Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

”آگے کوئی اور ہے کہانی“: ثنا اللہ ظہیر کی یاد میں —- قاسم یعقوب

Published

on

کہانی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہم پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ ہم کہانی پر انحصار کرتے ہیں۔ کہانی چل رہی ہے، ہم اس میں داخل ہوتے ہیں۔ کہانی بڑی سفاک ہے، کسی کو زیادہ دیر تک اپنے تاروپود میں الجھنے کا مہلت نہیں دیتی۔ کنارے کنارے سے مرکز کی طرف لاتی ہے اور یک دم اُٹھا کے حاشیے پر دھکیل دیتی ہے۔ سب کہانی سے اپنی کہانی بُنتے بُنتے کہانی سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ ایسا دریا ہے جس کے اندر لاتعداد قطرے ہیں مگر دریا خشک ہونے کا نام نہیں لیتا۔ ہماری کہانی تو ختم ہو جاتی ہے مگر دریا کی کہانی کب ختم ہوگی؟

دریا اپنی کہانی ختم ہونے کی خبر سنانے سے پہلے ہی ہماری کہانی ختم کر دیتا ہے۔

ثنا اللہ ظہیر اب ملک گیر شہرت کا شاعر ہیں۔ مگر یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ حلقہئ اربابِ ذوق فیصل آبادکے اجلاسوں میں ایک کونے میں گم سم بیٹھے ہوئے ملتے۔ غالباً 1998ء کی جنوری فروری کی بات ہے۔ ایک دفعہ میں ریاض مجید صاحب کی تلاش میں حلقے کے اجلاس میں چلا آیا۔ اس وقت میں گریجویشن کا طالب علم تھا۔ اجلاس ختم ہوا تو ریاض مجید تو دوستوں میں خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے، اس دوران مجھے ثنا اللہ ظہیر سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ مجھ سے پوچھتے رہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ میں کامرس پڑھتا تھا۔ وہ ان دنوں (غالباً آخری وقت تک) کلیرئینٹ عبد اللہ پور میں جاب کرتے تھے۔ مجھے مشورہ دیا کہ آپ تعلیم پر توجہ دیں اور یہاں حلقے کے اجلاسوں میں بھی آیا کریں، یہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ یہ اجلاس تھری سٹار ہوٹل چنیوٹ بازار میں ہوا کرتے۔ جو جعفری چوک کے بالکل قریب تھا۔ جعفری چوک میں محفل ہوٹل بھی تھا جو اس سے قبل حلقے کی رونقوں کو سنبھالے ہوئے تھا۔ میں نے محفل ہوٹل کی بہت سے باتیں سن رکھی ہیں مگر افسوس ہم نے محفل ہوٹل کے اجلاس اٹینڈ نہیں کیے۔

1998ء سے2000ء تک ثنا اللہ ظہیر صاحب سے اکثر ملاقات ہو جاتی۔ میں کوئی سنجیدہ ادبی مکالمہ کرنے کی بجائے ان سے عروض وزن کے مسائل پر گفتگو کرتا۔ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ انھیں عروض پر بے پناہ عبور تھا۔ وہ فی البدیہہ بحروں میں بول سکتے تھے۔ بحرِ متقارب (فعولن فعولن) میں حال چال پوچھتے اور بیچ میں کوئی جُگت بھی لگا دیتے۔ (جُگت بھی بحر میں ہوتی)۔ اگرچہ میرا ان سے مکالمہ صرف معلومات کی حد تک ہوتا مگر وہ بہت تفصیل سے تقطیع کرتے اور سمجھاتے۔ حلقے کے اجلاسوں میں ہمیشہ انھیں مسکراتے اور بہت ہلکی پھلکی جُگتیں لگاتے سنا۔ مگر جب وہ گفتگو کرتے تو کمال سنجیدگی سے فن پاروں کا فنی تجزیہ کرتے۔ سچی بات ہے کہ میرے ابتدائی برسوں میں جن دو تین شخصیات نے مجھ پر گہرے اثرات چھوڑے ان میں ثنا اللہ ظہیر بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حلقے کے بعد بھی ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔

2000ء میں فیصل آباد کی چراگاہ پر ایک ادبی ریوڑ نمودار ہوا۔ ان میں یاور نقوی اور کاظم نقوی دو بھائی بھی تھے۔ ان کے ساتھ ہی علی زریون بھی نظرآنے لگے۔ (ان دنوں علی زریون اپنے فیملی نام کے ساتھ شاعری کرتے تھے)یاور اور کاظم نے تیزی سے حلقے میں جگہ بنانا شروع کردی۔ یاور نقوی اور علی زریون محلے دارتھے۔ میرا گھر بھی ان سے کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ یوں سمجھیے ایک ہی محلے میں یہ رونقیں نظرآنے لگیں۔ یاور نقوی نے 2000ء ہی میں ایک ادبی ادارہ بنالیا، جس کا نام تھا؛ ”مفکر اکادمی“۔ اس ادارے سے کتابیں بھی شایع کی جاتیں اور کمپوزنگ کی سہولت بھی دی جاتی(مجھے یاد ہے کہ آفرینش]مدیر:مقصودوفا[یہیں سے کمپوز ہوتا)۔ یاور نے مفکراکادمی سے ہفتہ وار تنقیدی اجلاس منعقد کرنے شروع کر دیے۔

یہی وہ جگہ تھی جہاں ثنا اللہ ظہیر، منصف ہاشمی، محسن ہاشمی، علی زریون، اختر علی، عماد اظہر، طالب کوثری، ریاض پرواز وغیرہ ریگولر آیا کرتے۔ علی زریون بھانت بھانت کی غزلیں لاتے اور ہم سے داد ”بٹورتے“۔ سچی بات ہے کہ زریون اس وقت بھی کمال کے خیالات غزلوں میں بھر بھر لاتے۔

ثنا اللہ ظہیر ہم میں سینئر تھے۔ یوں وہ رہنمائی بھی کرتے اور ڈانٹ بھی پلاتے۔ یہ اجلاس بہت بھرپور ہوتے۔ چھوٹی سی محفل میں کچھ غیر شاعر بھی آتے مگر سب ہی خوب شعر شناس اکٹھے ہوتے۔ یہیں ایک دن احمد سلیم رفی وارد ہوئے۔ ثنا اللہ ظہیر نے ان کا تعارف کروایا۔ وہ بہت چھوٹے تھے غالباً سولہ سترہ برس کی عمر۔ انھوں نے رفیع کی غزل گا کر سنائی تھی اور سماں باندھ دیا تھا:
کوئی نغمہ کہیں گونجا
کہا دل نے یہ تُو آئی
کہیں چٹکی کلی کوئی
میں یہ سمجھا تُو شرمائی
کوئی خوشبو کہیں بکھری
لگا یہ زلف لہرائی

لکھے جو خط تجھے، وہ تیری یاد میں
ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوأ، تو پھول بن گئے
جو رات آئی تو ستارے بن گئے

رفیع کی مناسبت ہی سے ان کا نام احمد سلیم رفی پڑ گیا۔ آفرین ہے یاور نقوی پر؛یہ اس کا اپنا گھر نہیں، بلکہ بڑی بہن کا تھا۔ مگر خدمت میں کوئی کسرنہیں چھوڑتا۔ میں آج بھی یاور کا مرہونِ منت ہوں جس کی بدولت اس کلچر سازی کو فروغ ملا۔

ہم اکثر بعد از اں جلاس بسم اللہ چوک، مدینہ ٹاون میں بیٹھتے۔ خوب گپ شپ ہوتی۔ ظہیر صاحب مجھے پروفیسر کہتے، کیوں کہ میں ان دنوں گورنمنٹ کالج سے ایم اے کر رہا تھا۔ ایک دن یہیں چوک میں بیٹھے ہوئے ثنا اللہ ظہیر نے سب سے اشعار سنے۔ علی زریون اور عماد اظہر کو خوب داد ملی۔ مجھے یاد ہے عماد اظہر ایک کھڑکی کی طرف دیکھ کر شعر سناتے رہے جو بسم الہ چوک کے بہت قریب تھی۔
گورنمنٹ کالج جائن کرنے کے بعد میں ظہیر صاحب کے گھر اکثر جایا کرتا۔ ان کا گھر جڑانوالہ روڈ جلوی مارکیٹ میں تھا۔ یہیں میرے استاد محترم سعید احمد کا گھر تھا۔ حتیٰ کہ اسلام آباد آنے کے بعد بھی میں جلوی مارکیٹ کی طرف نکلتا تو ظہیر صاحب سے ضرور ملنے گھر جایا کرتا۔ انھوں نے گذشتہ برسوں میں اپنا نیا گھر بنا لیا تھا۔ کلیرئنٹ کے دفتر میں تو اکثر جانا ہوتا۔ ایک دفعہ میں نے جب ان سے یہ شعر سنا:
شاعری ساتھ چلی آتی ہے دروازے تک
آکے دفتر میں ہر اک چیز سے کٹ جاتا ہوں

