکہ کرپشن کا مال اور بہت سا زرمبادلہ بہا کر یہ باہر لے جائے گی اور بہت سا پیسہ گردش میں رہنے کی بجائے سکوں میں قید ہو جائے گا جس کا ہماری اکانومی پر براہ راست برا اثر پڑے گا۔

دوسرا حصہ مائننگ یا سکہ جنریٹ کرنے سے متعلق ہے، اس کے بارے میں گزارش ہے کہ بیشک یہ نظام ہنڈی کیلئے بنایا گیا ہو اس میں ڈارک ورلڈ ملوث ہو مگر اس پر اجارہ اور کنٹرول اب کسی ایک کا نہیں رہا بلکہ ساری دنیا مل کر اسے آپریٹ کرتی ہے، ان کا مقصد کسی طرح کے جرائم میں شراکت داری نہیں بلکہ وہ محض پیسہ کمانے کی حد تک اس نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ نکتہ اس طرح سے بھی زائل ہو جاتا ہے کہ جیسے ماچس سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے اور تباہی بھی کی جا سکتی ہے لہذا ماچس کے غلط استعمال سے ماچس بنانے والا مجرم اور اس کا کاروبار حرام قرار نہیں پاتا اسی طرح جرائم پیشہ افراد کا اس نظام سے فائدہ اٹھانا اسے حرام قرار نہیں دے سکتا۔

ایک آخری نکتہ یہ ہے کہ اس نظام سے سکہ صرف اسوقت جنریٹ ہوتا ہے جب فنڈ ٹرانسفر کرنے والوں کی ٹرانزیکشنز لکھی جائیں، ان میں کالے دھن اور ہنڈی کے علاوہ عام ٹریڈرز کی ٹرانزیکشنز بھی شامل ہوتی ہیں لیکن یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ کل ٹرانزیکشنز میں عام افراد، ٹریڈرز اور ہنڈی کے ٹرانسفر کا تناسب کیا ہے۔

اگر جرائم پیشہ افراد کی ٹرانزیکشن لکھنے کے عوض پیسہ کمانا اعانتِ جرم کے باعث ناجائز ہے جیسے سود لکھنے والے منشی کی کمائی حرام ہے تو مائننگ بھی ناجائز قرار پائے گی لیکن اگر بینک کی نوکری کسی جواز سے جائز ہے تو اسے بھی بدرجہ اولیٰ جائز قرار دے دینا چاہئے کیونکہ اس کی حرمت بہرحال سود لکھنے والے کے جیسی نہیں ہے۔

کوئی ہوٹل والا کسی مجرم کو کھانا دینے سے اسلئے منع نہیں کر سکتا کہ وہ کھانا کھا کر طاقتور ہوگا، اس نظام سے کوئی سکے خرید کر ٹرانسفر کرتا ہے تو ہوٹل والے کی طرح آپریٹرز کو بھی کیا اعتراض ہو سکتا ہے، اور اس سے ان کی آمدنی کیسے حرام ہو سکتی ہے۔

کچھ علماء اس پر کرنسی کا حکم لگانا چاہتے ہیں کہ کرنسی کی خرید و فروخت جیسے ناجائز ہے ویسے یہ بھی ناجائز ہے، اوپر دی گئی کرنسی کی تفصیل سے یہ بات عیان ہے کہ یہ حکم کرنسی پر بھی نہیں لگتا کیونکہ وہ زرمبادلہ نہیں بلکہ جنس مبادلہ ہے، چلیں اگر لگتا بھی ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اس آرٹیکل سے یہ بھی واضح ہے کہ کریپٹو کو کرنسی مانا ہی نہیں جا سکتا، یہ صرف ایک سروس پروائڈر میڈیم ہے یا پرائیویٹ بزنس ہے۔

اس نظام سے روزگار، ٹیکنالوجی کا علم اور مالی قوت حاصل کرنے کی افادیت بہت زیادہ ہے، اگر بلاجواز قطعی مسلمانوں کو اس سے باز رکھیں گے تو دنیا اور مضبوط اور مسلمان کمزور ہوگا، لہذا کوشش کرنی چاہئے کہ علماءاکرام حلت کی مائل ہوں نہ کہ حرمت کی طرف۔

مزید ڈسکشن کیلئے یہ فورم کھلا رہے گا۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: