Connect with us

تازہ ترین

جسے میر کہتے ہیں صاحبو ! —- ڈاکٹراعجازالحق اعجاز

Published

on

"جسے میر کہتے ہیں صاحبو : مطالعات میر”، ممتاز شاعر، محقق اور نقاد جناب ڈاکٹر اسلم انصاری کی ایک وقیع تصنیف ہے جس میں انھوں نے میر یات کے کئی نئے تنقیدی وتحقیقی زاویوں کو اپنی عبقری بصیرت کے آئینے میں دیکھنے کی سعی کی ہے۔ ڈاکٹر اسلم انصاری اقبال شناس اور غالب شناس تو ہیں ہی مگر اس کتاب کی اشاعت سے ان کی میر شناسی کی بھی بہت سی جہات سامنے آتی ہیں۔ ڈاکٹر اسلم انصاری اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں کے ادب سے گہری واقفیت رکھتے ہیں اور لسانیات، جمالیات، عمرانیات، فلسفہ اور نفسیات سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور ان کی تنقید میں ان مطالعات کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کتاب میں بھی کلام میر کا لسانی، جمالیاتی، عمرانی، فلسفیانہ اور نفسیاتی تجزیہ پیش کیا گیاہے۔ میر کی دردوالم سے بھرپور زندگی ان کےخاص تہذیبی و جمالیاتی سلیقے ہی سے نبھی ہے اور اسی سلیقے اور رکھ رکھاؤہی نے اس کی شاعری کو دوام بخشا ہے، لہذا تنقید ِشعر ِ میر بھی اسی سلیقے اور بلند پایہ ذوق کا تقاضا کرتی۔ میر کاجمالیاتی تجربہ بہت سے نازک اسرار کواپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہےاور ان اسرار کی عقدہ کشائی ڈاکٹر اسلم انصاری جیسےنقادہی کر سکتے ہیں جوشعرِ میر کی بہت عمدہ پرکھ رکھتے ہیں اور اس کی معنوی نزاکتوں سے خوب آگاہ ہیں۔

کتاب کا پہلامضمون "میر کی شاعرانہ عظمت پر ایک نظر” کے عنوان سے ہے جس میں مصنف نے میر کی شاعری کی ان عمومی خصوصیات پہ روشنی ڈالی ہے جو ان کی شہرت اور عظمت کا باعث ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے جن خصوصیات کا ذکر کیا ہے ان میں داخلیت، تجربے کی صداقت، جذبے کی شدت اور گہرائی، فکر کی وسعت، تفلسف، رفعت ِ خیال، زبان کا خلاقانہ استعمال، ذاتی الم پسندی کو آفاقی شکل دینا، شاعری کو انداز ِ گفتگو اور انداز ِ گفتگو کو شاعری بنا دینا، ایک ایسی دردمندی جو انسان اور کائنات کے درمیان ایک وجودی رشتہ استوار کرتی ہے، جگر داری، صناعی اور خلاقی کی یکجائی، تہ داری و معنی آفرینی شامل ہیں۔ میر نے اردو غزل کو جو کچھ عطا کیا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم انصاری لکھتے ہیں :

"دیکھا جائے تو اردو شاعری کی ایک پوری صدی کے نشوونما کے عمل میں میر یا اُن کے اثرات براہ راست شریک رہے۔ اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں کہ اردو شاعری کی تشکیل میں میر نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اگر اردو غزل کی جمالیات اور لسانیات کی تشکیل میں میر کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ میرہی دراصل اردو شاعری کی اس تحریک کے بانی اورروح رواں تھے جس نے صرف دہلی کے دبستان ِ شاعری ہی کو نہیں، لکھنو کے دبستان شاعری کو بھی زبان اور شعری مطالب کے بنیادی سانچے فراہم کیے۔ "

کلام میر کی ایک اہم خصوصیت جذبات کی تقلیب ماہیت ہے۔ میر جزئی (Particular) کو کلی (Universal) میں منقلب کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ میر کی اس صلاحیت کی طرف اسلم انصاری صاحب نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ آخر ِ کار میر اپنے سارے رنج والم اور شدید المیہ جذبے کو ایک مابعدالطبیعیاتی جذبے یا بے قراری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