تو ان سے سوال کیا کہ کیا آپ دفتر میں شاعری نہیں کرتے۔ مجھے باہر تک چھوڑنے آئے اور کہنے لگے ہاں یار آج کل بہت کام ہے، شاعری واعری یہاں نہیں چلتی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نیا نیا اسلام آباد آیا تھا۔

ثنا اللہ ظہیر نے جب کتاب مرتب کی تو مجھ سے مشورہ کیا کہ اس کتاب کا نام کیا ہونا چاہیے۔ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ انھوں نے دو نام بجھوائے جس میں سے مجھے ”کہانی“ بہت پسند آیا۔ وہ دوسرا نام رکھنا چاہ رہے تھے مگر میں نے انھیں ”کہانی“ کا مشورہ دیا۔ اب کتاب کھول کے دیکھتا ہوں تو وہ ساری کتاب میں کہانی ہی بیان کر رہا ہے۔ اپنی کہانی، اپنے اردگرد کی کہانی۔ اُس وقت تو نہیں، اب اس کی اچانک وفات پر مجھے یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ اس کی میرے پڑوسی’کہانی کار‘ علی محسن سے کیوں گاڑھی چھنتی تھی۔ ثنا اللہ ظہیر بھی کہانی سنانا چاہتا تھا۔ شعروں میں سنا گیا۔

ثنا اللہ ظہیر آسودہ حال شخص تھا مگر اس نے اپنے آنکھ میں صرف ان مناظر کو اہمیت دی جوحاشیے پر رہتے ہیں، جن کا پُرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا۔ وہ جذبے اور سماجی مشاہدے کی آمیزش سے شعر کہتے تھے۔ ”کہانی“ میں ایسے اشعار کی تعداد بہت ہے جس میں سماجی مشاہدے کو حوالہ بنایا گیا ہے:
وہ توصرف اپنے گھرانے کے لیے سوچتے ہیں
جن کو دعویٰ ہے، زمانے کے لیے سوچتے ہیں
آتشِ عشق میں اب کون جلے گا، کہ سبھی
پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سوچتے ہیں
اے مرے قائد اعظم ترے چاروں بیٹے
گھر میں دیوار اٹھانے کے لیے سوچتے ہیں
مظلوم کے جبڑوں میں سجائے گا زبانیں
ظالم کے مگر ہاتھ کو روکا نہ کرے گا
یہ کس کا ہاتھ خزانے لٹا رہے ہیں مگر
یہ کس کا گھر ہے جہاں پاؤ بھر اناج نہیں
رغبت مجھے اس واسطے بازارسے کم ہے
موجود مری جیب میں درکار سے کم ہے
ہمارے واسطے جس شخص کو تقریر کرنا تھی
رہا محدود اپنی خواہشوں کی ترجمانی تک
اپنے دل کی بات لکھیں دیواروں پر
اہلِ زر کا قبضہ ہے اخباروں پر
بھنور میں آن پھنسے ہیں تو چیختے کیوں ہو
کہا نہیں تھا تمھیں، ناخدا کسی کا نہیں
اے مجھے رزق بھیجنے والے
کھا رہا ہوں میں اپنا پتھر ہی
امن کی بات کرنے آیا ہے
ساتھ لایا ہے اپنا لشکر بھی
میں تمھیں رہنما سمجھ لیتا
تم جو ہوتے مرے برابر بھی
زندگی تجھ کو بسر کرنا بہت مشکل ہے
کر رہے ہیں کہ ملے گی کبھی آسانی بھی
میں اس دکاں سے راہ بدل کر گزر گیا
جس میں تھی میرے گھر کی ضرورت پڑی ہوئی
بدلنا اتنے سروں کا تو غیر ممکن تھا
کہیں وگیں تو کہیں ٹوپیاں بدل لی ہیں

