تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
فکنگ بِچ —– افسانہ
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

رَٹّا سسٹم اور روایتی تعلیم : حقیقت، مسائل اور حل (8)۔۔۔۔۔۔ وحید مراد

by وحید مراد 30/03/2025
written by وحید مراد 30/03/2025
240

(رَٹّے کی اہمیت، نقصانات، تخلیقی صلاحیتوں پر اثرات، کیا ہم صرف امتحان پاس کرنا سکھا رہے ہیں؟ امتحان پاس کرنے کے بعد سب کچھ بھول کیوں جاتا ہے؟

کیا رَٹّا بالکل ختم کردینا چاہیے؟ متوازن حکمت علمی) ۔۔۔۔ وحید مراد

تعلیم کے نظام میں رَٹّا سسٹم ہمیشہ سے ایک متنازعہ موضوع رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے سیکھنے کا ایک مؤثر طریقہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے تخلیقی صلاحیتوں اور عملی فہم کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ کیا یاداشت، واقعی تعلیم کے لیے ضروری چیز ہے یا یہ صرف طلبہ کو امتحانات پاس کرنے تک محدود ہے۔

اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بنیادی معلومات کو یاداشت کے ذریعے ہی ذہن میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اگر ریاضی کے پہاڑے، سائنسی اصطلاحات یا زبان کے بنیادی اصول زبانی یاد نہ کیے جائیں تو آگے کی تعلیم مشکل ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات یادداشت ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، جس پر تجزیہ اور تفہیم کی مہارتیں تعمیر کی جا سکتی ہیں۔

دینی تعلیم جیسے قرآنِ پاک، احادیث اور دعائیں یاد کرنے میں یاداشت کے بے حد اہمیت ہے۔ مقدس متون کو اصل الفاظ کے ساتھ محفوظ رکھنا بہت اہم ہے کیونکہ ان میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ لیکن جدید سائنسی اور غیر مذہبی تعلیم میں محض الفاظ یاد کر لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کا عملی استعمال اور گہری سمجھ بھی ضروری ہے۔

رَٹّے پر سب سے بڑی تنقید یہ ہوتی ہے کہ یہ طلبہ کو صرف معلومات دہرانے کی عادت ڈالتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ چیزوں کو سمجھیں اور نئے خیالات پر غور کریں وہ ہر چیز زبانی یاد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اس لئے اس طریقہ تعلیم سے تخلیقی صلاحیتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ طلبہ سوالات کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینے کے بجائے وہی رٹا رٹایا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو امتحان میں لکھنے کے لیے سیکھا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحقیق اور عملی سرگرمیوں پر مبنی تعلیم بچوں میں تنقیدی سوچ پیدا کرتی ہے جو انہیں زندگی کے حقیقی مسائل حل کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام طلبہ کو اصل علم اور مہارت سکھانے کے بجائے صرف امتحانات میں اچھے نمبر لینے پر مرکوز ہو چکا ہے۔ زیادہ تر اساتذہ اور والدین بچوں کی کامیابی کا معیار صرف مارکس اور گریڈز کو سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی سفر محض رَٹّا اور رزلٹ کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب ان سے امتحان کے باہر کسی عملی مسئلے کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اکثر بے بس نظر آتے ہیں۔ علم کا اصل مقصد یہ ہے کہ اسے عملی زندگی میں استعمال کیا جا سکے، مگر بدقسمتی سے ہمارا نظام زیادہ تر بچوں کو صرف اچھے نمبروں تک محدود کر دیتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیاب ہوں، تو ہمیں ان میں تحقیق، تجزیہ، اور مسائل حل کرنے کی مہارتیں پیدا کرنی ہوں گی۔ ہر بچے میں ایک منفرد صلاحیت ہوتی ہے، مگر ہمارا موجودہ نظام انہیں صرف چند مخصوص مضامین میں نمبروں کی بنیاد پر جانچتا ہے، جس سے ان کی حقیقی قابلیت کہیں کھو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے جدید تعلیمی نظام اب پراجیکٹ بیسڈ لرننگ، تجرباتی تعلیم، اور تخلیقی سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں تاکہ بچے محض رَٹّا نہ لگائیں بلکہ وہ حقیقی دنیا میں مسائل حل کرنے کے قابل بھی بن سکیں۔ ہمیں بھی اپنے تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے طلبہ صرف امتحان پاس کرنے والے نہیں بلکہ حقیقی علم رکھنے والے بن سکیں۔

ایک عام مسئلہ یہ ہے کہ طلبہ جو کچھ امتحان کے لیے جو کچھ یاد کرتے ہیں اسے امتحان کے فوراً بعد بھول جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ صرف اس معلومات کو محفوظ رکھتا ہے جسے بار بار استعمال کیا جائے اور جس پر سوچا جائے۔ جب کوئی طالب علم کسی مضمون کو سمجھے بغیر محض یاد کرتا ہے تو وہ معلومات عارضی طور پر دماغ میں محفوظ ہوتی ہیں اور امتحان ختم ہوتے ہی بھول جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر طلبہ چیزوں کو سمجھ کر سیکھیں اور انہیں عملی زندگی میں استعمال کریں تو وہ دیرپا یادداشت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

رَٹّا سسٹم کو مکمل طور پر ختم کرنا شاید ممکن نہ ہو کیونکہ کچھ چیزیں یاد رکھنا ضروری ہوتی ہیں، جیسے قوانین، فارمولے، اور تاریخی حقائق۔ تاہم سیکھنے کے جدید طریقے اپنانے چاہئیں، جن میں پراجیکٹ بیسڈ لرننگ، تجرباتی تعلیم، اور مباحثے شامل ہوں۔ اگر طلبہ کو صرف رَٹّا لگانے کے بجائے سوالات پر غور کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور ان پر تحقیق کرنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ زیادہ بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔

تعلیم میں یاداشت کو رد کرنا مناسب نہیں لیکن اسے پڑھائی کا واحد طریقہ قرار دینا نقصان دہ ہے۔ کامیاب تعلیمی نظام وہی ہوتا ہے جو یاداشت اور فہم کے درمیان توازن قائم کرے۔ جہاں ضروری ہو وہاں بنیادی معلومات یاد کرائی جائیں لیکن ساتھ ہی ساتھ طلبہ کو تنقیدی سوچ، تجزیے، اور عملی مہارتوں کی تربیت بھی دی جائے۔ اس طرح ہم ایک ایسا تعلیمی

نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو بچوں کو نہ صرف امتحانات میں کامیاب کرے بلکہ زندگی کے حقیقی مسائل حل کرنے کے قابل بھی بنائے۔

اس سے پچھلا مضمون

اس سے  اگلا مضمون

Facebook Comments Box
Agha Khan BoardBoard ResultsCIE Exam Scheduledisadvantages of rote learningedcationEducational Reformsexam tipsGCEIGCSEKarachi Board of educationlesson planMarking SchemeMCQsO levelO level exam SchedulePast papersPractice questionsquestion bankquick revisionQuizReal educational Reformsrote learningvideo lectureword problemsworksheetپاکستان کا نظام تعلیمتعلیمتعلیمی اصلاحاترٹا سسٹمرٹا کلچررٹا کی اہمیترٹے کے نقصانات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
وحید مراد

previous post
next post

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.