میر کے انوکھے اور مرموزی لہجے پہ غالب سمیت ہمارے بڑے بڑے شعرا نے رشک کیا ہے۔ نقاد عام طور پہ اسی بات پہ آکر رک جاتے ہیں کہ میر کا لہجہ المیہ ہے مگر وہ اس تجزیے سے محروم ہی رہتے ہیں کہ اس المیہ لہجے کی متنوع صورتیں کس کس وجدانی تجربے کے زیر اثربروئے کار آئی ہیں۔ اسلم انصاری صاحب نے میر کے لہجے کے مختلف ارتعاشات کو نہایت عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک المیہ شاعری کی تخلیق و تحسین دونوں کے لیے جذباتی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی یہ بات درست ہے کہ المیہ شاعری صرف فرد کے انفرادی المیے ہی سے نہیں ابھرتی بلکہ اس کی پشت پر ایک پورا تہذیبی تجربہ کارفرما ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ میر کی شاعر ی اس لحاظ سے خالص ترین شاعری کے زمرے میں رکھے جانے کے قابل ہے کہ اس کی بنیاد زندگی کےخالص حسیاتی اور جذباتی تجربات پر براہ راست رکھی گئی ہے۔

اسلم انصاری صاحب نے میر کی حسّ ِ تاریخیت کے حوالے سے بھی بعض اہم نکات پیش کیے ہیں۔ ان کے نزدیک میر کی یہ حس بہت تیز تھی۔ انھوں نےمیر کی حسّ تاریخیت کا موازنہ ان کے ہم عصر شاعر مرزا رفیع سودا سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حسّ میر کے ہاں زیادہ جامعیت کے ساتھ پائی جاتی ہے اوران کے دور کے حالات سے زیادہ وجدانی اور جذباتی انسلاک رکھتی ہے۔ میر کو اس کے دور نے جو سرشاری کی کیفیت عطا کی اسے اسلم انصاری صاحب کے بقول جس موزوں ترین لفظ سے ادا کرسکتے ہیں وہ "دردمندی” ہے۔ یہ دردمندی اپنی ذات کے موضوعی حصار سے باہر نکل کر ساری دنیا کے غم سمیٹنے اور ان غموں کو اپنی ذات میں actualize کرنے کا عمل ہے جس کے لیے بہت وسیع القلبی چاہیے جس کا اظہار میر نے بہت عمدگی سے اپنی شاعری میں کیا ہے۔ میرکا کلام گوتم بدھ اور شوپن ہائر کی طرح یقینی طور پہ المیہ تصور زندگی (Tragic Vision of Life) کا حامل تھا۔ اور یہ المیہ تصور زیست دراصل وجود اور شعور کی یکجائی سے پیدا ہوا تھا یعنی "ہونا” اور "ہونے کا شعور” دونوں ہی المناک ہیں۔ میر نے اپنی شاعری کو الم نگاری سے تعبیر کیا ہے۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول اس سے ملتا جلتا خیال صرف جرمن شاعر ہائنے کے ہاں ملتا ہے۔ مگر میری ناقص رائے میں مغربی شعرا میں سے ایملی ڈکنسن، ہائنے کے علاوہ دوسری ایسی شاعرہ ہے جس نے اس المناکی کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ اس حوالے سے میر اور ایملی ڈکنسن کے درمیان بہت سے اشترکات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ میر نے اس المناکی کا مداوا عشق ہی سے کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول الم سے آنکھیں دوچار کرنے کی یہ ہمت اور یہ سلیقہ انھیں عشق کی بدولت ہی حاصل ہوا۔ گویا میر کے لیے عشق ہی درد تھا اور عشق ہی دوا ثابت ہوا۔ میر اعجاز ِ عشق اور معاملات ِ عشق ہی کے سہارے جیتے رہے۔