ان مذکورہ اشعار کو پڑھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ظہیر صاحب اپنے سماج کی سیاست اور معاشرت کو کس قدر توجہ سے دیکھ رہے تھے۔ پچھلے دنوں وہ سوشل میڈیا پر بہت متحرک تھے۔ ان کا موضوع سماجی ناقدری اور عدم توازن ہوتا۔ بطور فن کار وہ اپنے معروض سے کبھی کٹ کے نہیں رہے۔

نعت ان کا خصوصی حوالہ رہا۔ لائل پور شہر کو شہرِ نعت بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں نعت گو شعرا کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو ملکی سطح پر اپنی پہچان رکھتی ہے۔ غزل گو شعرا نے بھی ایسی مختلف نعت لکھی ہے کہ مجموعی سرمایہئ نعت میں اضافہ کیا ہے۔ ثنا اللہ ظہیر کا موقف تھا کہ نعت کوئی الگ سے مذہبی جذبہ نہیں بلکہ انسانی بطن کا بنیادی جذبہ ہے جسے غزل کے اشعار میں اسی طرح اظہار میں لایا جا سکتا ہے جس طرح سماج، محبوب اور فکر و فلسفہ کو لایا جاتا ہے۔ جب ہم غزل سے نعت کے اشعار کو نکال کر اسے الگ صنف میں ڈھالتے ہیں تو نعت زندگی سے نکل کر محض مذہبی درجہ تک محدود ہوجاتی ہے۔ ثنا اللہ ظہیر نے اپنے موقف کو عملی طور پر ثابت بھی کیا۔ ان کی کتاب ”کہانی“ میں جا بجا نعت کے اشعاربکھرے پڑے ہیں۔ اسی طرح نعتوں کے لیے بھی الگ سے گوشے ترتیب نہیں دیے بلکہ کتاب میں نظموں اور غزلوں کے درمیان بکھری پڑی ہیں۔ ان کی نعت کے چند اشعار دیکھیے:
ہو جائے وقف میرا قلم یوں برائے نعت
لکھوں میں کوئی لفظ بھی، پڑھنے میں آئے’نعت‘
کاش میں اس کی صفائی پہ ہی مامور رہوں
تیری مسجد میں جو قالین بچھایاہوا ہے
حضور آپ کے ہونے سے نکہت اس کو ملی
اگرچہ پہلے زمانوں میں بھی یہی تھی ہوا
اُلجھ کے کارِ جہاں میں بھی تجھ سے دور نہیں
کیا ہوا ہے ترا دھیان صوفیوں کی طرح
زمانہ سازوں سے اپنی ٹھنی رہے گی ظہیر
انھیں بہت سے، ہمیں بہتریں ؐ سے نسبت ہے
کہ ایک دن اسے آقا ؐکی نعت ہونا تھا
غزل نے اپنی جوانی سنبھال کر رکھی
کی دعا ختم تو پھر صل علی ؐپڑھتے ہوئے
ہاتھ یوں جسم پہ پھیرے کہ زرہ پہنی ہے

ثنا اللہ ظہیر نے نظم بھی لکھی مگر ان کی زیادہ توجہ غزل کی طرف رہی۔ ایسانہیں کہ انھیں نظم کا سلیقہ نہیں تھا۔ وہ نظم کے جمالیاتی رچاؤ کو پوری طرح سمجھتے تھے۔ ”کہانی“ میں شامل ان کی نظموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نظم کے قریب رہنے کے باوجود غزل کی طرف قائل رہے۔