میر شاعری کو اپنے ذاتی کتھارسس کا ذریعہ تو سمجھتے ہیں مگر ان میں یہ احساس بہت زیادہ جاگزیں تھا کہ وارداتِ قلبی کے اظہارات کے لیے فن پہ دسترس بہت ضروری ہے۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول میر شاعری کو ایک آرٹ اور فن کی حیثیت سے دیکھتے ہیں یعنی ان کے نزدیک شاعری اسی طرح کا ایک فن ہے جیسے مصوری اور اس فن کے اپنے تقاضے اور نزاکتیں ہیں اور وہ اردو کے پہلے شاعر ہیں جو اس طرف بار بار اشارہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک صناع یا فن کار کہلائیں۔ کہیں کہیں صاف نظر آتا ہے کہ میر شاعر کے امیج کی بجائے مصور کے امیج میں زندہ رہنا پسند کرتے تھے۔ اسلم انصاری صاحب نے یہاں جس اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے میر کے حوالے سے اسے عام طور پہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اس کتاب میں اسلم انصاری صاحب نے میر کے کلام پہ مختلف شعرا کے اثرات کا جائزہ بھی پیش کیا ہے اور بجا طور پہ یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ فارسی میں ان کے اسلوب اور ٖڈکشن پر متقدمین مثلا سعدی، حافظ یا متوسطین مثلاً عرفی اور نظیری کے اثرات بہت کم ہیں جب کہ وہ متاخرین اور ان میں بھی خاص طور پر سبک ِ ہندی کے شعرا مثلا صائب اور بیدل سے زیادہ متاثر نظرآتے ہیں۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ پیش کی ہے کہ بیدل میر کے استاد سراج الدین خان آرزو کے استاد تھے۔ میر نے اوائل عمر میں خان آرزو کی صحبت میں یقیناً صائب اور بیدل کے تذکرے سنے ہوں گےاسی لیے ان کا رجحان سعدی و حافظ اور رومی و جامی کے مقابلے میں صائب اور بیدل کی طرف زیادہ ہوگیا ہو۔ یہاں اسلم انصاری صاحب نے میر اور صائب اور میر اور بیدل کےکچھ ہم رنگ اشعار پیش کیے ہیں۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول اگرچہ میر کو فارسی میں صاحب طرز ہونے کا دعویٰ نہیں لیکن ان کی فارسی شاعری کم از کم اس بات کو ضرور ثابت کرتی ہے انھوں نے فارسی کی روایت کو اپنے ذوق و وجدان میں اس طرح رچایا کہ ان کی اردو شاعری کے آب و رنگ پر اس روایت کے بہترین اجزا کی چھوٹ پڑ سکے۔ یہی وہ کام ہے جو آگے چل کر غالب اور اقبال نے بھی کیا۔ گویا ہمارے تین بڑے شاعر میر، غالب اور اقبال اپنے عہد میں اپنے اپنے ذوق و تخیل کی شرائط کے ساتھ فارسی شاعری کی روایت سے بہت گہری وابستگی رکھتے تھے۔

اسلم انصاری صاحب کے خیال میں میر ایک شاعر ہی نہیں بلکہ معلم زیست بھی ہے۔ ان کے نزدیک میر کی شاعری اصطلاحی معنوں میں تو اخلاقی شاعری نہیں کہلا سکتی اور میر کوئی معلم اخلاق بھی نہ تھے مگر وہ ان کی شاعری میں غیر محسوس طریقے سے اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تعلیم ضرور پائی جاتی ہے۔ اخلاقی تعلیم کا یہ طریقہ زیادہ موثر ہے کہ یہ براہ راست اور واشگاف نصیحت آموزی کے بجائے بالواسطہ نفسیاتی طریقے بروئے کار لاتے ہوئے دی جائے تو زیادہ اثر رکھتی ہے۔ میرکے ہاںزندگی کے متعلق گہری بصیرت کا انکشاف ہی بہت سے اخلاقی زاویوں کو واضح کر دیتا ہے۔ میر بلند تر خطیبانہ سطح سے وعظ کرنے کے بجائے زندگی کی عام سطح سے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اخلاقی تفریقات پیدا کرنے کی بجائے یہ تفریقات مٹا کر ایک عمومی اخلاقی احساس پیدا کرتے ہیں۔ اسلم انصاری صاحب نے میر کی شاعری کے اسی پہلو پہ زور دیاہے۔ دوران بحث اسلم انصاری صاحب نے فن اور اخلاق کے تعلق کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ اٹھاتے ہوئے آسکر وائلڈ کے اس قول کا جائزہ پیش کیا ہے کہ "فن اخلاقیات سے زیادہ اخلاقی ہوتا ہے۔ "اسلم انصاری صاحب کے بقول یہ قول بظاہر فن کے مقابلے میں اخلاقیات کو ثانوی حیثیت دینے کی کوشش ہےیا اخلاقیات کو جمالیات سے بدلنے کی ترغیب ہے۔ ان کے بقول فن کے بارے میں ایک عمومی رویہ یہ بھی پایا جاتاہے کہ فن نہ اخلاقی (moral)ہے نہ غیر اخلاقی (immoral) بلکہ لااخلاقی (amoral) ہے۔ اس کامطلب ہے کہ فن اخلاقیات سے ماورا ہے اور فن کی اپنی اخلاقیات ہے جودراصل جمالیات ہے۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول بہ ظاہر اس تعبیر میں بڑی کشش ہے اور اس کے ذریعے فن میں اخلاقی اور غیر اخلاقی کی لامتناہی بحث کو آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے لیکن اگر فن ایک تہذیبی و معاشرتی ذمہ داری بھی ہے تو پھر اس تعبیر کے مضمرات خود فن کی نشوونما کے لیے بھی کچھ ایسے خوش آئند ثابت نہیں ہوں گے۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول قدیم شعرا میں سے میر ہی ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شخصیت اور شاعری میں معلم اخلاق اور معلم زیست کی سی تمکنت اور گہرائی نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں میر درد کا نام بھی لیا جاسکتا ہے جن کی شاعری میں اخلاقی مضامین کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ان دونوں شعرا میں یہ فرق ہے کہ میر درد کے مقابلے میں میر تقی میر کے اخلاقی شعور میں ایک طرح کی ہمہ گیری پائی جاتی ہے مزید یہ کہ میر درد کے مقابلے میں میر کے اخلاقی تصورات زندگی کی حقیقی صورت ِ حال سے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔ میر درد کا انسان جس سطح پر پہنچ کر حقیقی بنتاہےوہ مابعدالطبیعیات کی سطح ہے۔ درد کی اخلاقیات سراسر وضعی اور ماورائی ہے جب کہ میر کے اخلاقی تصورات اور رویے زیادہ تر تہذیبی اور انسانیاتی ہیں۔ البتہ میر کے ہاں بھی مثالیت پسندی اور ماورائیت پسندی کا میلان موجود ہے۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ میر کی ماورائیت قدرےارضیت سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے جب کہ میر درد کی ماورائیت ارضیت سے ذرا الگ تھلگ دکھائی دیتی ہے۔ اسلم انصاری صاحب نے میر کے کلام میں سے اوامر و نواہی کی چند عمدہ مثالیں بھی پیش کی ہیں۔

ایسا نہیں کہ میر کے ہاں لذات ِ حسی کا بیان نہیں۔ یہ بیان خاص طور پہ ان کی مثنویوں میں ان کی غزلیات سے ایک الگ فضا پیدا کرتا ہے مگر اس کے ہاں یہ مسرت آگیں احساسات بھی الم کے دبیز پردوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ چناں چہ اسلم انصاری صاحب کا یہ کہنا صائب ہے کہ میر نے زندگی کی شادمانیوں کو بھی غم کی اوٹ سے دیکھااور انسانی حسن کے حوالے سے آسودگی کے لمحات کی فراوانی سے نہ سہی مناسب حد تک ان کی شاعری میں ضرورجھلک دکھاتے ہیں۔ نیزمظاہر ِ فطرت سے جمالیاتی تسکین حاصل کرنے کا رجحان ان کے ہاں بہت نمایاں ہے۔

"میر کی عربیت”کے عنوان سے مضمون بھی بہت اہم ہے۔ میر فارسی اور عربی زبانوں پہ عبور رکھتے تھے۔ اسلم انصاری صاحب کے بقول میر کی شاعری میں جو عربی الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ ان کی اس زبان کی خاص استعداد کا پتہ دیتے ہیں جو میر کو حاصل تھی۔ یہ استعداد میر نے ذاتی مطالعے ہی سے بہم پہنچائی تھی۔ یہ الفاظ ایسے نہیں جو پہلے ہی سے اردو یا فارسی زبانوں میں مروج تھے بالکل یہ خاص الفاظ ہیں جو میر نے خود سے سیکھے تھے۔

میر کا موازنہ اکثر سودا سے کیا جاتا ہے۔ اسلم انصاری صاحب نے بھی اس کتاب میں یہ موازنہ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میر کے دور میں ان کی غزل کو سودا کی غزل کے مقابلے میں زیادہ پذیرائی ملی حالاں کہ ملک الشعرائی کا رتبہ سودا کو حاصل تھا۔ سودا کےاصل میدان قصیدہ اور ہجو ہیں البتہ ان کی غزل میں بھی احساسات ِ الم کی کمی نہیں اور ان کے نشاطیہ لہجے سے بھی ان کا المیہ نظریہ زندگی جھلکتا ہے۔ لیکن وہ ان المیہ احساسات کو بھی خارجی تمثیلات اور غیر شخصی انداز بیان کے ذریعے خالصتاً معروضی حقیقت بنا دیتے ہیں، گو ایسا کرنے میں وہ غم و الم کی جمالیاتی تشکیل سے بھی کام لیتے ہیں۔

کتاب کے آخر میں ایک دلچسپ مضمون ” شعر ِ شور انگیز : چند استدراکات "کے نام سے ہے۔ اس میں اسلم انصاری صاحب نے شمس الرحمن فاروقی صاحب کے مقام و مرتبے کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی میر شناسی کے بعض پہلووں سے اختلاف کیا ہے اور انھیں اپنی تنقید کا موضوع بنایا ہے۔

Advertisement

Trending