ثنا اللہ ظہیر فیصل آباد کے ان شعرا میں شامل تھے جن کی شہرت پاکستان سے باہر بھی گونجنے لگی تھی۔ ان کے کئی اشعار زبانِ زدِ عام تھے۔ طنطنہ اور چونکانے کی خاص صلاحیت نے ان کے اشعار کو لافانی بنا دیا ہے۔ کچھ اشعار دیکھیے جو ظہیر صاحب کے باکمال شاعر ہونے کی گواہی ہیں:
ابھی تو یہ درو دیوار جانتے ہیں مجھے
ابھی تو میں نہیں نکلا مکاں کے اندر سے
اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں
اپنی تعمیر اُٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اِک عمر گنوا دی مری مسماری میں
وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں
خلا میں تیرتے پھرتے ہیں ہاتھ پکڑے ہوئے
زمیں کی ایک صدی، ایک سال سورج کا
تو ملا ہے کہ گئی عمر پلٹ آئی ہے
کتنا لڑکا سا میں اندر سے نکل آیا ہوں
لوگ دیکھیں گے ترے دل سے نکلنا میرا
دیوتا ہوکے میں پتھر سے نکل آیا ہوں
اب بھی اتنی دوری پر، روشنی کا مسکن ہے
کائنات ہاری ہے، فاصلہ نہیں ہارا
ناراض ہوگیا مرا کوزہ بدست دوست
جب میں نے شکریے میں سمندر نہیں کہا
مجھ کو بھی اس سڑک سے گزرنا ضرور ہے
اس راہ کو بھی ہے مری عادت پڑی ہوئی
کسی حسین شرارت کی اوٹ میں رُک کر
مجھے پکارنے لگتا ہے بچپنا میرا
ہمیں زمین کی جانب بھی لوٹنا ہے ظہیر
ترے سفر سے ہمارا سفر زیادہ ہے
تمھارے سامنے سچ بولنے سے سے رُک گئے ہیں
ہمیں بتاؤ تمھیں اور کیا پسند نہیں
میں دے رہا ہوں تجھے خودسے اختلاف کا حق
یہ اختلاف کا حق ہے، مخالفت کا نہیں
تری شکست کا اعلان تو نہیں کریں گے
جو تیرا کام ہے دربان تو نہیں کریں گے
تری مکاں کا تقدس عزیز تھا اتنا
میں آ رہا ہوں گلی سے، پرے اُتار کے پاؤں
اپنی جانب مری یکسوئی سے اُکتائیے مت!
آپ یک سر نظرانداز بھی ہو سکتے ہیں
ڈاکیا بھی ادھر نہیں آتا
مر گیا ہے کہیں کبوتر بھی
میں رفتگاں کے لیے رو نہیں رہا لیکن
مری دعاؤں میں کچھ نام بڑھتے جاتے ہیں
بلا رہے ہیں مجھے اُس طرف سے لوگ ظہیر
اور اِس طرف بھی مرے کام بڑھتے جاتے ہیں

یہ وہ اشعار ہیں جو صرف مجھے ہی نہیں، ہر اردو شعر سے رغبت رکھنے والے کوازبر ہیں۔

کہانی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہم پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ ہم کہانی پر انحصار کرتے ہیں۔ کہانی چل رہی ہے، ہم اس میں داخل ہوتے ہیں۔ مگرثنا اللہ ظہیر کا معاملہ اور تھا؛ وہ پانی کاکردار نہیں بلکہ خود کہانی تھا۔ اس کی شاعری اور شخصیت اس دریا کی کہانی تھی جس میں ہم سب بہتے جا رہے ہیں۔ ہم کہانی سے نکل جاتے ہیں مگر کہانی چلتی رہتی ہے۔ ثنا اللہ ظہیر اس کہانی کا ہمیشہ حصہ رہے گا۔ وہ دریا تھا، چلتا ہوا پانی تھا؛ جس کی فطرت ہی یہ ہے کہ اس نے چلنا ہے رُکنا نہیں۔

ہم سب ثنا اللہ ظہیر کو یاد کرتے ہیں۔ اس وقت تک یاد کرتے رہیں گے جب تک یہ پانی رواں دواں ہے اور کہانی چلتی رہے گی:
آگے کوئی اور ہے کہانی
اپنا کردار عارضی ہے
میں کون سا مستقل مرا ہوں
اے دل، یہ مزار عارضی ہے
ساحل پہ، ظہیر، سو نہ جانا
دریا کا اُتار عارضی ہے

Advertisement

Trending